سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2009

Download in PDF format

’تکفیر‘ جو حق ہے

اور ’تکفیر‘ جو ناحق ہے

شیخ حامد العلی

اردو استفادہ: حامد کمال الدین

شیخ حامد العلی، سابق امینِ عام الحرکۃ السلفیۃ، کویت۔۔ اسلامی موضوعات پر دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹوں میں سے ایک ویب سائٹ http://www.islamway.com پر سب سے زیادہ فتاویٰ آپ کو اِسی شیخِ کے ملیں گے۔ باوجود اِس کے کہ زندگی درس وتدریس اور افتاءوارشاد ایسے علمی مشاغل میں گزری، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی بدنامِ زمانہ ’ذیلی کمیٹی‘ کی جانب سے جاری کردہ ’دہشت گردوں کی لسٹ‘ میں آپکا بھی شمار ہوتا ہے اور کویت کی جیلوں میں بھی آنا جانا رہا ہے!

 

”توحید“، جوکہ دینِ اسلام کا اصل الاصول ہے، دو ہی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ دو بنیادیں جن کے جڑنے پر ”توحید“ کا وجود کھڑا ہے، اور جن کو الگ الگ کبھی کیا ہی نہیں جاسکتا، وہ ہیں:

اول: کفر کر دینا سب طواغیت کے ساتھ، سب ارباب، سب آلہہ، اور سب انداد کے ساتھ، اور تکفیر کر دینا اِن ہر چہار کے اولیاء کی، اور پھر اُن کے خلاف برسر جہاد ہوجانا۔

دوئم: اللہ کی توحید پر ایمان لے آنا اور اُس پر ایمان رکھنے والوں کے ساتھ ہی کل موالات رکھنا۔

اسلام کا یہ اصل الاصول جس بڑی سطح کے حملے کی زد میں آج اِس وقت لے آیا گیا گیا ہے اُس بڑی سطح کے حملے کی زد میں __ پوری تاریخ کے اندر __ یہ آج تک کبھی نہیں آیا تھا۔ حقیقتِ توحید پر تاریخ کے اِس بدترین حملے کا عَلم جس تحریک نے آج اٹھا رکھا ہے اس کا نام ہے: فکری وثقافتی گلوبلائزیشن۔

البتہ سب سے عجیب اور پراَسرار بات اِس مرحلے پر جو سامنے آتی ہے۔۔ یہ ہے وہ حیران کن اتفاق جو اِس قلعے پر باہر سے ثقافتی گلوبلائزیشن کا حملہ ہونے اور اندر سے فکرِ ارجاءکی جانب سے ہلہ بول دیا جانے کے مابین پایا جاتا ہے!

کچھ دیر کیلئے ’ارجاء‘ کا اگر لغوی مطلب لیا جائے(1)، یعنی ’ہٹا دینا‘ اور ’پیچھے کر دینا‘، تو میرا خیال ہے یہ گلوبلائزیشن کا ہلہ بھی ’ارجاء‘ ہی کہلا سکتا ہے۔ یعنی امتِ اسلام کو اِس کے ثوابت اور اِس کے مسلمات سے ہٹا دینا اور اُن محکمات پر باقی نہ رہنے دینا جوکہ عین حق ہے اور ایسا حق ہے جس کے بعد کچھ ہے ہی نہیں سوائے ضلال اور گمراہی: (فَذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلاَلُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ  (یونس: 32) ” تو پھر یہی تو ہے اللہ، تمہارا پروردگارِ حق، تو پھر حق کے بعد کیا رہ جاتا ہے سوائے ضلال کے، تو پھر کہاں سٹھیائے پھرتے ہو؟)۔

 

گلوبلائزیشن کی یہ آندھیاں جو ہمارے صدیوں کے چراغ بجھا دینے کیلئے اٹھائی جارہی ہیں، دراصل اُس نئی عالمی ثقافت کا سورج چڑھانے کیلئے ہیں جس کا مژدہ سنانے کو عالمِ مغرب بقیادتِ امریکہ اِس وقت حد سے بڑھ کر بے چین ہے۔

یہ ’عالمی فکر‘ اور ’گلوبل طرزِ ثقافت‘ صدیوں کا صلیبی کینہ چھپائے ہوئے آج ہمارے گھروں میں گھس رہا ہے، گو یہ ڈھونگ رچانے میں حد سے بڑھ کر کامیاب جارہا ہے کہ اِس کو ’مذہبی عقائد‘ کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں اور یہ کہ اِس کو کچھ غرض نہیں کہ ’مذہبی‘ معنوں میں کیا حق ہے اور کیا باطل، اور کیا کفر ہے اور کیا ایمان! البتہ اِس کی اصل غایت یہی ہے کہ وہ سب حدیں آخر کار روپوش ہو جائیں جو ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کے مابین کسی وقت بہت گہری کر کے کھینچ دی گئی تھیں۔ اسلام کی وہ برتری جو اِسلام کو ہر باطل پر بے حدوحساب حاصل ہے اور جوکہ ہر مسلم قلب کے اندر جاگزیں ہے، طبعی بات ہے کہ اس ’فرق‘ کے روپوش ہونے کے ساتھ ہی جوکہ ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کے مابین ہے اسلام کی یہ برتری خودبخود روپوش ہو جائے۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کا فرق ہی ملیامیٹ کرا دیا جائے گا، تو باطل کے مقابلے میں ’اسلام کی حقانیت‘ اور ’اسلام کی برتری‘ کا پھر کیا سوال؟! آج تک وہ اسلام کی حقانیت اور اسلام کی برتری سے مار کھا جاتے رہے ہیں تو یہ ’گلوبلائزیشن‘ آج اِسی مرض ہی کی تو دوا ہے کہ ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کا فرق ہی ایک غیر متعلقہ سوال بنا دیا جائے!

