|
|
||||||||||
یہاں صرف ہم مولانا صوفی محمد کے اس موقف کی تائید کرنے جارہے ہیں جس میں وہ جمہوریت کو مسترد کرتے ہیں اور اس نظامِ کفر کے خلاف ایک پراَمن ومسلسل و زوردار جدوجہد کے داعی ہیں۔۔۔۔ صوفی محمد کے دیگر مواقف کا ہمیں علم ہے اور نہ وہ ہمارے اِس مضمون کا موضوع۔ ’سیاہ عمامہ‘، اور نہ ’یہاں کی عدالتوں میں بحالتِ مجبوری مقدمے لے جانے والوں کا شرعی حکم‘، اور نہ ممبرانِ پارلیمنٹ کے ’کافر یا مسلمان‘ ہونے کا فیصلہ کرنا۔۔ کچھ بھی یہاں ہمارے زیر بحث نہیں آئے گا۔ اور نہ یہ ضروری ہے کہ ان امور میں صوفی محمد صاحب کا اگر کوئی سخت گیر موقف بیان ہونے میں آرہا ہے، اس میں ہم انکے ہم خیال ہوں، بلکہ حق یہ ہے کہ ان بیشتر موضوعات پر ہم انکےموقف سے سرے سے واقف نہیں۔ البتہ اغلب یہ ہے کہ ان کے بعض بیانات کو زیادہ ’انتہا پسندانہ‘ بنا کر کسی خاص ’ضرورت‘ کے تحت اِس وقت میڈیا میں اچھالا جارہا ہے اور شاید بہت کچھ توڑ مروڑ کر بھی ’صوفی محمد کے حوالے‘ سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اور یہ تو یقینی ہے کہ صوفی محمد اپنی بات کی جو تفصیل کرتے ہوں گے اس ’پوری بات‘ کو جان بوجھ کر میڈیا مبہم رکھے ہوئے ہے، کیونکہ ایک موضوع پر ’آدھی حقیقت‘ سامنے لانا معاملے کو پیچیدہ کردینے کی ایک یقینی اور کامیاب صورت ہوا کرتی ہے! ہاں صوفی صاحب کے دو مواقف بہت عرصے سے معلوم و زبان زد عام ہیں، اور یہ دو مواقف ہمارے ہاں نہ صرف لائقِ تحسین ہیں، بلکہ ان کی تائید ضروری ہے: 1) یہاں کے باطل اور خلافِ شریعت نظام کو نہایت غیر مبہم الفاظ میں مسترد کرنا 2) البتہ مسلم ملکوں کے اندر اِس نظام کیخلاف ’ہتھیار اٹھانے‘ کے منہج کو بھی، جوکہ حالیہ ہیجان خیز حالات کے باعث اسوقت یہاں کے کچھ مخلص طبقوں میں پزیرائی پا رہا ہے، مسترد کرنا، اور ایک پرامن جدوجہد کیلئے ہی امت کو اٹھ کھڑے ہونے کیلئے آمادہ کرنا۔ مختصراً، ”باطل کے خلاف ایک پر امن مگر زور دار اور حوصلہ مند جدوجہد“۔۔ ان دو نکات کی حد تک ہم صوفی صاحب کے منہج کو سراہتے بھی ہیں اور یہی ہمارے اِس مضمون کے تحریر میں لائے جانے کا اصل محرک بھی ہے۔ ٭٭٭٭٭ اس مرد حق آگاہ نے ابھی تک کچھ بھی تو نہیں کیا ہے، سوائے ایک ایسی ’نہ‘ کے جو جاہلی نظام کے سیدھی دل میں جا کر لگتی ہے۔۔۔۔! ’قید ‘ میں اس سے اپنی ایک یادگار ملاقات کے بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار ہارون الرشید کے یہ الفاظ آپ کی توجہ لئے بغیر نہ رہیں گے: ”اگر وہ چاہتے تو انہیں کافی پہلے رہائی مل چکی ہوتی لیکن یہ رہائی محض اس وجہ سے رکی ہوئی تھی کہ وہ برطانوی قانون کے تحت اپنی رہائی کی اپیل پر دستخط نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ”اس وقت ستر سال کی عمر میں بھی مولانا صوفی محمد کافی چاک و چوبند اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ ان سے ملاقات کیلئے پہنچے تو جیل سپرینٹنڈنٹ نے بتایا کہ یہ ملاقات ان کے نائب کے کمرے میں کرنی ہوگی۔ ’صوفی محمد صاحب میرے کمرے میں نہیں آتے کیونکہ یہاں قائد اعظم کی تصویر لگی ہے۔(1) کچھ بھی نہیں کیا، سوائے یہ کہ ایک ایسے منہج کی بنیاد رکھ دی جس پر اگر سینکڑوں ہزاروں داعیوں کے قدم پڑنے لگتے ہیں تو باطل کو ڈر ہے معاملے کی تصویر شاید اور ہی رنگ اختیار کر لینے لگے! اسلام کا ایک انتہائی پر امن داعی۔۔ ایک ایسے ملک میں جہاں آج تک سب داعی اور سب دعوتیں پر امن ہی رہی ہیں، مگر باطل کو ’نہ‘ کہنے کا یہ کمال دبنگ لہجہ اسی داعی کا حصہ رہا! طویل و عریض فلسفے دعوت کے اندر وہ کاٹ نہ لا سکے جو اِس مردِ درویش کے اِک سادہ انکار نے پیدا کر دی! کیا حیرانی کی حد نہیں، آج کے دور میں ایک شخص ’جمہوریت‘ کو کفر کہہ رہا ہے!؟ کیا وہ ’شریعت‘ سے اتنا ہی ناواقف ہے؟!!! یہاں ہمارا موضوع یہ شخصیت بذاتِ خود نہیں، بلکہ اس کے ایک موقف پر پائے جانے والے ’اظہارِ حیرت‘ کا ایک جائزہ ہے۔ صوفی محمد کا یہ موقف کوئی آج سے نہیں۔ جمہوریت کو وہ بڑے سالوں سے کفر ہی کا نظام کہتے آئے ہیں۔ البتہ آج جب صوبہء سرحد کے اربابِ اختیار کو مجبوراً صوفی محمد سے رجوع کرنا پڑا، جس کی وجہ ان کی نہایت خوب شہرت، علاقہ میں ان کا احترام، اور پھر خصوصاً ان کا امن پسند موقف تھا، اور اِس باعث ’کیمرہ‘ ان پر فوکس کر دیا جانا وقت کا تقاضا ٹھہرا، تو ہر دیکھنے والا محسوس کر سکتا تھا کہ ایک ایسا نجات دہندہ بھی کتنی مشکل سے ہضم ہو رہا ہے جو ان کے نظام کو سر عام باطل کہتا ہے! باوجود یہ جاننے کے کہ وہ نفاذِ شریعت کے پر امن منہج کا کتنا بڑا داعی ہے، اس کا اس نظام کو پر امن طور پر مسترد کر دینا بھی لوگوں کو کس قدر کھلتا ہے! یہاں تک کہ قیامِ امن کیلئے مولانا صوفی محمد کا حالیہ کردار کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے، یہاں تک کہ اس پر ان کو داد دینے کے دوران، ’ڈیموکریسی‘ کی بابت صوفی صاحب کے موقف سے ناگواری پھر بھی سامنے آرہی ہے! یہ ’تعجب‘ کرنے میں اچھے اچھے قابل احترام لوگ شامل ہیں۔ یہ اپنے دانشوروں کی ایک بڑی تعداد کا ذہن ہے۔ اس کی محض ایک مثال کے طور پر، نہ کہ کسی تنقید کیلئے، یہاں ہم محترم مجید نظامی صاحب کے وہ افکار نقل کریں گے جو انہوں نے مولانا صوفی محمد صاحب کے موقف بسلسلہ جمہوریت پر اپنے ایک شدید تبصرہ میں ظاہر فرمائے ہیں:
