|
|
|||||
|
نوشتہء دیوار تحریر:محمدزکریا
مغرب اورامریکہ(1) آج جس مقام پرکھڑے ہیں وہ انہیں دنوں میں حاصل نہیں ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ چار صدیاں بیشتران اقوام نے اپنے اندرایسی صفات پیداکرلی تھیں جن کی بدولت انہیں یہ مقام حاصل ہواہے۔ ان اقوام کے اندراب بھی سابقہ بہت سی وہ صفات موجود ہیں کہ اگراس کے ساتھ فساد پیدا کرنے والے قوی ترعناصر نہ ہوتے تویہ اب بھی زوال پزیر نہ ہوتی۔ دراصل مغربی تہذیب کئی لحاظ سے ایک زبردست مومنٹم لیے ہوئے تھی تواندریں حالات اس کے اندرفاسد عناصربھی پوری طرح شامل پائے گئے۔وہ توان ممالک کی قسمت اچھی رہی کہ فاسد عناصرکے روبہ عمل ہونے میں یہاں کے مخلص دانش ورآڑے آتے رہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا بشرطیکہ مسلمان اس تہذیب کو للکارنے کی پوزیشن میں نہ آتے۔ کیا بھارت کی تہذیب میں اتنادم خم ہے کہ وہ مغرب کی ’پرشکوہ‘ تہذیب کے لیے چیلنج بن سکے۔ چین، جاپان، مشرق بعید کے غیرمسلم ممالک یا مشرقی یورپ کے تشکیل نو پانے والے ممالک!ان میں سے کون سا ملک مغربی سیلاب کے سامنے بند باندھ سکتاہے۔واقعہ یہ ہے کہ سرگرم مسلمانوں کوچھوڑکرسب ہی تو مغربی تہذیب کے دل دادہ ہیں ،وہ اس تہذیب کے لیے چیلنج کب بننے لگے۔ جدیدمغرب نے موجودہ منزل تک پہنچنے میں بڑی محنت کی ہے۔بادشاہ اورچرچ دونوں ہی کااپنے عوام کوناخواندہ اورتوہم پرست رکھنے میں پکاگٹھ جوڑ تھا۔بادشاہ کے لگائے ہوئے ٹیکسوں کے شکوے کے لیے عوام چرچ جاتے تو وہ نذارنے لے کرانہیں بادشاہ کی فرماں برداری کی ہی تلقین کرتا اوراگرعوام چرچ کی بد اخلاقی کی شکایت بادشاہ سے کرتے تو وہ انہیں چرچ کی ناقابل تنقید قیادت کی اطاعت کی تلقین کرتا۔ان اقوام کی زندگی کا مقصد دونوں کو راضی کرنا اورخود کوخو دفراموشی کی نذر کرنا تھا۔
مسلم دانشوروں کایہ کہنا ہے کہ اسپین میں مسلمانوں کی طویل حکومت نے یورپی اقوام کو بہت کچھ سیکھنے سمجھنے کاموقع فراہم کیا۔ روزمرہ زندگی میں صفائی ،غسل اورطہارت سے لے کررعایا کی آزادی میں حکومت کی عدم مداخلت تک سب ان اقوام کو پہلی مرتبہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ مسلمانوں کے ہ ربچے کی تعلیم وتربیت کا بندوبست ریاستی مداخلت کے بغیراپنی مددآپ کے تحت رو بہ عمل ہے۔ اور یہ کہ وہ اپنی مقدس کتاب کی تلاوت مکتب سے سیکھنے کے بعد بلاواسطہ کرتے ہیں ۔انہوں نے دیکھا کہ مسلمان مظاہرفطرت میں سے کسی کی عبادت کرتے ہیں اورنہ ان مظاہرفطرت میں سے کسی سے ڈرتے ہیں ۔وہ سب ہی مظاہرفطرت کوخداکی مخلوق سمجھتے ہیں ۔ جب کسی قوم میں سیکھنے اورجستجو کا جذبہ پیدا ہوجائے تو کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ ماضی میں اگر مغربی اقوام نے ہم سے سیکھ کراس میں اضافہ کیا ہے توآج ہمیں بہت سے تمدنی اورسماجی دریافتیں ان سے لے کو ان کی ’اسلامائزیشن‘ کرناہے۔ اورتودراصل ’روم‘اوراسلام میں کشمکش رہناہی ہے جب تک عیسیٰ علیہ السلام کانزول ثانی نہیں ہوجاتا جب وہ نصاریٰ سے جزیہ لین اموقوف کردیں گے۔خنزیر کی نسل ختم کردیں گے اوراس وقت اسلام یا قتل میں سے کسی ایک انتخاب کے علاوہ نصاریٰ کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔ یہ سب مطالبے ان سے ان کا نبی ہی کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فارس نطحۃ اونطحتان ثم یفتحہا اللہ اماالروم ذات القرون فکلماہلک منہم قرن ظہر قرن آخر: فارس(ایران کی سابقہ پارسی بادشاہت) تو ایک دو ٹکر کی مار ہے۔پھراللہ تعالیٰ تم کو اس (ملک) پر فتح دلادے گا۔ البتہ(طویل صلیبی جنگیں یورپ اوریورپی اقوام کے ساتھ ہوں گی)۔وہ اس طرح کہ جب بھی ان میں سے کاکوئی ایک سینگ ٹوٹ جائے گاتوکوئی اورسینگ ظاہرہوجائے گا۔ ہر قوم میں سمجھ دار مخلص اور قوم کی گئی گذری حالت پر کڑھنے والے ہوتے ہیں ۔ یورپ بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ صدیوں کے اختلاط نے ان کے اندر حوصلہ پیدا کر دیا تھا اور ساتھ ہی ایک ملت (ملت اسلامیہ)(2) اپنے اقدار سے رفتہ رفتہ تہی دست ہوتی جار ہی تھی تو دوسری طرف یورپ کے جاں باز کچھ کر کے دکھانا چاہتے تھے ۔ جب قوم کی حالت پر رنجیدہ خاطر رہنے والے کمر ٹھونک کر کھڑے ہوجائیں تو عوام کا انبوہ ان کے ساتھ ہو ہی جاتا ہے۔ اصل مشکل جو ہر قوم کو ابتداءمیں ہوتی ہے وہ سماج کے سرکردہ افراد کا مہم جوئی پرآمادہ ہونا ہے۔ دانش ور طبقہ کو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ ان کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ چرچ اور اس کی ازکار رفتہ تعلیمات ہیں ۔ بادشاہ پر بھی چرچ والوں کا سکہ چلتا تھا۔ چنانچہ چرچ کے خلاف دلوں میں جو نفرت پروان پارہی تھی اسے قوم کے ہی دانش وروں سے مہمیز مل گئی۔ انقلابیوں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ جب تک مذہب پر چرچ اوراس کے عملے کی اجارہ داری ختم نہیں کی جاتی اس وقت تک انسانی ذہنوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع نہیں مل سکتا ۔ جب ایک مرتبہ مذہب کے اجارہ داروں کے خلاف بغاوت کا جذبہ پیدا ہوگیا تو اسے ایک فرسودہ مذہبی طبقے کو چیرنے میں دیرنہ لگی۔ کتاب مقدس کی بلاواسطہ تلاوت اور پادری کے واسطے کو کالعدم قرار دے کر انقلابیوں نے گویا یورپ میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ جیسے ہی آزاد مطالعے کا ذوق وہاں رواج پا گیا وہاں خود ہی عقل کو گُل کھلانے کا موقع مل گیا اور یہیں سے منطقی تجزیہ نگاری کی بنیاد پڑ گئی اور اسی وقت سے ہی نئے سائنٹفک مطالعہ کی بنیاد پڑ ی جس نے بعدازاں کئی دوسرے علوم کو جنم دیا جس میں ابتداء میں مادی مطالعے کو ترجیح دی گئی اور علم طبیعات کی بنیاد رکھی گئی اور بعدازاں انہیں اصولوں کو اپنا کر عمرانی علوم میں بھی جدید مطالعے کو رواج دیاگیا اور اس کی تان عیسائی مذہب کے بخیے ادھیڑنے تک جاکر ٹوٹی۔ چرچ بھی پوری طرح بھانپ گیا کہ وہ اپنی بقاء کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ آزاد مطالعے سے نہ صرف کتاب مقدس کے کئی گوشے انقلابیوں پر عیاں ہوئے بلکہ اس سے خودبخود سائنٹفک مطالعے کے لئے بھی بنیاد فراہم ہو گئی ۔سائنس نے آزادانہ مطالعے سے جو انکشافات کیے وہ چرچ کی تعلیمات کے صریح خلاف تھیں ۔ انقلابی اپنے انکشافات پر ڈٹ گئے توچرچ اپنی فرسودہ تعلیمات پر۔ چرچ اس وقت اقتدار کا اصل مالک تھا چناچہ آزاد مطالعہ کرنے والوں پر الحاد ، بدعت اور کفر کے فتوے لگا کر انہیں سزائیں دی گئی۔ پھانسیوں پر لٹکایاگیا۔ ملک بدر کیا گیا، املاک کو جلایا گیا اور ان کے سماجی بائیکاٹ پر زور دیا گیا۔ اس ظلم نے انقلابیوں کو متحد کر دیا اور اسے یورپ میں اجتماعی مربوط اور منظم ورکنگ کی بنیاد پڑ گئی ۔
سماجیات کا
مطالعہ اگر گہری نظر سے کیا جائے تو یہ انسانی رویے میں ایک زبردست
تبدیلی تھی بلکہ اپنی نوعیت کی واحد مثال ۔ اِس وقت بھی
عالم اسلام اور مغرب میں جس چیز نے سب سے زیادہ فرق ڈال رکھا ہے
تو شاید وہ یہی سماجی رویہ ہے۔ یعنی کسی مشترکہ ہدف کے حصول کے لئے
مشترکہ سائنٹفک ورکنگ ۔ اب انقلابی تھے او ران کا آزاد مطالعہ ۔ ان انقلابیوں کے دلوں میں دو چیزیں کوٹ کوٹ کر بھری گئی تھیں : ایک مذہب سے نفرت اور دوسرا عقل کا بے دریغ استعمال ۔ اب ان کے سامنے پورے یورپ کی تشکیل نو تھی : سماجی لحاظ سے بھی اور تمدنی لحاظ سے بھی۔ ایک طرف انہوں نے مادے اور کائنات کو اپنا موضوع بنایا تو دوسری طرف انسان اور اس کے ڈسپلن کو۔ مادے کے سائنٹفک مطالعے سے جہاں علم طبیعات کی بنیاد پڑی وہی عملًا بحری بیڑوں کی ترقی پر زبردست کام ہوا۔برطانیہ ، ہنگری ، فرانس اوردیگریورپی ممالک نے اپنے بحری بیڑوں میں زبردست تبدیلیاں کیں اور سمندروں پراپنا سکہ جمانے کے بعد انسانی آبادیوں کا رخ کیا ۔
یورپ کی آب وہوا اس طرح کی ہے کہ وہاں اس زمانے میں زراعت میں بہت زیادہ ترقی ممکن نہیں تھی دوسرا یورپ کا رقبہ بھی کم ہے اور تیسرا سبب مہم جوئی کی خو۔ ان تینوں عوامل نے مل کر قوت کے نئے سر چشمے حاصل کرنے والی اقوام میں نئی نئی دنیا ئیں دریافت کرنے کا جذبہ پید ا کر دیا ۔ مذہبی اخلاقیات سے یہ اقوام باغی تھیں اور یورپ کے ماسوا باقی دنیا بحری بیڑوں کی ایجادات اور بارود کے استعمال سے ناواقف چوبی کشتیوں کی مرمت میں اور تلواروں کی دھار کو تیز کرنے میں لگی رہی اور دیکھتے ہی دیکھتے تیسری دنیا کے ممالک کے کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ ایک صدی سے بھی کم عرصے میں قریب قریب پوری دنیاسوائے ترکی کی عثمانی خلافت کے بلکہ دنیا کے وہ حصے بھی جو اس وقت تک دریافت نہیں ہوئے تھے وہ بھی یورپی استعمار میں چلے گئے ۔اگلی دو اڑھائی صدیوں کے لئے۔ نئی منڈیوں پر قبضے سے یورپ میں دولت کی ریل پیل ہوگئی اورآپ اگر کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ یہیں سے یورپ کے پہلے زوال کی بھی بنیاد پڑ گئی تھی۔ جن مخلص اور بے لوث انقلابیوں نے یہ سارے سائنسی علوم دریافت کئے تھے اور جس کو بروئے کار لا کر یورپ نے سیاسی میدان میں ترقی کی تھی انہیں بے لوث دماغوں کو خریدنے کے لئے بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے لگیں ۔ چونکہ یورپ میں ترقی کا آغاز مادے کے سائنٹفک مطالعے اور مذہب سے نفرت کی بنیاد پر ہوا تھا اس لئے مادے کا حصول ہی ان کا مطمح نظر بن گیا ۔ سیاست دانوں نے ایسی چالاکی دکھائی کہ جن کمپنی مالکان کے ساتھ ان کے مفادات جڑے ہوئے تھے انہیں کے لئے قانون سازی کرتے رہے۔ اس غیر عادلانہ تقسیم سے چند کمپنیاں زر کثیر کی مالک ہوگئیں اور اکثر چھوٹی کمپنیاں دیوالیہ ہوگئیں ۔ یورپ کے کئی دماغ بڑی کمپنیوں کے لئے برائے فروخت تھے لیکن کئی دماغ اب بھی مخلص اور بے لوث تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی مغربی ممالک میں یہ دونوں اصناف پائی جاتی ہیں اور جب بھی ان میں بکاؤ مال کا تناسب بڑھے گا اسی تناسب سے ان ممالک کا زوال تیز ترہوگا۔ قوم کے زندہ اور مردہ ہونے کا انحصار دراصل ہونہار دماغوں پر ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں اخلاقی اقدار بلند ہوں گی وہاں ہونہار دماغ اپنی قوم کو زندہ اور پائندہ رکھنے کی طرف متوجہ رہیں گے جب کسی معاشرے میں اخلاقی اقدارزمین بوس ہوں گی تو اسی قدر ہونہار دماغ فساد کے لئے کام کریں گے۔ پیداواراورذرائع پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم نے مخلص اور بے لوث انقلابیوں میں ایک او ر انقلاب کو جنم دیا جسے ہم اشتراکی نظام کہتے ہیں ۔لالچ اورسرمائے کی غیر منصفانہ تقسیم نے نیزمخلص انقلابیوں کوسازباز میں شریک کرنے سے بڑے استعماری ملک برطانیہ، فرانس اوراٹلی اندر سے کھوکھلے ہو گئے تھے اوپر سے ان کی برابر کی چوٹ کا نیامعاشی نظریہ جنم لے رہا تھا۔ نصف صدی سے بھی کم عرصے میں استعماری ممالک آپس میں ہی لڑ پڑے اور سکڑ کراپنے اصل جغرافیے تک محدود ہوگئے جسے ہم نے یورپ کے پہلے زوال کا نام دیا ہے۔ طاقت کے دونوں پلڑے پرانے یورپ سے نکل کردور شمالی امریکہ اورسویٹ یونین کی طرف منتقل ہوگئے اورتادم تحریر یورپ کو پھروہ سیادت گری نصیب نہ ہوئی جو انیسویں اوربیسویں صدی کے نصف اول تک اسے حاصل تھی۔استعماری طاقتوں نے خود ہی ایک دوسرے کو بھنبوڑ کھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ہو یا اشتراکی نظام ہو ہر دو ہی کو بہت بڑے بڑے دماغ میسر آگئے تھے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے بھی ایک فلسفہ حیات، لٹریچر ، کلچر اور سائنسی علوم کو جنم دیا جس میں معاشیات اور اس سے متعلقہ دوسرے علوم بھی شامل تھے۔ دوسری طرف اشتراکی نظام نے بھی ایک نئے فلسفہ حیات، انسانی تاریخ کی نئی توجیہ ، نیا لٹریچر ، نیا کلچر اور نئے معاشی مطالعے کو جنم دیا ۔ دونوں طرف ہی زبردست شخصیات اور بے لوث قائدین کی تعداد پائی جاتی تھی۔ ضروری تھا کہ ان دو میں سے کوئی ایک بچ جائے۔ نصف صدی تک ان دونوں ازم نے دنیا کے نقشے میں تبدیلیاں لائیں اور دو جنگ ہائے عظیم میں بھی دوسرے عوامل کے علاوہ ان معاشی نظریات کا کردار رہا۔ بالآخر سرمایہ دارانہ نظام کو سیاسی فتح نصیب ہوگئی جس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ نظام فی نفسہ اعلیٰ ہے بلکہ اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے سرمایہ دارانہ نظام کا ابتداء ہی میں اہم منڈیوں پر قبضہ اور اس کی بہترین جغرافیائی پوزیشن تھی۔ جدید یورپ کی تاریخ کو ہم نے جس طرح چند صفحوں میں سمیٹ دیا ہے۔ وہ دراصل اتنی سادہ نہیں ہے ۔ تاریخ انسانی میں دو انقلاب نمایاں ترین ہیں ۔ ایک انقلاب اسلام اور دوسرا مذہبی اخلاقیات کو بالا ئے طاق رکھ کر عقل کے بے دریغ استعمال کے نتیجے میں وجود پانے والایورپ کا انقلاب۔ جدید یورپ سے پہلے سماجیات اور علوم معاشرہ میں ایک عنصر مسلمات اور قطیعات میں سے تھا اور وہ مذہب کا عنصر تھا، قطع نظر اس کے کہ معاشرے نے کس مذہب کو اپنا رکھا ہوتاتھا اور وہ درست بھی تھا یا نہیں لیکن یہ بات معاشروں کی گھٹی میں شامل تھی کہ ان کے تصورات اور شعور اور لاشعور میں مذہب اور اس کی اخلاقیات اور مذہب کی مابعد الطبیعات سے نکل کر سوچنا ممکن نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں مادے کی ترقی میں صنعتی انقلاب سے پہلے کی دنیا یک رنگ نظر آتی ہے۔ عمارت سازی اور بودوباش میں دنیا ہمیشہ ہی متنوع رہی ہے۔ اور عقل کا استعمال بھی ہمیشہ کرتی رہی ہے لیکن اس زمانے میں ایسی صنعت سازی کی ضرورت تھی اور نہ نئی سے نئی چیز ایجاد کرنے کی ۔
سب مذاہب کی تعلیمات اخلاقیات کا درس دیتی تھیں ، دنیاکے فانی ہونے اور مرنے کے بعد اصل زندگی کے آغاز پر زور دیتی تھیں ۔ ہر مذہب ہی کسی نہ کسی ان دیکھی ہستی کو راضی کرنے پر ایمان رکھتا تھا اور دنیا اور دنیا داری میں لگے رہنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ خالص اسلام کے علاوہ ہر مذہب میں ہی دھونس دھاندلی غالب رہی ہے لیکن لوگوں میں یہ عقیدہ تقریبا ً راسخ رہا ہے کہ مذہب ماوراء عقل بھی ہوتا ہے اور اس میں نفس کو مارنا بھی اعلیٰ درجے کی عبادت اور فلاح کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ سب بگڑے مذاہب کا لازمی حصہ رہاہے سوائے خالص اسلام کے۔ مذاہب کے اسی بگاڑنے دراصل یورپ کے انقلابیوں کو جنم دیا تھا۔ یورپ نے جینے کا ڈھنگ دراصل مسلمانوں سے سیکھا تھا۔ مذہبی اخلاقیات کے دائرئے میں رہتے ہوئے قرون اولیٰ میں مسلمانوں نے بھی انقلابات پربا کیئے تھے ۔
اسلام میں
ایسا توازن پایا جاتا ہے کہ جب بھی عقل اسلام کی تعلیمات کی پابندی میں
رہتے ہوئے انسان کی رہنمائی کرتی ہے تو دنیا جنت نظیر ہوجاتی ہے۔ اسلام
میں اس قدر توازن ہے کہ وہ عقل کو بیک وقت درست سمت میں بھی رکھتا ہے
اور انسانی کاوشوں کو مہمیز بھی دیتا ہے اور عقل کی قدر دانی بھی کرتا
ہے ۔ ہوایہ کہ سترویں صدی عیسویں تک پہنچتے پہنچتے اکثر مسلمان اسلام کی ٹھیٹ تعلیم سے بیگانہ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے وہ دنی اپراثرانداز ہونے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے اور عیسائی ان سے انسانی عقل کے استعمال کا نسخہ کیمیا لے کر اپنے دیس سدھارے ۔ مسلمانوں سے عقل کے استعمال کا نسخہ توان کے ہاتھ آگیا مگر عیسائی مذہب میں وحی کا عنصر روپوش ہونے کی وجہ سے وہ توازن میسرنہ آسکا جو بھلے دنوں میں اسلامی قلمرو کے اندرموجود تھا۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب کو علمی میدان سے یعنی انسانی عقلی کاوشوں کے میدان سے بے دخل کر دیا گیا اور وہ ایک خانقائی چیز بن کر رہ گیا اور انسانی عقل ہر قسم کی قید وبند سے آزاد ہو کر ایسے ایسے کارنامے انجام دینے لگی کہ عقل خود اس سے دنگ رہ گئی ۔ جو مادی علوم خالص عقلی بنیادوں پر اور تجربے کی بنیاد پر سمجھے سمجھائے جاتے ہیں انہیں تو اس انسانی رویے سے بہت فائدہ ہوا اور انسانی تاریخ میں زبردست واقعے رونما ہونے لگے ۔ علم الکیمیاء کی بجائے کیمسٹری ، یونانی طب کی بجائے بیالوجی اور اسکی شاخیں علم فلک کی بجائے اسٹرانمی ، علم تاریخ کو سنی سنائی داستانوں کی طرح لینے کی بجائے فوسل اسٹڈی ، انتھراپولوجی، فزکس اور اس کی شاخیں ،اور ان کے استعمال سے دھڑا دھڑ مارکیٹ میں آنے والی ایجادات کا حیرت کدہ ۔ اہل دانش نے جب انسانی قوت کے اس گم گشتہ پہلو کا سرا پالیا تو انہیں یہ ایسی انمول چیز نظر آئی کہ انہوں نے فلسفہ ، اخلاق اور مذہب کو بھی اس ’آلے ‘سے جا نچناشرو ع کردیا۔ اب یہ چیزیں لیبارٹری میں سمانے سے رہیں تو انہوں نے سرے سے غیر مادی دنیا کا ہی انکار کر دیا۔ مذہب سے نفرت کی پہلی بنیاد چرچ کارویہ بنی تھی توا سے دلیل سائنٹفک مطالعے نے دے دی۔ہمارے خیال میں مغرب کے جاری زوال میں عقل کا ٹیڑھ پن فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ اسلامی اخلاقیات کو زندہ کرنے والے سرگرم عناصر اگر اس سوچ کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یقینی طور پر مغربی دنیا میں پائے جانے والے معتدل لوگوں کی ایک معتدبہ تعداد یاتودائرہ اسلام میں داخل ہو جائے گی یا کم ازکم اسلام کے خلاف برپا جنگ میں غیرجانب داررہے گی۔ اگر مسلمانوں کے اہل دانش اس عقدے کو ثابت کر دیتے ہیں کہ عقل کی رسائی محدود ہے اور اسے وہیں تک رہنا چاہیے اور دوسرا یہ کہ ایک ان دیکھی دنیا پائی جاتی ہے جس پر ایمان انبیاء کی وساطت سے لایا جاتا ہے تو ایک مرتبہ پھر قرون اولیٰ والے اسلام کو بڑھتا پھولتا دیکھا جانے لگے گا۔ مغرب کے آزادانہ عقل کے ہنر کو استعمال کرنے کے نتیجے میں تین قسم کے نتائج نکلے۔ (الف) مادے اور تونائی کا سائنٹفک مطالعہ: یہ خالص انسانی عقل اور تجربے کا متقاضی ہے اور یہی اصل میں سائنس کا موضوع ہونا چاہیے۔ (ب) مذہب کی کنہ کا عقلی مطالعہ: یہ کفر الحاد اور لا ادریت پرلے جانے والا ہے۔ (ج) اخلاقیات کوبالاطاق رکھ کر سماج کا سائنٹفک مطالعہ : یہ کبھی اچھے نتائج لاتا ہے توکبھی برے اور اکثر اس میں اچھے اور برے عناصر خلط ملط ہوتے ہیں ۔ (الف) جہاں تک مادے اور توانائی کا سائنسی مطالعہ ہے تو اس کے فوائد سے انکار نہیں اور نہ ہی یہ اسلام میں ناپسندیدہ چیز ہے ۔ مادے اور توانائی کے مطالعے کے نتیجے میں اگر انسانی عام اخلاقیات کی پابندی کی جائے تو اس مطالعے سے سماج کی بہتر خدمت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کیمیائی اور بیالوجیکل ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی لگا نا ۔ زمین اور فضاءکو آلودہ کرنے والے فاسد مادوں کے اخراج پر پابندی لگانا ، جوہری اور اس سے سنگین توانائی کو انسانی نسل یا زمین پر استعمال کرنا یا ایسی صنعت کی بنیاد رکھنا جس سے ہزاروں انسانوں کے بے روزگار ہونے کا یقین ہو ۔ اس طرح کی دوسری عام اخلاقیات کی پابندی جسے نظری طور پر اب پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کے دائرے میں رہتے ہوئے اس علم کو انسانی خدمت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ب) انسانی عقل سے مذہب اور خالق کائنات کی کنہ کو سمجھنے پر اصرار کے نتیجے میں ہم پوری دنیا میں رونما ہونے والے فساد کو بسرچشم دیکھ رہے ہیں ۔ الحاد اور لاادریت نے وہاں کے نفوس میں ایسا شک ڈال دیاہے کہ اپنے عوام سے ایک بڑی اور طویل جنگ لڑوانا سیاسی قائدین کے لئے ممکن نہیں رہا ۔ عیسائی مذہب کے سیاسی احیاءکی ضرورت صنعتی انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ انہیں خلیج اول کی جنگ میں پڑی او ر اب عالم اسلام پر دوسری جنگ مسلط کرتے ہوئے پڑی ہے۔ جارج بش سنیئر اور جارج بش جونیئر کے علاوہ امریکہ کی ریپبلکن پارٹی میں کئی مذہبی جنونی پائے جاتے ہیں ۔ اس کی تازہ مثال ریپبلکن کی طرف سے نائب صدارت کے عہدے کے لئے نامزد ہونے والی خاتون گورنر سارہ پیلن کی ہے جو تقریباً بائبل کی سب ہی تعلیمات کو اپنانے کا بر سر عام مشورہ دیتی ہے۔عراق کی جنگ کومقدس جنگ کہتی ہے۔آخرجنگ لڑنے کے لیے سپاہیوں کوکچھ توپتہ ہو کہ وہ جنگ کس مقدس مقصد کے لیے لڑرہے ہیں !