چنانچہ آپ دیکھتے ہیں اِسی ’گلوبلائزیشن‘ کے جلو میں ایک اور تحریک بھی چپکے قدموں سے عالمی سرزمین پر پیش قدمی کرتی آرہی ہے، اور یہ ہے ’وحدتِ ادیان‘ جو اپنے یہاں باقاعدہ اب دستک دینے لگی ہے ۔ اس نئے مہمان __ وحدتِ اَدیان __ کی سب سے پہلی فرمائش یہ ہے کہ مسلمانوں کی لغت سے ’کافر‘ ایسا خوفناک لفظ نکال دیا جائے۔ وہ سب اَفکار، وہ سب اَدیان اور وہ سب عقائد جو دینِ اسلام سے متصادم ہیں اب باقی زمانے کیلئے ’کفر‘ کہلانے سے مستثنیٰ کر دیے جائیں!

پس آج اِس ’گلوبلائزیشن‘ کے علمبرداروں کی سب سے زیادہ جان جس چیز سے جاتی ہے وہ ’تکفیر‘ کا لفظ ہے، قطع نظر اِس سے کہ مصادرِ شریعت کی رو سے اِس کا اطلاق کہیں پر کس قدر برحق ہے اور کس قدر ناحق۔ یہ اِس کا دردِ سر ہی نہیں کہ آیا کسی کی ’تکفیر‘ حق ہو رہی ہے یا نا حق۔ یہ تو اِس لفظ کو ہی جدید دنیا کی لغت سے باہر کر دینا چاہتی ہے۔ ’کافر‘ کا لفظ آج دنیا کی کسی بھی قوم اور کسی بھی گروہ کیلئے ’معیوب‘ ہے، خواہ وہ بت پرست کیوں نہ ہو، شیطان پرست (devil worshiper) کیوں نہ ہو(2)، آگ کا پجاری کیوں نہ ہو، حتیٰ کہ شرمگاہوں کے مجسمے بنا کر ان کو پوجنے کا مذہب کیوں نہ رکھتا ہو۔۔ کسی کو ’کافر‘ نہ کہا جائے، ہر ایک کا اپنا اپنا ’نکتہء نظر‘ ہے اور ’گلوبلائزیشن‘ کی نظر میں یکساں طور پر ’لائقِ احترام‘!

سو یہ وجہ ہے جو دشمنانِ اسلام نے ’تکفیر‘ کے اِس اسلامی تصور کے خلاف جنگ کے طبل بجا دیے ہیں، جبکہ یہ تصور بلاشبہ اللہ اور اُس کے رسول کے دیے ہوئے احکامات سے ثابت ہے۔ اللہ اور اس کا رسول جس کی تکفیر کریں، اُس کی تکفیر نہ کرنا ہی تو اسلام کی وہ فصیل گرا دینا ہے جو عقائدِ اسلامی کیلئے ایک چاردیواری کا کام دیتی ہے۔ چاہتے ہیں یہ اِس فصیل کو ہی پہلے ملیامیٹ کر دیں جو اِن کے کفر اور ہمارے ایمان کے مابین حائل ہے۔ چاہتے ہیں سب سے پہلے یہ اِس گھر کی وہ دیوار ہی گرا دیں جس کے بعد اِس کا سب آرپار ایک ہو جائے۔ خود یہ اپنی تلواروں کو صلیب بنائے ہوئے ہیں اور اپنی صلیبوں کو تلوار، مگر ہم سے چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ڈھالیں تک توڑ دیں۔۔ اپنی فصیلیں آپ اپنے ہاتھوں مسمار کر دیں !

یہ ایک عجیب بات ہے کہ جو تصویر یہ ’عالمی ثقافتی مہم‘ اِس عالمِ نو کی بنانا چاہ رہی ہیے، ہمارے یہاں پایا جانے والا ارجائی فکر کمال انداز سے اس ’تصویر‘ کو مکمل کرتا ہے! اصولِ ارجاءاسی لئے تو ہیں کہ ایمان اور کفر کے مابین جو ایک حدِ فاصل ہے اُس کو زیادہ سے زیادہ غیر مرئی بنا دیا جائے!

