|
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میڈیا میں، بلکہ ہر طرف، ’تکفیریوں‘ کا اِس وقت خوب خوب چرچا ہے۔ شمالی علاقوں کی صورتحال نے جہاں اور بہت سے موضوعات کو جنم دیا وہاں ’تکفیری مذہب‘ بھی ہر خاص وعام کا موضوعِ سخن بن گیا ہے۔ بی بی سی اور سی این این تک گویا اب ’اسلامی فرقوں‘ کے موضوع پر اتھارٹی ہیں جو ’تکفیریوں‘ پر سیرحاصل گفتگو کر سکتے ہیں! دانشور، اخبار، رسالے، چینل۔۔ اپنے اپنے انداز میں ’تکفیریوں‘ پر تجزیے دے رہے ہیں۔ جماعتیں اور تنظیمیں اپنے طور پر کارکنوں کو ’تکفیریوں‘ کے موضوع پر ’بریفنگ‘ دے رہی ہیں جوکہ من وعن اور ایک ’مستند حوالہ‘ کے طور پر آگے سے آگے چلنا ہوتی ہے! رفتہ رفتہ اب ایک عام اخبار پڑھنے والا تک پوچھنے لگا ہے کہ ’یار یہ تکفیری کیا ہوتے ہیں‘؟! کیا واقعتا کوئی یہاں جانتا ہے کہ ’تکفیری‘ کس بلا کا نام ہے؟! کیا کسی نے یہاں کبھی کہا ہے کہ ’میں تکفیری ہوں‘ یا پھر دوسروں کی جانب سے ہی اُس کو یہ نام دیا جاتا ہے؟ ’تکفیری‘ اپنا یہ ’نام‘ اگر خود نہیں رکھتے بلکہ یہ نام اوروں کی طرف سے اُن کو دیا جاتا ہے تو پھر وہ کونسا وصف ہے جس کی بنا پر کسی کو ’تکفیری‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟ یعنی وہ کیا نظریات وافکار ہیں جن کا حامل ہونے کی بنا پر کسی شخص کو ’تکفیری‘ ٹھہرا دیا جائے اور یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ نظریات ہی ’تکفیری‘ نظریات ہیں؟ نیز یہ کہ ، یہ ’وصف‘ جس کی بنا پر ایک شخص کا اعتبار ’تکفیریوں‘ میں ہوگا، کہاں بیان ہوا ہے اور کس نے بیان کیا ہے؟ کیا اُس وصف کا اعتبار کرنے پر کوئی اختلاف بھی ہوا ہے یا وہ اہلسنت کے ہاں متفق علیہ مانا گیا ہے؟ کیا اِس کی بابت کوئی اسٹینڈرڈ مراجع ہیں یا ہر شخص ’تکفیری‘ کی بابت اپنی تعریف رکھتا ہے اور اِس وجہ سے کوئی بھی شخص کسی بھی دن ’تکفیری‘ ہونے کی زد میں آسکتا ہے!؟ اور اِس وجہ سے اسلام کے حق میں یا کفر کی مذمت میں کوئی بھی ’شدید‘ بات کہنے سے پہلے آدمی کو سوچنا پڑے گا کہ کہیں وہ ’تکفیری‘ تو شمار نہیں ہونے لگے گ۔۔۔۔؟! باطل چاہتا تو بہرحال یہی ہے!!! ٭٭٭٭٭ بلاشبہ تاریخ میں ایسے فرقے پائے گئے ہیں جن کو دیے گئے نام اُن کے اپنے اختیار کردہ نہیں رہے۔ مثلاً ’خوارج‘ کو یہ نام عامۃ المسلمین کی جانب سے دیا گیا مگر یہ سوال کہ ’خوارج ہوتے کون ہیں؟‘، اِس پر ائمہء علم کی اسٹینڈرڈ تعریفات بآسانی دستیاب رہی ہیں اور کتب میں بخوبی ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ’معتزلہ‘ کو یہ نام ائمہء اہلسنت کی طرف سے دیا گیا تھا۔ مگر ’معتزلہ کون ہوتے ہیں؟‘ اِس پر اہلسنت کی اسٹینڈرڈ تعریفات بآسانی دستیاب ہیں۔ رافضی اپنے آپ کو ’رافضی‘ نہیں کہتے بلکہ ’مومن‘ کہتے ہیں۔ اُن کا یہ نام جس پر وہ تلملا جاتے ہیں اہلسنت ہی لیتے ہیں مگر ’رافضی کون ہوتے ہیں؟‘ اِس کا تعین اہلسنت مصادر میں ہرگز نایاب نہیں۔
چنانچہ غلطی اِس میں نہیں کہ کسی باطل گروہ کو اہل سنت کی جانب سے کوئی ایسا نام دے دیا جائے جو وہ خود اپنے لئے اختیار نہ کرتا ہو۔ ایک باطل فرقہ اپنے لئے نہایت خوبصورت اور جاذبِ نظر نام اختیار کرتا ہے تو اہلسنت ہرگز پابند نہیں کہ اُس کو اُسی خوبصورت نام سے بلائیں اور پکاریں۔ البتہ اُس کی بابت مستند تعریفات رکھنے میں اہلسنت نے کبھی کوتاہی نہیں برتی۔ ایسا بہرحال نہیں کہ ہر شخص ’خوارج‘ یا ’معتزلہ‘ یا ’رافضہ‘ یا ’جہمیہ‘ کی اپنی تعریف کرتا پھرے اور کسی شخص یا طائفہ پر حکم لگانے کے معاملہ میں ہر تنظیم، ہر جماعت، بلکہ تو ہر نیوز ایجنسی، ہر ٹی وی چینل اور ہر ’مبصر‘ اپنی ’صوابدید‘ لئے پھرتا ہو اور جس پر چاہے وہ لیبل تھوپ دے! بے شک اہلسنت کے نزدیک یہ حد درجہ برے لفظ رہے ہیں، مگر ایسا بہرحال نہیں کہ ’خارجی‘ یا ’معتزلی‘ یا ’رافضی‘ یا ’جہمی‘ یا ’قدری‘ وغیرہ محض ایک گالی ہو جو غصے یا اختلاف کے وقت کسی کو دے ڈالی جائے! یہ لفظ ’برے‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شرعی دلالت رکھتے تھے اور اِس لحاظ سے ایک شرعی وعلمی امانت تھے جس کو اللہ سے ڈر کر اور خاص علمی ضوابط کا پابند رہ کر ہی اختیار کیا جاتا اور اِن کو کسی کے لئے بول دینے سے پہلے سوبار سوچا جاتا۔ ایک باطل گروہ یا شخص کو ایک معیوب تسمیہ دینے سے اہلسنت کے ہاں جو بات پیش نظر ہوتی وہ دراصل اِحقاقِ حق اور اِبطالِ باطل ہوتا تھا، جوکہ جہاد اور اقامتِ دین کا ایک نہایت برگزیدہ باب ہے اور امت کے اندر اہلسنت کا فرضِ منصبی۔ ٭٭٭٭٭ علاوہ ازیں، تسمیات labels کا معاملہ سیاسی پہلوؤں سے بھی حد درجہ حساس ہے۔ بڑے بڑے دوررس مقاصد محض لیبلز لگا کر حاصل کر لئے جاتے ہیں۔ آج کے دور میں تو اِس کا اندازہ کرنا ہرگز دشوار نہیں۔ ’دہشت گردی‘ کا لفظ اِس حقیقت پر ایک نہایت واضح مثال ہے: کوئی بھی شخص اپنے آپ کو ’دہشت گرد‘ نہیں کہتا۔ اِس لفظ کے برا ہونے پر کوئی شاید اختلاف بھی نہیں کرتا۔ مگر ہم جانتے ہیں ’دہشت گردی‘ محض گالی بھی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ اصطلاح کے طور پر مستعمل ہے اور اِس کی باقاعدہ ایک دلالت implication ہے۔ اب اگر اس کی کوئی اسٹینڈرڈ تعریف definition اور وصفdescription متعین کئے بغیر ہی، اور اُن اسٹینڈرڈز پر آخری درجے کا اصرار کئے بغیر ہی، آپ اِس لفظ کا استعمال ہوجانے دیتے ہیں تو اپنے ساتھ ایک بہت بڑی واردات ہوجانے کا راستہ آپ خود اپنے ہاتھوں کھول دیتے ہیں۔ یہ رخنہ چھوڑ دیا گیا تو جس فریق کے ہاتھ میں میڈیا کی طاقت ہوگی وہ دوسرے کا ستیاناس کر کے رکھ دے گا۔ آپ جتنے بھی کمزور ہوں لازماً آپ کو یہ رخنہ پر کرنے کی مقدور بھر کوشش کرنا ہوگی اور اِس رخنے کو وسیع کرنے کے عمل میں آڑے آنے پر تو جان کھپا دینا ہوگی۔ البتہ اگر آپ کو اِس رخنے کا ادراک ہی نہیں تو آپ کی زبان سے کی گئی ’دہشت گردی‘ کی مذمت بھی آپ کے دشمن کے کام آئے گی (خاص طور پر جبکہ میڈیا کی طاقت اُس کے ہاتھ میں ہے)۔ بالفاظِ دیگر، دشمن کے تیر تو آپ کو لہولہان کریں گے ہی آپ کے چلائے ہوئے تیر بھی خود آپ ہی کے خلاف برتے جائیں گے۔ البتہ اصطلاحات کو پہنائے گئے معانی کی بنیادوں اور ا’ن کیلئے اختیار کئے گئے اسٹینڈرڈز کو چیلنج کر کے یقینا آپ اِس گولہ باری میں، جہاں تک ہوسکے، اپنی پوزیشن کو بہتر کر سکتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ یہ جنگ بڑی حد تک ’اصطلاحات‘ پر ہی سہارا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اِس دور میں ’نکتہ وروں‘ کی ایک بڑی تعداد کو ’اصطلاحات‘ کے اندر ہی نقب لگاتا دیکھیں گے۔ باہر سے ’میڈیا‘ اور اندر سے ’اصطلاحات‘ کے نقب زن!!! پس یا تو ایک اصطلاح کو دیا گیا معنیٰ آپ کے شرعی سُنّی معیار پر پورا اترتا ہو یعنی اُس کو حق معانی پر ہی محمول کیا گیا ہو، اور یا پھر آپ اُس اصطلاح کی ہی پابندی قبول نہیں کرتے۔ بلکہ تو ضروری ہو جاتا ہے کہ اِس صورت میں آپ اُس اصطلاح کو سرے سے لغو جانیں، بے شک وہ کسی درست معنیٰ میں کتنی بھی قابلِ اعتناءکیوں نہ ہو۔ اسی حوالے سے۔۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی بابت مشہور ہے کہ بعض پراپیگنڈا کرنے والے حاسدوں کی جانب سے، جو کہ ناصبیت سے ملحق اغراض رکھتے ہوں گے یا پھر چاہتے ہوں گے کہ بڑھتی ہوئی شہرت رکھنے والے اِس ہاشمی نوجوان پر ہاتھ ڈال دینے کےلئے بنو عباس کو ایک نہایت خوب بہانہ فراہم کردیں، امام شافعی کواہلِ بیتِ رسول اللہ سے عقیدت رکھنے پر بطورِ طعنہ ’رافضی‘ مشہور کردینے کی کوشش ہوئی۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں ”حبِ اہل بیت“ اہلسنت کے ہاں ایمان کا حصہ ہے اور اہلسنت کا نہایت معلوم وصف۔ جبکہ رافضیت کا ”حبِ اہل بیت“ سے کوئی تعلق ہی نہیں؛ جس وجہ سے اُن کو رافضی کہا جاتا ہے وہ اُن کا ”بغضِ صحابہ“ ہے جس سے کہ معاذ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا کوئی تعلق ہی نہ ہوسکتا تھا۔ ایک اصطلاح کا ایک ایسا غیر علمی اور بددیانتی پر مبنی استعمال سامنے آتا ہے تو اِس معنیٰ میں یہ اصطلاح لغو ہی مانی جائے گی اور ایک خندہء استہزا کے قابل ہی جانی جائے گی۔ چنانچہ امام شافعی تک یہ بات پہنچتی ہے کہ اہلِ بیت کے بکثرت تذکرہء خیر پر آپ کو ’رافضیت‘ کے لقب سے نوازا گیا ہے تو نہ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ اِس لفظ کی ہیبت سے دبتے ہیں اور نہ اِس پر صفائیاں دینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ کمال لاپروائی سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اِس پر ایک شعر کہتے ہیں:
یعنی: ”رافضیت اگر آلِ محمد سے محبت رکھنے کا نام ہے، تو پھر سب جن وانس جان لیں کہ میں ’رافضی‘ ہوں!