کسی معاشرے میں خالی ایک یہی عنصر " تشکیک " کا پایا جائے تو اس کا بھٹہ بٹھانے کے لئے کافی ہے اگر اس کے علاوہ مذہب بیزاری نے جنسی بے راہ روی ، نشے بازی، سگریٹ نوشی اورجوا کھیلنے کی بھی لت ڈال دی ہو تو اس کے مقابلے میں اگر مسلمان یقین کی دولت سے مالا مال ہوں ،نشے بازی اور سگریٹ نوشی کے علاوہ سماجی بداخلاقیوں سے بچے ہوئے ہوں تو یقینا وہ روحانی اور جسمانی طور پر مد مقابل سے قوی ہوں گے اور اللہ کو قوی مومن بہ نسبت ضعیف مومن کے زیادہ پسند ہے اور بعید نہیں کہ ضعیف مومن کی وجہ سے بھی اللہ ہمیں فتح دلا دے جیساکہ متعدد حدیثوں میں آتاہے ۔ ان چیزوں میں مسلمان اہل نصاریٰ کی نسبت بہت بہتر حالت میں ہیں ۔ ہمارے ہاں جو ایک گُر کی بات اب تک نہیں دیکھی گئی وہ اجتماعی رویے اور اجتماعی ورکنگ کا فقدان یا مطلبوبہ سطح پر نہ ہونا ہے۔ اسلامی اقدار کی پابندی کرنے والے مسلمان اور بھی بہت سارے اوصاف میں مغرب سے برتر ہیں جس میں خاندان کی سرپرستی ، اولاد پر والدین کی مشفقانہ نظر اور نکاح کے مذہبی بندھن کے ذریعے مرد اور عورت کا ملاپ جیسے اخلاقی فضائل شامل ہیں ۔ مغرب میں مذہب سے آزادی کے بعدسے کئی بے ہودہ موضوع زیر بحث ہیں اور کئی تو شہوت کی نذر ہوچکے ہیں مثلا کیا واقعی عیسائی مذہب میں جن جن مقدس ہستیوں کے ساتھ جنسی اختلاط غیر قانونی یا بد اخلاقی میں شمار ہوتا ہے اس کی کیاکوئی " سائنٹفک ریزن " ہے۔ اگر جینیاتی طور پر اگلی نسل کے کمزور ہونے کا امکان نہ ہوتو سب سے بہترین صورت عقلی طور پر انہیں یہ نظر آتی ہے کہ محارم (ماں بیٹا ، بہن بھائی) کے درمیان جنسی اختلاط کافی ’بچت‘ کا باعث بن سکتا ہے ۔علاوہ اس کے اس ریسرچ پرمعاشرے کی بعض انجمنوں کا بے شمار سرمایہ خرچ کرنا کہ مرد اور عورت کے جسمانی اعضاءمیں تبدیلی جینیاتی ہے یا قوی شخصیت (مرد) کے تاریخی جبر کے نتیجے میں مجبور شخصیت (عورت) کے اعضاء میں نزاکت آئی ہے۔ ان بے ہودگیوں پرسرمایہ اوردماغ خرچ کرنے والی قوم کو چند ماہ میں ہی ناپید ہو جانا چاہیے تھا مگر چند دوسری صفات کی وجہ سے مغربی اقوام کے بقاءکی ضامن صفات کا پلڑا بھاری رہاجس کی وجہ سے ان کامستقل زوال نہ ہوا۔
(ج) سائنٹفک عقل کا سماج میں استعمال : جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا ہے
کہ اس اپروچ کے نتیجے میں یورپ کے اندر بقاءکے عناصر بھی موجود رہے ہیں
اور فساد کے بھی اور اکثر یہ دونوں صفات خلط ملط رہی ہیں ۔ نئی دنیا کا ریاست کا تصور قدیم ریاستوں سے یکسر مختلف تھا۔ ریاست کے فلسفے کے لحاظ سے بھی دائرہ کار کے لحاظ بھی اوراہداف کے لحاظ سے بھی۔ ریاستیں باضابطہ دستور کی پابند بنائی گیں ۔ انہیں فلاحی ریاستیں کہا گیا۔ ریاست کے ہر شہری کو سہولتیں دینے کے لئے حکومتوں نے ٹیکس کا نظام متعارف کرایا۔ ریاستیں نظام زر کو کنٹرول کرنے لگیں ۔ کرنسی نوٹ چھاپے گئے۔ ہر شہری کے لئے تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا۔ تعلیمی نصاب ریاست کی طرف سے مقررہوئے۔ برآمدات اور درآمدات پرملکی معیشت کا انحصاررکھاگیا۔ صنعت سازی کی بنیاد رکھی گئی۔ ریاست کی سرحدوں کی حفاظت کے لے باضابطہ ریگولر فوج تشکیل دی گئی۔ شہری امن کے لئے باضابطہ پولیس کا محکمہ وجود میں لایا گیا ۔ مقدمات کوعدالتوں کے سپردکیاگیا جس سے پنچائتی نظام تقریبا غیر موثر ہوگیا۔ عدالتوں کو ریاست کے دستور اور ایوان بالا اور ایوان زیریں سے منظوری ہونے والے قوانین کا پابند کیا گیا۔ بڑی صنعتوں کوترویج دینے کےلئے بینک بنائے گئے ۔ ریاست میں معدنیات اور وسائل کی تلاش کے لئے ادارے بنے ۔ صحت کے لئے ہسپتال اور دوا سازی کے ادارے بنے۔ شہریوں کو حکومت کی کارکردگی سے آگاہ کرنے کے لئے اور محکموں پر نظر رکھنے کے لیے علاوہ ریاستی بندوبست کے ابلاغ عامہ کی بنیادرکھی گئی ۔ اس کے علاوہ ریاست کے ان گنت فرائض مرتب ہوئے جو موجودہ ریاستوں کو پورا کرناہوتے تھے۔ یہ اتنی بڑی بڑی ذمہ داریاں تھیں کہ ایک زبردست بیدار مغز ریاست کے علاوہ اسے کوئی عام نوعیت کی ریاست پورا نہیں کر سکتی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ جب سے یہ دستور بنا کہ ہر خودمختار ملک دنیا کے کسی بھی ملک میں تعلقات منقطع ہونے کے علاوہ عام حالات میں سفارت خانے کھولنے کابین الاقوامی حق رکھتاہے۔ اس قانون کے قبول عام ہونے کے بعدسفارتی عملے کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ اپنے سفارت خانے کے ذریعے دوسرے ممالک کے اندرونی حالات اورمحلاتی سازشوں سے باخبررہیں بلکہ مغربی ممالک سے بظاہرآزاد ہونے والے ممالک میں اعلیٰ سطح کاسیاسی اورعسکری ردوبدل ان سفارت خانوں کی مداخلت کے بغیرممکن ہی نہیں۔ جدید سیاسیات کی اونچ نیچ سے تیسری دنیا کی عدم واقفیت اوردوسرے اسباب کی وجہ سے سفارت خانوں کی ایجاد کا تمام تر فائدہ چالاک مغربی ممالک کو ہوا ہے۔ نئی سیاسیات کے موجد ہونے کی وجہ سے مغرب نے ریاست کے مذکورہ بالا فرائض کو بڑی ہوشیاری سے نبھایا ہے اور تیسری دنیا کے ممالک جن پر ریاست کا نیافلسفہ ٹھونسا گیا تھا یا انہوں نے ریاستی فیشن کی وجہ سے اسے اپنا لیا تھا، وجہ کچھ بھی ہو، تیسر ی دنیا کے ممالک ریاست کے تشکیل پانے والے نئے فرائض نہایت بھونڈے انداز سے ہی نبھاسکے۔ تیسری دنیا کے اکثر ممالک فلاحی ریاست کے نام پر عوام سے ٹیکس لے کر اس میں بد عنوانی کے مرتکب ہی پائے گئے ہیں ۔مغربی ممالک بھی بدعنوانی کرتے ہیں لیکن اس میں بھونڈاپن نہیں ہوتا اوراس کی قیمت بسااوقات سات نسلیں بھی ادانہیں کرسکتیں مگریہ ٹیکنیکل ہوتی ہیں اورجدید علوم پرجن ممالک میں دسترس نہیں پائی جاتی وہ اس ٹیکنیکل بدعنوانی کو نہیں پکڑ سکتے۔ ریاست کے جدید تصور نے مغربی ممالک کو بے حد طاقتور اور امیر بنا دیا۔ریاستوں کے پیدائشی شہری تقریباً سو فیصد خواندہ ہوتے ہیں اور ریاست انہیں ان کے فرائض اور حقوق سے پوری طرح باخبر رکھتی ہے۔ مغربی ریاستوں کے ابلاغ عامہ نے بھی اعلی اورہوشیارصحافت کو جنم دیا۔ ریاستی کنڑول سے صنعت سازی کے معیار کو آخری حد تک پرفیکٹ بنایا گیا اور ان سب کے علاوہ مل جل کرسائنٹفک طریقے سے کام کرنے کی خوبی نے ان کے معاشروں میں ترقی کے عمل کو بے حد تیز کر دیا۔ اگر مغربی ممالک کی ترقی پر گہری نظر ڈالی جائے تو اس میں شہریوں کا ایک دوسرے سے تعاون اور علوم کو چھپانے کی بجائے اسے عوام کی ملکیت میں دے دینا ایسے عوامل رہے ہیں کہ اگر ریاست کبھی اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی کی مرتکب پائی گئی تو عوام خود اپنے لئے ترقی کا ایک مشترکہ راستہ بنا نے کاراستہ ڈھونڈ نکالتے ہیں ۔ مغربی ممالک کے شہریوں میں اب بھی یہ صفات پائی جاتی ہیں کہ وہ اپنے تجربات سے دوسرے شہریوں کو آگاہ کرتے ہیں اور ریاست سے بڑھ کر شہری خود ایک دوسرے کی تربیت کرتے ہیں ۔ مغربی ممالک کی ترقی میں اس آخری عامل کو چھوڑ کر باقی سب عوامل ریاست کے لئے مشکلات کا سبب بنے ہیں ۔ ریاست کی ترقی کا سبب بھی ہیں اور ریاست کی تباہی کا سبب بھی ہیں ۔ مثال کے طور پر ریگولر آرمی کے وجود میں آنے سے شہری ریاست کے اندار ایک فوجی ریاست ہوتی ہے۔ فوج ریاست کا ایک طبقہ ہوتی ہے۔ اور اسے اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ میں دراصل ملک کا دفاع اور انٹیلی جنس کے محکمہ جات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے فوج نہ صرف سیاست دانوں کو بلیک میل کرتی ہے بلکہ وہ اپنی من مانی پالیسیاں ریاست پر ٹھونستی بھی ہے اور ریاست کو ان کے مطالبات ماننے کی مجبوری کی وجہ سے قانون سازی یا خورد برد کے ذریعے رقومات اور سہولتیں فراہم کرنا پڑتی ہیں ۔ مغربی ممالک میں سے جس جس ملک کے پاس باقاعدہ فوج موجود ہے وہاں سیاسی عمل میں ان کا بھرپور کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ کم از کم خلیج کی دوسری جنگ میں امریکہ کے سیاسی ادارے شریک نہیں ہونا چاہتے تھے۔ سیاست دانوں نے اس کا اکثر بر ملا اظہاربھی کیا جبکہ امریکہ کے عوام تو اس جنگ سے ناخوش تھے ہی لیکن سیاست دانوں کو خفیہ اداروں کی بات تسلیم کرنا پڑی۔ امریکہ کی نئی انتظامیہ کے منتخب ہونے میں ایک بڑا عنصر یہ رہا ہے کہ وہ عراق سے فوجوں کے انخلاء کا یقین دلا تی رہی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اگرامریکہ جیسے جمہوری ملک میں عوام اور عوامی نمائندوں پر فوج کی پالیسی ٹھونسی جا سکتی ہے تو تیسری دنیا کے ممالک میں فوج کا کیا کردارہوتا ہوگا اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ ریگولر فوج پر ہماری تنقید سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم فوجی قوت کے ریاست میں وجودہی کے خلاف ہیں ۔ ریاست میں فوج کی نوعیت کیا ہو یہ ہم اسلامی ریاست میں دفاع کس طرح ہوتا ہے وہاں کریں گے۔ اس وقت ہمارے پیش نظر یہ بتانا ہے کہ ریاست میں ریگولر آرمی نے جہاں ریاست کو ترقی دینے میں کردار ادا کیا ہے وہاں ریاست کے لئے شدید مشکلات بھی پیدا کی ہیں ۔ علاوہ اس کے بیسویں صدی کی اکثر جنگیں بھی ریگولر آرمی کی وجہ سے ہوئی ہیں ۔ ضروری تھا کہ ریاست کو مجتمع رکھنے کے لئے دستور کے علاوہ کوئی ایسی قوت ہو جس پرریاست کے شہریوں سے تہہ دل سے ایمان لے آنے کا اخلاقی اورقانونی مطالبہ کیاجاسکے ۔ موجودہ ریاستی تشکیل سے پہلے مذہب میں یہ قوت تھی کہ یہ مختلف رنگ، زبان اور نسل کے لوگوں کو متحد کرنے کا سبب ہو اکرتا تھا۔ مذہب کو جب سیاسی عمل سے بے دخل کر دیا گیا تو ایک بڑا مسئلہ ریاست کے ساتھ وفاداری کا کھڑا ہوگیا۔ مذہب کے بغیر اس مسئلے کو حل کرنے کی سب سے بڑی قیمت مغربی ممالک نے دی ہے۔ ریاست کے جواز کے لئے کبھی جغرافیے کو اصل مان کر وطن کو ریاستی وفاداری کے لئے ایک بت کی طرح منوایا گیا کبھی نسل کو ریاست کی بنیاد بنایا گیا اور کبھی رنگ کو اور اکثر باہمی مفادات ہی ریاست کی سلامتی کی وجہ بنے رہے۔ مذہب کو سیاست سے بے دخل کرنے کی ایک بڑی وجہ مذہب کے نام پر تاریخ میں ہونے والی جنگوں کو بتایاگیا ۔ہمیں تسلیم ہے کہ مذہب کی وجہ سے جنگیں ہوتی رہی ہیں ۔مذہبی جنگ کاایک اصولی اختتام تو اس صورت میں ہوسکتاہے کہ مذہب کے اختلاف کی بنیادپرجوجنگ ہورہی ہے اس میں دونوں برسرپیکار قوتیں ہم مذہب ہوجائیں ۔علاوہ اس کے ہرمذہب کی اخلاقیات ہوتی ہیں جس میں سب سے نمایاں اسلام کی اخلاقیات ہیں جن سے جب بھی مسلمان تجاوزکریں تو دشمن کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس بات کاچرچا کرے اورغیرجانب دارمسلمانوں کے علاوہ اقوام عالم کو بھی اپنے ساتھ ملا لے کہ ان سے جنگ کرنے والے مسلمان اپنے فلاں متفق مذہبی اصول کی خلاف ورزی کررہے ہیں ۔جنگ تو وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی جو اصولی ہونے کی بجائے رنگ، نسل، زبان، وطنیت یا مفادات کے حصول کے لیے برپا کی جائے۔ مذہب کو نکال دیجئے اس کے بجائے آ پ کوئی اور عنوان دے دیجئے ۔ وطن ، نسل ، رنگ یا مفادات ان میں سے جس تصور کو بھی ریاست اپنائے گی ، ریاست کی یہ مجبوری ہے کہ وہ اس تصور کے لئے اتنا تقدس اور احترام پیدا کرے جتنا مذہب کے لئے ہوتا ہے۔ جب یہ تقدس اور احترام مثال کے طور پر نسل کے لئے تسلیم کر لیا جائے گا تو کیا پھر اس کے نتیجے میں جنگیں نہیں ہوں گی۔ جرمنی کی آریا نسل کیوں غیر آریا سے بھڑ پڑی تھی۔ یہودی نسل آخر کس جنون میں فلسطینیوں کے غریب دیہاتوں پر دھاوا بول دیتی ہے۔دنیا میں وطن کے نام پرکیا جنگیں نہیں ہوئی ہیں ، رنگ کی وجہ سے نفرتیں نہیں پالی گئی ہیں اور مفادات کی وجہ سے دنیانے دو جنگ ہائے عظیم میں کروڑوں انسانوں کو نہیں پھونک دیا ہے۔ اگر مذہب کو ریاستی عمل داری سے جنگ کے خطرے کی وجہ سے بے دخل کیا گیا تھا تو دوسرے مقدسات از قسم وطن ، نسل ، رنگ اور مفادات کب جنگوں کا باعث نہیں بنے۔ ہونا تویہ چاہیے تھا کہ مذہب کو جن بدمعاشوں نے بگاڑا تھا ان کے خلاف جنگ ہوتی مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یورپ کے انقلابیوں نے بد عنوان پادریوں کے ساتھ ساتھ آسمانی مذاہب کے اوپر بھی تیشہ چلا دیا اور پھر لگے اس خلا کو پر کرنے اپنی افتاد طبع سے اور تحفے میں دنیا کو پہلے دو جنگ ہائے عظیم دیکھنے کو ملیں اور اب بھی کئی ممالک میں جنگیں برپا ہیں اور ایک بڑی جنگ ابھی ہونا ہے۔ مغربی ممالک کے دانشوروں کایہ المیہ رہاہے کہ جس طرح انہوں نے مادے او ر توانائی کے مطالعے میں سائنٹفک انہماک دکھایا تھاویسا انہماک اسلام کے مطالعے میں نہیں دکھایاگیا ۔یورپ میں یہ ایک ایسی ناانصافی چلی آرہی ہے کہ یہ آخر کو یورپ کے حتمی اور آخری زوال کا سبب بنے گی۔ کیا یہ بات طے ہوگئی ہے کہ سچائی صرف یورپی ممالک کے دماغوں میں پائی جاتی ہے۔ اور مسلمانوں کا مذہب سائنسی مطالعے کا صرف اس وجہ سے حق دار نہ ہو کہ اسلام کو ماننے والے باشندے تیسری دنیا میں پائے جاتے ہیں ۔ تیسری دنیا سے مغرب نے بہت کچھ لیا ہے۔ غلام، معدنیات، آبی راستے فضائی راستے اور سب سے زیادہ معدنی تیل ۔ تیسری دنیا کی جڑی بوٹیاں بھی سائنسی مطالعے میں آتی ہیں ۔ یہاں کی زرعی اراضی یہاں کی اجناس اور جینیاتی بگاڑ سے پاک یہاں کے فربہ چوپائے اور جانور کہ جن کے گوشت کی بساند سے مغرب کا امیر سے امیر آدمی بھی مدہوش ہوجائے۔مسلمانوں کے سبھی مادی اورانسانی وسائل سب ہی تو مغربی ممالک کے شاطر سائنس دان،نفسیات دان اور بین الاقوامی کمپنیوں کی نظر میں ہیں ۔جس نظریہ حیات پر مسلمانوں کا فاسق شخص بھی اپنی جان قربان کر دیتاہے اور جو آج ان کی روح میں ایک نیا تلاطم برپا کیے ہوئے ہے ؛ایک وہی مطالعے کے لائق نہیں ہے! تیسری دنیا میں ہونے کے باوجود مسلمانوں نے اپنی عزیز کتاب کے تلاوت کے تواتر کو ختم نہیں ہونے دیا۔جہاں کے گنبدوں سے آج بھی وہی صدا بلند ہوتی ہے جو بلال کی زبان سے مدینے کی فضاؤں میں گونجا کرتی تھی۔ آخر خدا ایسی قوم سے کیوں نہیں انتقام لے گا جنہوں نے پتھروں میں سے حشرات الارض نکال کر ان کی جینیات تک کھنگال ڈالی ہے مگر اسلام کا مطالعہ ان کی میزکی زینت نہ بن سکا ۔دنیا کی معلوم تاریخ میں سے سب سے بڑی سچائی اسلام کے سائنسی مطالعے کو غیر اہم قرار دے کر مغرب نے خود ہی اپنی اصولوں سے منافقت برتی ہے۔مغربی تعلیم یافتہ انسان کی جوذہنی اورفکری تربیت ہوئی ہے اس میں یہ سوال کچھ زیادہ اہم نہیں ہے کہ اسلام جن لوگوں کادین رہاہے وہ لوگ چندعشرے پیشتر دنیا کی باعزت قوموں میں شمارنہیں ہوتے تھے۔ مغربی انسان اپنی تحقیق میں مجرد(اصولی) مطالعے کا قائل اور فاعل ہے۔یہ صرف ان کا تعصب ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ مسلمانوں کوالگ کر کے نہیں کرتے ۔مسلمانوں کی مذہبی کتاب کی تلاوت میں تواتر پایاجاتاہے۔اور یہ آج بھی من وعن وہی ہے جو اُن کے نبی کی زبان مبارک سے سنی گئی تھی۔ مسلمانوں کایہ محیرالعقول کارنامہ کیا بذات خود اتنا بھاری بھرکم نہیں کہ اسے مطالعے کے لائق سمجھا جاتا! مغرب کا انسان مرمٹ جانے والے مذاہب کے مطالعے کے لیے پتھرکی تختیوں پرنقش کی گئی انجان زبانوں کو سمجھنے کے لیے کئی دوسرے علوم کی مدد سے پڑھنے کے سارے جتن کر لیتا ہے لیکن عربی زبان میں چھپا ہوا قرآن ان کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتا۔ وہ زبان جس نے نزول قرآن کے وقت بھی لازوال ادب تخلیق کیا تھااوراب بھی لازوال ادب تخلیق کررہی ہے۔وہ زبان جو اس قرآن کی وجہ سے عبرانی کی طرح کبھی مردہ نہیں ہوئی۔وہ قرآن جس نے ایسی امت تیار کرکے دکھادی تھی جس نے ایک صدی سے بھی کم عرصے میں دنیا بھرمیں اپنے اوپر ایمان لانے والے پیدا کر لیے تھے۔وہ قرآن کہ جس پر جب کوئی ایمان لے آئے توپھراس کے منجانب اللہ نہ ہونے کا وہ تصوربھی نہیں کر سکتا۔ قرآن پرایمان لانے کے بعد اس سے ارتداد کرنے والے تاریخ میں معدودے چند ہوں گے۔ مسلمانوں کے علاوہ دوسرے سب مذاہب نے جس طرح اپنی مذہبی کتابوں کاحشرکیا ہے اس کامسلمان تصور بھی نہیں کرسکتے۔ایک یہی کتاب یورپی شخص کے مطالعے میں نہ آسکی! درست ہے کہ ان کے عوام میں بہت سے تعصب کا شکار نہ رہے ہوں گے اور اگر ان پر اسلام کی سچائی ثابت کر دی جائے تو اس پر ایمان لے آئیں مگر وہاں کا سواد اعظم اور برسر اقتدار طبقہ شدید متعصب اور منافقت کا شکار رہا ہے ۔ تاریخ کی سب سے بڑی سچائی جواب سر چڑھ کر بول رہی ہے اس سے انکار کرکے یا اس سے آنکھیں چرا کر مغرب نے اپنی ساری محنت او رمہم جوئی کی فطرت پر پانی پھیر دیا ہے۔ اسلام کی روشنی جو اب افق سے نکل کر چھاتی جارہی ہے اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اولمپکس اور کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں پر عوام کی توجہ مبذول کرائی جائے! نائیٹ کلبوں میں راتیں گزاری جائیں ۔ جنسی بے راہ روی پھیلائی جائے ، ایک سے ایک فیشن متعارف کر ایا جائے۔ کسی شخص کو یہ موقع ہی نہ دیا جائے کہ وہ اپنی عاقبت کے بارے میں سنجیدہ ہو سکے۔ اسی طرح ریاست کے نئے تصورنے مرکزی تعلیمی پالیسی بناکر بہت فوائد حاصل کئے ہیں ۔ اس طرح ریاست کے شاطر دماغوں نے اپنے شہریوں کی ایسی نہج پر تربیت کر لی ہے کہ وہ انہیں قواعد اور کلیات پر ایمان رکھتے ہیں جو ریاست چاہتی ہے ۔ اس کا فائدہ ریاست کو ضرور ہوا ہے۔ لیکن اس سے شہریوں کے ایک آفاقی حق پر ڈاکا بھی ڈالا گیا ہے کہ وہ اسکولوں اوریونیورسٹیوں میں پڑھے ہوئے اصولوں کے مطابق ہی اپنی سوچ کوڈھال لیں خواہ اس کے نتیجے میں بے روزگاری ہی کیوں نہ پیداہوجائے ۔ بے روزگاری کی اصطلاح متعارف ہی اس وقت ہوئی ہے جب ریاست عوام پرملکی نصاب کے مطابق ایک خاص سطح تک تعلیم حاصل کرنے کی پابندی لگا چکی تھی۔ مرکزی تعلیمی پالیسی کی بجائے اسلام کے ابتدائی دور میں جو تعلیمی بندوبست تھا اس سے شہریوں کی ذہن سازی میں ریاست کا کوئی عمل دخل نہیں ہوا کرتا تھا۔ شہریوں میں سے ہی قابل اعتماد اور دانا لوگ جنہیں امام کہا جاتا تھا پوری آزادی سے عوام کے بھرپور تعاون سے وحی کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذہنی تخلیقی صلاحیتوں سے شہریوں کی تربیت کرتے۔ ریاست کے پاس ایسا بندوبست جانے ہی نہیں دیا گیا کہ جس سے ریاست اپنے مفادات کے مطابق لوگوں کی ذہین سازی کر سکے ۔ اس وجہ سے ریاست کو ملکی امور کے لئے جتنے بھی افراد درکار ہوتے تھے وہ کسی نہ کسی امام کی درس گاہ سے فارغ التحصیل ہوا کرتے تھے اور اس طرح اصل عوامی دین ہی ریاست کا دین ہوتا تھا۔ مسلمانوں کو اپنے اچھے دنوں میں نہ کبھی اپوزیشن کی ضرورت پڑی اور نہ ابلاغ عامہ جیسے اداروں کی جنہیں بہرالحال بوقت ضرورت خریدا اور ڈرایا دھمکایا جا سکتا ہے۔ اسلامی ریاست کے اچھے دنوں میں ریاست کے لئے ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ بادشاہ کے ذہن یا دین کو عوام پرٹھونس سکے کیونکہ عوام اپنی تعلیم و تریبت خود ہی اپنے میں سے بہترین لوگوں کے سپرد کر چکے ہوتے تھے۔ موجودہ مغرب میں کیونکہ یہ صفت پائی جاتی ہے کہ ریاستی بندوبست کے علاوہ عوام خود بھی اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں اس لئے ابھی تک مغرب کا معاشرتی سیٹ اپ مضبوط چلاآیاہے ورنہ یہ خودہی اپنی موت آپ مرجاتا۔ مغرب میں نظام زر پر ریاست کے کنڑول کا فائدہ تو بہت ہوا ہے ۔اس نظام سے ریاست اور ریاست میں کام کرنے والی کمپنیاں زر کثیر اکٹھا کر لیتی ہیں اور اس سے مغربی ممالک نے میگا پراجیکٹ تک کامیابی سے چلائے ہیں ۔ اگر جدید ریاستوں میں پرانا نظام زر جو یا تو سونا چاندی پر انحصار کرتا تھا یا پھر جنس کے بدلے جنس کے تبادلے پر ، پرانے نظام زر میں یہ صلاحیت ہی نہیں تھی کہ وہ اس قدر اکٹھا کر لیا جائے جتنا میگا پراجیکٹ کے لئے ضرورت ہوتا ہے ۔نظام زر کو مغرب نے بڑی ہوشیاری سے چلایا ہے لیکن اس کے پیچھے چونکہ اصل زر یا حقیقی زر نہیں ہوتا اس لئے یہ ریاست کی ساکھ پر کھڑا ہوتا ہے۔ موجودہ ریاستوں میں صرف مغربی ممالک ہی ایسی ساکھ رکھ سکے ہیں کہ ان کی کرنسی دوسرے ملکوں میں بھی قوت خرید رکھتی ہے ۔ پیپرکرنسی کاانحصار کیونکہ اعلی درجے کے اعداد شمار اور مانیٹرنگ کا متقاضی ہے اس لئے یہ کبھی بھی تیسری دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکا سوائے چند ملکوں کے۔ لیکن اس کامیابی اور زبردست ترقی کے باوجود دنیامیں اب تک ایک سے زیادہ بین الاقوامی معاشی بحران آچکے ہیں ۔ اگر نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر گرنے سے بھی زیادہ ہنگامی حالات پیدا ہوجاتے ہیں یا امریکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے تو اس کا اثر دنیا کی ساری منڈیوں میں ہوگا ۔ محض ریاست کی ساکھ سے کوئی کمپنی کروڑوں کی مالک سمجھی جاتی ہے اور اس ساکھ کو دھچکا لگنے سے کوڑیوں کی مالک بن جاتی ہے۔موجود ہ بین الاقوامی مالیاتی بھونچال اس کی تازہ مثال ہے۔ جیسے ہی وال اسٹریٹ کی ساکھ مجروح ہوئی چالاک سرمایہ دارنے کرنسی کی بجائے سونے چاندی کے اثاثوں کو ترجیح دی اور جس کے نتیجے میں سونے اور چاندی کے نرخ آخری سطح تک پہنچ گئے ۔ چنانچہ ریاست کے مالیاتی نظام سے جہاں فوائد حاصل ہوئے ہیں وہاں یہ خطرہ ہر وقت موجود ہے کہ دھڑام سے سار انظام ہی زمین بوس ہوجائے ۔ اعداوشمار دراصل حقیقی کرنسی نہیں ہوتے۔اوراسے مغربی ملکوں نے اپنے مفادات کے لیے ہی اپنارکھاہے ۔ صنعتی انقلاب : قبل ازانقلاب مغرب کی معیشت کاانحصارگلہ بانی، کھیتی باڑی اورعام اشیاء کی تجارت پرتھا۔ دوسرے ممالک پرقبضے،بحری قزاقی اورٹیکسوں کے ذریعے جووسائل حکومتوں کے ہاتھ آئے اس سے مزید وسائل حاصل کرنے کے لیے ہیوی انڈسٹری کی بنیاد پڑی۔انڈسٹری سے بھی مغربی ممالک نے بہت فوائد حاصل کیے ہیں لیکن اس کے کم از کم تین اثرات ایسے ہیں کہ جنہیں تاریخ انسانی میں پہلی باردیکھاگیا: ایک مغربی ممالک میں دولت کی ریل پیل دوسراآجراورمزدورطبقے کی باہمی کشمکش اورتیسرازہریلے مادوں کے اخراج سے زمینی،آبی اورفضائی آلودگی۔ دولت آنے سے پرآسائش زندگی کاتصورآیا۔ اس سے پہلے عیسائیت کی تعلیمات یہ تھیں کہ سادہ زندگی گزاری جائے۔ عیش پسندی نے یورپ کی تاریخ میں ایسی ایسی بدکاریوں اورجرائم کوجنم دیا جس کاتاریخ انسانی میں تصور بھی نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرنے کےلیے یورپ کا سارا کلچرہی تبدیل ہوکررہ گیا۔ لذت کام ودہن نے نشے بازی کے پرانے طریقوں تک میں تنوع پیداکیا۔ نشے کی جدید اقسام اس قدرانسانوں کےلئے خطرناک ہیں کہ کئی ممالک میں ان کی اسمگلنگ کرنے والوں کی سزاموت رکھی گئی ہے۔ انیسویں صدی میں تو واضح طورپرمغربی ممالک خاص کربرطانیہ جو ان میں سے سب سے زیادہ مہذب سمجھاجاتاہے منشیات کی تجارت میں نامی گرامی رہا ہے ۔اس تجارت میں برطانیہ اس قدر شرمناک حد تک گیا ہے کہ افیون کی تجارت سے منافع حاصل کرنے کے لیے اس نے چین جیسے کثیرآبادی والے ملک کو افیون کارسیا بنا دیا۔جب چین کے خیرخواہ عناصرنے اس لعنت کو ختم کرنے کا عہد کیا توبرطانیہ نے چین پرجنگ مسلط کردی۔ برطانیہ کی ایسٹ انڈیاکمپنی سن1821ء سے لے کر1837ء تک اس سیاہ دھن سے لندن کو ٹیکس فراہم کرتی رہی ہے۔افیون کی تجارت کے لیے اس مقصد کے لیے چین سے دو جنگیں لڑیں گئیں تھیں ۔برطانیہ کو چین کے مقابلے میں اس جنگ میں فتح ہوئی۔چین میں قانون کے ذریعے افیون کی تجارت پرپابندی تھی مگر جنگ بندی کے معاہدے میں برطانیہ نے چین کی حکومت کو مجبور کیاکہ ملکی قانون کااطلاق برطانیہ کی ایسٹ انڈیاکمپنی پرنہ ہو گا۔ آبادی سے بھرے ہوئے خطے کے نوجوانوں کوافیون کے ذریعے ناکارہ کرنے کی منظم تجارت صرف منافع کے لیے! یہ بھی قرآن کا اعجاز ہے کہ اس کی سچائی بیسویں اوراکیسویں صدی میں کافروں کوننگاکرے گی ۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ (مائدہ:90-91) ’اے ایمان لانے والو!شراب اورجوا اور بتوں کے تھان اورنمبروں کا جوا یہ سب ناپاک شیطانی طور طریقے ہیں ان سے بچو، تاکہ تم فلاح پاسکو۔شیطان کا یہ کام ہے کہ وہ شراب اورجوے بازی سے تم میں آپس میں دشمنی اورکینہ ڈال دے،اورتم کوخدا (کی مقررکردہ) نماز اورخداکے ذکرسے باز رکھ سکے۔توکیا اب تم (ان بیہودہ کاموں سے) بازآتے ہویانہیں ‘۔
ایک خاص سیاق میں الخمر سے کوئی بھی نشہ آورمادہ مرادہو سکتا ہے۔عام
خیال یہ تھاکہ نشے بازشخص نشے کی حالت میں ہذیان بک کرچنداشخاص سے
لڑائی مول لے لیتا ہے ۔یہ معلوم نہیں تھاکہ اس کی وجہ سے ایک ’تہذیب
یافتہ‘ملک ایک بڑی آبادی والے ملک کے خلاف جنگ برپا
کرسکتا
ہے۔اور یہ
اتنا بڑاعمل شیطان ہوسکتاہے کہ پورے ملک کی آبادی کو اس لعنت میں
جھونکنے والے بھی اس دنیامیں پائیں جائیں۔
ٹینک اورتوپوں کی جنگ کے
علاوہ ہرملک اورہرمعاشرے کو ہیروئین اوردوسرے نشہ آورمادوں کے خلاف جو
جنگ لرنا
پڑ رہی ہے وہ الگ ہے اورجوتھمنے میں ہی نہیں آرہی اورنہ آئے گی
کیونکہ اس کے پیچھے سرمایہ دار
کا پیسہ لگا
ہے۔ اورصرف چین کیا بڑی
کمپنیوں نے اپنے ہم وطنوں کوبھی ڈسنے سے نہیں چھوڑا۔مغرب کی آبادی
کیونکہ چین کی نسبت تعلیم یافتہ تھی اس لیے وہاں ٹیکنیکل نشے،دواؤں کے
نام سے متعارف کرائے گئے۔مارفین سے تو سب واقف ہیں کہ یہ ’دوا‘ہے
مگر’ہیروئین‘ (Diacetylmorphine کاعوامی نام) کوشاید اکثر سخت اورمہلک نشہ
آور مادہ کے جانتے ہیں ۔مگرجرمنی کی دواسازکمپنی BAYER’ Herion‘کے
ٹریڈنام کے ساتھ ایک عرصے تک اس کا کاروبا رکرتی رہی ہے۔ قانون سازاداروں