’کافر‘ کا لفظ آج دنیا کی کسی بھی قوم اور کسی بھی گروہ کیلئے ’معیوب‘ ہے، خواہ وہ بت پرست کیوں نہ ہو، شیطان پرست (devil worshiper) کیوں نہ ہو(2)، آگ کا پجاری کیوں نہ ہو، حتیٰ کہ شرمگاہوں کے مجسمے بنا کر ان کو پوجنے کا مذہب کیوں نہ رکھتا ہو۔۔ کسی کو ’کافر‘ نہ کہا جائے، ہر ایک کا اپنا اپنا ’نکتہء نظر‘ ہے اور ’گلوبلائزیشن‘ کی نظر میں یکساں طور پر ’لائقِ احترام‘!

’گلوبلائزیشن‘ کو ہمارے یہاں اِس کے سوا اور کیا چاہیے؟! یہ اُس کے لئے نعمت، وہ اِس کے لئے غنیمت!
اِن دونوں میں کیا خوب نبھ رہی ہے!

فکرِ ارجائی کا کہنا ہے کہ عمل کو ایمان کی تعریف سے باہر کردو؛ عملاً، ایمان کیلئے زبان سے دعویٰ کافی ہے (کہ دل کی تصدیق صرف خدا کے علم میں ہے!) تبھی آپ آج کے مرجئہ کو کہتے سنیں گے کہ جب تک کوئی شخص زبان سے انکار نہ کردے اور منہ سے بول کر نہ کہہ دے کہ میں دین ِ اسلام کو نہیں مانتا، چاہے وہ کفر میں کتنا ہی آگے کیوں نہ چلا گیا ہو اُس کو خارجِ اسلام تصور نہیں کیا جاسکتا! پس اِس مذہبِ مرجئہ کی رو سے، کوئی شخص پوری شریعت کو چاہے معطل کیوں نہ کر دے، حتیٰ کہ کسی دن ’ہم جنسی‘ کے حق میں قانون کیوں نہ پاس کر دے، اور بقیہ زمانے کے لئے یہ دستور کیوں نہ ٹھہرادے کہ مرد مرد کا شوہر بن سکتا ہے اور عورت عورت کے ساتھ بیاہ رچا سکتی ہے اور یہ کہ ’ہم جنسی‘ کے اِس رشتے کو اُس کے جیتے جی مکمل قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔۔ تو بھی ایسے شخص کو، جب تک کہ وہ دعویٰ اسلام کا کرتا ہے، کافر نہیں کہا جا سکتا، جب تک کہ وہ منہ سے ہی بول کر نہ کہہ دے کہ میں رسول کی لائی ہوئی شریعت کو جھٹلاتا ہوں! میرے خدایا! اِس سے بڑھ کر شریعت کو جھٹلانا کیا ہے؟! اِس دین کے دشمنوں کو اِس سے بڑھ کر ہمارے یہاں سے آخر کیا چاہیے؟ اُن کو کیا پڑی کہ ہمارے اِس حکمران نے ’زبان سے صراحت‘ کی ہے یا نہیں، اُن کو تو ’عمل‘ چاہیے!

مرجئہ کا مذہب ہے کہ کوئی شخص ساری عمر رسول کی لائی ہوئی کسی ایک بات پر بھی عمل کر کے نہ دے بلکہ عمل سے رسول کے لائے ہوئے دین کو تار تار کیوں نہ کرے حتیٰ کہ اُس کے ساتھ برسرِ جنگ کیوں نہ ہو، تب بھی وہ مسلمان ہے! کوئی سوچے، ’مسلمان‘ کی یہ جو قسم ہے، ’گلوبلائزیشن‘ کو اپنے یہاں اِس سے بڑھ کر بھی بھلا کچھ چاہیے؟! اِس ’مرجئہ کے مذہب‘ سے بڑھ کر اِس دور میں بھلا کیا نعمت ہوسکتی ہے؟!

مرجئہ کا یہ مذہب جو کبھی متکلمین کی کتب میں ہی پایا جاتا تھا اور زیادہ تر فلسفی بحثوں میں ہی سامنے آیا کرتاتھا۔۔ لگتا ہے اصل میں تو اِس ’گلوبلائزیشن‘ ہی کیلئے بنا تھا! آج ہی تو ’ارجاء‘ کے کھل کھیلنے کا وقت آیا ہے!

حقیقت یہ ہے کہ اِس واقعہ سے اُن اہل علم کی بات ثابت ہوتی ہے، جو کہہ گئے ہیں کہ امتِ اسلامیہ کے اندر گمراہ فرقوں کے افکار آپ اپنے اندر کوئی چیز نہیں بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ باہر سے جو بھی فکری یلغار ہوتی ہے یا تو اُس کی تاثیر تقاضا کر رہی ہوتی ہے، یا پھر اندر کا جو کوئی سیاسی اضطراب اور یا پھر جو سماجی بحران ہوتے ہیں وہ اِس بات کا موجب بنتے ہیں کہ اپنے یہاں کچھ گمراہ فرقے امڈ آئیں۔ وگرنہ اِس امت کی ساخت ایسی ہے اور اِس دین کی حقیقت طبعاً اِس قدر واضح اور اِس قدر کامل ہے کہ اِن انحرافات کے سطحِ زمین کے اوپر آجانے کی گنجائش ہی نہیں۔ گمراہ فرقوں کا اِس امت کے اندر نمودار ہونا ہوبہو ویسا ہے جیسا ایک بھلے چنگے جسم پر پھوڑوں کا نمودار ہونا، جو محض یہ بتانے آتے ہیں کہ درون میں کوئی خرابی واقع ہوگئی ہے جو ’علاج‘ چاہتی ہے یا بیرون میں کوئی وبا پھیلی ہے جو ’سد باب‘ چاہتی ہے! وگرنہ جسم، کہ فطرت کا حصہ ہے، اپنی ہی ساخت پر رہتا ہے، اور ’پھوڑے‘ بہرحال جسم کا غیر طبعی حصہ ہی شمار ہوں گے اور اِس بات کے غماز بھی کہ یہ آپ اپنی ذات میں کچھ نہیں، خرابی دراصل کہیں پیچھے ہے !

