سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

   

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

عن اَبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اِن اللہ قال:
”من عادیٰ لی ولیاً فقد آذنتہ بالحرب،وما تقرب الی عبدی بشیء اَحب الی مما افترضتہ علیہ۔ وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی اَحبہ، فاِذا اَحببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصربہ ویدہ التی یبطش بہا ورجلہ التی یمشی بہا، و اِن ساَلنی لاَعطینہ، ولئن استعاذنی لاَعیذنہ....

(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب: التواضع)

بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ،کہا: فرمایا اللہ کے رسول نے: کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”جو شخص میرے کسی دوست سے دشمنی روا کرلے تو میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیتا ہوں۔ میرا بندہ میری قربت پانے کیلئے کوئی ذریعہ نہ پائے گا جو مجھے ان فرائض سے زیادہ پسند ہو جوکہ میں نے خود ہی اُس پر عائد کر رکھے ہیں۔ اور (پھر) میرا بندہ نفل (فرائض سے زائد تر) اعمال کر کر کے تو میرے قریب ہوتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ سنتا ہے۔ میں اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ پکڑتا ہے۔ اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ چلتا ہے۔ وہ مجھ سے مانگے تو میں اس کو ضرور دوں۔ وہ میری پناہ چاہے تو میں اس کو ضرور پناہ دوں “