نے بہت بعد میں اس کی تجارت پربہ تدریج پابندی لگائی۔ اسلامی ریاست ادویات کے استعمال کواسلامی اخلاقیات کے تابع کرے گی یہ بات ملٹی نیشنل کمپنیوں کومعلوم ہے۔مغرب کا سرمایہ داراس قدردھوکہ باز ہے کہ جب معاشرتی پریشر سے وہ مجبور ہو کر کسی معاشرتی تباہی پھیلانے والی چیز کی تجارت کے خلاف قانون سازی کرتا ہے تو وہ ایک ہی جنس مثلاً شراب کی سب کیٹیگری بنا لیتا ہے۔اس میں سے جوزیادہ نفع بخش ہوتی ہے اسے قانون مستثناء قراردے دیتاہے۔ مغربی تہذیب کاامریکی ناقد اورلغت دان Academic Noam Chomskyاس کیفیت کی بابت لکھتاہے: Very commonly substances are criminalized because they're associated with what's called the dangerous classes, you know, poor people, or working people. So for example in England in the 19th century, there was a period when gin was criminalized and whiskey wasn't, because gin is what poor people drink. That's kinda like the sentencing for crack and powder. وہسکی پرپابندی نہ لگانے کی وجہ سے اشرافیہ کی عیاشی پر بھی حرف نہ آیا،سرمایہ دار کا اصل کاروبار وہسکی سے جڑا تھا وہ بھی محفوظ رہا اورتیسراعوام میں سرخ رو بھی ہوگئے کہ مضرشراب کی تجارت پرپابندی کا قانون برطانوی سرکارنے منظورکرلیاہے۔ نشہ اورجسم فروشی کے کاروبارکاچولی دامن کاساتھ ہوتاہے کیونکہ شراب ام الخبائث ہے۔اس کے نتیجے میں بین الاقوامی جنسی بے راہ روی پھیلی اورجس نے بعدازاں ایڈز جیسے موذی اورمتعدی مرض کوجنم دیا۔مغرب کے سرمایہ دار نے ہردو ہی سے خوب دھن کمایا۔منشیات اورجسم فروشی کادھندہ پہلے ہی سرمایہ دارکے ہاتھ میں تھااوپرسے ایڈزاوردوسرے وبائی امراض عام ہوئے تو ان کے لیے دوائیں مارکیٹ میں آنے لگیں تو یہ دواساز کمپنیوں کے منافع کی ایک نئی صورت ان دواؤں کی وسیع فروخت سے پیداہوگئی۔ لوک کھیل ،عام خوشی کے عوامی تہواراورفنون لطیفہ ہر قوم میں ہی قدیم تاریخ سے پائے گئے ہیں۔ اسلامی اخلاقیات میں بھی اس کی پوری اجازت ہے اوربعض کھیل اورایڈونچر جو جذبہ جہاد کومہمیز دینے والے ہیں اس کی شریعت میں ہی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جیسے گھوڑسواری،تیراکی،نشانہ بازی اوراسلامی ریاست کی مدداوردعوت و تبلیغ کے لیے دوردرازعلاقوں کے سفر۔سال میں دوبین الاقوامی اجتماعی خوشی کے تہوارتواس دین کے شعارہیں اورسات دنوں میں جمعہ کے روزبھی عید جیسی تیاری کرنا سنت ہے۔ جمعہ کو بھی آپنے مسلمانوں کی( ہفتہ وارچھوٹی) عیدکہا ہے اوراسی طرح یوم عرفہ کوبھی عید کہاگیا ہے:امام ابن ماجہ نے ایک باب باندھا ہے کہ اگرد وعیدیں ایک ہی دن میں واقع ہوں توکیا کرناچاہیے۔اس باب میں ایسی حدیثیں درج ہیں جن میں عید جمعہ کے روز واقع ہوئی تھی۔اس کے علاوہ بھی شادی بیاہ کے موقع پربچیوں کاآپس میں مل کرگیت گانامباح ہے۔ جب مدینے میں غزوات کاآغازہواتوآپ شعراءصحابہ کی قریش کی ہجوکہنے کی حوصلہ افزائی کرتے بلکہ ایام جاہلیت میں جس جس قبیلے نے کبھی بزدلی یا گھٹیاپن کامظاہرہ کیا تھا اس سے ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوران کا خانودہ بڑا باخبر تھا۔ آپنے حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوتاکید کی کہ ابوبکر سے قریش کی خبریں لے لیا کرو۔آپ اورآپکے قریبی صحابہ بلند پایا خطیب تھے۔ آپکی مجالس میں اشعار کہے جاتے تھے۔آپ اشعار سنتے تھے۔ہنسی مذاق کرتے تھے۔دراصل اسلام میں فطری صلاحیتوں کے ابھارنے کی بڑی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ مغربی تہذیب نے جس طرح کھیلوں اورفنون لطیفہ کو تجارت بنایاہے وہ انسان کے فطری میلانات، اس کی خوشیوں اوراس کے لطیف جذبات کی بدترین اہانت ہے۔ پوری تاریخ انسانی اس جرم سے پاک رہی ہے۔فنون لطیفہ میں سینما اورتھیٹر کی دنیا توبیان کے قابل ہی نہیں تجارت میں اشتہاربازی کے لیے سرمایہ دارماڈلز سے کیسے کیسے پوز بنواتاہے کہ کبھی شیطان کوبھی نہ سوجھے ہوں گے۔ کھیل کود جو انسانی فطرت کا ایک خوشنما پہلو تھا اسے تاجروں نے بیوپار بنادیا۔آج کل کے کھیلوں میں تقریباً کھلاڑی تیس پینتیس سال میں ہی بے کار ہوجاتاہے۔ شہرت اور معاوضے کے لیے بیچارہ جسم و جان کی بازی لگادیتا ہے۔ اگروہ ممنوعہ ادویات کا استعمال نہ بھی کرے جو اکثرکھلاڑی کرتے ہیں تووہ اتنی مشق اورکسرت کرتا ہے کہ انسانی جسم سے اس قدر مشقت اگر لی جائے تو وہ صرف اور صرف میدان جہاد ہے۔اس میں بھی شاید ہر کوئی اتنا زور نہیں لگاتا ہوگا جتنا ایک کھلاڑی کو بین الاقوامی مقابلہ میں شرکت کے لیے زور لگانا پڑتا ہے ۔باطل کی نظروں میں جگہ بنانے کی معاشروں کو بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے۔ اسلام تو اس قیمت کا عشر عشیر بھی طلب نہیں کرتا جتنا ایک سرمایہ دار کسی اداکارہ سے رقص کرانے یا کھلاڑیوں سے میدان میں سنسنی خیز مقابلہ کرانے کے لیے طلب کرتاہے۔ انہیں سنسنی پھیلانے والے کھیلوں میں سے ایک باکسنگ بھی ہے۔ اگرچہ یہ کھیل قبل مسیح کی جاہلی ریاستوں یونان اور روم میں بھی کھیلاجاتا تھا اوربعض دفعہ کسی ایک فریق کی موت بھی واقع ہوجاتی تھی جس پرجیتنے والے کوشائقین کی طرف سے خوب داد ملا کرتی تھی ۔شائقین میں بسا اوقات بادشاہ خودشریک ہوتا تھا۔شایدہرجاہلی ریاست انسان کی تذلیل پرپھلتی پھولتی ہے بالکل ماڈرن ایج کی ریاستوں کی طرح۔ باکسنگ دنیاکے مہنگے ترین کھیلوں میں سے ہے۔اس کھیل میں فریقین ایک دوسرے کے چہرے پرضرب لگاتے ہیں اوراول وآخرچہرہ ہی اس کھیل میں نشانہ ہوتاہے اورریفری اسی’پنچ‘کوقابل قدر قرار دیتا ہے جوعین چہرے کے وسط میں پڑے اوراگرناک پرلگے توبڑا’پوائنٹ‘کھراہوجاتا ہے۔جہاں باکسر کی ناک پر پنچ پڑتا ہے توساتھ ہی تہذیب جدیدکی بھی ناک کٹ جاتی ہے جوایسے وحشیانہ کھیل پراچھل اچھل کر داد دے رہی ہوتی ہے۔ تہذیب جدید کے ناک کٹنے کے یہ مناظرسب وحشت پسندوں کے لیے براہ راست دستیاب ہوتے ہیں ۔اس بربریت پربھی سب سے بڑامنافع سرمایہ دار کوجاتا ہے جس نے ٹکٹوں کے ذریعے، اشتہاربازی سے اورجوے کے ذریعے اس سے ہزاروں گنا زیادہ کمانا ہوتا ہے جتنا نکٹے باکسرکوملنا ہوتا ہے۔ انبیاء کی تعلیم سے ناآشنا ہوک رتہذیبیں کتنی بربریت کامظاہرہ کرسکتی ہیں باکسنگ اس کی ایک مثال ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا:اذاضرب احدکم فلیتق الوجہ (جس کسی نے کسی کومارناہوتواس پرلازم ہے کہ وہ چہرے کونشانہ نہ بنائے۔تعجب ہے کہ جس تہذیب نے سب سے زیادہ اہمیت چہرے کے بناؤسنگارکودی ہے اور ہماری کئی بیٹیاں گوری ہوتی ہوتی گورمیں پہنچ جاتی ہیں اس تہذیب میں سب سے مہنگا کھیل چہرے کا ہی بگاڑنا ہو ۔سچ پوچھیں توخدا ناشناس تہذیب تضادات کی چیستان ہوتی ہے۔ چہرے کے لیے توانہوں نے پلاسٹک سرجری تک ایجادکررکھی ہے! کیمرے کاعدسہ کھیل کے میدان کےجس جس منظرکاعکس اتارتا ہے اس میں کسی سرمایہ دار کی مصنوعات کی خریداری کو پر کشش بنا کرضرور پیش کیا ہوتا ہے۔ شائقین کا سپراسٹارFrom Head To Toeاشتہارات سے لداہوتاہے۔ہرمنظرکے پیچھے سرمایہ دارکی لالچ نمایاں ترین ہوتی ہے۔ اولمپک مقابلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ماہرنے کہاتھا کہ’ ان مقابلوں میں کھیل کے علاوہ سب کچھ ہواہے‘۔اولمپک میں اصل کھلاڑی سرمایہ دارہوتاہے۔اداکار یا کھلاڑی تواس کا تجارتی مال ہوتے ہیں ۔جب سے کھلاڑیوں کو یہ بات سمجھ آئی ہے تب سے وہ ’ملک‘کی بجائے اپنا نام’روشن‘کر آتے ہیں ۔خواتین کے ساتھ کھلاڑیوں کے اسکنڈل تو اتنے عام ہیں کہ اب یہ عیب کی بجائے کھلاڑی کے ہردل عزیز ہونے میں شمارہوتے ہیں، میچ فیکسنگ بھی کل کو قبول عام ہونے والی ہے اوررفتہ رفتہ حقائق کھلنے کے ساتھ کھیل مقابلے کم اور کلچرل اکٹی ویٹیActivity زیادہ کہلائیں گے۔ چند کھلاڑی تو منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملک کا نام روشن کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں ۔
کھلاڑی سوچتاہے کہ جب سرمایہ دار میری جان کو ہلکان کرکے کروڑوں کی
انوسٹمنٹ سے اربوں بناتا ہے تو میں کیوں پیچھے رہوں ۔یہ کھیل توہوتے نہیں
کھیل انڈسٹری ہوتے ہیں ۔کاش یہ تہذیب کھلاڑی اوراداکاروں کے
بعد از شوبززندگی کی بھی براہ راست نشریات دنیا کودکھاتی توہمارے نوجوان
اس سے عبرت پکڑتے۔ وسائل زندگی مذہب بیزارقوم کے پاس جمع ہونے سے ایسی اخلاقی بیماریاں وہاں کے حکمران طبقے میں پیدا ہوئی ہیں کہ جس کے بعداس قوم کاباقی رہ جانا پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن جاتاہے۔ اس میں سب سے بڑی اخلاقی بیماری تکبراورگھمنڈ کی ہے۔ تکبراورگھمنڈ نے تاریخ قدیم میں فراعنہ کو غرق آب کیااورآل فراعنہ کاایسا عبرت انگیز زوال ہوا کہ قبطی نسل کوپھراس کے بعدآج تک ویسااقتداراورتمکنت حاصل نہ ہوئی۔تاریخ جدید میں ہٹلرکے جرمنی کا زوال ہے۔ جرمنی میں ایسی کیا کمی ہے کہ وہ امریکہ کی طرح سپرطاقت نہیں رہا۔ کیاجرمنی وہی ملک نہیں جس کی ہرچیزکی نقالی میں امریکن فخر کیا کرتے تھے۔ یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے علم نفسیات میں تکبر کو ایک نفسیاتی مرض کی حدتک ضرور تسلیم کرلیاگیاہوگا، مگر اتنی اہمیت وہ اسے کہاں دینے لگے کہ قوموں کے عروج و زوال میں یہ نفسیاتی عارضہ فیصلہ کن اہمیت رکھتاہو۔عیسائیوں کی کتاب مقدس بھی تکبرکے نتائج کوکبھی اشارۃ اورکبھی اصولاً بتاتی ہے کہ تکبر کا نتیجہ قوم کے لیے ہلاکت اورتباہی کی صورت میں نکلتاہے۔ انگریزی بائبل کی یہ عبارت اشارۃ بتاتی ہے کہ قبطی قوم پرزوال تکبرکی وجہ سے آیاتھا: I know now that the LORD is greater than all other gods, because his people have escaped from the proud and cruel Egyptians." Exodus 18:11 ۔