آج یہاں اگر نوجوانوں کے ایسے جذباتی گروہ سامنے آنے لگے ہیں جن کو مایوسیاں وہاں لے آئی ہیں جہاں تشدد ہی ’آخری حل‘ رہ جاتا ہے۔۔ تو اِس ’انتہا پسندی‘ کا چرچا کرنے سے پہلے اُن ’حالات‘ کا چرچا کیوں نہیں کیا جاتا جو اِن گروہوں کو سامنے لانے کا باعث بنے؟ذلت کی آخری حد جو مسلم خطے کے ہر فرد کو تھوک کے حساب سے تحفے میں دے دی گئی ہے، سماجی ظلم کا احساس جس پر خاموش رہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، سیاسی ظلم جس کا کوئی حد ہے نہ حساب۔۔ پھر جب یہ نوجوان اِن بحرانوں کا حل کرنے نکلے تو اِس پر جلادوں کی مار، ایسی منظم وحشیت کہ جس سے درندے خدا کی پناہ مانگیں، ساتھ میں تذلیل جو آدمی کو کبھی اُس کے دین، تو کبھی اس کی قوم اور قبیلے کے نام پر ملتی ہو۔۔۔۔ یہ ’تشدد‘ کو نہیں تو کس چیز کو جنم دے گا؟

پس اگر یہ دیکھنا ہو کہ وہ چیز کیا ہے جو ابتدائے اسلام سے چلی آتی ہے، بغیر اِس کے کہ اتنی صدیاں گزر جانے کے باوجود اِس میں کوئی انقطاع آیا ہو، تو وہ ”اصولِ سلف“ ہیں جن پر نہ کسی ’ارتقاء‘ کا اثر ہوا اور نہ ’حالات‘ کے ہاتھوں اِن میں کبھی کوئی تبدیلی آئی۔ امت پر کیسے کیسے ضعف کے حالات گزرے اور کیسے کیسے عروج کے زمانے آئے مگر یہ ”اصول“ جو اِس امت کے سلف اپنے پیچھے چھوڑ کر گئے، بحمد اللہ جوں کے توں باقی رہے، نہ ’عروج‘ نے اِن کا کچھ سنوارا اور نہ ’زوال‘ نے اِن کا کچھ بگاڑا، کیونکہ یہ کتاب وسنت پر مبنی ابدی اصول تھے اور سلف نے متفق علیہ طور پر اِن کو آگے چلایا تھا۔ اصولِ سلف کا یہ تسلسل، جو تاریخ میں ایک سیدھے خط کی طرح صدیوں کے اندھیرے چیرتا آرہا ہے اور زمانے کی ہزاروں گردشوں کے باوجود اِسی سیدھ کے ساتھ مسلسل بڑھتا رہے گا، یہ خط ’اہل سنت و جماعت‘ کہلاتا ہے، اور اِسی کی بابت یہ حدیث آئی ہے: لا تزال طائفۃ من اُمتی علی الحق، لا یضرہم من خالفہم اِلیٰ یوم القیامۃ  کہ ”ایک گروہ میری امت میں سے ایسا رہے گا جو حق پر ہو، اُن کے مخالفین تاقیامت اُن کا کچھ نہ بگاڑ پائیں گے“

جبکہ علمائے ’اہل سنت و جماعت‘ نے ”ایمان اور کفر کے مابین حدِ فاصل“ متعین کرنے سے متعلق اصول نہایت واضح کر کے بیان کر دیے ہیں۔ شریعت کی اِن سرحدوں پر پہرہ دینے کیلئے بلاشبہ علمائے اہل سنت کے ہاتھ میں ’تکفیر‘ کی تلوار ہمیشہ لہرائی ہے، البتہ ’تکفیر‘ وہ جو حق ہے اور جس کا مرتدین پر چلنا واجب وبرحق ہے۔ اور بلاشبہ جتنا زمانہ یہ شریعت حکمران رہی، علمائے سنت کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ’تکفیر‘ کی یہ تلوار، جو مرتدین پر چلنے کے لئے ہے، ہمیشہ چلی ہے اور کبھی کند ثابت نہیں ہوئی۔ اِسی سے علمائے سنت وجماعت نے اسلام کی سرحدوں کی وہ ہیبت قائم کی تھی اور اِسی سے وہ حصار باندھا تھا کہ نہ ہر کوئی ان کو پھلانگتا پھرے اور نہ ہر کوئی اِن سے کھیلتا پھرے ۔