’فرقہ واریت‘ ایک دوسری اصطلاح ہے جس کو جاہلی میڈیا اپنے بے شمار اغراض کے لئے نہایت کامیابی کے ساتھ برتتا ہے۔ شرک سے روکیں تو آپ ’فرقہ واریت‘ کے مرتکب! بدعات کے خلاف آواز اٹھائیں تو آپ ’فرقہ واریت‘ کے داعی! خرافات ا ور انحرافات کے خلاف جنگ کا علم اٹھائیں، تاکہ اِس امت کا احیاءہو اور یہ اپنے تاریخی مقام پر از سر نو فائز ہو، تو آپ پر ’فرقہ واریت‘ کا الزام۔۔۔۔! ’فرقہ واریت‘ کا لیبل گویا ایک لٹھ ہے جو ہر داعیِ اصلاح کے سر پر دے ماری جاتی ہے اور بڑے بڑے ’سمجھ دار‘ اِس کے ڈر کے مارے دم سادھ کر بیٹھ رہنے میں ہی عافیت جانتے اور اپنی ’ساکھ‘ کا تحفظ ممکن بناتے ہیں۔ تب وہ اپنی سرگرمی کیلئے ایسے ’بے ضرر‘ محاذوں پر ہی سرگرم ہوجانا مناسب تر جانتے ہیں جن پر کسی بھی ’فرقے‘ کو اعتراض نہ ہو۔۔۔۔! یعنی عین وہ چیز جو جاہلیت کو مطلوب ہے!!! ’جو کہا نہیں وہ سنا کرو‘۔۔ جاہلیت یہی تو چاہتی ہے کہ اُس کے ہاتھ میں ’اصطلاحات‘ کی یہ لٹھ پکڑی دیکھ کر آپ اُس کے آگے لگ کر بھاگ کھڑے ہوں! اِس لٹھ سے یہ ڈرائے سب کو اور مارے کسی کسی کو!!!سبھی مر جائیں تو اُس کا یہ تماشا دیکھنے کو یہاں کون رہے؟! لیبلز اور القابات ایسے ہتھیار ’ڈرانے‘ کیلئے ہی تو ہوتے ہیں!!!وہ شخص جو اِن سے ڈر کر نہیں دکھاتا، جاہلیت کو جتنی تکلیف اور جتنی مایوسی اُس شخص سے ہوتی ہے کسی اور سے نہ ہوتی ہوگی۔۔۔۔ بشرطیکہ زیرک پن سے بھی اُس شخص کو ایک حظِ وافر ملا ہو اور ”بصیرت“ سے بھی وہ تہی دامن نہ ہو!
چنانچہ ”اصطلاحات“ کو ’نیشنلائز‘ بلکہ اب تو ’گلوبلائز‘ کر لینے سے جاہلیت اپنا جو مقصد حاصل کر رہی ہے، میڈیا کے دور میں یہی تو تاریخ کا بدترین فاشزم ہے اور آخری درجے کی فکری وثقافتی اجارہ داری۔ جاہلیت اپنی اِس پوزیشن کو ہی تو برقرار کھنا چاہتی ہے کہ اِس کا بولا ہوا ایک لفظ آپ کو بھسم کر جانے کی امکانی صلاحیت رکھے! یہ اپنی خاص ’زبان‘ میں آنکھ کا ایک اشارہ کردے تو آپ محسوس کریں کہ آپ کہیں کے نہیں رہے اور اِس کا استعمال کیا ہوا ایک ’کنایہ‘ گویا آپ کو سات پشتوں تک برباد کر کے رکھ دے گا!
سبحان اللہ! قرآن کی یہ آیت گویا ہے ہی ’میڈیا‘ اور ’پراپیگنڈا‘ اور
’ادب کی طوفانی قوت‘ کے دور میں پڑھی جانے کے لئے۔۔۔۔!!!لَوْمَة
لآئِمٍ
(کسی ملامت کرنے والے کی
ملامت)کو ہرگز کسی خاطر میں نہ لانا وہ نہایت اہم وصف ہے جو ہم دیکھتے
ہیں قرآن نے پہلے ہی اُس طائفہء منصورہ کا بیان کر دیا ہے جو زوال اور
انحطاط اور ارتداد کے وقت اس امت کا احیاءِ نو کرے گا اور اِس کی ڈوبتی
ناؤ کو اللہ کے فضل سے پار لگائے گا: ”اے ایمان والو! تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پھر جائیں، تو پھر اللہ ایسے لوگوں کو لے کر آئے گا جن سے اللہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہوں گے۔ یہ مومنوں پر بڑے ہی نرم ہوں گے اور کافروں پر بڑے ہی سخت۔ یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ دے گا اُسی کو جسے دینا اُس کی اپنی مشیئت ہو۔ اور اللہ تو ہے ہی وسعت والا، جاننے والا“ پس وہ شخص جو جاہلیت کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس ’خوفناک ہتھیار‘ سے ڈر کر نہیں دیتا، بلکہ اپنی بصیرت سے کام لے کر اِس کا سد باب بھی کرتا ہے، وہ جاہلیت کا برپا کیا ہوا یہ تماشا آخری حد تک خراب کر دینے کا باعث بنتا ہے، جس پر جاہلیت یقینا سٹپٹا جائے گی۔ ایک ایسا تماشا جس کو پوری دنیا ’دم نہ کشیدم‘ کی صورت بنی، انتہائی محو ہو کر دیکھتی ہے، وہ تماشا ایک ایسے موحد کے دم سے نہایت بدمزہ ہونے لگتا ہے جو __ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَه کا مصداق __ اللہ کی تعظیم اور کبریائی کو زمانے کاموضوع بنا دینے کیلئے میدان میں اترتا ہے اور ہر اُس اعتبار، ہر اُس اتفاق اور ہر اُس اصطلاح کی صحت کو ہی چیلنج کر دیتا ہے جس پر اللہ نے اپنے انبیاءکو بھیج کر کوئی سند نہیں اتار رکھی۔ إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى (النجم: 23) ”یہ تو محض نام ہیں جو گھڑ رکھے ہیں آپ ہی تم نے اور تمہارے بڑوں نے، اللہ نے تو اِن کے لئے کوئی سند نہیں اتار رکھی۔ یہ لوگ تو پیروی کرتے ہیں محض ظن کی اور اُس چیز کی جو نفسوں میں آجائے۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی جانب سے ہدایت ان تک آچکی ہے“ جاہلیت کے ہاتھ میں پکڑا ہوا سانپ ہر کسی کو ’اصلی‘ نظر آتا ہے سوائے اس موحد کے جو جِبت اور طاغوت کے ساتھ کفر کر دینے کا علم بلند کر چکا ہو۔ صرف یہی ہے جس پر جاہلیت کا افسوں نہیں چلتا۔ نہ صرف اِس پر نہیں چلتا بلکہ اِس کے کھڑا ہونے کے باعث بہت سی خلقت جاہلیت کے افسوں سے نکل آتی ہے۔ پس اِس کے کھڑا ہونے کی دیر ہے، اور اِس کے کھڑا رہنے کی شرط ہے، کہ میدان کا نقشہ ہی تبدیل ہونے لگتا ہے اور دنیا نئے حقائق کو وجود میں آتا دیکھنے لگتی ہے۔
”ما انزل اللہ“ کی روشنی میں مفہومات کی یہ جنگ war of concepts پس ایک نہایت حقیقی جنگ ہے اور میدان کا نقشہ بدل دینے کیلئے نقطہء اولین۔ حقائق کو صحیح الفاظ دینا اور الفاظ کو صحیح وثابت شرعی حقائق کا ہی عکاس بنا رکھنا۔۔ عین اِس محاذ پر پہرے بٹھا دینا اور یہاں پر جاہلیت کو ہرگز کوئی واردات نہ کرنے دینا ایک نہایت حقیقی محاذ ہے، اور قطعاً کسی غفلت اور کسی ناتوانی کا متحمل نہیں۔ اصطلاحات کی ’سیاسی‘ جہت۔۔ یہ وضاحت اِس لئے ضروری تھی کہ آج اگر ہم اسلام کی اجلی نکھری حقیقت کو اپنے اِن معاشروں میں اور اپنی اِس دنیا کے اندر پھر سے ایک جیتا جاگتا واقعہ بنا دینا چاہتے ہیں، اور بلاشبہ آج کا یہ تحریکی جہادی عمل اِسی مطلوب ومقصودِ مومن کو شرمندہء تعبیر کرنے کے لئے ہی بڑی محنت کے ساتھ روپزیر کرایا جارہا ہے۔۔ تو اِس پہلو سے بھی یہ معاملہ نہ صرف ہمارے غوروفکر بلکہ احتیاط کا بھی متقاضی ہو جاتا ہے۔۔۔۔ نہ حق پر ثبات کے بِنا کوئی چارہ ہے اور نہ بصیرت کے حصول بغیر کوئی راہ۔ نہ علم سے استغنا ممکن ہے اور نہ اہل علم سے وابستہ رہے بغیر کوئی چارہ۔ ٭٭٭٭٭ پس آج اگر کوئی نیا خوفناک ’نام‘ یا کوئی نئی پر اَسرار ’اصطلاح‘ ہمارے سامنے لائی جاتی ہے، کہ دھڑا دھڑ ہم اُس کی مذمت شروع کر دیں۔۔ جس سے فائدہ اٹھا کر جاہلیت خود ہمارے ہی ہاتھوں بہت اچھی اچھی تحریکی کوششوں کا خون کروا دے اور باطل کو چیلنج کرنے والے ہر داعی اور دعوت کو اچھوت بنا دینے کیلئے ہم دینداروں کو ہی بڑی ہوشیاری کے ساتھ استعمال کر جائے؛ جیساکہ ’وہابیت‘ کا لیبل عام کرنے سے ڈیڑھ سو سال تک عالمی استعمار کا کام چلتا رہا تھا(1) اور اب اس کے پرانا ہوجانے کے باعث باطل اسلام کے تحریکی عمل کو ’بلیک لسٹ‘ کروانے کیلئے کچھ نئے لیبلز کی تلاش میں بے چین ہے۔۔۔۔ تو ایسے کسی نئے خوفناک ’نام‘ یا کسی نئی پراَسرار ’اصطلاح‘ کی بابت سنی سنائی باتوں سے متاثر ہوجانے کی بجائے، خصوصاً ’اسٹیٹس کو‘ کی حامی قوتوں کی جانب سے عام کر دیے جانے والے فقروں کو ہی دہراتے چلے جانے کی بجائے، اُس کو اسلام کے صحیح وثابت حقائق کی روشنی میں پرکھنا ہی ہم پر لازم ہے۔۔۔۔ اور اِس سلسلہ میں بھی راہنمائی ہمیں کہیں ’اِدھر اُدھر‘ سے نہیں وقت کے مستند جہابذہء علم سے ہی لینی ہے۔ ٭٭٭٭٭ دوسری جانب یہ بھی البتہ درست نہیں کہ ’اسلام سے تمسک‘ کے نام پر ہم وقت کی کسی نئی گمراہی یا انتہا پسندی کی کسی نئی صورت کو اپنی صفوں میں گھس آنے دیں، اپنے نوجوانوں میں ردِ عمل در ردِ عمل کی راہ پر چل پڑنے کے ذہن کی حوصلہ افزائی کریں، جذباتی اور شدت آمیز رویوں کو اپنے یہاں پروان چڑھنے دیں، اور ایسے افکار اور نظریات کو اپنے لوگوں میں پھیلنے دیں جو کسی نامعلوم وگمنام مصدر کی جانب سے سامنے لائے جارہے ہوں۔ ہرگز درست نہیں کہ اپنے یہاں ہم ایسے لٹریچر کو عام ہونے دیں جو کسی نامعلوم سمت سے آرہا ہو؛ یعنی جس کے لکھنے والے نہ تو وقت کے معروف اہل علم کے اقوال اور فتاویٰ کے پابند ہوں اور نہ اُن اہل علم کے کہنے میں رہتے ہوں۔ اور یہ بات تو خاص طور پر متنبہ رہنے کی ہے کہ ایسے لٹریچر کی اپنے یہاں ہرگز پزیرائی نہ کی جائے جس کے لکھنے والے وقت کے معروف علمائے سنت پر طعن وتشنیع کرتے ہوں اور اُن کی بابت نوجوانوں کا ایسا تاثر بنائیں کہ وہ (یعنی وقت کے معروف علمائے سنت) امت کی راہنمائی کیلئے نااہل ہیں لہٰذا امت کے نوجوان اب اِن (لٹریچر نویسوں) ہی کی راہنمائی قبول کر لیں! ایسے گمنام لکھاریوں سے شدید ہوشیار رہیں جن کے نہ تو مبلغِ علم کی بابت ہمیں علماءکی کوئی شہادت دستیاب ہے اور نہ جن کے صائب نظر ہونے کی بابت علماءکا کوئی بیان ہم تک پہنچا ہے، جبکہ یہ لکھاری وقت کے کچھ نہایت عظیم اور خطرناک موضوعات پر قلم اٹھا رہے ہوں بلکہ تو فتوے صادر کر رہے ہوں اور فتوے بھی ایسے جن کی کوئی نظیر علمائے وقت کے یہاں ملتی ہی نہ ہو۔۔۔۔ ہاں ایسے لٹریچر، ایسے لکھاریوں اور ایسے فکر سے متنبہ رہنا بے حد ضروری ہے۔ یقینا ایسا بہت کچھ اِس وقت سامنے لایا جا رہا ہے جس میں ہمارے مخلص وعمل پسند نوجوانوں کے جذبات کو زیادہ سے زیادہ برانگیختہ کر کے انتہا پسندی کی ڈالی پر چڑھا لیا جاتا ہے، وقت کے وہ سب زندہ علمی مصادر جو اہلسنت کی قیادت کے اہل ہیں نوجوانوں کی نظر میں ابتدا ہی کے اندر مشکوک ٹھہر ا دیے جاتے ہیں، یوں نوجوانوں سے وہ سب علمی سہارے پہلے ہلے میں ہی چھین لئے جاتے ہیں جو آگے پیر پیر پر آنے والے بہت سے نازک مقامات پر اور بہت سے خطرناک گڑھوں سے ان نوجوانوں کے تحفظ کا یقینی ذریعہ بن سکتے تھے۔ یوں ایک بار جب اِن نوجوانوں کو وقت کے علمائے سنت سے برگشتہ کر لیا جاتا ہے اور اُن کو اِن علمی سوتوں ہی سے منقطع کر دیا جاتا ہے جو آئندہ کے مراحل میں ان نوجوانوں کو قدم قدم پر سنت اور سلف کے منہج سے سیراب کرسکتے۔۔۔۔ تو پھر یہ ’لکھاری‘ ہی ان نوجوانوں کی نظر میں ’علماء‘ ٹھہرتے ہیں اور یہی ان کیلئے ’مفتی‘ اور یہی ’سب کچھ‘۔ پھر یہی جس کو کافر کہہ دیں وہ اِن نوجوانوں کی نگاہ میں کافر اور جس کو گمراہ کہہ دیں وہ گمراہ! اور جس کی بابت ’توقف‘ اختیار کریں اُس خوش قسمت کی بابت ’توقف‘ کر جانا ہی ’صحیح موقف‘ مانا جائے گا! یہاں تک کہ علماءتک کو ’عذر دینے‘ یا ’نہ دینے‘ کا فیصلہ اِنہی کے ہاتھوں میں آجاتا ہے!۔۔۔۔ ’حتی اذا لم یبق عالما، اتخذ الناس رؤوساً جہالاً، فسئلوا، ف افتوا بغیر علم، فضلوا و اضلوا“(2) یہاں تک دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ مخلص و جذباتی نوجوانوں کو عقیدہ کے بعض رسائل خاص اپنی ’شرح‘ اور ’تطبیق‘ کے ساتھ پڑھا کر، اور پھر وقت کے علماءاور داعیوں اور جماعتوں کی بابت ان میں ایک خاص منفی رویہ پروان چڑھا کر۔۔ اور اِن نوجوانوں کو یہ زعم دلا کر کہ ’اب تو عقیدہ کے اصول ہم خود بہت سمجھتے ہیں بلکہ تو اِتنا سمجھتے ہیں کہ علمائے وقت کو یا تو اُس کی سمجھ ہی نہیں یا پھر بزدلی اور مصلحت پسندی کا عارضہ لاحق ہے‘، وقت کے سب کبار علماء کو اُن کی نظر سے یکسر گرا دیا جاتا ہے۔ تب وقت کے اہلِ علم سے راہنمائی لینے کے معاملہ میں دنیا اُن کے لئے اتنی چھوٹی ہو جاتی ہے کہ گنے چنے چند ہی نام رہ جاتے ہیں جن کا ’علمی و شرعی اعتبار‘ ان کی نگاہ میں ’ابھی تک‘ قائم ہو، اور یہ بھی وہ نام ہوں گے جن کے علمی مقام اور امہات الامور میں قول صادر فرما دینے کے معاملہ میں جن کی اہلیت، بلکہ تو جن کے استقامتِ فکر کی بابت علماءکی کوئی ایک شہادت بھی کبھی نہ پائی گئی ہوگی! اِس ’پراسیس‘ سے گزارے گئے بعض مخلص نوجوانوں کو آپ دیکھیں گے کہ بڑے بڑے علماءکا نام آئے تو اُن کے ذکر تک کو خندہء استہزاءکے قابل جانیں گے، البتہ کچھ ایسے گمنام قسم کے ’علمی نام‘آئیں جن کو آج تک کسی ایک صحیح عالم نے فتوی دینے کے اہل تسلیم نہیں کیا ہوگا، تو ایسے ناموں کا ذکر آتے ہی کھِل اٹھیں گے اور اُن کے ’علمی‘ حوالے دیے جانے پر کمال شرحِ صدر محسوس کریں گے! بلاشبہ اِس خطرناک صورتحال کے تقویت پانے کیلئے ہماری برصغیر کی زمین بے حد ممد ہوسکتی ہے۔ ’ردِ تقلید‘ کی محنت کے نتیجے میں یہاں پہلے سے یہ ذہن بہت عام ہوگیا ہے کہ ایک عامی صرف اور صرف ’دلیل‘ کا پابند ہے اور وہ بھی اپنے فہم کے مطابق، خواہ کوئی بھی اُس کو اپنی ’دلیل‘ سمجھا لے! اہل علم کے فہم کی پابندی، بدقسمتی سے، یہاں کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک ضروری نہیں۔۔ نہ صرف ضروری نہیں بلکہ تو کئی ایک کے نزدیک ’کتاب و سنت سے اعراض‘ ہے اور ’غیر نبی کی بات تسلیم کرنا‘۔۔۔۔! یہ اِس منہج ہی کا نتیجہ ہے جو آپ دیکھتے ہیں، مسائل کے ترک واختیار کے معاملہ میں ایک بڑے طبقے کی ’نقل مکانی‘ ساری عمر جاری رہتی ہے۔۔۔۔! ہمارے برصغیر میں پائی جانے والی یہ صورتحال پس اِس معاملہ میں شدید طور پر ممد ہوسکتی ہے کہ ’غیر عالموں‘ کی جانب سے سامنے لائی جانے والی دعوتیں یہاں اپنے پیروکار پیدا کر لینے میں کچھ زیادہ دِقت نہ پائیں۔ معاملہ یہ ہے کہ ’دلیل‘ دے لینا کچھ مشکل نہیں، ’دلیل‘ سب دے لیتے ہیں۔ اصل بات تو ’دلیل‘ کو سمجھنا ہے اور ’دلیل‘ سے ’مسئلہ‘ اخذ کرنا، خصوصاً اُس ایک ’دلیل‘ کو ’ادِلَّہ‘ کے ساتھ صحیح جگہ اور صحیح ترتیب پر رکھ کر دیکھ پانا اور معاملے کی ایک پوری تصویر دیکھ لینے کے لئے مطلوبہ نظر اور صلاحیت کا مالک ہونا۔ یقینا صورت حال ایسی ہے کہ ملک ملک کی دعوتیں اور افکار آج ہمارے یہاں پہنچ رہے ہیں، بلکہ ہر جگہ پہنچ رہے ہیں۔ بلاشبہ بہت سی ایسی دعوتیں جوکہ علماء کی اٹھائی ہوئی دعوتیں نہیں، یہاں کے تحریکی نوجوانوں کی تاک میں ہیں۔ ہمارا یہ برصغیر، مخلص اور عمل پسند جانفروش نوجوانوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے اور اِس ذخیرہ کا تحفظ اور اِس کو صحیح ترین سمت دکھانا ہم سب کا فرض، خصوصاً جبکہ قیادتوں کا فقدان بھی ہماری برصغیر کی تحریکی دنیا کا ایک بہت بڑا المیہ ہے، اور اِس لحاظ سے یہ مسئلہ اور بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اِس رخنہ کا خاطر خواہ ادراک نہ کیا گیا تو ہمیں یہ کسی بڑے نقصان سے دوچار نہ کر دے۔ نوجوانوں میں شدت اور جلد بازی کو پزیرائی دلوانا طبعی طور پر آسان ہے، اور اِس وجہ سے ان کو علماء سے منسلک رکھنا پیشگی ضروری ہے۔۔ کہ جو بھی ’نئی‘ چیز آئے نوجوان اُس کی ’دلیل‘ کی چمک سے متاثر ہونے کی بجائے، اور اس پر خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے، اس کو ان علمائے سنت کی جانب ہی لوٹائیں جو ’دلیل‘ کے فہم اور استیعاب پر قدرت رکھتے ہیں۔ ہر چمکتی چیز سونا نہیں، سونے کی جانچ کرنا سنار کا کام ہے۔ ’دلیل‘ کو جانچنا علماءکا کام ہے۔ یہی وجہ ہے جو آپ دیکھتے ہیں کہ وہ نئی نئی دعوتیں جو ہمارے جذباتی وعمل پسند نوجوانوں میں پزیرائی پانے کیلئے کوشاں ہیں ان کا پہلا نشانہ علماء ہی ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہی ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ علماء ہی نوجوانوں کو ایسی نئی نئی دعوتوں کے خطرناک مضمرات سے آگاہ کرسکتے ہیں اور علماء ہی ان کو اِن دعوتوں کے ہاتھوں خراب ہونے سے اللہ کے فضل سے بچا سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ نوجوان علماء سے پوری طرح منسلک رہیں۔ ایک بچنا وہ ہے جو حفظِ ماتقدم کہلاتا ہے۔ یعنی نقصان ہونے ہی نہ دیا جائے اور آدمی محفوظ کا محفوظ رہے۔ علم اور علماء دراصل تو اِسی لئے پیدا ہوئے ہیں، اور ان کی جانب رجوع بھی دراصل تو اِسی انداز سے اور اِسی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ پس علماء سے وابستگی ایسی ہونی چاہیے جو پیشگی آپ کا تحفظ کرے۔۔ تاکہ کسی نئی دعوت کے ہاتھوں، جس کی پشت پر علم اور علماء نہیں، خراب ہونے سے آپ اور آپ کے اصحاب اور آپ کا پورا خطہ اور آپ کی قوم ابتداء ہی بچ جائیں اور آپ کا بہت سا وقت، اور بہت سی محنت، اور بہت سے وسائل، بلکہ تو کیا بعید بہت سا خون، ضائع جانے سے بچا رہے اور کسی نہایت صحیح و حقیقی مصرف میں ہی کام آئے۔ البتہ ایک بچنا وہ ہے جو نقصان دیکھ لینے کے بعد ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ جب کسی راستے کے نقصانات سامنے ہی آجائیں تو ان سے تحفظ کرنا بسااوقات پھر ناممکن بھی ہوجاتا ہے۔ اللہ سے خیر تو تب بھی مانگنی چاہیے، البتہ اِس بات کی نوبت تب آتی ہے جب ابتداءً علم اور علماءکا دامن نہ تھاما گیا ہو۔