ایک اورمقام پربائبل اسے علم معاشرت کا کلیہ اوراصول بتاتی ہے The city that once was so proud will become a pasture for sheep and cattle. All sorts of wild animals will settle there. Owls of many kinds will live among the ruins of its palaces, hooting from the gaping windows. Rubble will block all the doorways, and the cedar paneling will lie open to the wind and weather. - Zephaniah 2:14 متکبر شخصیت سے سب سے پہلے خد ایہ صفت سلب کر لیتا ہے کہ وہ کسی نبی، نبی کے مصاحب یا داناؤں کی بات کواہمیت دے۔ ماضی سے سبق سیکھنا اور دانائی کی بات کو پلے سے باندھنا اسلام کی تعلیم ہے۔اوریہ بات صرف قرآن پرایمان لانے سے سمجھ آسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کوبتاتاہے کہ قبطی قوم تمام ترترقی کے وسائل رکھتے ہوئے کیوں صرف اہرام مصرمیں مدفون پائی جاتی ہے ۔شاید مصرکے اجاڑ اہرام اس کہانی کو منہ زبانی سنانے کے لیے دنیا کے اسٹیج پر کھڑے ہیں کہ ان کے بنانے والے ترقی میں کسی سے کم نہیں تھے:فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى ، فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَى ’پس فرعون نے کہا کہ میں ہی تمہار ابرتر رب ہوں ۔یہ کہتے ہی اللہ نے اسے ایساپکڑا کہ وہ نشان عبرت بن کر رہ گیا، پچھلوں کے لیے بھی اوراگلوں کے لیے بھی۔‘ صحیح مسلم میں ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ فرماتاہے’الکبریاءردائی،کبریائی میری چادرہے۔ و العظمۃ ازاری، اور عظمت میرا تہہ بندہے۔ فمن نازعنی واحداً منہما قذفتہ فی النار،جس نے ان میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کی میں اسے جہنم میں جھونک کرچھوڑوں گا‘۔ منطقی لحاظ سے متکبر شخصیت سے ایسے اقدامات ہو سکتے ہیں جوایک نارمل شخص نہیں کرتا۔ امریکہ اس تکبرمیں چین کی نیند سورہا تھا کہ اس پرحملہ کرنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اس نفسیات نے داخلی امن پر مامور ذمہ داران کو غفلت میں ڈالے رکھا اورنیویارک میں سب سے بلند ٹاور زمین بوس ہوگئے۔ امریکہ کوگیارہ ستمبرکے بعدایک سے زیادہ جنگوں میں دھکیلنے کا فیصلہ ایک متکبرشخص کا فیصلہ تھا۔قوم کے داناؤں نے بہتیراسمجھایا کہ ہمیں عراق پرحملہ نہیں کرناچاہیے لیکن تکبرنے غلط فیصلہ کرادیااور عراق سے امریکہ کی فوجوں کا انخلاء اس کے لیے ہمیشہ ہی ندامت اوررسوائی بنا رہے گا،تاابد۔ اب صورت حال یہ ہے کہ صومالیہ میں امریکہ اپنے حلیف ملک اتھوپیا کی مدد سے قاص رہے اورشیخ شریف کی حکومت موگودیشوں میں دوبارہ بحال ہونے والی ہے۔ ایران اوروینزویلا کی قیادت ہر عالمی فورم پر ریپبلکن قیادت کا تمسخراڑاتی ہے اورادھروال اسٹریٹ میں عنقریب باولے کتے بھونکنے والے ہیں ۔مال وزر کا وافرہونا ایک مذہب ناشناس قوم کے لیے ایسی تباہی لائے گاقرآن پڑھنے والوں کے علاوہ قوموں کے عروج وزوال میں یہ کلیہ اورکوئی نہیں جانتا۔فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (79)فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ المُنتَصِرِينَ (81) (آخرایک روزایساہوا، قارون بڑی شان و شوکت سے اپنے لوگوں میں نکلا، جولوگ دنیا کی زندگی چاہتے تھے کہنے لگے کاش ہم کوبھی یہ سامان ملتاجوقارون کومل اہوا ہے۔ دیکھوتوسہی!وہ کتنامزے میں ہے....پھرہم نے خودہی اسے اوراس کے محل کو(اس کے سرپردے مارا)زمین میں دھنسا دیا پس حال یہ تھا کہ کوئی بھی جتھا اللہ کے مقابلے میں اس کی مددنہ کرسکا اورنہ وہ آپ ہی اپنی مددکرسکا۔) سورہ قصص آجر اور مزدور کے درمیان نزاع یورپ کی سوغات ہے۔ انقلاب سے پہلے دنیامیں آقا اورغلام پائے جاتے تھے لیکن سرمایہ دارانہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ کبھی نزاع کا باعث نہیں بنا تھا۔ نزاعی شکل اس نے اس وقت اختیار کی جب آزاد انسان سے ٹیکنیکل محنت کروا کر اسے محنت کا جائز صلہ نہیں دیا گیا۔ قدیم زمانے میں مالک یعنی معاشیات کی زبان میں آجراس قسم کی خدمت ہی نہیں لے سکتا تھا کہ غلام یا مزدورکی محنت کے نتیجے میں آجر اتنا طاقتورہو جائے کہ ملک کے بیشتر ذرائع پیداوار ایک یاچند لوگوں کے ہاتھ میں آجائیں۔ پہلے ملازم کی محنت سے پیداوار پرمالک کا حق ہوتا تھامگرجدید سرمایہ دارانہ نظام میں ذرائع پیداوار ہی آجرکی ملکیت میں چلے جاتے ہیں ۔چناچہ اس نظام میں جس کے پاس کثیر سرمایہ نہیں اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ پیداراری ذرائع کوحاصل کرسکے۔ اس کے لیے صرف یہی صورت ممکن ہے کہ وہ سرمایہ دار کا ملازم بن سکے شریک نہیں ۔یورپ میں ملازمین کی کاروبارمیں شرکت کاقانون اشتراکی انقلاب کے خطرے کو روکنے کے لیے بنایاگیا تھانہ کہ مزدوروں سے ہمدردی کی وجہ سے۔ مثال کے طور پر کسی بڑے سرمایہ دارمثلاً کوئی بینک سارے کمرشل ایریا کی کل اراضی خریدلیتا ہے تومغربی ممالک کے قوانین میں یہ ایک بالکل جائزصورت ہے۔ ذرائع پیداوار جوکہ اس مثال میں کمرشل زمین ہے بینک کی ملکیت قرار پائے تو اب اس کمرشل اراضی میں کسی چھوٹے سرمایہ دارکے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اس اراضی پر کاروبار کرسکے جبکہ کاروبار کو چلنا یہیں پر ہے۔ ایسا شخص آئندہ کے لیے اس بینک کامزدور ہی ہو سکتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج متوسط طبقے کے افراد پہلی کلاس سے ہی بچے کوحقیقت پسند بنادیتے ہیں کہ اس کو نوکری کرناہے! WTOیہی کچھ ساری دنیامیں کرناچاہتاہے۔مغرب کے سب جہاں دیدہ یونینWTOکی حقیقت جانتی ہیں اوراس کے خلاف یورپ بھرمیں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں ایک نہیں جانتے توتیسری دنیاکے ناعاقبت اندیش حکمران! ذرائع پیداوارنہ کہ پیداوارپرقبضے کی تازہ مثال جنوبی کوریاکی ’ڈائیوو‘DAEWOOکمپنی کاافریقہ کے ملک مڈگاسرکا نصف رقبہ نناوے سال کے لیے پٹے پر لینا ہے۔اس میں شک نہیں کہ جنوبی کوریا مغربی ممالک میں شمار نہیں ہوتا مگراس ملک میں سرمایہ دارانہ نظام اپنی اصل روح کے ساتھ رائج ہے اوریہ امریکہ کا مشرق بعید میں سب سے بڑاحلیف ہے۔ ایک یا چندسرمایہ داروں کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ صرف اپنے سرمائے سے ملکی اوربین الاقوامی ذرائع پیداوارکے مالک بن سکتے۔اگربالفرض محال ایساہوتاتوآجراورمزدورکے درمیان تنازع کی کوئی اصولی وجہ نہ ہوتی۔ مزدورما قبل سرمایہ دارانہ نظام کے اجرت پرکام کرتے ہی تھے لیکن ان کے پاس ذرائع پیداوارکاحاصل کرلیناناممکن نہیں ہوتا تھا۔ ریاستیں ظلم یہ کرتی ہیں کہ پہلے اپنے من پسند سرمایہ دار کواس کے نام یا اس کی فرم کے نام پررجسٹرکرلیتی ہیں اورحکومت کی ضمانت کے بعد بینک اس سرمایہ دار یا اس کی فرم کوقرض فراہم کردیتے ہیں۔ دو اہم اداروں میں ساکھ بنانے کے بعدوہ شہریوں سے بھی شیئرکے نام پرسرمایہ اینٹھ لیتا ہے۔ اس زرکثیرکے حاصل ہونے کے بعد اس کے لیے یہ ممکن ہوجاتاہے کہ وہ پیداوارکی بجائے ذرائع پیداوارکواپنی ملکیت میں لے کرسرے سے تجارتی مقابلہ بازی کی نوبت ہی نہ آنے دے۔ اس بین الاقوامی ظلم میں تین فریق ہوتے ہیں :حکومت کا منظور نظرچالاک سرمایہ دار،ریاست کا اسے رجسٹرکرکے اس کی ساکھ بنانااورسرمایہ فراہم کرنے والا ادارہ یا بینک۔ جہاں تک شیئرہولڈر کا تعلق ہے تو وہ صرف منافع میں شریک ہوتاہے نہ کہ ذرائع پیداوارمیں ۔ اکیسویں صدی کے موجودہ پہلے بدترین مالی بھونچال کی مثال ہمارے سامنے ہے۔امریکہ کی ریاست انہیں چاربینکوں کو بچانے کے لیے قانون سازی اوررقومات کی فراہمی کااجراء کررہی ہے جوخود سرمایہ کی گردش کومنجمد کرنے کاسبب بنے ہیں اورجس کی وجہ سے عالمی مالی بحران پیش آیا ہے۔انہیں نااہلوں کوبچایاجارہا ہے جن کی تن آسانی کا سامان کرتے کرتے لوگ تنگ دامانی کاشکارہوگئے ہیں ۔وہی سرمایہ دار،حکومت اوربینک کاکہن سالہ گھٹ جوڑ۔
جب مغرب کے ہونہارکاری گروں کے سامنے ترقی کے راستے ہی مسدودکردیے گئے
توآجراوراجیرکی خاموش جنگ نے تحریک کی شکل اختیارکرلی اوردیکھتے ہی
دیکھتےیورپ کے سرمایہ دارکی تجوریاں بالشویک انقلابیوں کے ہاتھ میں
تھیں ۔آدھا یورپ توبالشویک لے ہی گئے تھے۔سرمایہ دارانہ نظام کاخمیازہ
مغرب کوبارہااٹھاناپڑاہے مگر یہ منہ کولگی ہوئی ہے ظالم چھوٹتی ہی نہیں