یہی ہے وہ تکفیر جو حق ہے اور جوکہ اللہ اور رسول کا دین ہے اور جس کے بغیر ایمان کی ایستادگی ممکن نہیں۔ پس اللہ اور رسول جس کی تکفیر کریں، کوئی اس کی تکفیر نہیں کرتا تو وہ اپنے ہی نقضِ ایمان کی شہادت دیتا ہے۔ کیونکہ جس شخص کے کفر کا فیصلہ خدا نے کردیا ہے، یہ اس کی تکفیر نہ کر کے یہی واضح کرتا ہے کہ یہ حقیقتِ اسلام ہی کو جان کر دینے کا نہیں اور یہ کہ وہ فرق جو کفر اور اسلام میں ہے اور وہ حد جو شرک اور توحید کے مابین باندھ دی گئی ہے یہ اُس کو ہی نہیں مانتا۔ جس شخص کی نظر میں کفر اور اسلام کی سرحدیں مٹ جائیں وہ تو خود نقضِ اسلام کا مرتکب ہے۔

رہ گئی وہ ’تکفیر‘ جو ناحق ہے، تو یہ وہ ہے جو کتاب اور سنت کے دلائل پر قائم نہ ہو، اور جوکہ غلو کا نتیجہ ہے، جبکہ غلو سے نبی صلی اللہ علہ وسلم نے ہمیں باقاعدہ خبردار کر رکھا ہے، فرمایا: اِیاکم والغلو فی الدین، فاِنما اَہلک الذین من قبلکم الغلو فی الدین ”دین کے اندر غلو سے باز رہو، کیونکہ تم سے پہلوں کو جس چیز نے برباد کیا تھا وہ دین میں غلو ہی ہے“۔

غلو اور تشدد کا سہارا لینا ایک انسانی واقعہ ہے اور بلاشبہ ایک الجھا ہوا اور پیچیدہ واقعہ ہے۔ اِس کے پیچھے جو اَسباب کارفرما ہوتے ہیں ان کا معیّن طور پر شمار ہونا ایک دشوار اَمر ہے۔ کسی وقت یہ اقتصادی عوامل ہوسکتے ہیں،کسی وقت سماجی، کسی وقت سیاسی، اور بسا اوقات تو بیک وقت اِن سب یا ان میں سے کئی ایک عوامل سے گُندھ کر تشکیل پائے ہوتے ہیں۔

اِنہی عوامل میں سے ایک، وقت کی گمراہ ثقافتی قدریں بھی ہوسکتی ہیں جن میں سے ایک سیکولرزم بھی ہے۔۔ سیکولرزم اپنے اُس وسیع مفہوم میں جو سب ’دین آزاد‘ افکار کو شامل ہے، اور جس کی رو سے، بطورِ مثال، مارکسسٹ انقلابی فکر بھی ’سیکولرزم‘ ہی کی تعریف میں آتا ہے ، جس نے کہ ’خون‘ کی سرخی کو کسی وقت اپنی نویدِ انقلاب کا عنوان بنایا تھا، اور ایک آدھی دنیا نے جس پر فخر کیا تھا۔۔۔۔!

آج شاید یہ سب ہی عوامل مل جل کر از خود عالم اسلام کے اندر __ ایک رد عمل کے طور پر __کچھ ایسے تشدد پسند رجحانات کو جنم دے رہے ہیں جو بالآخر اِس بات پر منتج ہوں کہ وقت کے مسلم معاشروں کی ہی بالعموم تکفیر کرنے لگیں اور اِس بحران کے حل کیلئے ’تشدد‘ اور ’قوت کے استعمال‘ کو ہی اپنے اہداف کے حصول کا واحد ذریعہ جانیں۔

مگر ’تذکرہ‘ بس اُس ایک ہی تشدد کا ہوتا ہے جو ’اِسلام‘ کے نام پر سامنے آرہا ہے! حق یہ ہے کہ ’اسلامی تشدد‘ نامی اِس فنامنا کی تہہ میں تشدد کی وہ سب صورتیں پڑی ہیں جو باہم مل کر رد عمل کی اِس رو کو ہمارے عالم اسلام کے اندر وجود میں لائی ہیں۔ آخر اُس ’تشدد‘ کو کیوں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو ابتداءً ہمارے یہاں اِن انتہا پسندانہ رجحانات کو جنم دینے کا باعث رہا ہے، اور ابھی مسلسل ہے؟