برصغیر کی تحریکی دنیاکو ایسے حادثات کی نذر نہ ہونے دینا جوکہ انتہاپسندانہ رجحانات کے عام ہوجانے کا ایک طبعی ولازمی نتیجہ ہوں گے، اور جن کا کہ آج ہر خطے کے تحریکی عمل کو ہی شدید خطرہ ہے۔۔۔۔ برصغیر کی تحریکی دنیا کو ایسے حادثات کی نذر نہ ہونے دینا اسی چیز پر منحصر ہے کہ یہاں علم اور علماءسے وابستہ رہنے کی ہی تحریک اٹھائی جائے، اور ان علماءسے خاص طور پر وابستہ ہوا جائے جو منہجِ سنت وسلف پر اتھارٹی ہونے کے ساتھ ساتھ معضلاتِ وقت پر گہری نگاہ اور عقیدہ کو زمانے سے جوڑنے کیلئے مطلوبہ علمی استعداد رکھتے ہیں اور اپنی اس صلاحیت کی بدولت نوجوانوں کو وقت کے مسائل و احوال کے معاملہ میں صحیح راہنمائی دے سکتے ہیں۔ الحمد للہ ایسے علماءناپید نہیں۔ یہ تو واقعہ ہے کہ یہاں کئی ایک دعوتیں نئی سامنے آ رہی ہیں۔ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ یہاں برصغیر میں ایک بہت بڑا تحریکی خلا پہلے سے پایا جاتا ہے۔ پچھلے اداریے میں ہم یہ واضح کرنے کی کوشش کر آئے ہیں کہ یہاں کی اسلامی قیادتیں فی الوقت اُس نقطے سے بہت پیچھے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ یہاں مطلوبہ اسلامی عمل کا محض ساتھ دے لیں، اُس کی قیادت کرنا تو دور کی بات ہے۔ ’قیادت‘ ایک صورتِ مطلوبہ کو پیدا کر دینے کی صلاحیت کا نام ہے مگر لگتا ہے یہاں ایک صورتِ موجودہ کا ادارک بھی فی الحال مفقود ہے۔ پس یہاں ایک بے حد بڑا خلا تو بہرحال ہے۔ ایک خلا کسی نہ کسی چیز سے پر بھی ضرور ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں اِس وقت یہاں ہر نئی چیز کی پزیرائی کا امکان ہے، بے شک وہ نئی چیز کچھ دیر بعد اِس خلا کو اور بھی بڑا کر دے! یہی وہ حقیقی بحران ہے جو ہر درد دل رکھنے والے واقفِ حال کو پریشان کئے ہوئے ہے اور ’سب ٹھیک‘ کا نعرہ وہی لگا رہے ہیں جو اِس بحران ہی کے ادراک سے عاجز ہیں۔ جہاں یہ صورتحال (جوکہ ایک بڑے خلا سے عبارت ہے) کچھ بڑے بڑے انتظامات کو عمل میں لائے جانے کی متقاضی ہے، اور بلاشبہ اس کیلئے بھی دردمندوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے، وہاں اِس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ نئی نئی دعوتیں جو ہمارے برصغیر میں اِس وقت قدم رکھ رہی ہیں اُن کی بابت ایک بصیرت پیدا کرائی جائے۔۔۔۔، یعنی: اگر تو اِن دعوتوں کی پشت پر وقت کے معروف علمائے سنت پائے جاتے ہیں ۔۔۔۔ پھر تو نہ صرف اِن کی پزیرائی کرائی جائے بلکہ یہ امید رکھی جائے کہ یہ ہمارے اُس بحران کو حل کر دینے میں بھی مددگار ہوں گی جس نے عرصہ سے ہمیں ایک بند گلی پر پہنچا رکھا ہے۔ اور بلاشبہ ایسی کئی تحریکی پیشرفتیں بالفعل آج پائی جاتی ہیں جو علمائے جزیرۃ العرب کے زیر تحریک پروان چڑھ رہی ہیں اور کمال کی سلفی وعصری جہتوں کو مجتمع رکھے ہوئے ہیں اور جن کو اپنے یہاں لے کر آنے میں ان شاءاللہ بہت بڑی خیر ہے۔
البتہ اگر ان دعوتوں کی پشت پر وقت کے معروف علمائے سنت نہیں پائے جاتے
۔۔۔۔اور بلاشبہ کئی ایک دعوتیں ایسی ہیں جو یہاں پیر جمانے کی کوشش میں
ہیں مگر یہ دعوتیں جن لوگوں کا خلاصہء فکر ہیں نہ تو وہ ”علمائے امت“
کی صنف میں آتے ہیںاور نہ وہ ”علمائے امت“ کے زیر راہنمائی ہی چلتے
ہیں اور نہ مسندِ افتاءپر فائز ہوجانے کیلئے اُن کو ”علمائے سنت“ کی
جانب سے کبھی کوئی اجازت یا سند ہی حاصل رہی ہے، بلکہ یہ لوگ جوکہ
زیادہ تر گمنام ہوتے ہیں اپنے رسائل میں وقت کے ہر خطیر موضوع پر قلم
اٹھاتے اور ’دلیل‘ کی روشنی میں لوگوں کو اپنی ’اَقُول‘ سناتے ہیں اور
دِماء(human lives) کے بہا دیے جانے تک کے موضوع پر خود اپنے ’اجتہاد‘
سے فتاویٰ صادر کرنے میں تردد نہیں کرتے۔۔ نہ صرف خود فتاویٰ دینے سے
تردد نہیں کرتے جبکہ اِفتاءکے سرے سے اہل نہیں، بلکہ علمائے امت کو ان
موضوعات پر فتویٰ دینے کیلئے نااہل جانتے ہیں! (حالانکہ علماءبھی ہوں
تو وہ دوسرے کو اپنے مخالف اجتہاد کا حق دیتے ہیں!) ۔۔۔۔ تو ایسی
دعوتوں سے خبردار ہی رہا جائے۔ یقین کیجئے یہ ہمارے برصغیر کے اِس
بحران کو بے اندازہ بڑھا دیں گی۔ آج جو لوگ اِن رجحانات کو آگے بڑھنے میں مدد دے رہے ہیں، اُن کا اخلاص اور جذبہء عمل اپنی جگہ ، لیکن اِن رجحانات کو آگے بڑھنے کے لئے آج اگر چھوڑ دیا جاتا ہے تو بعید نہیں کل کو معاملہ خود اِن کے ہاتھ سے نکل جائے۔ کیونکہ یہ رجحانات کسی ’مرجعیت‘ کی پابندی سے واقف نہیں۔ اپنے فتووں میں، شدت کی جن حدوں پر یہ آج ’احتیاطاً‘ رک جاتے ہیں اِن کے پیچھے چلنے والے کل ان حدوں پر نہیں رکیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ جن ملکوں میں یہ تجربات بہت پہلے ہو چکے ہیں وہاں سامنے آنے والے نتائج سے ہی سبق حاصل کیا جائے! علمائے سنت کو ’بائی پاس‘ کرنے کا عمل ایک بار شروع ہوجائے پھر وہ آگے سے آگے بڑھتا ہے۔ تب نہ تو کہیں کوئی ایسا ’نقطہ‘ متعین کر دینا ممکن رہتا ہے جہاں ’رک جانا‘ ہر ایک پر لازم کر دیا جائے اور نہ ’کسی‘ کی یہ حیثیت ہی باقی رہتی ہے کہ وہ ’روک‘ سکے۔ ’دلیل‘ پوچھنے والے جب تک کہ خود ان کو دلیل ’نظر‘ اور ’سمجھ‘ نہ آجائے، چلتے جاتے ہیں! کوئی ضوابط پھر ایسے نہیں پائے جاتے جن کی جانب رجوع لازم ہو۔ ’ضوابط‘ بھی ہر شخص کے پھر اپنے ہوتے ہیں اور ’قواعد‘ بھی! تب چھوٹے چھوٹے اتنے گروہ بنتے ہیں جن کا کوئی حدوحساب نہیں رہتا۔ یہ محض مفروضہ نہیں، جہاں جہاں یہ تجربے ہوئے وہاں وہاں یہ واقعہ رونما ہوتا دیکھا جا چکا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اِن رجحانات پر، جن کا تذکرہ اوپر ہوا، ہمارے یہ ملاحظات اپنی جگہ ۔۔ البتہ ’تکفیری‘ یا ’جماعتِ تکفیر‘ ایک الگ چیز ہے۔ اِن رجحانات کو، اِن کی بے اعتدالیوں کے باوجود، ’جماعتِ تکفیر‘ سے ملانا بیشتر کیسز cases میں نادرست ہوتا ہے۔۔۔۔ تو اب پھر ہم اِس مضمون کے سب سے پر تجسس سوال پر آجاتے ہیں، کہ یہ ’تکفیری‘ کون لوگ ہیں۔۔۔۔؟ ساٹھ کی دہائی کے دوران، مصر کی جیلوں میں ایک جماعت کی تشکیل ہوئی تھی(3)۔ اُس نے اپنا ایک نام رکھا، مگر مسلم داعیوں اور عامۃ الناس کی جانب سے اُس کو ایک اور نام دیا گیا۔ اُس نے اپنا جو نام رکھا وہ تھا ’جماعۃ المسلمین‘۔ لوگوں کے ہاں اُس کا ذکر جس نام سے ہوتا رہا وہ تھا ’جماعۃ التکفیر والہِجرۃ‘۔ ’جماعتِ تکفیر‘ کا نام اُن کو اس لئے دیا گیا کہ معاشرے میں قریب قریب وہ ہر شخص کی تکفیر کر دیتے تھے۔’ہجرۃ‘ کا نام اس لئے دیا گیا کہ وہ موجودہ معاشروں کو، جنہیں وہ ’جاہلی معاشرے‘ کہتے تھے اور جن کا ایک عام فرد ان کی نظر میں ’کافر‘ کا حکم رکھتا تھا، چھوڑ جانے کی دعوت دیتے تھے۔ اِس چھوڑ دینے (ہجرۃ) کو وہ اپنی اصطلاح میں ’عُزلَۃ شُعُو ´رِیَّۃ‘ کا نام دیتے تھے، یعنی ’شعوری لحاظ سے، اپنے آپ کو اِن معاشروں کا حصہ نہ سمجھنا‘۔ مراد یہ کہ اِن معاشروں کے اندر جسمانی طور پر رہنا بھی ہے تو ذہنی اور شعوری طور پر اپنے آپ کو ان سے علیحدہ ملت سمجھنا اور ان سے کھلی کھلی مفارقت اختیار کر جانا، بعینہ اُسی طر ح جس طرح کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو معاشرے میں رہا جاتا ہے۔ بے شک اُن کی جنگ ’نظام‘ (یعنی حکومتِ وقت) کے ساتھ شروع ہوئی تھی مگر بات یہ ہے کہ ’نظام‘ کے ساتھ اُن سے پہلے اوروں کی بھی جنگ رہی تھی، محض اِس وجہ سے کسی نے، کم از کم علمائے اہلسنت میں سے کسی نے، اُن کو ’تکفیری‘ نہیں کہا تھا۔ ’نظام‘ کے ساتھ اِس سے پہلے الاخوان المسلمون کی جنگ رہی تھی، مگر الاخوان کیلئے کسی نے ’تکفیری‘ کا لفظ نہیں بولا تھا۔ اِس نئی جماعت کو ’تکفیری‘ کہا گیا تو اِس لئے کہ اِس کی جنگ عامۃ المسلمین کے ساتھ تھی۔ عامۃ المسلمین اِن کی نظر میں ’مسلمان‘ کا حکم نہیں رکھتے تھے۔ معاشرے کے ایک عام فرد کے سلام تک کا جواب دینے کیلئے اُن کے ہاں جو شرط پائی جاتی تھی اُس کو وہ ’التَّوَقُّف وَالتَّیبَییُّن‘ کہتے تھے، یعنی: اُس شخص کی بابت ’توقف‘ یعنی ٹھہرا جائے گاجب تک کہ ’تبین‘ یعنی چھان بین نہ ہوجائے کہ یہ ’مسلم‘ ثابت ہوتا ہے یا نہیں، اور ’مسلم‘ وہ تب ہوتا جب وہ اُن کی ’جماعت المسلمین‘ کا فرد نکلتا! عامۃ المسلمین کی تکفیر اور اُن سے ہجرت (علیحدگی) اور مفارقت کے اِس نظریے تک وہ ’من لم یُکَفّر الکافر فہو کافر‘ والے قاعدے کی ایک نہایت غلط اور بچگانہ تفسیر(4) کے نتیجے میں پہنچتے تھے اور ان کا خیال تھا یہ علی الاطلاق لاگو ہونے والا کوئی اصول ہے! ہر شخص جو باطل نظام کا حصہ ہوتا وہ اُن کے نزدیک کافر ہوتا، حتیٰ کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا عام سرکاری ملازم بھی، یہاں تک کہ سکول کا ایک چپڑاسی بھی۔ باقی لوگ اِس وجہ سے کافر ہوجاتے کہ وہ اول الذکر کو کافر نہیں کہتے! لہٰذا اُن کے اپنے سوا ہر شخص ہی کسی نہ کسی مرحلے میں کافر ہو جاتا! ’کافر‘ کے ساتھ دشمنی تو ایمان کا حصہ ٹھہرا، مگر اِس ’دشمنی‘ کا بڑا حصہ انہی طبقوں کے حصے میں آسکتا تھا جو اُن کی گمراہی کے آڑے آتے! اِس لحاظ سے نہ تو ’نظام‘ اُن کے آڑے آتا، کیونکہ بہت دیر تک اُن کی قوت اتنی نہیں بڑھی تھی کہ وہ ’نظام‘ کیلئے کوئی خطرہ بنتے۔ جب تک وہ ’نظام‘ کیلئے خطرہ نہیں، ’نظام‘ کو اُن کے پیچھے پڑنے کی کیا ضرورت(5) ہو سکتی تھی؟ لہٰذا ’نظام‘ کے ساتھ ابتدا میں اُن کی مڈھ بھیڑ ہی نہ ہوئی۔ اور نہ عوام الناس ہی اُن کے آڑے آتے، کیونکہ عوام الناس کو بھی اُن کی کیا پڑی تھی؟ لہٰذا ’کافر‘ قرار پانے سے بڑھ کر عوام پر بھی کچھ اتنی ’کرم فرمائی‘ نہ ہوتی! البتہ علماءاور دینی جماعتیں ضرور ان کی گمراہی بیان کرنے کو موجود تھیں۔ لہٰذا ”علماء“ اور ”جماعتیں“ ہی ان کی دشمنی کا بڑا ہدف بنتیں۔ ’نظام‘ کی تکفیر سے وہ بہت جلد فارغ ہوچکے تھے اب کل معرکے اسلام پسندوں کے ساتھ تھے! نتیجتاً۔۔ ’کافر ‘ گو اُن کے نزدیک ”علماء“ اور ”دینی جماعتوں وتحریکوں“ کے علاوہ اور بھی بہت تھے بلکہ پورا معاشرہ ہی ’کافر‘ تھا، مگر ’دشمنی اور مخاصمت‘ پر سب سے زیادہ حق اُن کے یہاں ”علمائے شریعت“ اور ”کارکنان وداعیانِ اسلام“ ہی کا رہا! اِنہی کے ساتھ الجھنا اور اِنہی کے ساتھ مناظرہ بازی، اِنہی سے براءت، اور اِنہی کے ’شر‘ سے خبردار کرنا تکفیریوں کا معمول بنا! اِس لحاظ سے جتنا کوئی اسلام سے قریب ہوتا اتنا اُسے تکفیریوں کی دشمنی سے زیادہ بڑا حصہ ملتا ۔۔۔۔ یوں اِس پہلو سے ان پر خوارج والا وہ وصف بہت بڑی حد تک صادق آتا کہ: یترکون اہل الاوثان، ویقتلون اہل ال اسلام یعنی ’وہ اہل اوثان (بت پرستوں) کو چھوڑ دیا کریں گے اور اہل اسلام کو قتل کیا کریں گے‘۔ چنانچہ ’التکفیر والہِجرۃ‘۔۔ سے اُن کی نسبت مسلم معاشروں پر حکم لگانے اور مسلم معاشروں کے ساتھ معاملہ کرنے کے حوالے سے بنی، اور یہ تسمیہ اُن کو ’معاشروں‘ کے شرعی احکام متعین کرنے کے حوالے سے دیا گیا۔ یہ بات نوٹ ہو جانا بے انتہا اہم ہے۔ ’تکفیری‘ کا لفظ ”معاشروں کی تکفیر“ کے حوالے سے وجود میں آیا ہے نہ کہ غیر اللہ کی شریعت چلانے والے نظام کی تکفیر کے حوالے سے، کیونکہ غیر ما انزل اللہ کو شریعت (قانونِ عام) کا درجہ دے ڈالنے والے ایک شخص کو مسلمان نہ سمجھنا اہلسنت کا معروف عقیدہ ہے، جیساکہ آگے چل کر اِس پر ہم کچھ بات کریں گے۔ اللہ اور رسول کے حکم پر کسی کے حکم کو ترجیح دینا ایمان کے سراسر منافی ہے اور کفر اکبر میں شمار ہوتا ہے۔ اہل اسلام کے ہاں، خصوصاً اصولِ اہلسنت میں، یہ بات ایک آئین کی طرح مسلم مانی جاتی ہے بلکہ آئین ہی یہ ہے، اور یہ بات ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ یہیں سے اُن لوگوں کی جہالت واضح ہوتی ہے جو ’تکفیریوں‘ کی بابت ’جاننے‘ کا زعم رکھتے ہیں! بلکہ ’تکفیریوں‘ کی بابت عوام الناس کی جہالت دور کرتے پھر رہے ہیں! جو جگہ جگہ اِس ’فتنہ‘ سے خبردار کرنے کے فرض سے عہدہ برآ ہونے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔۔ البتہ ’تکفیریوں‘ کے تعارف میں فرماتے ہیں: یہ ایک جماعت ہے جو مصر سے نکلی تھی اور اس نے غیر ما انزل اللہ کے مطابق حکم چلانے والے حکمرانوں کو کافر جاننے کے نظریہ کی ابتدا کی تھی!!!!! سبحان اللہ!!! غیر ما اَنزل اللہ کو عباد اور بلاد پر (بطور شرع وقانون) جاری وساری کر دینے والے کو کافر جاننا ہی اگر ’تکفیری‘ ہونا ہے تو پھر ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ کتنے بڑے بڑے ائمہء سنت صاف ’تکفیری‘ نکلتے ہیں! مگر اِس پر بات ذرا آگے چل کر۔ مصر کے علمائے سنت نے اِس گمراہ جماعت کو ’تکفیری‘ کے نام سے موسوم کیا، حتیٰ کہ ’تکفیری‘ ایک گالی بن گئی اور واقعتاً گالی بن جانی چاہیے تھی، تو وہ اِس لئے کہ یہ ضال اور مضل جماعت آج کے مسلم معاشروں پر ’کفار‘ کے احکام لاگو کر رہی تھی۔ نہ صرف آج کے مسلم معاشروں پر ’کفار‘ کے احکام لاگو کر رہی تھی، بلکہ اعتقاد رکھتی تھی اور باقاعدہ یہ اعتقاد پھیلا رہی تھی کہ یہ معاشرے تاریخِ اسلام کی پہلی تین صدیوں کے بعد ہی مرتد ہو گئے تھے، جیساکہ ہم ’جماعتِ تکفیر‘ کی بابت ایک مفصل مضمون میں دیکھیں گے۔ جہالت کی انتہا دیکھئے، مصر کے علمائے اہلسنت نے اِس جماعت کو موجودہ معاشروں پر کفر کے احکام لاگو کرنے کی بنا پر گمراہ قرار دیا تھا مگر ہمارے یہ مدعیانِ علم یہ سمجھتے ہیں کہ اِس جماعت کو موجودہ نظاموں پر کفر کے احکام لاگو کرنے کی بنا پر گمراہ قرار دیا گیا تھا!!! گویا اس ’گمراہی‘ سے نکل آنا اور اِس ’ضلالت‘ سے ’تائب‘ ہو جانا یہ ہوا کہ اِس نظام پر ’اسلامی نظام‘ کے احکام لاگو کر دیے جائیں، جس میں کہ اِس کی بیعت کرنا بھی آتا ہے! سبحان اللہ! علمائے سنت کو مسلم معاشروں کے دفاع کی فکر دامن گیر ہے اور وہ اِس وجہ سے اُن گمراہوں کا نام ’تکفیری‘ رکھتے ہیں جو اِن معاشروں کو کفر کے معاشرے سمجھتے ہیں، جبکہ اِن لوگوں کو آج کے اِن نظاموں کے دفاع کی پڑی ہے اور یہ اِن نظاموں کی دشمنی کو ہی ’تکفیری ہونا‘ سمجھتے ہیں اور اِن نظاموں کو کفر اور باطل کے نظام قرار دینا ہی گمراہی خیال کرتے ہیں!!! حالانکہ کون ہے، علمائے سنت میں سے، جو غیر اللہ کی شریعت چلانے والے نظام کو باطل نظام نہیں سمجھتا؟؟؟ ٭٭٭٭٭ ’تکفیر‘ اور ’تکفیریوں‘ کی بابت ’انکشافات‘ کرسکنے اور ’تکفیری‘ منہج کا انحراف واضح کرسکنے کا زعم اِس کے علاوہ اور بہت سی اصناف کو ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر کسی کا ’انکشاف‘ اپنی جگہ ایک لطیفہ ہے۔۔۔۔! - یہاں وہ لوگ ہیں جو ’تکفیریوں‘ کے منہج سے خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’تکفیر‘ کسی کی ہو، اور خواہ کسی وجہ سے ہو، بس گمراہی ہے! اور یہ کہ جو بھی کسی کی تکفیر کرتا ہے، خواہ اس کی کوئی بھی دلیل ہو، بس وہ ’تکفیری‘ ہے! اِن کا کہنا ہے، سب فیصلے قیامت کو ہوں گے اور آج کسی کو کافر کہنا خدا کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لینا ہے! گویا ’کافر اور مسلم‘ کے حوالے سے دنیوی احکامات شریعت میں ہیں ہی نہیں!کافر اور مسلمان میں تمییز نہیں تو ہر دو کے معاملہ میں حقوق وواجبات پر مبنی شرعی احکام چہ معنی دارد؟ یقینا یہ برحق ہے کہ دنیوی احکام اخروی احکام کو لازم نہیں۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ اِس جہان میں چونکہ ہم ظاہر پر ہی حکم لگانے کے پابند ہیں لہٰذا ایک شخص کو ظاہر کی بنیاد پر ہم مسلم قرار دیں مگر آخرت میں وہ مسلم ثابت نہ ہو۔ اسی طرح ایک شخص سے کفر ظاہر ہونے کے باعث اس کو ہم کافر جانیں مگر آخرت میں معاملہ اس کے برعکس نکلے۔ لیکن اِس کا مطلب کیا یہ لیا جائے کہ دنیا میں مسلم اور کافر کے احکام ہی وجود نہیں رکھتے؟ قیامت کو تو یہ بھی ممکن ہے کہ آج عدالت میں جس شخص کو، اس کے خلاف شہادت کے شرعی تقاضے پورے ہوجانے کے باعث، چور قرار دے دیا گیا ہے وہاں جا کر پردہ اٹھے کہ شہادت جھوٹی تھی اور وہ شخص چور ہی نہیں تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص شہادت کے تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث آج عدالت سے بری کر دیا گیا ہے قیامت کو یہ کھلے کہ وہ شخص چوروں کا چور تھا۔ تو پھر کیا قیامت کے انتظار میں یہاں نہ چور کو چور کہا جائے، نہ جھوٹے کو جھوٹا، نہ ظالم کو ظالم، نہ گمراہ کو گمراہ اور نہ کافر کو کافر؟! - یہاں وہ نکتہ ور ہیں جو اِس نظریہ کی باقاعدہ تشہیر کرتے ہیں کہ کسی شخص کو ’کافر‘ کہنا نبی کی زندگی زندگی جائز تھا، یا پھر اِس سے تھوڑا عرصہ بعد تک۔ ان کے بقول، اب مگر اِس بات کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ نہ اب کسی کے پاس معجزے ہیں اور نہ اِنکا کشید کردہ ’قانون اتمام حجت‘ اب کہیں پورا ہوتا ہے اور، اس وجہ سے، نہ اب کسی کو ’کافر‘ کہہ ڈالنے کا سوال ہی دنیا کے اندر کہیں باقی رہ گیا ہے۔ ’مشرک‘ کا لفظ بھی قطعیت کے ساتھ بول دینا اِنکے نزدیک بنی اسماعیل پر ہی جائز تھا، جن کی طرف نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتداءً مبعوث کیا گیا تھا۔ اِنکا کہنا ہے، اب نہ مشرک کا لفظ ہی سیدھا سیدھا کسی کیلئے بول دینا جائز ہے اور نہ کافر کا۔ لازم تھا کہ اِنکی اگلی نسل ایک قدم اور آگے بڑھتی اور اِنکے اِس فلسفے کو ’کتابوں‘ سے نکال کر ’وقائع‘ پر چسپاں کرنے لگتی۔ چنانچہ اِن انڈوں سے نکلے ہوئے چوزوں نے رفتہ رفتہ پر پھیلائے تو فتوے دینا شروع کئے کہ آج کسی ہندو تک کے لئے نہ تو ’کافر‘ کا لفظ بولنا جائز ہے اور نہ ’مشرک‘ کا لفظ۔ جی ہاں، کوئی اور نہیں۔۔ ہندو کے لئے! ’کلمہ گو‘ کی بحث سمجھئے کب کی ختم ہو چکی، یہودیوں اور عیسائیوں کی جان بھی کب کی چھوٹ چکی،۔۔۔۔ یہاں تو ’ہندو‘ کو مشرک کہنا جائز نہیں!!! آپ قرآن کی کچھ گرائمر’ضمیروں‘ کے، جنکے اشارے آج تک صرف اِنکی سمجھ میں آئے ہیں، منکر ہوسکتے ہیں اگر آپ نے ہندو کے لئے مشرک کا لفظ بول دیا! اِنکی ’قرآن فہمی‘ کی بدولت دنیا پر اب یہ عقدہ کھلنے جا رہا ہے کہ ’کافر‘ اور ’مشرک‘ ایسی ’مذہبی‘ species صدیاں پہلے دنیا میں ناپید ہوچکی ہیں لہٰذا اِنکے عجائب گھر سے باہر انکو ’ڈھونڈنا‘ اب فضول ہے اور ان لفظوں کا اطلاق آج کے دور میں کسی پر کر دینا تو ہے ہی قرآنی اصطلاحات سے سراسر ناواقفیت کی دلیل! پھر اِنکے کچھ بہکے ہوئے اور آگے بڑھے۔ ایک مسلمان خاتون کی جانب سے اِن مفتیوں سے دریافت کیا گیا کہ کیا وہ ایک ہندو مرد سے شادی کرسکتی ہے؟ اِنکے ویب سائٹوں پر ایک عرصہ یہ فتویٰ موجود رہا مگر شاید لعن طعن زیادہ ہوئی ہوگی یا کوئی اور سبب کہ یہ فتویٰ بعد ازاں ان ویب سائٹوں پر نظر نہ آیا۔ سائلہ کو جواب میں بتایا گیا تھا(6) کہ بلاشبہ سورہ بقرہ (آیت 21) میں مشرک مرد سے مومن عورت کا بیاہ حرام کیا گیا ہے، مگر چونکہ آج ہندوؤں کو مشرک کہنے کی کوئی دلیل نہیں(!!!)، لہٰذا شرعاً تو ہندو مرد کے ساتھ بیاہ کو حرام نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ سماجی طور پر معیوب ہوسکتا ہے اور اس میں کچھ مشکلات بھی آسکتی ہیں۔ لہٰذا اِسکو سماجی طور پر ہی ’نامناسب‘ کہا جائے گا اور اس وجہ سے اِس سے بچا رہنا بہتر ہے، مگر شریعت میں اسکو حرام کہہ دینے کی کوئی دلیل البتہ نہیں پائی جاتی! گائے کو پوجنے والے ہندو کے گھر میں، اللہ واحد قہار کی عبادت کا دم بھرنے والی مسلمان عورت کا، بیوی بن کر رہنا‘۔۔۔۔ جی ہاں، اِس کے حرام ہونے پر شریعت میں کوئی دلیل نہیں! یہ رشتہ پندرھویں صدی کے اِن مفتیوں کے قول کی رو سے ایک شرعی رشتہ ہو گا!!! اذا لم تستحیِ، فاصنع ما شئت!!!۔۔۔۔ (7) اسلامی مسلمات کے بخئے ادھیڑتے چلے جانے کی اِس سے بدتر مثال کیا کوئی ہوسکتی ہے؟؟؟ گمراہی آگے سے آگے بڑھتی ہے۔ ابھی جو آئیں گے نہ جانے وہ اپنے ساتھ کیا لائیں گے! بسا اوقات ’زیادہ‘ آگے جانے سے ہی پتہ چل پاتا ہے کہ راستہ کتنا ٹیڑھا تھا!
مسیح علیہ السلام سے منسوب یہ بات کس قدر سچ نظر آتی ہے کہ ’تم اُن کو
اُن کی ڈالیوں پر آنے والے ثمر سے پہنچانو گے‘۔ ایک بیج کس قدر زہریلا
ہے، اِس کا اندازہ اس کے پھلوں سے ضرور ہو سکتا ہے۔ تو کیا خردمندوں کو
معلوم ہوا کہ یہ کس قدر ایک خبیث پودا ہے جو بڑی محنت سے کاشت ہو رہا
ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ بڑا کیا جارہا ہے؟؟؟ ساری دنیا کو کس قدر جلدی
ہے کہ یہی درخت یہاں سب سے اونچا اور سب سے گھنا ہو جائے!!! کیا آپ اس
دن کا تصور کرسکتے ہیں جس دن ہر طرف اپنے یہاں یہی فصل پائی جائے؟!
’سیکولر گلوبلائزیشن‘ کا اپنے یہاں پیش مقدم کرنے کے لئے کیا اِس سے
بڑھ کر بھی کوئی نذرانہ ہم اپنے پاس رکھتے ہیں؟ حضرات! امت کے چودہ سو سال سے چلتے آئے مسلمات پر بلڈوزر پھیر دینے کا عمل شروع ہوا چاہتا ہے! بس کچھ چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے بڑا ہونے کا انتظار فرمائیے!!! - ہمارے کچھ بھائی ہیں، جو شاید لاعلمی کے باعث یہ بات کر رہے ہیں کہ اسلام میں ’تکفیرِ معین‘ جائز نہیں اور یہ کہ جو لوگ ’تکفیرِ معین‘ کرتے ہیں انہی لوگوں کو درحقیقت ’تکفیری‘ کہا جاتا ہے! ہمارے یہ بھائی شاید ایک بات کو دوسری میں خلط کر بیٹھے۔ یہ اگر یہ کہتے تو درست تھا کہ: اصولِ اہلسنت کی رو سے تکفیرِ مطلق اور تکفیرِ معین(9) میں فرق کیا جاتا ہے اور یہ کہ تکفیرِ مطلق، تکفیرِ معین کو ہر حال میں لازم نہیں، یعنی تکفیر مطلق کا مطلب آپ سے آپ تکفیر معین نہیں، اور یہ کہ تکفیر مطلق ہو جائے تو تکفیر معین کیلئے پھر بھی جہاں کچھ شروط درکار ہیں وہاں اِس میں کچھ موانع پائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ ہمارے یہ بھائی اگر یہ کہتے تو یقینا یہ ایک درست بات ہوتی۔ غرض ’تکفیرِ معین‘ کی نفی کر دینے کی بجائے ہمارے یہ بھائی اگر’موانعِ تکفیر اور ’شروطِ تکفیر‘ کی بات اٹھاتے تو یہ ایک کہیں علمی بات ہوتی۔۔۔۔ اِن شروط کے پورا نہ ہونے یا اِن موانع کے پائے جانے کی صورت میں تکفیر مطلق ہونے کے باوجود (یعنی یہ کہنے کے باوجود کہ فلاں عقیدہ یا فلاں روش رکھنا کفر ہے) تکفیر معین نہ ہوگی (یعنی یہ نہ کہا جائے گا کہ زید یا بکر نامی ایک شخص فلاں کفریہ عقیدہ یا فلاں کفریہ روش رکھنے کے باعث اب کافر ہوگیا ہے)۔۔ ہمارے یہ بھائی اگر یہ کہتے تو اِن کی بات درست ہوتی۔ البتہ یہ کہنا کہ اہلسنت کے ہاں سرے سے ’تکفیر معین‘ نہیں ہے، سراسر غلط بات ہے۔ کوئی جان بوجھ کر اگر یہ بات کہتا ہے تو وہ منہج اہلسنت پر اپنی طرف سے ایک بات گھڑتا ہے۔
چنانچہ اِن بھائیوں کا مقصد اگر یہ ہے کہ افعالِ شرک میں پڑے ہوئے
لوگوں کو
معیَّن کر کے کافر کہنے کے معاملہ میں نوجوانوں کی حوصلہ شکنی
کی جائے، مقصد اگر یہ ہے کہ نام لے لے کر فتوے لگانے ایسے رجحان کو
فروغ پانے سے روکا جائے، یعنی نوجوانوں کو حکمِ مطلق تک ہی محدود رکھا
جائے تاکہ حکمِ معیّن کا کام وہ علماء
پر ہی چھوڑ رکھیں کیونکہ یہ
علماء ہی کا کام ہے۔۔۔۔ مقصد اگر یہ ہے تو بلاشبہ یہ ایک صالح مقصد ہے۔ حتیٰ کہ، مقصد اگر یہ کہنا ہے کہ ۔۔۔۔: جب کسی شخص کو معیّن کر کے اُس پر حکم لگانے کا سوال درپیش ہو تو خود اہل علم کے ہاں بے حد احتیاط کی جاتی ہے بلکہ شخص کو معیّن کر کے اُس پر حکم لگانے سے اہل علم ممکنہ حد تک احتراز کرتے ہیں اِلا یہ کہ اہل علم کی نظر میں یہ ناگزیر ہی ہو جائے۔۔۔۔ مقصد اگر یہ کہنا ہے تو یقینا درست ہے۔ مگر یہ مضمون ادا کرنے کیلئے یہ نہیں کہا جائے گا کہ ’تکفیر معین‘ سرے سے اہلسنت کے ہاں نہیں۔ بلکہ یہ کہا جائے گا کہ: ’تکفیر معین‘ اہلسنت کے ہاں ہے ضرور البتہ اس کی حدود اور قیود ہیں، یہ حدود وقیود ایسی ہیں کہ کسی شخص کے ہاں ایک کفریہ فعل یا کفریہ اعتقاد پائے جانے کے باوجود اس کو کافر کہہ دینے میں کسی وقت مانع ہوسکتی ہیں اور یہ کہ ان حدود وقیود کو لاگو کرنا عوام الناس نہیں علمائے امت کا کام ہے۔ البتہ یہ ایک گمراہ کن بات ہے کہ ’تکفیر معین‘ کا قاعدہ ’تکفیریوں‘ کا ایجاد کردہ قاعدہ ہے، یا یہ کہ ’تکفیر معین‘ کو برحق ماننے والے ’تکفیری‘ ہوتے ہیں۔ گو ہمارے کئی ایک اصحاب، جن کی اصول اہلسنت سے وابستگی شک وشبہ سے بالاتر ہے، لاعلمی کے باعث بھی یہ بات کر جاتے ہیں۔ چونکہ یہ غلط فہمی جس کا اوپر ذکر ہوا، ہمارے کچھ ایسے بھائیوں کی جانب سے سامنے آرہی ہے جن کے ہاں محمد بن عبد الوہاب کی بطور ترجمانِ اہلسنت حیثیت بہرحال مسلم ہے، لہٰذا اِن کی اِس غلط فہمی کے ازالہ کیلئے ہم محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے ہی کچھ اقتباسات دیں گے۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے زمانے میں بھی ایسے لوگ ہوئے جنہوں نے ’تکفیرِ معین‘ کی کلیتاً نفی کی بلکہ اس مذہب کو امام ابن تیمیہ سے منسوب کیا کہ ابن تیمیہ بھی ’تکفیرِ معین‘ کے قائل نہیں۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب انہی لوگوں کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے اپنے رسالہ مفید المستفید فی کفر تارک التوحید میں لکھتے ہیں:
رسالہ میں آگے چل کر کئی ایسی مثالیں لانے کے بعد جہاں ابن تیمیہ نے کچھ معین لوگوں کی تکفیر کی ہے، محمد بن عبد الوہاب لکھتے ہیں:
