سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2009

Download in PDF format

نیا سال۔۔

کچھ حقائق، کچھ امنگیں!

انور العولقی

استفادہ : ابو زید

یمن سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ انور العولقی، امریکہ کی ریاست نیو میکسیکو میں پیدا ہوئے اور کولاراڈو سٹیٹ یونیورسٹی سے سول انجنرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ سینٹ ڈیگو سٹیٹ یونیورسٹی سے ایجوکیشنل لیڈرشپ میں ماسٹرز کیا۔ دینی تعلیم میں ان کے اساتذہ میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔ بنیادی طور پر داعی ہیں اور واقعی کمال کے داعی ہیں۔ ان کا بنیادی موضوع ہے: حقیقتِ ایمان اور عمل۔ چونکہ ان کا بنیادی کام انگریزی دروس اور تقاریر کی صورت میں ہے اس لئے شیخ انور کا یہ حوصلہ مند پیغام شاید اردو دان طبقے کیلئے ان کا پہلا تعارف بھی ہو۔

1430 ءہجری شروع ہو تا ہے۔سالِ گزشتہ کے ہمارے سب نیک کیا بد سبھی اعمال، یہاں تک کہ ہمارے خیالات جن کا گذر بھی ہمارے ذہن میں ہوا ہوگا، ان سب کو کراماً کاتبین کے ذریعے سے قلمبند کردیا گیا ہے۔ ہمارا یہی اعمال نامہ کل کو ہمارے رب سے حضوری کے وقت پیش کر دیا جائے گا۔ آج پھر ہمارے لئے موقع ہے کہ اگلے سال ایک اچھا مؤمن بن کر زندگی گزارنے کا عزم و ارادہ بھی کریں اور اس کی منصوبہ بندی بھی۔

آج اِس وقت ہم ایک بہت ہی اہم ، پر خطر دورِ آزمائش سے گزر رہے ہیں۔اُمّت کے نوجوانوں کو آج اپنی اہلیت ثابت کرنا ہے۔ اس بات پر کڑھنے کا وقت نہیں رہا کہ ہمارے آج کے مصائب ہماری پچھلی نسلوں کے پیدا کردہ ہیں اور ان کا حل ہماری اگلی نسلیں ہی کبھی نکالیں تو نکالیں! یہ اندازِ فکر گو عام ہے مگر درحقیقت انتہا درجے کی غیر ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہمارا قول و عمل اسی ذہنیت کا عکاس ہے۔ نوجوانانِ امت! کیوں نہ آج ہم یہ اندازِ فکر بدل ڈالیں اور اپنی قوم کو ایک نئے انداز میں سوچنا سکھائیں؟ کیوں نہ ہم یہ کہیں کہ آج کے ان مسائل کے ذمہ دار ہم ہیں اور ان شاءاللہ ہم ہی انہیں حل کر کے رہیں گے؟!

تو آئیں ایک نظر ہم اپنے آس پاس کی دنیا پر بھی ڈالیں۔

فلسطین: غزہ تاریخ کی بدترین بمباری کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ سچ تو ہے کہ اسرائیل آج کے اس معرکے میں طاقتور ہے لیکن ہمیں مجموعی صورت حال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ ابھی کچھ سال پہلے ہی کی تو بات تھی یہود نیل سے لے کر فرات تک اپنی عظیم تر سلطنت کی بات کرتے تھے!! یہ سب بڑنگیں کہاں چلی گئیں؟ آج وہ اپنی چھوٹی سی اراضی جو ریاست فلوریڈا ہی میں سات بار سما جائے،کے گرد دیوار بنا کرسکھ کی سانس لینا چاہتے ہیں! وہ بس یہ چاہتے ہیں کہ بس ان کی جان بخشی کر دی جائے۔ ان کے توسیع پسندانہ عزائم خاک میں مل گئے۔ فلسطینیوں کی مزاحمت اور چٹان جیسے عزائم نے انکی امیدوں پر پانی پھیر دیااور ان کو خوابوں کی حسین دنیا سے نکال کر زندگی کے تلخ حقائق سے روشناس کرادیا۔