یہ تشدد قسما قسم ہے۔ ’بڑی طاقتوں‘ کا تشدد یہاں ہے، اور جوکہ تشدد کی سنگین ترین شکل ہے اور فساد فی الارض کی بدترین صورت۔ ’حکومتوں‘ کا تشدد یہاں ہے جو اِن ملکوں کے باشندوں پر ہزارہا صورت میں روا رکھا جا رہا ہے، اور جوکہ ان کی جانوں، ان کے مالوں، اِن کی روزی، اور اِن کی آبرؤوں تک کے درپے ہیں، اور تشدد کی اِس صورت سے عالم اسلام کا، خصوصاً شرق اوسط کا، کوئی ملک محفوظ نہیں۔ تنظیموں اور پارٹیوں کا تشدد یہاں ہے، اورایک فرد دوسرے فرد فرد پر جو تشدد کرتا ہے وہ الگ سے ہر طرف دیکھا جا سکتا ہے۔
تشدد، تشدد ہی کو جنم دیتا ہے۔ اِس باقاعدہ ’کوشش سے پیدا کئے ہوئے‘ تشدد کی ہی اب ایک وہ صورت ہے جس کو بڑی محنت کے ساتھ مسلم ممالک کی جیلوں کے اندر سے
(3) برآمد کرایا گیا ہے بلکہ باقاعدہ ’مصنوعات‘ کے طور پر نکالا گیا ہے۔ کچھ خصوصی تقاضے جو اپنی نوعیت کی فکری اور نفسیاتی صورتحال رکھتے ہوں، ان کو جلادوں کے ہاتھوں ایک ہوش ربا ناقابل یقین کیفیت سے گزار کر ، خودبخود ایک ایسی ’زمین‘ پیدا کردی جاتی ہے جہاں پر پھر جتنا مرضی ’تشدد‘ بیج لیں!

آج یہاں اگر نوجوانوں کے ایسے جذباتی گروہ سامنے آنے لگے ہیں جن کو مایوسیاں وہاں لے آئی ہیں جہاں تشدد ہی ’آخری حل‘ رہ جاتا ہے۔۔ تو اِس ’انتہا پسندی‘ کا چرچا کرنے سے پہلے اُن ’حالات‘ کا چرچا کیوں نہیں کیا جاتا جو اِن گروہوں کو سامنے لانے کا باعث بنے؟

ذلت کی آخری حد جو مسلم خطے کے ہر فرد کو تھوک کے حساب سے تحفے میں دے دی گئی ہے، سماجی ظلم کا احساس جس پر خاموش رہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، سیاسی ظلم جس کا کوئی حد ہے نہ حساب۔۔ پھر جب یہ نوجوان اِن بحرانوں کا حل کرنے نکلے تو اِس پر جلادوں کی مار، ایسی منظم وحشیت کہ جس سے درندے خدا کی پناہ مانگیں، ساتھ میں تذلیل جو آدمی کو کبھی اُس کے دین، تو کبھی اس کی قوم اور قبیلے کے نام پر ملتی ہو۔۔۔۔ یہ ’تشدد‘ کو نہیں تو کس چیز کو جنم دے گا؟

کتنی ہی حکومتیں ایسی ہیں جو اِس ’کوشش سے پیدا کی گئی‘ ’اسلامی تشدد پسندی‘ کو اپنے سیاسی مقاصد کی برآری کا ذریعہ بناتی ہیں۔۔ یا تو ریاستی تشدد کا وجہِ جواز سامنے لانے کیلئے، جبکہ درپردہ یہ ریاستی تشدد سیاست کے کھیل میں کوئی خاص توازن لانے کیلئے ہوتا ہے، یا پھر کچھ قوتوں کے ساتھ ’حساب‘ برابر کرنے کیلئے، یا پھر ’رقیب‘ پارٹیوں کو کچلنے کیلئے، یا اپوزیشن کو لگام دینے کیلئے، اور یا پھر پوری قوم کو ’ڈنڈا‘ دکھا کر رکھنے کیلئے تاکہ کوئی ان ’ثقافتی تبدیلیوں‘ کے آڑے آنے کی جراُت نہ کرے یا عالمی قوتوں کے ساتھ حکومت کی اُن ’سودے بازیوں‘ پر معترض ہونے کی جسارت نہ کرے جوکہ خارجی کیا ملکی ہر دو معاملات میں وقتاً فوقتاً ’ناگزیر‘ ہوتی ہیں اور اِن سودے بازیوں کے بغیر یہاں کے برسراقتدار طبقوں کی قسمت کا ستارہ کسی بھی وقت ڈوب سکتا ہے۔۔ نیز یہ ریاستی تشدد ’نظام‘ کی دھاک بٹھانے کیلئے ہوتا ہے اور کسی وقت اِس لئے بھی ہوتا ہے کہ ’ناظرین‘ کو اِسی میں الجھا کر کسی دوسرے کھیل سے ان کی نظریں پھیر رکھی جائیں!

ہاں البتہ جن تشدد پسند گروہوں کو باقاعد ایک عمل کے ذریعے ’پیدا کیا گیا‘ ہوتا ہے، ان سے اُن کی ’قربانی‘ لے لینے کے بعد جان بھی چھڑا لی جاتی ہے، عین اُسی طرح جس طرح سیاست کے کھیل میں ایک کے بعد ایک کر کے ’کارڈ‘ کھیلے جاتے ہیں!

