|
|
|
|
اخبار و آرا خون تو قیمتی صرف ’ممبئی والوں‘ کا ہے! جمع و ترتیب: مریم عزیز اور قا رئین کرام ، کچھ اظہار خیال ممبئی میں ہونے والے حملوں پر۔ اس بات سے قطع نظر کہ دن دہاڑے دس افراد نے اسلحو ں سمیت تمام سیکیورٹی کو’ جُل ‘دیکر ممبئی کا ساحل پار کر لیا، اور محض دس افراد سینکڑوں ماہر فوجی و نیم فوجی ماہرین اور کمانڈوز کو دو دن تک گولہ باری میں ’مصروف‘ رکھے رہے، عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور حملہ کرنے سے پہلے آرام سے بیٹھ کر کھانا کھانے کے بعد شراب کی بوتلیں بھی چڑھاتے رہے، دیکھنے میں گوری رنگت والے انگریز وں جیسے بھی تھے، اور اس سے بھی قطع نظر کہ ’زندہ گرفتار ‘ ہونے والے اجمل’ قصاب‘ کا یا اُس کے خاندان کا ریکارڈ فریدکوٹ یا اس کے نواحی علاقوں کے نادرہ اور تھانوں میں کہیں بھی نہیں،(اور وہ ”قصاب“بھی نہیں) یا یہ کہ اجمل کے وکیل سی ایم فاروقی کے مطابق وہ دو سال پہلے نیپال میں دوسو دیگرافراد کے ساتھ انڈیا پولیس اورنیپالی فورسزکے ہاتھو ں گرفتار ہوا تھا اور سپریم کورٹ میں ان کے اس اقدام کے خلاف پٹیشن بھی داخل کی گئی تھی۔۔۔ہماری بجا حیرت دنیا کے طرز عمل اور ’مذمتی‘ بیانات اور ’دہشت گردی ختم کرڈالنے‘ کے اعلانات پر ہے جو کہ 2002 میں بھارت ہی کے شہر گجرات میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام پر کہیں بھی دیکھنے اور سننے میں نہیں آئی تھی۔ یہی ’حساس‘ اور ’انسانیت بھرا دل رکھنے والی‘ دنیا 2002ءگجرات انڈیا میں کیوں لٹتے پٹتے اور دن دیہاڑے قتل ہوجانے والے مسلمانوں کی چیخوں اور جگر سوز مناظر پر اندھی اور بہری بن گئی تھی؟ کوئی اس بات کا جواب دے سکتا ہے؟ |