ایک وقت وہ بھی تھا کہ ہمیں یہودیوں کے بین الاقوامی امور میں عملداری کے بارے میں ہوش ربا داستانیں اور conspiracy theoriesسنائی جاتی تھیں(1)۔ ہمیں ایسے اایسے ہول میں مبتلا کیا جاتا تھا کہ ارے بھائی یہودی تو خفیہ تنظیموں کے ذریعے سے ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں۔ ہر جگہ ، ذرائع ابلاغ میں، حکومتوں میں، ملٹی ناشنلز میں فری میسن کا جال پھیلا ہوا ہے۔ہم کو بتایا جاتا تھا کہ موساد کے لئے کوئی راز راز نہیں۔ اور یہ ہم کو یہ ذہن نشین کرایا جاتا تھا کہ ہم ایک کمزور، پس ماندہ،شکستہ اور شکست خوردہ قوم ہیں تا کہ ہم ہر قسم کی مزاحمت کو ترک کرکے خود سپرد ہوجائیں۔ان کی جدید تکنالوجی کے وہ گن گائے جاتے تھے گو یا ہم ان کو پسپا کرنا تو دور کی بات مقابلے میں کھڑے ہی نہیں ہو سکتے۔ آج فلسطین پر مصیبت آن پڑی ہے لیکن فلسطین کے نوجوانوں نے یہودیوں کے برتری کے قصوں کو قصہء پارینہ بنا دیا۔انہوں نے اپنے ہمت اور جوانمردی سے ٹینکوں پر کنکریوں کی برتری ثابت کردی۔انہوں نے ثابت کر دیا کہ مقابلے کے لئے ٹکنالوجی میں ان سے برابری ضروری نہیں۔ ہم نے گو یا کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اگر اللہ ہمارے ساتھ ہے توکوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔

ہم یہودیوں کی برتری اور قوت کو یکسر مسترد نہیں کر سکتے کہ وہ صدیوں سے انہی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی صدیوں کی جان توڑ کوششیں، اختیارات کے حصول کی سازشیں، انکی دولت و ذہنی عبقریت، انکے اعلی پائے کے جنگی سازوسامان اور انکی خفیہ تنظیمیں سب کچھ جہاد کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائیں گی۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ جسے اللہ ذلیل کرتا ہے پھر اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ یقینا یہودیوں کو بالآخر ذلیل ہوکر رہنا ہے ۔ ان کو اس انجام سے بچانا نہ امریکہ کے بس میں ہے نہ یورپ کے اور نہ ہی کوئی اور انہیں اس وقت اہل ایمان کی تلوار سے بچا سکتا ہے کہ جب شجر و حجر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ کیا پتہ وہ دن قریب ہی ہوں!

عراق: امریکہ اس نتیجے پر پہونچ چکا ہے کہ نا م نہاد مسلمان جوکہ اصلاً منافقین کا ٹولہ ہے کی مدد کے بغیر وہ اپنا کام نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے پوری اندرونی اور بیرونی وسائل کے باوجود حق کے پاسبانوں سے مستقل طور پر جیت نہیں سکتا۔ عراق میں ہمارے مجاہد بھائیوں کو فتح پانے کے لئے دشمن کو کوئی بڑی شکست دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کو صرف استقامت کے ساتھ میدان میں جمے رہنا ہے۔ ان کا ثابت قدم رہنا ہی ان کی جیت ہے۔ کوئی بھی حملہ آور ملک مستقل طور پر حالت جنگ میں نہیں رہ سکتا۔ حالات بتا رہے ہیں کہ صورت حال دھیرے دھیرے ہمارے مجاہد بھائیوں کے حق میں بدل رہی ہے اور پوری حقیقت سے تو اللہ ہی واقف ہے۔