اِسی ’کوشش کے ساتھ پیدا کئے گئے‘ تشدد کی مثالوں میں سے ایک مثال، ’تکفیر و ہجرت‘ کا فکر بھی ہے، جوکہ (جمال عبد الناصر کی) فوجی انقلابی جیلوں کے اندر پروان چڑھ۔۔۔۔

نوجوانوں کا یہ چھوٹا سا مجموعہ تین ظلمتوں (کال کوٹھڑی، جذبہء انتقام، اور علم کا نقص) میں ایک طویل عرصہ گزار لینے کے بعد شاید واقعتاً اس بات کا معتقد ہو چکا تھا کہ یہ حکومت بھی کافر ہے، کیونکہ ایسے وحشیانہ ظلم اور بربریت کا حکم کوئی ایسا شخص دے ہی نہیں سکتا جس کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہو، اور یہ کہ یہ معاشرہ جس پر یہ کافر حکومتیں براجمان ہیں اور یہ ان کے حکمران ہونے پر راضی ہیں یہ معاشرہ بھی کافر ہے، اور اِس بنا پر لازم ہو گیا ہے کہ ہم اِس پورے معاشرے ہی کے ساتھ نمٹیں، عین اسی طرح جس طرح رسول اللہ ًصلی اللہ علہ وسلم نے دورِ اول کی جاہلیت سے اور اُس کے نظام سے نمٹا تھا!
یہ ’نمٹنا‘ دو بنیادوں پر مشتمل تھا:

1) اِس ’جاہلی معاشرہ‘ کا حکم بیان کرنا، جس میں کھل کھلا کر اِس کی تکفیر کرنا آتا تھا، اور وہ بھی بالجملہ پورے معاشرے کی، عین اُسی طرح جس طرح نبی صلی اللہ علہ وسلم نے کھل کھلا کر اور ڈنکے کی چوٹ اِن الفاظ سے یہ ’اعلانِ حق‘ کیا تھا: ”قل یاایہا الکافرون“ اور ”لکم دینکم ولی دین“۔۔۔۔! تو یہاں سے اِس گروہ پر لفظ ’جماعتِ تکفیر‘ کا اطلاق کیا گیا۔

2) دوسرا، اِس ’جاہلی معاشرے‘ سے مفارقت اختیار کر جانا، تاکہ اِس سے باہر آکر ’مسلم معاشرے‘ کو وجود میں لایا جائے، پھر یہ ’مسلم معاشرہ‘ توانا ہو کر ’جاہلی معاشرے‘ پر ٹوٹ پڑے اور اِس کیلئے مسلح تشدد کا ذریعہ استعمال کرے، عین اُسی طرح جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم مدینہ ہجرت کر جانے اور مسلم معاشرہ تشکیل دے لینے کے بعد، اہل مکہ کے خلاف برسر جہاد ہوگئے تھے تا آنکہ آپ نے مکہ پر فتح پالی۔۔۔۔!

تو یہاں سے اس جماعت کو دیے گئے نام میں ’ہجرت‘ کا لفظ شامل ہوا۔

اِس جماعت کے نزدیک ’ہجرت‘ حِسی یا شعوری بھی ہوسکتی ہے، اور وہ اِس معنیٰ میں کہ اس نئے عقیدہ پر ایمان رکھنے والے لوگ ایک جداگانہ معاشرتی اکائی کی سی صورت(4) میں مجتمع ہوں اور یہ ایک ایسی اکائی ہو جو اپنے اندرونی اجتماعی نظام کے علاوہ کسی اجتماعیت کو نہ مانتی ہو، نہ صرف اپنے علاوہ کسی اجتماعیت کو ماننے سے انکار کرے بلکہ اُس کو ’جاہلیتِ عمیاء‘ سمجھتی ہو۔ یہاں تک کہ امیرِ جماعت اپنی بیعت شدہ ایک عورت کو حکم دے گا کہ وہ اپنے اس شوہر سے علیحدگی اختیار کرلے جو ’جماعتِ مسلمین‘ (جوکہ صرف انہی کی جماعت ہوسکتی ہے!) کا رکن نہیں اور وہ اُس عورت کا بیاہ کسی ایسے شخص سے کر دے گا جو ’مسلمانوں ‘ میں سے، یعنی ان کی جماعت میں سے، ہو!

پھر یہ گمراہ جماعت قرآن اور سنت کی اُن سب نصوص کو، جن میں ’کفر‘ اور ’جاہلیت‘ کے مقابلے میں ’اسلام‘ اور ’ایمان‘ کے الفاظ آتے ہیں، اپنے اُس ’خاص‘ استعمال میں لانے لگے جوکہ ان کے منحرف تصورات کا تقاضا ہوسکتا تھا اور بلاشبہ نصوصِ شرعیہ کا یہ ایک بدترین استعمال تھا۔

جبکہ حق یہ ہے، اور یہ بات ہر شبہ سے بالاتر ہے، کہ یہ مسلم معاشرے ہیں نہ کہ کافر معاشرے۔ اِن میں اسلام کے کثیر حقیقی مظاہر اللہ کے فضل سے بدستور سلامت ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ اِن معاشروں کے اندر ایک خلط رونما ہو چکا ہے؛ وہ بیرونی یلغار جو اِس امت پر ہوئی اُس کے بہت سے اثرات ہمارے اِن معاشروں کے اندر ایک خلط لے آنے کا باعث ضرور بنے ہیں، اور اس وجہ سے کچھ پیچیدگیاں بہر حال آئی ہیں۔ یہ کہنا البتہ ہرگز ہرگز درست نہیں کہ امتِ اسلامیہ کا حال آج جاہلیتِ اُولیٰ جیسا ہے۔ صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاصر جاہلیت اِس کے اندر ایک خلط لے آنے کا باعث بنی ہے۔ بنا بریں، آج ہماری جو ضرورت ہے وہ یہ کہ اِس امت کی اصلاح اور تجدید ہو ، نہ کہ ازسرنو ایجاد۔ اِن ہر دو باتوں میں جو فرق ہے وہ ایک بڑا فرق ہے۔