۔ ورلڈ ٹریڈسنٹر کا زمین بوس ہونا تودہشت گردی ہواورپوری دنیا کامستقبل سرمایہ دار کی لالچ کی بھینٹ چڑھ جائے یہ دہشت گردی نہ کہلائے۔ سوچیں توسہی کہ سرمایہ داروں نے دنیاکے کتنے ذہنوں کو خرید رکھا ہوگا اورکتنی ہی حکومتیں ایسی ہوں گی جوسرمایہ دارکی مقروض ہوں گی۔ صنعتی آلودگی کی روک تھام پر عمل درآمد کیسے ہو،سرمایہ دار خودہی قانون ساز ہے،خود ہی انتظامیہ اورخود ہی قانون شکن۔ کہاوت تھی کہ سمندرگدلانہیں ہوتا۔جوہری فضلے کے اخراج اورزہریلی صنعت سازی نے اسے ممکن کردکھایاہے۔سمندر کی بہت سی مخلوقات ناپید ہوگئی ہیں ۔زمین کی زرخیزی میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔فضاء میں مسلسل مضرصحت مادوں کا اضافہ ہورہاہے۔ کیا صنعتی مصنوعات کی انسان کو اتنی ہی ضرورت ہے کہ اس کی وجہ سے پوری زمین، اس کے سمندراور زمین کی فضاءکوداؤ پرلگا دیا جائے۔ صنعتی انقلاب سے بڑا بھیانک انقلاب بھی تاریخ انسانی میں نہیں آیاہوگا۔ مغربی ممالک کے پاس مذکورہ بالا وجوہات کی بنیاد پر طویل مدت تک دنیا کی سیادت کرنے کے امکانات کم ہیں ۔ اب تک وہ اس وجہ سے کام یاب رہے ہیں کہ ان کے مقابلے میں جو بھی اٹھا ہے اس کے پاس بھی زندگی اور ماوراء زندگی گذارنے کا وہی فلسفہ تھا جس میں پہلے ہی یہ ممالک اپنی دھاک بٹھا چکے تھے ۔ مسلمان کوئی تین صدیوں تک فراموش شدہ مخلوق رہے ہیں لیکن گزشتہ صدی میں ان کے اندر بیداری کے عوامل پیدا ہونے لگے تھے۔ مغرب کیونکہ سائنس کی قوت سے واقف ہے اس لئے وہ اس روحانی عمل کو اہمیت ہی نہیں دے سکا جو مسلم ممالک میں گزشتہ صدی سے جاری تھا۔ مغرب کے مقابلے میں صرف وہی قوت کام یاب ہوسکتی ہے جس کی علمیات مغرب سے جوہری طور پر مختلف ہوں اور وہ صرف اسلام ہے۔ ہندومت، بدھ مت، زرتشت، بت پرست، اور یہود سب ہی اپنے مذہب سے تائب ہوچکے ہیں اور مغربی عقلی اقدار کو اپنانے پرفخر کرتے ہیں ۔ عیسائیت میں کہیں کہیں دم پایا جاتا ہے لیکن عیسائیت کا فلسفہَ’ الٰہ‘ اس قدر پیچیدہ گنجلک اور متضاد ہے کہ اسلام کے غیر جانبدرانہ مطالعے کے بعد کوئی عیسائی صرف تعصب کی وجہ سے عیسائی رہ سکتا ہے عدل اور انصاف کی وجہ سے نہیں ۔ سوجس کو بے دین یا لادین رہنا ہے وہ جائے مغرب کے دہریوں کے بلاک میں مگر جس کو مذہبی ہونا ہے وہ یا تو ہم پر اپنے مذہب کے درست ہونے کو ثابت کر دے یا پھر اسلام لے آئے اس کے علاوہ اس کے پاس صرف ایک راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ متعصب کہلائے۔ چنانچہ جو چیز فیصلہ کن ہے وہ یہ ہے کہ کس کے پاس حق ہے اور وہ اسے منوانے کے لئے کتنا بے چین ہے اور کس کے پاس محض وہ فرسودہ تصوارت ہیں جسے سب سے پہلے اس کے ماننے والے مسترد کرتے جارہے ہیں ۔آج وطینت ، قومیت،زبان اور نسل پر فخر کرنا اپنا ٹھٹہ اڑانے کے مترادف ہے۔مساوات ، شخصی آزادی معاشرے کی چند خودساختہ اقدار تو ہوسکتی ہیں لیکن فلسفہ حیات نہیں بن سکتی ہیں ۔جمہوریت وال اسٹریٹ میں سسکیاں لے رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اب شکست وریخت کا شکار ہے اس کے مقابلے میں اسلام کے اصول معاشیات اب باقاعدہ جدید طرز پر مرتب ہوچکے ہیں ۔ آج نہیں تو کل ہر انصاف پسند کو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا ۔ اگر سرمایہ دارانہ نظام پر ہی کسی کو اصرار کرنا ہے تو پھربھی یہ اس کا نظریہ حیات نہیں بن سکتا۔ سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کے لئے فکر صرف ان کو ہے جن کا اس نظام سے مفاد وابستہ ہے ۔ سود اور اس کی تباہ کاری اور بڑی کمپنیوں کی ملی بھگت اور بڑے بڑے بنکوں کی عیاشیوں سے اب سب واقف ہو گئے ہیں ۔سرمایہ دارانہ نظام کی پشت پناہی صرف سرمایہ دار کرتاہے اس ’ازم‘ پرایمان لانے والے بندگان خدامیں کوئی نہیں پایاجاتا۔ کوئی اس ازم پر مرنے کوشہادت نہیں کہتا۔ بلکہ اس سے نفرت کرنے والے عناصرکل بھی کروڑوں میں تھے اورآج بھی کروڑوں میں ہیں۔ گزرے کل میں یہ جذبات اشتراکی نظام کی بھینٹ چھڑ گئے تھے مگراس مرتبہ یہ سب عناصر عالمی تحریک اسلامی کے ساتھ ملنے والے ہیں ،خواہ اسلام پرایمان لا کریا اسلام کے بلاک میں آکر۔ سب ازم آزمائے جا چکے ہیں ۔ سرمایہ دارانہ نظام کو کسی ملک کے عوام نظریہ حیات کے طور پر پیش نہیں کرتے ۔ اس کے پیچھے صرف بنکوں اور کمپنیوں کی طاقت ہے۔ پانچ ارب دنیاکے انسان دراصل نظر یہ حیات کے متلاشی ہیں ۔ ایک ایسا نظر یہ جو انسان کی تخلیق سے لے کراس کی موت تک کے سارے لمحات کھول کھول کر بیان کرتا ہو۔ ایک ایسا نظریہ جس میں جنگوں کی وجہ سرمایہ ہو اور نہ اضداد کی تاریخی کشمکش ۔ آئندہ کوئی جنگ ذاتی مفادات کے لئے برپا نہیں ہونا چاہیے ۔ کوئی جنگ سمندری، فضائی یابری راستوں کے لئے نہیں ہونا چاہیے ۔ جس میں اگر کوئی سرفروش جان دیتا ہو تو وہ نظریے کی وجہ سے ہو مفادات کی وجہ نہ ہو ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جہاد یعنی اللہ کی رضا کے لئے جان کی بازی لگا دینا ایک عبادت ہے اور بلکہ عبادت کا سب سے اونچا مقام۔ جہاد کے اسی تصور سے اسلامی ریاست میں فوج اورریاست کے دفاع کا کرادر متعین ہوجاتا ہے۔ اسلامی ریاست جو دراصل مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کی حفاظت کے لئے قائم کی جاتی ہے، اس لئے اس ریاست کا ہر فرد اس بات کا اہل ہے کہ وہ جس رب کے ساتھ ایمان لے آیا ہے اس کی دین کی حفاظت اور سر بلندی کے لئے اپنے آپ کوپیش کرے۔ نظم و ضبط کی وجہ سے کسی کو میدان جنگ میں جانے سے روکا جاسکتا ہے لیکن اسلامی ریاست میں فوج کا ادارہ عوام سے الگ نہیں ہو سکتا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ فوج میں کچھ ادارے مستقل ہوں اور ان کے لئے سالانہ وظیفہ بھی مسلمانوں کی خدمات کی وجہ سے بیت المال سے دیا جائے مگر مجموعی طور پر اسلامی ریاست میں دفاع کا حق ہر مسلمان پر فرض سمجھا جاتا ہے۔بھلاایمان ایسی چیزپربھی لایاجاتاہے جس پر جان نہ نچھاور کی جاتی ہو۔اسلامی ریاست میں دفاع کا حق ہر مسلمان کے لئے تسلیم شدہ ہوتا ہے۔ اس لئے جدید جاہلی ریاستوں میں آرمی کا مستقل ادارہ جو خرابیاں پیدا کرتا ہے وہ اسلامی ریاست میں نمودارنہیں ہوں گی۔ اسلام میں ہی معاشیات کے ایسے آفاقی اصول ہیں جس سے زر کی تقسیم نہ ریاست کے ہاتھ میں آتی ہے اور نہ چند ہاتھوں میں۔ جب بھی دولت چندہاتھوں میں آئے گی تو ہمیشہ اس کی وجہ اسلام کے نظام معیشت کی خلاف ورزی ہو گی۔ جدید ریاستیں اگر قانون یا دستور کی روسے فلاحی ریاستیں کہلاتی ہیں تواسلام میں اپنے ہم مذہب مسلمان کی فلاح عبادت ہے۔ مگر اسلام میں ناداروں کی فلاح کے لئے فطری اصول بتلائے گئے ہیں ۔یہ نہیں کہ ریاست عوام پراس وجہ سے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دے۔ جب کسی خاندان میں کوئی یتیم ہوجائے ، اپاہج ہوجائے، کوئی عورت بیوہ ہوجائے تو ایسا نہیں ہوتاکہ مصیبت زدہ شخص فوراً ہی ریاستی سرپرستی میں چلا جائے بلکہ اس کے خاندان اور کنبہ کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اسلامی اصولوں پرا ن کی نگہداشت کرے اور مسلمانوں کا مستقل محکمہ امر بالمعروف و النہی عن لمنکر اس بات کا جائزہ لیتا رہتا ہے کہ خاندان ان کی تربیت یاسرپرستی میں سستی تو نہیں کر رہا۔ اس لئے اسلام میں خاندان اور کنبہ ایسے بڑے بڑے فرائض سر انجام دیتا ہے کہ اس سے ریاست کا بوجھ کم ہوجاتا ہے ۔ریاست کے اخراجات کم ہوجاتے ہیں اور معاشرہ داخلی امن کاگہواارہ بن جاتاہے اور بے راہ روی کاچلن عام نہیں ہونے پاتا۔ ایک بین الاقوامی اسلامی ریاست کس طرح کام کرے گی اورحکومت اسلامی کس طرح کم از کم دخل اندازی سے زیادہ سے زیادہ دینی اوردنیاوی ترقی کوممکن بنائے گی اس پرمفصل مضمون ہم کسی اور شمارے میں پیش کریں گے اوراسلامی نشائۃ ثانیہ کس طرح روبہ عمل ہے اور اس عمل میں کس طرح تیزی لائی جا سکتی ہے اس کاتذکرہ بھی اگلے شماروں میں آئے گا لیکن جسے ہم نوشتہ دیوارکہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ابتدائے اسلام کے بعد پہلی مرتبہ روئے زمیں میں دو ازم آمنے سامنے ہیں :ایک مفادپرست تہذیب اورایک بندگان خداکو خدا کے درپرلانے کی تحریک۔ قوموں کی زندگی میں ہمیشہ فتح تحریک کی ہوتی ہے مفادات کی نہیں ۔دنیامیں اب صرف ایک ازم رہ گیاہے’اسلام‘۔ کافراخلاقی قدریں کھوکردرندہ بن چکاہے ۔دوسری طرف عالم اسلام ہے کہ جس میں نوجوان اپنے دین کی طرف والہانہ اندازسے پلٹ رہے ہیں یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کانتیجہ کچھ بھی ہوسکتاہے۔ کافرکے پاس دوراستے ہیں: وہ یہ دیکھ دیکھ کر کڑھتا رہے اور کھولتا رہے کہ عالم اسلام میں نوجوانوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ اسلامی تعلیمات سے سرشارہوتے رہیں اورساتھ ہی عالم کفرکے صالح عناصرکو اپنا ہم خیال بناتے چلے جائیں یا پھر وہ جھنجلا کر سفاکی پراترآئے۔ ایک بداخلاق سفاکی کا ہی مظاہرہ کرسکتاہے۔ ہمارے جوانوں میں راسخ ہوتی اسلامی اقداراس کی برداشت سے باہرہیں۔ وہ ہمارے ان پاک نفوس کواچھلتا کودتااورعظمتیں بکھیرتا نہیں دیکھ پائے گا۔ عنقریب وہ ان پرایک بدترین جنگ مسلط کرے گا۔ اب ہمیں دوکام کرنے ہیں :اپنے ایمان کی حفاظت اورعالم اسلام کے دفاع کی تیاری۔ فریق دو ہی ہیں نوجوانان اسلام اور’وارلارڈز‘۔عالم اسلام کا برسراقتدارطبقہ اس جنگ میں محض تماشائی ہے۔
٭٭٭٭٭ حواشی: (1) مغرب اورامریکہ کے لیے ہم ایک ہی اصطلاح’مغرب‘یا’مغربی ممالک‘استعمال کریں گے۔
(2)
ہم اس مضمون میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب زیربحث نہیں لائیں گے۔
|