علاوہ ازیں، کفر معین کے قواعد وضوابط کے حوالے سے ائمہء اہلسنت کی تصانیف بھری پڑی ہیں۔ فتاویٰ ابن تیمیہ میں اس کی بے حد تفصیل پائی جاتی ہے۔ تکفیر معین اہلسنت کے ہاں پائی ہی نہیں جاتی تو اِن کتب کو اِس کی اتنی تفصیل دینے کی کیا ضرورت تھی، صرف یہ کہہ دینا کیا کافی نہ تھا کہ تکفیر معین سرے سے باطل ہے؟! - یہاں وہ لوگ ہیں جو ”حاکمیت“ پر بات کرنے کو ’خوارج‘ کا مذہب قرار دیتے ہیں۔۔۔۔! اِن کے پراپیگنڈا کی رو سے: ’تکفیری‘ وہ ہوتے ہیں جو آج کے اِن باطل نظاموں کی مخالفت کریں! یہ آج کے اِن موحدین کو جو اللہ مالک الملک کی اتاری ہوئی شریعت کی جگہ انگریز کے دیے ہوئے قانون کو عباد اور بلاد پر مسلط کر رکھنے والے حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، زمانہء اول کے اُن ’خوارج‘ سے جا ملاتے ہیں جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے خلفائے حق کے خلاف خروج کیا تھا! اِنکے نزدیک ’خوارج‘ اور ’تکفیری‘ ہونا یہ ہے کہ شریعت اور قانون اللہ کی بجائے غیر اللہ سے لیا جانے کو ایک مشرکانہ وکافرانہ عمل بتایا جائے! گویا یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ شریعت غیر اللہ سے لی جائے تو بھی آدمی موحد رہتا ہے!۔۔۔۔ فکر ارجاءتو بہرحال یہی کہلوانا چاہتا ہے! وہ بات جو ایک ادنیٰ دینی حمیت رکھنے والا شخص بھی شریعتِ خداوندی کی تعظیم میں بڑے آرام سے کہہ دے گا اور اس کے کہہ دینے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں پائے گا، وہ اِن لوگوں کو ’گمراہی‘ نظر آنے لگ گئی ہے۔ جب سے انگریز سے مستعار لئے گئے نظام اور قانون اپنے یہاں چلنے لگے ہیں کسی غیرت مند مسلمان نے اِس نظام کو باطل کہنے میں کبھی تردد نہیں کیا۔ البتہ آج کچھ ایسے مرجئہ آنے لگے ہیں جو اِس نظام اور اِس کو چلانے والوں کیلئے طاغوت کا لفظ استعمال کرنے کو ’خوارج‘ کا مذہب بتا رہے ہیں! اِن مرجئہ کو ہی یہ ’نکتہ‘ پیش کرنے کی سعادت ملی کہ: غیر اللہ کی شریعت چلانے والا شخص اگر ’زبان‘ سے اپنے اِس عمل کو ’حق‘ کہنے کی حماقت نہیں کرتا تو عمل سے وہ جتنا مرضی حدود اللہ کو پامال کرے اور ہزاروں مربع میل پر غیر اللہ کا قانون چلائے، کروڑوں انسانوں کو اور انکی زندگی کو دیوانی و فوجداری ہر ہر لحاظ سے اللہ کی شریعت کی بجائے غیر اللہ کی شریعت کا پابند کر کے رکھے، حتیٰ کہ لوگوں کو غیر اللہ کی شریعت کے بموجب جیلیں اور پھانسیاں کیوں نہ دے، بس وہ مسلمان ہے اور جنت کا امیدوار!!! افسوس کی بات یہ کہ اپنی اِس گمراہ خیالی کو آج ’منہجِ سلف‘ کا نام دے دے کر پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مہم میں جو اَب بڑے زوروں سے چلنے والی ہے سب سے تکلیف دہ بات یہی ہے کہ آج کے طاغوتوں کو ’شرعی حکمران‘ ثابت کردینے کیلئے، ائمہء سلف ایسے عظیم مقدس ناموں کی دھونس کام میں لائی جارہی ہے، بلکہ تو اِس موضوع پر لوگوں کو ’ایمان‘ اور ’عاقبت‘ کی فکر کرائی جارہی ہے!!!۔۔۔۔ حالانکہ منہجِ سلف کو اللہ کے فضل سے ’اِرجاء‘ کے اِس گمراہ کن مذہب سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ سب سے عجیب اِن کا ٹیپ کا یہ مصرعہ ہے کہ ’جس طرح سلف اپنے دور کے حکمرانوں کے ساتھ پیش آئے تھے ویسے ہی ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے دور کے حکمرانوں کے ساتھ پیش آئیں، بصورتِ دیگر ہم سلف کی راہ پر نہ ہوں گے‘!!! سلف کی اتباع سر آنکھوں پر، مگر کیا دورِ سلف کے حکمران نظام اپنی حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے ویسے ہی تھے جیسے آج کے حکمران نظام ہیں؟؟؟ آج کے اِن انگریزی نظاموں کے ساتھ ’سلف ایسا تعامل‘ تو تب ہو اگر یہ نظام ’دورِ سلف ایسے نظام‘ ہوں! مگر کیا دورِ سلف کے حکمران نظاموں اور آج کے حکمران نظاموں میں ایک جوہری اور اساسی فرق نہیں؟ خلافتِ راشدہ چلئے نہ سہی، آپ ہمیں بنو امیہ اور بنو عباس ایسا نظامِ خلافت ہی لا دیجئے، ہم بھی اِن نظاموں کے ساتھ عین ویسا ہی تعامل نہ کریں جیسا دورِ بنی امیہ اور دور بنی عباس میں ہمارے سلف کرتے رہے تھے تو یقینا ہم ظالم ہوں گے۔ مگر کیا بنو امیہ و بنو عباس کے دورِ خلافت اور آج کے اِن انگریزی اور فرانسیسی شریعت پر چلنے والے مستعار نظاموں کے مابین زمین آسمان کا فرق نہیں؟ اِن کو ایک کر دینا کونسی ’سلفیت‘ ہے؟؟؟!! آج کے حکمران نظاموں کا حکم کیا زمانہء سلف کے حکمران نظاموں جیسا ہے؟؟؟ زمانہء سلف کے حکمران کیا قانون انگریز سے لیتے تھے؟ اگر نہیں، تو پھر دونوں کو حکم میں ایک سا کر دینا کونسی علمیت ہے؟؟؟!! یعنی ہمارا جھگڑا تو آج کے اِن نظاموں کے ساتھ اِس بات پر ہو کہ وہ شریعت جو نہ صرف خلافتِ راشدہ بلکہ خلافتِ بنی امیہ اور خلافتِ بنی عباس وغیرہ تک رائج رہی تھی، اُس روشن تابناک شریعت کی جگہ ہمارے اِن نظاموں نے انگریز کے کالے قانون کی کتابیں لا کر کیوں دھر دی ہیں۔۔ ہمارا جھگڑا تو آج کے اِن نظاموں کے ساتھ ہو ہی اِس پر کہ یہ اُس شریعت کو دیس نکالا دے چکے ہیں جو ارضِ اسلام کے ہر ہر خطے میں دورِ سلف کی طویل صدیاں رائج رہی تھی۔۔ یوں ہماراا لجھنا تو اِن حکمرانوں کے ساتھ ہو ہی دورِ سلف والی شریعت کے لئے، مگر ہمارے یہ نکتہ ور کہہ رہے ہوں کہ سلف کا طریقہ حکمرانوں کے ساتھ الجھنا نہیں!!! آخر وہ سلف، حکمرانوں کے ساتھ اِسی لئے تو نہیں الجھتے تھے کہ اُن کے ہاں وہ شریعت قائم تھی جس کے لئے ہمیں اِن حکمرانوں کے ساتھ ’الجھنا‘ پڑ رہا ہے؟!!!! یہ حکمران بھی وہ شریعت لے آئیں جو دورِ سلف کے حکمرانوں نے اپنے دور میں اہل اسلام کو دے رکھی تھی تو جھگڑا کس بات پر؟؟؟ حضرات! جیسا برتاؤ اللہ کی شریعت پر قائم ایک نظام کے ساتھ(دورِ سلف)، ویسا ہی برتاؤ غیر اللہ کی شریعت پر قائم ایک نظام کے ساتھ (دورِ حاضر)؟؟؟۔۔ ہَل یَستَوِیَانِ مَثَلاً؟ کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ کیا معاذ اللہ ’پیرویِ سلف‘ کی صورت یہ ہے کہ اندھیرے اجالے کا فرق ختم کر دیا جائے؟ ہر دو کے ساتھ ایک سا برتاؤ ہی لازم ٹھہرایا جائے؟؟؟ دن اور رات کو ایک ہی آنکھ سے دیکھنا فرض ٹھہرا دیا جائے، اور وہ بھی منہجِ سلف کے نام پر؟؟؟ سلف کے دور میں اللہ کی شریعت قائم تھی، آج اللہ کی شریعت قائم نہیں ہے۔۔ کیا دونوں کا حکم ایک کر دینا سلف کے راستے پر چلنے کا اقتضاءہے؟؟؟ صرف یہ دیکھنا کہ سلف نے ’حکمرانوں‘ کے ساتھ تعامل ’یوں‘ کیا تھا بغیر یہ دیکھے کہ سلف کے دور کے حکمران ’کس شریعت‘ پر تھے اور آج کے حکمران ’کس شریعت پر‘، اور پھر دورِ سلف کے اُن حکمرانوں کے ساتھ ہونے والے تعامل کو اپنے اِس دور کے حکمرانوں کے ساتھ تعامل کیلئے واحد نمونے کے طور پر سامنے لانا، آخر ظلم نہیں تو کیا ہے؟ سلف کو اپنے لئے ہر حال میں نمونہ سمجھنا بالکل برحق، لیکن کیا یہ قرینِ عقل ہوگا (محض مثال ہے) کہ سلف نے جو لباس گرم موسم میں پہننا ضروری جانا اُسی کو آپ سرد ٹھٹھرتے موسم میں پہننا اتباعِ سلف کی ’واحد صورت‘ قرار دیں؟ کیا اسکی بجائے یہ کہنا کہیں صائب تر نہ ہوگا کہ موسم کے اقتضاءکے مطابق لباس پہننا ہی، بلکہ موسم موسم کا فرق سامنے رکھ کر کوئی طرزِ عمل اختیار کرنا ہی، طرزِ سلف اور اصولِ سلف کی بہترین تطبیق ہے؟ دیکھیں تو سہی صورتِ واقعہ کے اندر کتنا بڑا فرق رونما ہو چکا ہے! دیکھیں تو سہی، دورِ بنی امیہ اور دورِ بنی عباس اور دورِ عثمانی کتنی دیر ہوئی رخصت ہو گیا ہے! شریعت اور فقہ ایک طرف پھینک کر انگریز کے کالے قانون کی کتابیں کس دھڑلے کے ساتھ لا دھری گئی ہیں! دیکھ نہیں رہے، کتاب وسنت کی بنیاد پر فیصلے کرنے والی عدالتیں آپ کے یہاں اب تاریخ کا حصہ بن گئی ہیں!؟ اب حنفی اور شافعی اور مالکی فقہاءکی آراءنہیں بلکہ اینگلوسیکسن لاءکی دفعات ہی معاملات کا فیصلہ کرتی ہیں۔۔۔۔ نظام تھا سو وہ سرتا پیر بدل گیا۔ اب یہ دورِ سلف والا نظام نہیں۔ مگر آپ بضد ہیں کہ نظام باقی نہیں تو کیا ہے اِس کا حکم تو دورِ سلف والا رہنا چاہیے! اتباعِ سلف کا بہرحال یہ مطلب نہیں جو یہ لوگ لیتے ہیں! ”سلف“ ہم اسلام کے پہلے تین ادوار کو کہتے ہیں جوکہ دو صدی سے زائد عرصہ جاری رہا۔ تو کیا خود سلف نے حالات حالات کا فرق سامنے رکھ کر حکمرانوں کے ساتھ معاملہ نہیں کیا؟ کیا خلافت جب طرزِ راشدی سے نکل کر ملکِ عضوض کی صورت دھار گئی تو علمائے صحابہ وتابعین کا اُس سے وہی تعامل رہا تھا جو اس سے پہلے خلافتِ راشدہ کے ساتھ رہا تھا؟ کیا ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور مالک رحمۃ اللہ علیہ کا سفاح اور منصور کے ساتھ عین وہی تعامل تھا جو معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا تھا؟ کیا سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے حجاج کے پھانسی کے پھندے کو آگے بڑھ کر نہیں چوما؟ کیا احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے مامون اور معتصم کے کوڑے کھانا باعثِ فخر نہیں جانا؟ ۔۔۔۔ اور پھر دورِ سلف کے بعد بھی، کیا ترجمانِ سلف ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ایسے امامِ سنت کی موت قید کی کوٹھڑی میں نہیں ہوئی؟ ہاں، یہ ضرور ہے کہ آج عالم اسلام کے ایک بڑے حصے میں وہ ملکِ عضوض بھی اب قائم نہیں رہا جو اسلامی قلمرو کے طول وعرض میں چلا رکھنے کیلئے اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی شریعت سے آشنا نہیں تھا اور جس کا ظلم و عدوان زیادہ تر شخصی استبداد تک محدود تھا۔ ہماری اطلاع کیلئے، اب تو وہ امراءبھی موجود نہیں رہے جو شخصی معنی میں ظالم یا بد عمل سہی مگر جنکی حکومت میں اللہ کی شریعت کے علاوہ کوئی قانونِ عام نہ تھا۔ اب تو وہ حکومتیں ہیں جو اللہ کی شریعت کو جانتی ہی نہیں بلکہ سیدھا سیدھا غیر اللہ کی شریعت چلاتی ہیں۔ واضح طور پر، معاملہ اب طرزِ حکومت کا نہیں رہا، جوکہ دورِ بنی امیہ اور دور بنی عباس میں اٹھنے والا سوال تھا۔۔ معاملہ اب طرزِ حکومت کا نہیں رہا کہ کونسا چلے، بلکہ معاملہ اب شریعت کا ہو گیا ہے کہ کونسی چلے، اللہ کی یا غیر اللہ کی؟ ’طرزِ حکومت‘ کے بدل جانے پر واقعتا ’کفر، اسلام‘ کا مسئلہ کھڑا نہیں ہو جاتا، اسی لئے سلف نے اُن حکمرانوں کے مد مقابل ’کفر، اسلام‘ کا مسئلہ کھڑا نہیں کیا۔ مگر کیا ’شریعت‘ کے مسئلہ پر بھی ’کفر اسلام‘ کا مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا؟ آج تو جھگڑا محض طرزِ حکومت کا نہیں، آج تو جھگڑا یہ ہے کہ یہاں کس کی شریعت چلے، اللہ کی یا غیر اللہ کی؟ ہاں اب جب سوال ”طرزِ حکومت“ سے بڑھ کر ”تشریعِ عام‘ تک جا پہنچا ہے تو اب مسئلہ شرک اور توحید کا ہو گیا ہے۔ غیر اللہ کی شریعت تسلیم کرنا غیر اللہ کی عبادت ہے اور اللہ کی شریعت تسلیم کرنا اللہ کی عبادت۔ تو اب جب اللہ کی شریعت کو ’مسجد‘ میں قید کر دیا گیا ہے۔ معاذ اللہ، ایک خدا اب وہ ہے جو ’مذہبی‘ معاملات میں حکم دینے کا مطلق حق رکھتا ہے، یوں کہ اس کے حکم کے بعد پھر کسی کا حکم نہیں، اور ایک خدا وہ ہے جو ’زندگی‘ کے معاملات میں حکم دینے کا مطلق حق رکھتا ہے، یوں کہ اُس کے حکم کے بعد پھر کسی کا حکم نہیں۔۔۔۔ اور یہ واقعہ آج ہماری اِنہی آخری صدیوں میںرونما ہونے لگا ہے جب ”سلف“ ہمارے مابین موجود نہیں۔۔۔۔ اور یہ ظاہر ہے اُس فرق کی نسبت بہت بڑا فرق ہے جس کا سامنا دورِ تابعین و تبع تابعین کو تھا۔۔ تو کیا اب بھی ہم ان حکمرانوں کو اپنے ’شرعی حکمران‘ مانیں جو اللہ کی شریعت کو غیر اللہ کی شریعت سے تبدیل کر چکے ہیں؟ کیا ”سلف“ نے بھی غیر اللہ کی شریعت چلانے والے حکمرانوں کو ہی ’شرعی حکمران‘ مانا تھا؟ تو کیا اب ہم غیر اللہ کی شریعت چلانے والے حکمرانوں کو عین وہ حکم دے دیں جو اللہ کی شریعت چلانے والے حکمرانوں کا ہوتا تھا؟ اور اگر ہم یہ بوالعجبی کر لیں تو ہمیں ’سلف کے منہج پر ہونے‘ کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا!!!!!!؟ خوارج جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایسے خلیفہء راشد اور حاکمِ عادل کو ہدفِ تکفیر بنایا تھا اور جن کو زعم تھا کہ وہ صحابہ سے بڑھ کر قرآن سمجھتے ہیں۔۔ اُن خوارج کے نعرے میں آنے والے محض ایک لفظ کا ’اشتراک‘ دیکھ کر آج اُن موحدین کو بھی جو انگریز کے قانون کو تشریعِ عام بنا دینے پر معترض ہیں، خوارج کے ساتھ ملا دیا جائے؟! محض یہ دیکھ کر کہ خوارج حروریہ، کہ جنہوں نے اپنی شقاوتِ قلب ثابت کرنے کیلئے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایسے صحابی (نہ صرف ایک صحابی بلکہ صحابہ کی پوری جماعت) سے مفارقت اختیار کر لی تھی اور اُن کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔۔ محض یہ دیکھ کر کہ اُن خوارج حروریہ کی زبان پر بھی ’حکم اللہ‘ کا لفظ آیا تھا، اِن نکتہ وروں نے یہ ’مماثلت‘ ڈھونڈی کہ ہو نہ ہو آج انگریز کے قانون پر معترض ہونے کا بھی یہی حکم ہوگا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایسے صحابی کو ثالث مان لینے پر خوارج کے معترض ہونے کا تھا!!! آخر دونوں کے اعتراض میں ’حکمِ خداوندی‘ کے حوالے سے جو بات کی جاتی ہے!!! خوارج کاابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ ایسے برگزیدہ صحابی کی ثالثی تسلیم کرلینے کو ’کفر‘ کہنا اور آج کے موحدین کا انگریز کے قانون کو خدائے وحدہ لاشریک کے قانون کی جگہ دے ڈالنے کو ’کفر‘ کہنا، ایک برابر؟؟؟؟؟ وہ بھی ’تکفیری‘ اور یہ بھی ’تکفیری‘؟؟؟؟؟ مالکم کیف تحکمون؟؟؟!!! ’حکم بغیر ما انزل اللہ‘ کیا ہے؟ اللہ کی شریعت کے ماسوا کسی کی بات کی جانب تحاکم کرنا۔ اللہ کی شریعت سے متصادم کسی ضابطے کو حجت اور سند ماننا۔ اُسی کو انسانوں کے مابین نزاع میں فیصل ٹھہرا دینا۔ اُسی کو عدالتوں اور محکموں کے اندر آخری مرجع تسلیم کرنا۔ خدا کی سب مخلوق کو اُسی کا پابند ٹھہرا دینا۔ اُسی کو ملک کے طول وعرض میں ’قانونِ عام‘ کے درجے پر فائز رکھنا، اور پھر اس ’قانون‘ کے تقدس پر حلف اٹھانا اور اٹھوانا۔۔ اِن کا یہ کہنا کہ حکم بغیر ما انزل اللہ کو اِس معنیٰ میں(11) ’شرک‘ اور ’کفر اکبر‘ جاننا ’تکفیری‘ ذہن کا شاخسانہ ہے، نہ کہ ”توحید“ کا ایک خالص اصیل مبحث۔۔ اِن کا یہ کہنا کس قدر بڑی لاعلمی اور یا پھر کس قدر بڑی غلط بیانی ہے، اِس کا اندازہ کرنے کے لئے مشاہیرِ علم کے چند اقوال ملاحظہ کر لئے جانا ہی کفایت کر سکتا ہے: مفسر قرآن امام ابن کثیر: جیساکہ ہم نے کہا، تاریخ اسلامی میں کبھی ایسا موقعہ آیا ہی نہ تھا جب قانون اور فیصلہ کیلئے مرجع اسلامی شریعت کے ماسوا کچھ مانا گیا ہو۔ البتہ اول اول جب بعض تاتاری حکمرانوں نے اسلام قبول کرلینے کا دعویٰ کیا، مگر ابھی تک وہ انہی قوانین کو لاگو کئے ہوئے تھے جو نسل در نسل اُن میں چلے آرہے تھے تو اب پہلی بار گویا یہ مسئلہ اٹھا۔ یہ وہ دور ہے جس میں امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ ایسے ائمہء دین پائے گئے۔ اِن علماءنے اِس مسئلہ کو کیسے لیا، یہ آپ کو تفسیر ابن کثیر کی درج ذیل عبارت سے معلوم ہوگا۔ مگر یہ ابن کثیر کی ’اپنی رائے‘ نہیں جسے وہ اِن کلمہ گو تاتاری حکمرانوں کو متنبہ کرنے کیلئے سامنے لے کر آئے، بلکہ آپ دیکھیں گے کہ دوسری عبارت میں وہ اِس پر سب علماءکا اجماع نقل کرتے ہیں۔ امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ آیت افحکم الجاہلیۃ یبغون کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں:
علاوہ ازیں، ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھتے ہیں:
امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ:
مجدد الدعوۃ، محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ:
مفتی محمد بن ابراہیم، سابق مفتیِ اعظم سعودی عرب:
علامہ شنقیطی رحمۃ اللہ علیہ، مؤلف تفسیر اضواءالبیان: یوں تو علامہ محمد الامین الشنقیطی، صاحبِ اضواءالبیان اپنی اِس تفسیر میں جا بجا زمانہء حاضر کے اِس فتنہ پر جس کے کثیر بلادِ اسلام شکار ہوئے ہیں، سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں، مگر یہاں ہم اُن کے چند جملے نقل کریں گے جو وہ سورہ کہف کی آیت ”ولایشرک فی حکمہ احدًا“ کے ذیل میں بہت سی آیات کا حوالہ دے دینے کے بعد لکھتے ہیں:
محدثِ دیارِ مصر، علامہ احمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ: چودھویں صدی کے عظیم محدث علامہ احمد شاکر، جنہوں نے عمدۃ التفسیر کے عنوان سے تفسیر ابن کثیر کا اختصار کیا ہے اور اُس کی احادیث کی تخریج بھی کی ہے، گو وہ اِس منصوبے کو پایہء تکمیل تک نہ پہنچا پائے۔۔ عمدۃ التفسیر میں احمد شاکر جب اُس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے آیت افحکم الجاہلیۃ یبغون کی تفسیر کے تحت تاتاریوں کے قوانین پر بات کی، وہاں اپنی تعلیق دیتے ہوئے احمد شاکر لکھتے ہیں:
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||