|
|
|
|
‘معیارات’ کا
بحران پچھلے دنوں مکتب دیوبند کی ایک مشہور جامعہ کے بعض علماءکی جانب سے صادر شدہ کچھ فتاویٰ نظر سے گزرے۔ فتوے برصغیر کے چند مشہور داعیان سے متعلق تھے، یا یہ کہہ لیجئے ان داعیان کے خلاف تھے۔ فتاویٰ یہ کہہ کر میرے ہاتھ میں تھمائے گئے کہ یہ دیوبندی علماء کی شدت پسندی کی ایک واضح مثال ہیں۔ اور واقعی بعض جگہ ایسا محسوس بھی ہوتا تھا۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بعض جگہ اعتراضات حق بجانب تھے۔ یہ حقیقت ہی ہے کہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بہت سے غیر عالم حضرات اپنی فقہی اہلیت کا خیال نہ رکھتے ہوئے کئی ایک فقہی اور علمی مسائل میں بڑے آرام سے فتوے دے لیتے ہیں۔ دعوت دینا ایک کام ہے مگر فتویٰ دینا، فقہی وعلمی معاملات میں قولِ راجح صادر کرنا، کسی بھی مستند فقیہ کا حوالہ دیے بغیر علمی مواقف اختیار کرنا اور کروانا ایک اور بات۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان داعیان کے بہت سے قدردان بھی یہ کام کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں توجہ طلب ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ شرعی مسائل پڑھانے، یا شرعی مسائل پر تالیفات کرنے، کے اس میکانکی انداز میں (جس میں کہ ایک حدیث دے دی گئی ہوتی ہے اور سب فقہی احتمالات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس سے ’ثابت‘ ہونے والا بس ایک ہی حکم حرفِ آخر کی طرح بتا دیا جاتا ہے اور وہ بھی ایک غیر فقیہ کی جانب سے، جبکہ اسی لمحے ایک دوسرا شخص یا ایک دوسری کتاب بھی عین یہی کام کر رہی ہوتی ہے، اور ہم دیکھتے ہیں یہی اپروچ یہاں کی ’غیر حنفی‘ دنیا پر آج غالب ہے)، آخر اس میں کیا حکمت ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ اساتذہ کی تنبیہ کے باوجود یہ رویہ پھلتا پھولتا ہی رہا ہے؟ کیا اس میں ان اساتذہ کا اپنا فقہی رویہ اور اپروچ تو قابل نظر ثانی نہیں؟ کیا اس نصاب میں تو کوئی مسئلہ نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کے ایک خاص طبقے میں، کہہ لیجئے کوئی 99فیصد علماء’نمازِ نبوی‘ پر کتاب لکھتے ہیں۔ ہر کتاب ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ اور ہر نئی کتاب پہلے سے زیادہ بہتر اور مستند!! یعنی جوں جوں ہم سلف سے دور ہوتے جائیں، دین پہلے سے زیادہ شفاف ہوتا جائے!اور پھر مسائل میں ترجیحات کا حال یہ ہو کہ سلف کی کنیتیں استعمال کر کے پیاز کی حرمت کے فتوے دیئے جائیں! یہ لطیفہ نہیں حقیقت ہے!اس مشینی انداز کا سب سے خوفناک نتیجہ دین کی قلبیت اور روحانیت کی موت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اور اس کا جواب عمومی طور پر یہی ہوتا ہے کہ ہمارے فلاں عالم نے تزکیہ نفس کے موضوع پر ایک کتابچہ تحریر کیا تھا! (یعنی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جی ہماے ہاں تزکیہ نفس کو عملی طلاق نہیں دے دی گئی۔) جمود دونوں طرف پایا جاتا ہے۔ ایک طرف اگر چند سو سال پرانے اکابر کو حرف آخر مان رکھنے کی قسم کھا لی گئی ہے تو دوسری طرف ہر ایک نے اکابر کا ہم پلہ بننے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی فقہی مسجدیں بناتے چلے جانے کا باعث بن رہی ہے۔ دوسری جانب کے گروہ میں کچھ اور طرح کی شکایتیں ہوں گی اور یقینی طور پر ہیں بھی، تعصب کا پایا جانا بھی خارج از امکان نہیں، لیکن وہاںprocedures and standards کے موجود ہونے اور پھر ان کا احترام پایا جانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس گروہ میں فقہی مسائل کی نت نئی اور عجیب و غریب توجیہات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ روز مرہ کی فقہ کا standardarised ہو جانا علماء کو معاشرے کے بہت سے زندہ فقہی مسائل پر قلم اٹھانے کا موقعہ فراہم کر دیتا ہے۔ سید ارشاد الحق حقی-کراچی |