صومالیہ: اس برس کی سب سے اچھی خبر ہے۔الشباب ہر محاذ پر کامیاب ہورہے ہیں۔ انشاءاللہ جلد ہی ہم صومالیہ میں امارت اسلامی کے قیام کا اعلان سنیں گے۔ اتھیوپیا امریکی گماشتے کا کردار ادا کرتے ہوئے بیزار آچکا ہے اور اسکی امریکہ کے ساتھ لین دین کے معاملے میں تکرار بھی چل رہی ہے۔ لیکن اس امید افزا تصویر کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ الشباب پوری طرح سے محفوظ ہیں۔ہمیں پورا یقین ہے کہ الشباب کو اچھی طرح سے ادارک ہے کہ ان کے خلاف کیسی کیسی سازشیں چل رہی ہیں۔ جب غزوہء حنین میں مسلمانوں کو اپنی تعداد کا زعم ہو گیا تو ان کو بھی وقتی طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بحری قزاقوں سے نمٹنے کے نام پر صومالیہ کے اطراف کی دریاؤں کو گھیرا جا چکا ہے۔ ممکن ہے اس سال تازہ دم زمینی فوج کے ساتھ ہوائی بمباری ہو۔ اس سال الشباب پر ایک منظم حکومت قائم کرنے کی اہم ترین اور محنت طلب ذمہ داری ہے۔ البتہ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ ان کے لئے زیادہ اہم کام حکومت قائم کرنے کے بجائے گوریلا جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری ہے۔ اللہ تعالی کا حکم بھی ہے کہ جو کچھ تمہارے بس میں ہو مقابلے کے لئے تیار رکھو (سورہ انفال 60)

افغانستان: مجاہدین جیت رہے ہیں اور ناٹو کو شکست کا سامنا ہے۔ اوباما دہشت گردی کے خاتمے کے لئے افغانستان پر توجہ مرکوز کرنے کے بارے میں کافی پرجوش ہے۔اللہ تعالی سے یہی دعا ہے کہ ہمارے مجاہد بھائی اس سال ان کو ایک اچھا سبق سکھا سکیں۔

دیگر احوال: منافقوں اور اہل ایمان کے درمیان خط تقسیم واضح تر ہوتا جا رہا ہے جو کہ در اصل اہل ایمان کی فتح کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔آج اگر ’رینڈ زدہ مسلمان(2)‘ (Rand Muslim) بڑھ رہے ہیں تو ان مسلمانوں کی تعداد بھی اللہ کے فضل سے دن بدن بڑھ رہی ہے جو توحید پر ثابت قدم رہتے ہوئے اللہ ،اسکے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور کفار سے اظہار براءت کرتے ہوئے کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔

دعوت کا کام بھی نہایت خوب بڑھ رہا ہے ، تربیت کا عمل بھی جاری ہے اور جہاد بھی زوروں پر ہے۔ یہ سب امت کی پیش قدمی کے اگلے مرحلے کی تیاری ہے۔ جب رب العالمین کسی چیز کو وقوع پذیر کرانا چاہتا ہے تو وہی اس کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے۔ رب العالمین کو اس امت کو غالب کرانا ہے اور وہی اس کے اسباب فراہم کر رہا ہے۔

نوجوانانِ امت! دور سے تماشائی بن کر فتح کا نظارہ کرنے کی بجائے کیوں نہ ہم بھی اس عظیم اور ہمہ جہت انقلاب کا حصہ بنیں؟ آئیں کیوں نہ ہم بھی اس عمل میں اپنے کردار کا تعین کر لیں؟

حواشی

(1) conspiracy theory سے مراد ہے ایسے مفروضے قائم کرنا کہ جو سامنے چیز نظر آرہی ہے اس پر یقین ہی نہ کیا جائے بلکہ ہر ہر چیز، ہر ہر واقعے کے پس پردہ ایسی اشیاءکا وجود تسلیم کیا جائے، خصوصاً ہر معاملے میں اشیاءکے پیچھے ایک ایسے ’خفیہ ہاتھ‘ کا وجود مانا جائے جو نہ اندازے میں آسکتی ہے اور نہ واقعاتی تجزیوں میں سما سکتی ہے۔ یعنی کچھ بھی ہوا ہے تو ضرور اس کے پیچھے کوئی ہے، اور کوئی اچھی سے اچھی چیز ہوئی ہے یا کوئی بری سے بری چیز، ضرور اس کے پیچھے کسی انجانے ’مخالف‘ ہی کا ہاتھ ہے اور اسی کو اس کا سارا فائدہ ہے!