اور یہ بات تو حدیث سے ہی ثابت ہے کہ اِس امت کی ’تجدید‘ ہو نہ کہ ’ایجاد‘۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم فرماتے ہیں: یبعث اللہ علیٰ ر اس کل قرن من یجدد لہذہ الاُمۃ دینہا یعنی ”اللہ ہر سو سال کے سرے پر ایسے لوگ اٹھائے گا جو اِس امت کیلئے اس کے دین کی تجدید کر دیں“۔

لفظِ ’تجدید‘ خود ہی اس بات کا غماز ہے کہ: ایک چیز کی جو اصل ہے اور جو اُس کی اساس اور اُس کے بنیادی ستون ہیں وہ تو سلامت ہی رہیں مگر تجدید اور احیاء کی صورت میں اُس کو سنوار دینے اور اُس کے کچھ نقائص دور کر کے اُس کو ٹھیک کردینے کا عمل مسلسل ہوتا رہے، اور اِس معنیٰ میں ہر تعطل کے بعد اِس کا کردار ازسرنو بحال کر دیا جائے۔ چنانچہ ہماری یہ جو مسلم اقوام ہیں اِن میں آج بھی اللہ کے فضل سے اسلام باقی ہے اور بہت خیر ہے، ہاں یہ اقوام ان مصلحین کی ضرورت مند ہیں جو اِن کے مابین ’تجدید‘ کا فریضہ سرانجام دیں۔

بنا بریں۔۔۔۔ اسلام کی دعوت کا ہوبہو آج انہی مراحل سے گزرنا ضروری نہیں جن مراحل سے اِس دعوت کو رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کے دور میں گزرنا تھا، تب اِس عمل کے تقاضے ہی اور تھے۔ آج امتِ اسلامیہ کے اندر علماء ہیں، داعی ہیں، اور یہ سب اُس تجدیدی اور اصلاحی مساعی کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں جو اللہ کے فضل سے امت کے اندر بیداری کے اُن سوئے ہوئے عوامل کو اٹھا لانے کی صلاحیت رکھتی ہے جو اِس کو ترقی وکمال کی راہ پر پھر سے رواں دواں کردے۔ سوال جب تک اِس امت کے اندر کام کرنے کی بابت رہے گا، اِن علماء، اِن داعیوں اور اِن تحریکوں کا کردار ایک ’کافر معاشرہ‘ ختم کرکے ایک ’مسلم معاشرہ‘ وجود میں لانا نہیں ہوگا۔ روزِ اول سے لے کر علمائے اسلام کا اِس امت کے حق میں یہی کردار رہا ہے۔

اصل عربی مضمون بعنوان ”التکفیر بحق والتکفیر بغیر حق“ انٹرنٹ پر پڑھنے کیلئے:

http://muslm.net/vb/archive/index.php/t-249314.html

حواشی

(1) ’اِرجاء‘ کا لغت میں مطلب ہے: مؤخر کر دینا، پیچھے کردینا ، معاملہ کسی بعد کے وقت کیلئے اٹھا دینا۔ ’مہلت دیا جانے‘ یا ’معاملہ مؤخر کر دیا جانے‘ کے معنیٰ میں یہی لفظ خود قرآن میں آ چکا ہے: وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللّهِ(التوبۃ: 106)یعنی ’کچھ دوسرے ہیں جنکا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک مؤخر ہے“ (مترجم)

(2) بہت سے ممالک میں، خصوصاً مغرب میں، devil worsiper باقاعدہ ایک مذہب ہے اور بہت سے لوگ، خصوصاً منچلے نوجوان، اِس کے معتقد (مترجم)

(3) خصوصاً مصر کی جیلوں کے اندر، جہاں الاخوان المسلمون پر ہونے والے تشدد کی لرزہ خیر داستانیں سنی نہیں جاتیں۔ سب جانتے ہیں جماعت تکفیر انہی جیلوں سے برآمد ہوئی تھی (مترجم)

(4) ہمارے اپنے یہاں بھی کئی چھوٹی چھوٹی مردم گزیدہ جماعتیں عامۃ المسلیمن سے ہٹ کر ایک ’جداگانہ معاشرتی اکائی‘ کی تصویر پیش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ بے شک یہ کئی دیگر باتوں میں ’تکفیر والہجرۃ‘ کی نسبت کچھ فرق بھی رکھتی ہوں مگر اِس طرح کی کئی ایک باتوں میں یہ اُس سے ایک گہری مشابہت بھی بہرحال رکھتی ہیں۔ فَتَدَبَّر (مترجم)