(2) 2004ء میں امریکہ محکمہ دفاع سے وابستہ ایک مشاورتی فورم (رینڈ کارپوریشن http://www.rand.org) کے نیشنل سیکورٹی ڈویڑن نے امریکی حکومت کے لئے ایک مشاورتی رپورٹ پیش کی جس کا عنوان (مہذب جمہوری اسلام) رکھا۔رپورٹ کے مصنف اور رینڈ کے عہدیدار شیرل بنیار نے اپنی رپورٹ کا ایک خلاصہ بھی تحریر کیا۔ مکمل رپورٹ اور اس کا خلاصہ نیٹ پر جاری کر دیا گیا۔ اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا گیا تھا کہ مسلمان اس وقت سوچ و فکر کے چاردھاروں میں منقسم ہیں, بنیاد پرست، روایت پسند، سیکولر اور جدت پسند۔ ان میں سے ایک جسے بنیاد پرست کہا گیا وہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ گروہ مغربی کلچر کو تو مسترد کرتا ہے لیکن جدید دور کی تمام تر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی قوانین کو خالص انداز میں نافذ کرنا چاہتا ہے اس کی راہ روکنے کی خاطر روایت پسند طبقے کو استعمال کرنا چاہئیے جو جدید دور کی ضروریات سے عاری ہے اور ماضی میں زندہ رہنا چاہتا ہے اس گروہ کو اسلام اور بنیاد پرستوں کو بدنام کرنے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہئیے لیکن اسے مضبوط نہ ہونے دیا جائے۔رینڈ کے مطابق سیکولر طبقہ مغربی انداز فکر  ور طرز حیات کے سبب اپنی افادیت کھو چکا ہے لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ تمام تر وسائل کے ساتھ چوتھے گروہ کی حمایت کرے جسے جدت پسند کہا جاتا ہے یہ لوگ اسلام کو جدید بنا کر اور اس میں اصلاحات کر کے موجودہ حالات کے مطابق بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ وہ اس طبقہ کی مالی، مادی، اخلاقی، سیاسی مدد کرے۔- ان کی تحریروں کی نوک پلک درست کر کے انہیں ارزاں نرخوں پر عام کیا جائے۔نہیں عام آدمی اور نوجواں کیلئے لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔ ان کی آراءاور مذہبی تشریحات پر مبنی سوالات اُٹھائیں اور اس بحث کو عوام میں عام کرنے کا ہر راستہ اختیار کیا جائے۔- ان کے توسط سے عام مسلمانوں کے سامنے مغربی کلچر کو متبادل کے طور پر پیش کیا جائے۔ ان کے ذریعے قبل ازاسلام کی تاریخ غیر اسلامی تاریخ اور کلچر کی نہ صرف حوصلہ افرائی کی جائے بلکہ متعلقہ مسلمان ممالک کے نصاب تعلیم اور ذرائع ابلاغ میں اسے داخل کیا جائے۔

یہ اور اسی طرح کے بیشمار سازشی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے زور دیا گیا تھا کہ جدت پسندوں کو تلاش کر کے اک نئی طرح کا مغرب کے لئے قابل قبول اسلام گھڑا جائے۔

اس مضمون میں رینڈ زدہ مسلمانوں سے مراد یہی جدت پسند طبقہ ہے جو اسلام کی اصلاح کرکے(یا بگاڑکر) اسے مغرب کے لئے قابل قبول بنانے پر تلا ہوا ہے۔

نیچے دئے گئے لنک سے مکمل مضمون اور خلاصہ ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے

http://www.rand.org/pubs/monograph_reports/MR1716

 (مترجم)