جمہوریت کا ’اسلامیایا‘ جانا، یعنی کفر سے نکل کر اس کا حلقہ بگوش اسلام ہو چکا ہونا، کہ جس کی بابت بہت سے لوگوں کا اصرار ہے کہ یہ واقعہ ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ اس وقوعہ کی نفی کرتے ہیں۔۔ اس پر یہاں ہم نفسِ موضوع میں نہیں جائیں گے۔ اس کیلئے ایقاظ کے شمارہ (اکتوبر 2003ء و اپریل 2004ء و جولائی 2004ء) میں ہمارا مضمون ”یہ وہی انگریزی نظام ہے، مگر اب یہ ’اسلامی‘ بھی ہے“ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم اس موضوع کو اس کی کچھ ابلاغی جہتوں سے ہی زیر بحث لے کر آئیں گے، اور خاص اس تنقید ہی کے ضمن میں جو نوائے وقت کے اداریہ میں صوفی محمد صاحب پر ہوئی۔ جناب مجید نظامی اس ملک کے ایک قابل احترام بزرگ صحافی ہیں۔ قوم کے لئے بے شمار خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اسلام کے حوالے سے بھی ان کے کئی ایک مواقف قابل ستائش ہیں۔ مغرب کی عالم اسلام پر جو یلغار ہو رہی ہے، اور جس پر زبانیں گویا گنگ ہو چکی ہیں، نظامی صاحب ان چند آوازوں میں سے ایک ہیں جو اس صلیبی یلغار کے خلاف پھر بھی سنی جاتی ہیں۔ ناموسِ رسالت کے حق میں ان کی خدمات کے ہم دل سے معترف ہیں۔ ابھی چند دن پہلے ان کا ایک بیان پڑھنے کو ملا: ”نظامِ شریعت کے نفاذ کے منکروں کو بھارت چلے جانا چاہیے“۔ وقتاً فوقتاً یہاں جب کسی نئے خلافِ اسلام قانون یا ’قانونی اصلاح‘ کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے یا کچھ اسلام گریز طبقوں کی جانب سے کوئی خطرناک بحث سامنے لائی جاتی ہے یا ملکی سطح پر کسی مسلم مفاد کا سودا ہونے جا رہا ہوتا ہے تو اس کے خلاف دنیائے صحافت کے جن بڑے ناموں کو ایک دبنگ انداز میں بولنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے، بلکہ اسلامی ایشوز کے حق میں بولنے والوں کیلئے اپنا فورم پیش کرنے میں جو لوگ پیش پیش دیکھے جاتے ہیں، ان میں مجید نظامی صاحب شاید نمایاں ترین ہیں۔ ہم بھی اس پر دل سے ان کی قدر کرتے ہیں۔ تاہم جمہوریت کے موضوع پر ان کا صوفی محمد صاحب کو اتنی سرزنش کرنا ہماری دانست میں درست نہیں۔ اس میں بھی حرج نہیں کہ جمہوریت کے ’اسلامی‘ ہو جانے کے موضوع پر کسی دوسری رائے کا امکان مانا جائے۔ جمہوریت کو نظامی صاحب جس معنیٰ میں لیتے اور قبول کرتے ہیں، بظاہر وہ کوئی برا معنیٰ نہیں۔ یہ بات ان کے اِس اداریہ سے ہی واضح ہے، جس میں ایک ’مادر پدر آزاد جمہوریت‘ کو وہ بھی رد ہی کرتے ہیں، یعنی جس جمہوریت کو نظامی صاحب قبول کرتے ہیں وہ ایک ’پابندِ اسلام جمہوریت‘ ہے۔ نظامی صاحب کی طرح دانشوروں کی کثیر تعداد کا ’آئیڈیل‘ ایسی ہی ایک جمہوریت ہے، اور ’آئیڈیل‘ رکھنے پر بھلا کیا قدغن ہو سکتی ہے!؟ یہ الگ بات کہ ایک ’پابندِ اسلام جمہوریت‘ نامی مخلوق کا __ بطورِ واقعہ __ سطحِ ارض پر تاحال کہیں انکشاف نہیں ہو پایا، بحثوں میں اس کا ذکر ضرور ملتا ہے اور ’بحثوں‘ کی حد تک ضرور اس پر بات بھی ہو سکتی ہے حتیٰ کہ ایسی جمہوریت کو سراہا بھی جا سکتا ہے اور سراہنے والے سراہتے بھی ہیں، مگر صوفی محمد صاحب شاید بر سرِ زمین پائی جانے والی اشیاء پر حکم لگانے کے قائل ہیں نہ کہ کتابوں اور مضامین کے اندر پیش کئے جانے والے خوش نما مفروضوں پر۔ صوفی صاحب ماہر آئین نہیں، لہٰذا ایسی دستوری بحثوں پر عشروں کے عشرے لگا دینے کے بھی قائل نظر نہیں آتے جن سے، سوائے بات پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے جانے کے، ابھی تک کچھ برآمد نہیں ہو سکا۔ آئین کی تفسیر ایک نہایت پیچیدہ کام ہے۔ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر آئین بیٹھا ہے۔ یہاں کوئی ایک طبقہ تھوڑی ہے جو آئین پر رائے دے رہا ہوتا ہے! ہر کوئی ہی تو اپنے اپنے نقطہء نظر کو اسی دستور سے ہی ثابت کر رہا ہوتا ہے۔ سیکولر طبقوں نے بھی آئین سے اپنی توقعات کلیتاً ختم نہیں کر لیں اور نہ اس پر ہار مان لی ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے اور کوئی اسے جھٹلا نہیں سکتا۔ سیکولر طبقے بھی اس آئین کو ’نفاذِ شریعت‘ کی دستاویز جان کر اب بقیہ زمانہ کیلئے اس آئین کو own کر رکھنے سے دستبردار نہیں ہو گئے ہیں۔ (حق یہ ہے کہ یہ یہاں کے سبھی طبقوں کو گول چکر کی ایک دوڑ میں شریک کر رکھنے کا نہایت کامیاب انتظام ہے) پس یہ ایک طویل بحث ہے کہ آئین سے واقعتا کیا ثابت ہوتا ہے!!! اس کا فیصلہ کر دینا آئین کی technicalities کو سامنے رکھتے ہوئے بہرحال آسان نہیں۔ اول تو یہی معلوم نہیں کہ اس کا فیصلہ کون کرے؛ چینل پر بحثیں ہو لیتی ہیں اور آخر میں پروگرام کا میزبان ’طرفین‘ کا شکریہ ادا کر کے مجلس برخاست کر دیتا ہے، اور پھر ’کمرشلز‘ شروع ہو جاتے ہیں! صوفی صاحب بھلا یہ مشقت کب کر سکتے ہیں اور اگر کریں تو بھی اس کا فائدہ؟ وہ ’ڈیموکریسی‘ کا وہی سادہ حکم کیوں باقی نہ رہنے دیں جو عالمی طور پر جانا اور مانا جانے والا ’ڈیموکریسی‘ کا مفہوم بجا طور پر تقاضا کرتا رہا ہے؟ ’پاکستان‘ کی حد تک ’ڈیموکریسی‘ نے اپنی سرشت بدل لی ہے اور حکم و قانون پر مخلوقات کا سب اختیار ختم کر کے اس پر اللہ مالک الملک کا اختیار رہنے دیا ہے، یوں کہ اللہ فرما دے اور سب کے سب بلا چوں و چرا تسلیم کر لیں۔۔ ڈیموکریسی نے اپنا آپ اتنا بدل لیا ہے تو بھی فی الحال یہ اُن ’بحثوں‘ کا موضوع ہے جو کسی ’فیصلے‘ کے بغیر ختم ہوتی ہیں۔ ایسا کوئی خوبصورت واقعہ جب بر سر زمین بھی پایا گیا تو ہمیں یقین ہے صوفی محمد صاحب جیسے بہت سے سنجیدہ لوگ اس کو خوش آمدید کہنے میں کسی سے پیچھے نہ رہیں گے۔ صوفی صاحب کو جمہوریت کو رد نہ کرنے کا مشورہ دینے میں نظامی صاحب کا نیک مقصد اور صوفی صاحب کے ساتھ ان کی خیر خواہی ان کی تحریر سے عیاں ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ لوگ صوفی صاحب کو اس قدر تعجب سے دیکھیں کہ آج اِس زمانے میں ایک شخص ’جمہوریت‘ کو کفر کہہ رہا ہے، جس کا مطلب دنیا کے کثیر طبقے یہی لیں گے کہ یہ شخص ’آمریت‘ کو اسلام قرار دے رہا ہے! واقعتا یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے جو ’جمہوری مشقت‘ کو مسترد کردینے والوں کی راہ میں لا کھڑی کی گئی ہے؛ یعنی دنیا کے نہ صرف عام لوگ بلکہ ’پڑھے لکھے‘ اس کا یہ مطلب لیں گے کہ ہو نہ ہو یہ شخص ’آمریت‘ کا دور دورہ ہو جانے کا داعی ہے! سماجی علوم پر اتنا کام ہو لینے کے باوجود آج کی پڑھی لکھی دنیا لوگوں کیلئے اپنے پاس دو ہی خانے رکھتی ہے؛ ’آمریت‘ اور ’جمہوریت‘! اگر آپ اپنے فٹ ہونے کیلئے ان دونوں میں سے کوئی ایک خانہ قبول نہیں کرتے تو شاید آپ کو اس دنیا سے کہیں باہر اپنے لئے جگہ تلاش کرنا پڑے گی؛ اگر آپ نے ’جمہوریت‘ کو رد کر دیا ہے تو کیا شک ہے کہ آپ ’آمریت‘ کے داعی ہیں، اور اگر آپ نے ’آمریت‘ کو رد کر دیا ہے تو آپ سے آپ، آپ نے ’جمہوریت‘ کے حق ہونے کو تسلیم کر لیا ہے! ’خانے‘ ہی دو ہوں تو آخر آپ کیا کریں گے؟! وہی امریکہ کا 'objcective type question' اگر آپ جارج بش کے ساتھ نہیں تو آپ ان کے دشمن ہیں اور اگر آپ جارج بش کی دشمنی مول لینے کے متحمل نہیں تو پھر آپ کو ان کا ’دوست‘ ہونا پڑتا ہے! ایسے ’پڑھے لکھے‘ دور میں صوفی محمد صاحب کے ایک خیر خواہ کا ان کو یہ مشورہ دینا واقعتا بنتا ہے کہ ’جمہوریت‘ کی مخالفت کر کے ’آمریت‘ کے داعی نظر آنے سے متنبہ رہیں! مگر صوفی صاحب کی ’آشفتہ سری‘ لگتا ہے ’ناصح‘ کی ہر بات مان لینے والی نہیں۔ شاید ان کو کسی نے بتا دیا ہے کہ یہ وہی مغرب ہے جس کے بعض طالبعلم جب اندلس کی مسلم جامعات سے یہ پڑھ کر گئے تھے کہ ’زمین چپٹی نہیں‘، تو یہ مغرب اتنی ’بیہودہ‘ بات سن کر ان کا سر پھوڑ دینے کیلئے تیار ہو گیا تھا مگر رفتہ رفتہ، اور ایک طویل جدوجہد کے بعد، معاملہ آخر ’معمول‘ پر آ گیا اور زمین چپٹی سے گول ہو گئی! شاید صوفی صاحب اس بات کے قائل ہیں کہ بعض ”فکری دھچکے“ intellectual shocks دنیا کے اندر ناگزیر ہی ہوتے ہیں اور تاریخ انسانی میں اس کی مثالیں بھی کچھ اتنی کم نہیں۔ صوفی محمد صاحب شاید اس بات کے بھی قائل ہیں کہ سمندر میں جزیرے بنائے نہیں جاتے! ایک اصطلاح عالمی طور پر اگر ایک واضح معین مفہوم رکھتی ہے اور اس کی کچھ مخصوص دلالات connotations ہیں اور وہ اصطلاح ایک باقاعدہ حوالے کے طور پر دنیا بھر میں جانی پہچانی جاتی ہے تو دنیا کے چھوٹے سے کسی گوشے میں کچھ لوگوں کے ہاتھوں اس کو کچھ نئے معانی پہنا دینے کی کوشش نیک نیتی تو ضرور کہلا سکتی ہے البتہ عملاً یہ سمندر میں جزیرے کھڑے کرنے کے ہی مترادف ہو گا، جوکہ اصولاً عبث ہے اور عملاً محال۔ واقعتا اگر آپ کا اپنا ایک جداگانہ مفہوم ہے اور وہ اپنے مضمون substance میں اس قدر مختلف ہے کہ ایک چیز شرک سے ہٹ کر اب توحید بن گئی ہے، یعنی ایک بعد المشرقین کا فرق لے آیا گیا ہے، یعنی ایک اتنا بڑا فرق جس سے بڑا فرق دنیا میں کوئی پایا ہی نہیں جا سکتا ۔۔ تو جہاں ایک اپنا جداگانہ مفہوم سامنے لے آنے پر اتنی محنت کر لی گئی (جوکہ ہمارے نزدیک محل نظر ہے) تو اس کیلئے ایک عدد اصطلاح بھی جداگانہ رکھ لی ہوتی تاکہ صوفی صاحب جیسے لوگ ’ڈیموکریسی‘ کے عالمی طور پر جانے پہچانے حوالے سے ’مغالطہ‘ ہی نہ کھاتے! بلکہ ’ڈیموکریسی‘ کے اِس عالمی حوالے کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی کسی کو نہ رہتی! بلکہ یہ سوال ہی سرے سے نہ اٹھتا! مغرب کا شرک بھی ایک ہی لفظ سے پہچان میں آ جاتا اور ہمارے گلے میں پڑا خدائے رب العالمین کی غیر مشروط فرماں برداری کا طوق بھی ایک ہی لفظ بول کر سامنے آ جاتا! لیکن اس صورت میں ظاہر ہے عالمی جاہلیت کی وہ واردات بھی نہ ہوسکتی جو ’ڈیموکریسی‘ کے اس عالمی نعرے کے پیچھے اصل ایجنڈا تھا! ’ڈیموکریسی‘ کے اندر سے غیر اللہ کی خدائی اور ’عوامی نمائندوں‘ کا حرفِ آخر ہونا نکال دیا جائے اور اللہ مالک الملک کا نازل کیا ہوا ایک ایک حرف قانون ہو اور ایسا قانون ہو کہ اس کے بعد نہ کسی کی رائے، نہ کسی کی ’منظوری‘ اور نہ کسی کے ’دستخط‘۔۔ یعنی ’ڈیموکریسی‘ سے اس کا اخص الخاص وصف ہی نکال باہر کیا گیا ہو اور اس کو دینِ انبیاءکی اخص الخاص حقیقت __ یعنی توحیدِ رب العالمین اور مطلق غیر مشروط طور پر اس کی شریعت کے آگے سر تسلیم خم کر دینا __ کا عکاس بنا دیا گیا ہو، تو کیا یہ ایک ہی بات آپ کو حیرت میں نہ ڈال دے گی کہ امریکہ اور پورا مغرب آپ کے ہاں ’ڈیموکریسی‘ کے قیام کیلئے اس قدر بے چین کیوں رہتا ہے؟! نظامی صاحب فرماتے ہیں: جمہوریت عین اسلام ہے! بلکہ وہ اپنے اداریے کی سرخی ہی اس جملے سے باندھتے ہیں کہ ’جمہوریت عین اسلام ہے‘! یعنی جس وقت امریکہ پاکستان میں ’جمہوریت‘ کے مطالبے کر رہا ہوتا ہے، اور آپ جانتے ہیں امریکہ کے ’جمہوریت‘ کے لئے مطالبے کسی وقت تو اتنے شدید ہو جاتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے ہم نے امریکہ کی کوئی چیز دبا لی ہے۔۔۔۔ تو کیا اس وقت ہم یہ سمجھا کریں کہ امریکہ پاکستان میں ’اسلام‘ لائے جانے کے مطالبے کر رہا ہوتا ہے؟! اور یہی بات ظاہر ہے یورپی یونین کے ’جمہوریت‘ کیلئے مطالبوں پر صادق آئے گی!؟ اور یہی بات کومن ویلتھ کی جمہوریت کیلئے ’چیخ و پکار‘ کی بابت باور کی جائے گی!؟ جمہوریت عین اسلام ہے تو ہمارے ہاں یہ ’اسلام‘ لایا جانے کیلئے ہم سے بھی بڑھ کر مغرب اور مغرب کا میڈیا اور مغرب کی کاسہ لیس این جی اوز پریشان ہوتی پھریں!!! بلکہ ’جمہوریت‘ کے معاملے میں جب بھی ہم کوئی ’کوتاہی‘ کر بیٹھیں تو مغرب کی جانب سے بلا تاخیر ہمیں اس پر ’شو کاز نوٹس‘ ملیں!!! کیا یہ کچھ تھوڑا سا عجیب نہیں؟! اسلام کا یہی ایک حصہ آخر کیوں ایسا ہے جس کے حق میں ہم کوئی قصور کر بیٹھیں تو مغرب اس پر گرفت کرنے میں تاخیر نہیں کرتا؟! جو شخص مغربی مفکرین کو تھوڑا بہت بھی پڑھتا ہے اس سے تو ہرگز یہ روپوش نہ ہوگا کہ جن اصطلاحات کو وہ لوگ مغربی طرزِ حیات کے ترجمان الفاظ کا درجہ دے کر رکھتے ہیں، کہ جس کا پابند ہو کر دکھانا ان کی نگاہ میں پوری دنیا پر لازم ہے (اور ’تھرڈ ورلڈ‘ کی تو جراءت ہی نہیں کہ اس کو ’نہ‘ کر دے)، اور وہ الفاظ ترجمان بھی اس درجے کے کہ ایک ہی لفظ بول کر جہان میں مغربی طرز حیات کی سپریمیسی کا پورا مفہوم ادا ہو جائے۔۔ ان چند الفاظ میں سے ایک نہایت کثرت سے مستعمل لفظ اُن کے ہاں ’ڈیموکریسی‘ ہے جس کو ایک عالمگیر قدر universal value کے طور پر منوانا ان کے ہاں ہر اہم فرض سے اہم تر ہے۔۔جی ہاں !!!democracy for the third world معلوم نہیں ہمارے یہ معزز دانشور معاملے کی اصل تصویر کو دیکھنے سے کیوں قاصر ہیں۔ حضرات! ’ڈیموکریسی‘ آج مغرب کا باقاعدہ دین ہے اور اس کیلئے وہ اسی طرح غیرت میں آتا ہے جس طرح کوئی بھی معاشرہ اپنے دین کیلئے غیرت میں آتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ’ڈیموکریسی‘ کا ذکر ہونے پر اس کے دل میں ویسی ہی ٹھنڈ پڑتی ہے جیسی کسی بھی قوم پر اپنے دین کا ذکر سن کر ٹھنڈ پڑتی ہے۔ ہمارے لوگوں کو یہ ’اسلام‘ میں بھی مل جاتی ہے تو یہ تو اور بھی خوشی کی بات ہے! آخر ذاکر نائیک صاحب __ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے __ کیا ہندو دھرم کی کتابوں سے ”توحید“ کے کچھ ایسے سبق نکال کر نہیں دکھا دیتے جن کو ہندو آج بھولے ہوئے ہیں؟! مگر اس میں کیا شک ہے کہ یہ اسلام کی برتری اور حقانیت ثابت کرنے کیلئے ہوتا ہے اور درحقیقت اُن کو اسلام پر لے آنے کیلئے ہوتا ہے نہ کہ ہندو دھرم کا چہرہ درست کر دینے کیلئے! ابھی ظاہر ہے ہندوؤں کے ہاں ایسے ’دیدہ ور‘ پیدا نہیں ہوئے جو خود بھی اپنی وید سے یہ صفحے نکال نکال کر دکھائیں۔ جس دن ان شاءاللہ دنیا میں توحید کے ڈنکے عین اسی طرح بجنے لگے جس طرح افواجِ استعمار کی فتوحات کے نتیجے میں کوئی صدی بھر سے مغربی شعارات کے ڈنکے بج رہے ہیں __ اور ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں __ تو آپ بہت سی اقوام کے راہنماؤں کو دیکھیں گے جو ا پنے دھرم کی کتابوں سے ”توحید“ کے ثبوت خود نکال نکال کر دکھائیں گے؛ کچھ ان میں سے مسلمانوں کے قریب ہونے کیلئے اور ایک ’عالمی فیشن‘ کی مزاحمت نہ کر سکنے کے باعث، اور کچھ ان میں سے اپنی قوم میں یہ اعتماد پیدا کرنے کیلئے کہ ’مسلمان خوامخواہ یہ زعم نہ رکھیں کہ ”توحید“ کا انکشاف پہلی بار کوئی اُنہی پر دنیا میں ہوا ہے، ہمارے دھرم کی کتابوں میں یہ اس سے پہلے سے موجود ہے‘! ہمارے یہ مسلم دانشور جس معنیٰ میں جمہوریت کو اسلامی کرتے ہیں وہ ہمیں پوری طرح معلوم ہے اور اُس معنیٰ میں ہمیں ان سے اختلاف کرنے کی بھی کوئی بڑی ضرورت نہیں (گو اس کا تعلق ’بحثوں‘ اور ’مفروضوں‘ کی دنیا سے ہے جیسا کہ ہم پیچھے بیان کر چکے)۔ البتہ جس ”وجہ“ سے ہمارے یا تھرڈ ورلڈ کی کسی بھی قوم کے ایک لیڈر کو آج اِس دور میں ’ڈیموکریسی‘ کی مالا جپتے ہوئے ایک اعلیٰ درجے کی ’تسکین‘ سی محسوس ہوتی ہے خاص طور اگر وہ یہ ’مقدس الفاظ‘ بولتا ہوا مغرب کے کسی ’ڈائس‘ پہ بھی کھڑا ہو اور اُس پر ہر طرف سے تالیاں اور داد برس رہی ہو بلکہ مغربی اقوام کا تھرڈ ورلڈ کے ایسے کسی لیڈر پر اس لمحے قربان ہو جانے کو جی چاہتا ہو تو اس کی ”وجہ“ بھلا کسے سمجھ نہیں آتی؟! تھرڈ ورلڈ کے اس لیڈر کا تو یہی دل چاہے گا کہ اس کے دھرم کی کتابوں کے ہر صفحے پر ہی اگر کہیں ’ڈیموکریسی‘ کا لفظ کندہ کر دیا گیا ہوتا تو آج اس کا وہ ایک ایک صفحہ پلٹ کر مغرب کے اس خوبصورتی کے ساتھ تالیاں بجاتے مجمع کو دکھاتا کہ صاحب ہم تو ہمیشہ سے ہی آپ جیسے ہیں بلکہ آپ بعد میں ایسے بنے ہم آپ سے پہلے آپ جیسے تھے، یہ ’فرق‘ تو نہ جانے ہمارے اور آپ کے مابین کہاں سے آن ٹپکا! ’حاکم کے چناؤ کے معاملہ میں اسبتداد کو مسترد اور شوریٰ کو فرض کر دیا جانے‘ پر بھلا کس مسلمان کو اعتراض ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ ہماری اپنی تاریخی اصطلاحات کے ساتھ ہو، بلکہ ہمارے اپنے فکر کی نہایت طویل لڑی میں پرویا ہوا صرف ایک موتی ہو جبکہ اس لڑی کے باقی موتی بھی پوری تابناکی کے ساتھ چمک رہے ہوں اور اگر اس لڑی کے کسی اور موتی کا اس سے بھی بڑھ کر چمکنا ضروری ہو، جس کا فیصلہ ہمارا عقیدہ کرے گا، تو لازماً وہ ’ردِ اسبتداد اور شورائیت‘ والے موتی سے بڑھ کر چمک رہا ہو اور یوں ہماری اپنی چیزیں ہماری اپنی ترتیب کے ساتھ ہوں۔۔۔۔ تو اس پر کون مسلمان معترض ہوسکتا ہے؟ کیا آپ کو کوئی ایک بھی ’ڈیموکریسی‘ کو مسترد کرنے والا صالح مسلمان نظر آیا ہے جو ”شوریٰ“ کو لازم نہ جانتا ہو اور جو ’استبداد‘ اور ’آمریت‘ کو غلط نہ جانتا ہو؟ تو پھر کیا ہمارے یہ معزز دانشور حضرات کبھی غور فرمائیں گے کہ آخر اختلاف اور اعتراض ہے کہاں پر؟ ان دو واضح حقیقتوں کو بھلا کون شخص جھٹلا سکتا ہے کہ: (1) ’ڈیموکریسی‘ زمانہء حاضر کی ایک معروف اصطلاح ہے اور اپنی خاص متعین عالمی و تاریخی دلالات رکھتی ہے، اور یہ کہ: (2) ڈیموکریسی کو مغرب اپنے نہایت امتیازی شعارات میں سے ایک شعار جانتا ہے؟ ان دو حقائق کے ہوتے ہوئے، آپ کو کوئی چیز اپنے دین میں، جوکہ ایک کامل دین ہے، خود اپنی ایک بے ساختہ ترتیب اور اپنی امتیازی اصطلاحات کے ساتھ ملتی ہے، اور جس پر کوئی مسلمان داعی معترض نہیں، یعنی اس معاملہ پر ہمارے مابین کوئی جھگڑا ہی نہیں۔۔ تو کیا ہم جان سکتے ہیں کہ اپنے دین کی ان اشیاءکا حوالہ دے کر وقت کے ایک عالمی شعار کوماتھے پر سجا لینے پر کیوں اتنا اصرار ہے۔۔۔۔؟ سوائے اسکے کہ ہم دینداروں کو اسکا وہ حوالہ دے کر چپ کرا دیا جایا کرے جسکا تعلق کچھ ’مفروضوں‘ اور ’بحثوں‘ یا طاقِ نسیاں میں رکھ دیے جانیوالے کچھ ’نکات‘(2) سے ہے۔۔ جبکہ وائٹ ہاؤس کے عالمی نامہ نگاروں سے کھچاکھچ بھرے ہال میں کسی اچھے رنگ کی ٹائی میں ملبوس ہمارا ایک صدر جس ’ڈیموکریسی‘ کے قیام اور بحالی کا __ زور دے دے کر __ یقین دلا رہا ہو اسکا تعلق ’واقع‘ اور ’حقائق‘ سے ہو! آخر کون ہے جسے سمجھ نہیں آتی؟! بہت ہو لیا۔ ہماری ’شورائیت‘ اور اُن کی ’ڈیموکریسی‘ کے مابین پائی جانے والی اس ’لفظی مشابہت‘ سے خدا را کیا آپ ہماری جان چھڑوا سکتے ہیں؟ ’اسلامی شورائیت‘ کو موضوعِ نزاع آخر بنایا ہی کس نے ہے؟ یہ خلطِ مبحث آخر پیدا ہی کیوں کیا جائے؟ کیا صوفی محمد نے ’شورائیت‘ کا انکار کیا ہے؟ البتہ ’ڈیموکریسی‘ کی اپنی کچھ دلالات ہیں، جن کی راہ سے ہمارے گھر میں ایک بہت بڑا نقب لگ جاتا ہے۔ یہ نقب روز بروز بڑا ہو رہا ہے۔ صوفی صاحب کو یہ دیوانگی مبارک ہو کہ وہ اپنا گھر لٹتا دیکھ کر سب ’مہذب‘ طعنوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، حتیٰ کہ گھر کے لوگوں کے غصہ و ناراضی کو مول لیتے ہوئے ایسے بول بول دینے کی توفیق پا گئے، جن کی قیمت خود انہیں بھی معلوم ہے کہ بہت زیادہ ہے مگر یہ قیمت دے دینے سے گھر بچ جانے کا امکان ضرور ہے۔ کیا اسلام کے کچھ اور داعی بھی اب ہمت کر کے اس مردِ عمر رسیدہ کی آواز کو اونچا کرنے میں مدد دیں گے، جو دو عشروں سے یہاں اکیلا ہی سنا جاتا ہے، تاکہ قوم جاگے اور اپنے گھر میں مسلسل ہوتی جانے والی اس واردات کا سد باب ہو؟ دراصل یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ان افکار اور نظاموں پر ہماری نظر ہو جو مغرب کے یہاں باقاعدہ ”دین“ کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں ، اور جن میں ’ڈیموکریسی‘ شاید سر فہرست آتی ہو۔۔۔۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ ’نصرانیت‘ مغرب کا ”دین“ بہت محدود معنیٰ میں ہے تو ’ڈیموکریسی‘ بہت وسیع معنیٰ میں۔ یہاں تک کہ ’ڈیموکریسی‘ کا نعرہ لگا کر ان کے آج کے ’فاتحین‘ اپنی اقوام سے جنگی مہمات کی ’منظوری‘ لیتے ہیں (خواہ درپردہ ان کا کچھ بھی ایجنڈا ہو، کیونکہ ’دین‘ کا استحصال ہر قوم میں ہی ہو جاتا ہے)۔ کسی جنگی مہم پر روانہ ہونے کیلئے وہ ’مغربی طرزِ حیات کو بالا دستی دلانے‘ کے الفاظ منہ پر لاتے ہوئے ابھی پھر جھینپتے ہیں، مگر ’ڈیموکریسی‘ کا لفظ بول کر وہ اپنا یہ مفہوم پوری طرح ادا کر لیتے ہیں اور تب ایک جنگ تک جائز بلکہ ’واجب‘ ہو جاتی ہے! یقین کیجئے جب کوئی چیز کسی قوم کیلئے ”دین“ ہو جاتی ہے تو اس کو اقوام عالم میں برتری دلانے کیلئے جنگ کرنا اس کیلئے ذرہ بھر تعجب کی بات نہیں رہ جاتی۔ حیرت کی بات یہ کہ اوروں کو بھی اِس پر اعتراض ہو تو ہو مگر تعجب نہیں ہوتا! ’کمیونزم‘ کیلئے ’مشرقی بلاک‘ کا دنیا بھر میں جنگ کرنا عہد حاضر کا ایک معلوم واقعہ ہے۔ سب اس سے تنگ تھے مگر کسی کو بھی اس پر تعجب نہ تھا کہ سوویت یونین ’کمیونزم‘ کیلئے جنگ کرتا ہے! (ویسے ’کمیونزم‘ کے ساتھ اسلام کے ’مشترکہ نکات‘ نمایاں کر کے ’کمیونزم‘ کا تمغہ سجانے کی بھی اتنی ہی ’شرعی‘ گنجائش تھی جتنی ہم نے ’ڈیموکریسی‘ کے حق میں محسوس کی، اور یقینا ہمارے لیڈر چاہتے تو ’اشتراکیت‘ بھی اپنے یہاں ان کو ’تیرہ سو سال پہلے‘ نظر آ سکتی تھی مگر ’ڈیموکریسی‘ کے بلاک میں ہونے کے باعث ’کمیونزم‘ کو یہ ’شرعی چھوٹ‘ دینے کی بجائے ہم نے اُس کے ساتھ جنگ شروع کر دی تھی، حتیٰ کہ اپنے کچھ ’انتہا پسندوں‘ کی جانب سے ’کمیونسٹوں‘ پر کفر کا فتویٰ لگایا جانا بھی اُس دور میں ہمیں کچھ بھلا بھلا سا ہی لگتا تھا!) دوسری جانب ’ڈیموکریسی‘ مغربی بلاک کیلئے ایسے ہی ’مقدسات‘ کا درجہ رکھتی ہے جن کی عظمت قائم کروانے کیلئے مغرب ہر حد تک جا سکتا ہے، یعنی عین وہ چیز جو کسی بھی قوم کا ”دین“ ہوا کرتی ہے اور جس کیلئے لڑنا اور مرنا مرانا اس کے ہاں ہرگز کوئی عار کی بات نہیں ہوتی، بلکہ فخر کی بات ہوتی ہے؛ قریب قریب وہی حیثیت جو ہمارے بچے بچے کے ذہن میں کسی وقت توحید اور رسالت کو حاصل ہوا کرتی تھی۔۔۔۔! سلیمان علیہ السلام کو ہدہد آکر بتاتا ہے اور یہ ننھا سا موحد پرندہ اس پر حیران ہو ہو جاتا ہے کہ خطہء سبا میں تہذیب سے دور افتادہ ایک ایسی قوم پائی جاتی ہے جو ’آج بھی‘ خدائے رب العالمین کو چھوڑ کر سورج دیوتا کو پوجتی ہے! سلیمان علیہ السلام اس پر سفارت روانہ کرتے ہیں اور باقاعدہ لشکر کشی کیلئے آخری حد تک آمادہ ہو جاتے ہیں بلکہ قومِ سبا کو اَلٹی میٹم بھی جاری کر دیتے ہیں، یہ الگ بات کہ جنگ کے بغیر ہی سبا فتح ہو جاتا ہے۔ جارج بش اپنی قوم کو بتاتا ہے کہ عراق کے زرخیز اور تیل سے مالا مال خطے میں ایک قوم ’آج بھی‘ ایسی پائی جاتی ہے جس کی زندگی ’ڈیموکریسی‘ کے بغیر گزرتی ہے اور جہاں ’ڈکٹیٹرشپ‘ کا راج ہے! جارج بش عراق کے اس ’طاغوت‘ کے خلاف عازم جنگ ہو جانا چاہتا ہے اور اپنی اس جنگ کے عنوان کے طور پر ڈیموکریسی کا ’مقدس نام‘ بار بار جپتا ہے بلکہ آس پاس کے پورے خطے کیلئے وہ ’ڈیموکریسی‘ کے حوالے سے اپنی قوم کو اس کا ’فرض‘ یاد دلاتا ہے اور اس کے راستے میں قربانیاں دینے کا عزم دہراتا ہے۔ امریکی قوم ”عراق کے انسان“ کو ’ڈیموکریسی‘ دلوانے کیلئے (کم از کم نعرہ یہی تھا) جارج بش کو جنگ پر جانے اور اپنے بچے مروانے کی منظوری دے دیتی ہے، اِس ’مادیت‘ کے دور میں بھی کہ جب بچے پیدا کرنا امریکی ماں کیلئے بے حد مشکل ہے! ادھر اَفغانستان میں وہ ہمیں ’ڈیموکریسی‘ دے کر جانے پر ابھی تک بضد ہیں! یا للعجب! ہمیں مارنے کیلئے بھی ڈیموکریسی، ہمیں امداد ملنے کی شرط بھی ڈیموکریسی، ہمیں بے وقوف بنانے کیلئے بھی ڈیموکریسی، ہم پر اپنی مرضی کے طبقے مسلط کئے رکھنے کیلئے بھی ڈیموکریسی! کیا کوئی ہمیں سمجھا سکتا ہے ’اسلام کا وہ حصہ‘ جو ’ڈیموکریسی‘ سے متعلقہ ہے، اس میں امریکہ کی دلچسپی آخر ہے کیا؟؟؟ کیا واقعتا ہم تھرڈ ورلڈ اقوام کا صحیح مصرف اِن ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر ’ڈیموکریسی‘ کی پر مشقت ریہرسل کرنا ہے؟ پون صدی کوئی کم عرصہ تو نہیں۔ ایک کہانی آخر کب تک چل سکتی ہے؟ حضرات آپ اِس صورتحال کو کیا نام دیں گے، یہاں کی ایک بڑی پارٹی کے قائد میاں نواز شریف میڈیا کیمروں کے انبار کے سامنے کھڑے ہو کر ہمیں مژدہ سناتے ہیں: ’ہم بالنگ کریں گے زرداری صاحب بیٹنگ کریں، اور قوم انجوائے کرے‘! اف خدایا! کیا اس قوم کی کوئی ’انجوائے منٹ‘ ابھی باقی ہے؟!!! ایک قابل غور سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کیا ابھی بھی اس سسٹم کو ’اسلام پسندوں‘ کی شرکت اور سرگرمی کی ’اشدضرورت‘ ہے؟ ہماری ناقص رائے میں اس کی بہت بڑی ضرورت تو اب باقی نہیں۔ ’قراردادِ مقاصد‘ کا حوالہ اور دستور کی ’اسلامی دفعات‘ کا حوالہ یہاں کے ’غیر سیکولر معترضین‘ کو خاموش کروا دینے کیلئے قیامت تک کافی ہے! لہٰذا اسلام پسندوں کی مزید خدمات کہیں فٹ ہوتی نظر تو نہیں آتیں (سوائے ایک ’خوفناک‘ بات کے جو اگلے صفحے پر حاشیہ میں بیان ہو رہی ہے، مگر خاصا دشوار نظر آتا ہے کہ یہاں کا سیکولر ایلیمنٹ اِس بات کو اُس لمحے سے پہلے درخورِ اعتنا جانے گا جب اس کو درخورِ اعتنا جاننے کا وقت ہی سرے سے جاتا رہے گا)۔ زیادہ امکا ن یہی ہے کہ ’ڈیموکریسی‘ کی صحیح ’اسپرٹ‘ کو سامنے لانے والی خواتین و حضرات ہی اب یہاں منصہ سیادت پر ظہور کریں۔ اور ’صحیح اسپرٹ‘ سے مراد یہی ہے کہ ’ڈیموکریسی‘ کے ساتھ ’اسلامی‘ کا adjective لگوانے کیلئے ان خواتین و حضرات کو ذرا یاد کروانا پڑا کرے گا! اور ’قرار دادِ مقاصد‘ اور ’اسلامی دفعات‘ وغیرہ ایسی اشیاءکے ذکر خیر کیلئے بھی حافظے پر زور ڈالنا پڑے گا! یوں عنقریب آپ کو ایک ’جدید پاکستان‘ سے واسطہ پڑنے والا ہے، اگر آپ چاہیں تو اِس کے لئے ابھی سے تیار ہو لیں! خصوصاً آج ’ڈیموکریسی‘ کو جو ’روشن خیال میڈیا‘ اور ’ایک صاحبِ طرز سول سوسائٹی ‘ کے کندھے ملے ہیں ان کی بدولت لگتا یہی ہے کہ ’اسلامی جمہوریت‘ کی ترکیب کامختصر ہو کر ایک ’لفظ‘ پر آ جانا اب کوئی دن کی بات ہے! (3) ذرا اِن تیزی کے ساتھ سامنے آتے ’نئے‘ ٹرینڈز پر نگاہ ڈالئے، اور فرمائیے کیا ہماری اس بات میں ذرہ بھر بھی کوئی مبالغہ ہے؟ حضرات! اس تیزی کے ساتھ ’جدید‘ ہوتے پاکستان کی ’جمہوری‘ رُتوں کا تھوڑا سا جائزہ لے کر تو دیکھئے۔ ایک جھلکی ہی اپنا آپ بتا دیتی ہے کہ دستور کی کچھ دور افتادہ شقوں کے حوالے سے آئے روز ہم ایک فضول بحث لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک کہانی بول بول کر اپنا آپ خود کہتی ہے۔ یہ اپنا رنگ خودبخود گہرا کر رہی ہے۔ آپ کو پوری ’کارروائی‘ ملاحظہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ’تلاوتِ کلامِ پاک‘ کے وقت ہی آپ دیکھتے ہیں آپ کے ایوانِ نمائندگان کی آج کوئی ایک چوتھائی، یکلخت، ’دوپٹے‘ کی ضرورت مند ہو جاتی ہے! اور وہ بھی ’تلاوت‘ کے دوران دوران ہی کے لئے! یہ آپ کی مجلسِ قانون ساز ہے، جس کی بابت آپ کی قرارداد مقاصد یہ کہتی ہے کہ خدا کے دیے ہوئے کچھ ’مقدس اختیارات‘ عوام کی راہ سے ان ہستیوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ پس جہاں آپ کو اپنی نگاہ نیچی کر لینا پڑتی ہے وہاں آپ کے سامنے کچھ ’مقدس اختیارات‘ کی مالک ہستیاں بیٹھی ہیں۔ ان خواتین کے لباس پر اور ان کی نشست و برخاست پر اور ان کے طرزِ حیات پر مت جائیے، ان کی تو اطاعت مجھ پر اور آپ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کر رکھی ہے، فی المَنَشَطِ والمَکرَہ! اپنی مرضی اور موڈ کی بات تھوڑی ہے، ہم تو اِن کی اطاعت کے شرعاً پابند ہیں! اس پر، اتنے بڑے بڑے ناموں کا ہم پر رعب ڈالا جائے گا اور ایسی اعلیٰ دستاویزات کے حوالے سنائے جائیں گے کہ ہمیں اپنے ایمان کی فکر تو ضرور ہی لاحق ہو جانی چاہیے! ’اجماعِ امت‘ کو ٹھکرانا کیا کوئی چھوٹا گناہ ہے! پس ’ڈیموکریسی‘ کی تو باہر ہی نہیں اپنے یہاں اتنی قسمیں ہیں کہ سبھی طبقے مل کر کہیں پہنچنا چاہیں تو قیامت تک نہ پہنچ پائیں۔ کم از کم ہم اسلام پسند جو یہاں مالک الملک کے اتارے ہوئے ایک ایک حرف کو ہر دستور سے بالاتر دستور دیکھنا چاہتے ہیں اور خدا کے فرمائے ہوئے کے سامنے زبانیں بند، بحثیں ختم، حیل و حجت موقوف اور سر جھکے ہوئے دیکھنے کے متمنی ہیں۔۔ کم از کم ہم اسلام پسندوں کی منزل اس راستے سے آنے والی نہیں۔ نہ یہ وہ نظام ہے جو ”رسول کے لائے ہوئے“ ایک ایک حکم کے آگے ’سمعنا و اطعنا‘ کہتا چلا جانے کیلئے وجود میں لایا گیا ہے۔ صوفی محمد شاید وہ پہلے نمایاں شخص ہیں جو اس تلخ حقیقت کو زبان پر لے آئے ہیں۔ تاہم آپ کوئی ’فیلڈ اسٹڈی‘ کرنا چاہیں تو کبھی جا کر دیکھئے کتنے ’غیر نمایاں‘ علماءو فقہاءو شیوخ الحدیث ہیں جو ان شاءاللہ صوفی محمد کی بات پر آج مہر تصدیق ثبت کریں گے اور کتنے علماء ہیں جو عین اسی ’اجماع‘ کا حکم برقرار رکھنے پر مصر ہیں؟ البتہ یہ کہ سب طبقوں کے مفہومات اور تصورات مل کر ایک ساتھ چلیں، بغیر اس کے کہ اللہ و رسول کا قول قولِ آخر ہو اور سب پر وہاں رک جانے کی پابندی ہو، تو یہ بہرحال ہم اسلام پسندوں کے اہداف کے لحاظ سے نری ایک مشقت ہے۔ کیا آپ اتفاق نہیں کرتے کہ دنیا کے مختلف فریق ’ڈیموکریسی‘ سے ایک سی مراد نہیں لیتے؟ لفظ ایک ہے اور ’مراد‘ ہر کسی کی اپنی اپنی!!!!!؟۔۔۔۔ یعنی عین وہ چیز جو ایک طاقتور کو ایک کمزور کے ساتھ واردات کر جانے کا نہایت خوب موقعہ فراہم کرتی ہے! اصطلاح ایک اور ’مفہوم‘ سب کا اپنا اپنا! ایک گاڑی کو دھکا سبھی مل کر لگائیں مگر اس کا اسٹیرنگ صرف ایک فریق کے پاس ہو! سبھی اس گاڑی کو ایندھن فراہم کریں مگر وہ جائے ایک ہی فریق کی منزل پر! اس کو کہا جاتا ہے ’لفظی اشتراک‘، یعنی ایک ایسا خوبصورت انتظام کہ جس میں ہم بڑی سادگی سے جاہلیت کا پانی بھرا کریں اور ہو سکے تو اس کے کچھ ناز نخرے بھی پورے کریں، وہ بھی ’اسلام‘ کے نام پر اور ’عاقبت‘ خراب ہو جانے کے ڈر سے! ٭٭٭٭٭ بہرحال ہم نہیں سمجھتے یہاں کی سیاسی پارٹیاں ایک آنے والے بھونچال کا ادراک کرنے پر کچھ بھی آمادہ ہوں، اور اِس بات کے پیش نظر یہاں کی امن پسند اسلامی قوتوں کو معاملہ درست کرنے کے سوال پر وقت کی ناگزیر ترین ضرورت جانیں۔ مولانا صوفی محمد (اگر وہ اپنی سرگرمی کا دائرہ مالاکنڈ سے باہر مناسب سمجھیں)، علاوہ ازیں امیرِ جماعتِ اسلامی سید منور حسن، امیرِ تنظیمِ اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد، مکتب دیوبند کے نامور عالم وفقیہ مولانا تقی عثمانی و دیگر قابل احترام بزرگوں کیلئے اِس موقعہ پر ہمارا مشورہ ہوگا کہ وہ اپنے اپنے پیروکاروں کی حد تک بے شک اپنا خاص منہح برقرار رکھیں،مگر کچھ نہایت ہنگامی بنیادوں پر وہ اس موقعہ پر کوئی اجتماعی لائحہء عمل ضرور سامنے لائیں(4)۔ اے این پی کے ساتھ اگر ایک سلسلہء جنبانی ہو سکتا ہے، جوکہ اندریں حالات صوفی صاحب کا ایک بالکل صحیح اور نہایت ضروری اقدام تھا، تو ایک بڑی سطح پر یہ سب اسلامی عناصر مل کر یہاں کے سب ’غیر مذہبی عناصر‘ کے ساتھ خواہ وہ حکومت میں ہوں اور خواہ اپوزیشن میں کوئی انڈرسٹینڈنگ سامنے لا سکتے ہیں۔ تاکہ اُس نادیدہ صورتحال کا سدباب ہو جو خدانخواستہ یہاں ایک بڑی خونریزی پر منتج ہو سکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اِن بزرگوں کو لازماً اب اٹھنا ہوگا(5)۔ یہ اپنے مابین صلاح مشورے کیلئے طویل نشستیں رکھیں، سر جوڑ کر بیٹھیں، جب تک کہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ جائیں۔ گو یہ آسان نہ ہوگا مگر ممکن ہے۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ ’واقعہء لال مسجد‘ کے وقت سے ہی، یہ افق پر کسی غیر معمولی صورتحال کو بھانپتے ہی سر جوڑ کر بیٹھ جاتے۔ مگر اب بھی وقت پوری طرح گزر نہیں گیا۔ کم از کم ایک کوشش یہ بزرگ ضرور کر دیکھیں۔ سب سے اہم تو ان کے اپنے ہی مابین کسی لائحہء عمل پر اتفاق ہو جانا ہے۔ البتہ اگر یہ ہو جائے تو یہ یہاں کے ’غیر مذہبی‘ سیکٹر پر بھی واضح کر دیں کہ ’شریعت‘ کے ساتھ مذاق کا وقت اب بالکل ختم ہو گیا ہے اور یہ کہ ضروری نہیں کہ وہ سنجیدہ ہو جانے کیلئے کسی ’آخری قسم کی صورتحال‘ کا ہی انتظار کریں۔ ’غیر مذہبی‘ سیکٹر اِن کی اس فہمائش کو درخورِاعتناء جان لے تو بہتر (جس کیلئے سنجیدگی کی یہ حد ضروری ہوگی کہ شریعت کے مطالبہ کنندگان کے پاس ’دستوری‘ دلیلیں پوری ہوں یا نہ ہوں، دستور میں نفاذِ شریعت کے حوالے سے کوئی ’کمی‘ باقی ہو یا نہ ہو، ’این جی اوز‘ کو شریعت کی بالا دستی بھائے یا نہ بھائے، یہ شریعت کو اپنے ہاں راستہ دیتے جائیں اور کسی ایک جگہ بھی شریعت کو 'waiting' میں بٹھانے کے روادار نظر نہ آئیں)۔ البتہ اگر یہ ’غیر مذہبی‘ سیکٹر ابھی تک مذاق ہی کے موڈ میں ہو، تو بھی یہ بزرگ ایک پراَمن مگر زوردار و فعال اسلامی تبدیلی کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر ضرور دیکھے جائیں گے۔ نوجوانوں کو ایسا کوئی پلیٹ فارم بھی تو نظر آنے دیں! البتہ سب سے زیادہ خبردار رہنے کی بات یہ ہوگی کہ آج اِس موقعہ پر یہاں کا کوئی دیندار طبقہ جاہلیت کا چہرہ درست کرنے اور اسلامی حوالے سے ا س کو ’ناقابلِ اعتراض‘ ثابت کرنے کیلئے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرے۔ جاہلیت کو مسترد کردینے کا جو ایک زوردار لہجہ اللہ کے فضل سے یہاں تشکیل پانے جا رہا ہے، اور جس کے آثار دیکھ کر ہی یہاں کے ’دور اندیش‘ سیکولروں کے اوسان خطا ہونے لگے ہیں (ہماری مراد یہاں کے اندرونِ ملک مسلح عمل سے نہیں، اور نہ ہم اس منہج کے مؤید ہیں)۔۔۔۔ جاہلیت کو ’نہ‘ کردینے کے اِس زوردار لہجے کا ساتھ دینا اگر یہاں کسی دینی یا تحریکی حلقے کے بس کی بات نہیں، تو بھی وہ اس سے تو لازماً پرہیز کرے کہ وہ جاہلیت کو ’حقانیت‘ کی سند فراہم کرنے کیلئے دوڑ دھوپ کرتا نظر آئے۔ برائے مہربانی اس مضمون کو آگے پھیلانے میں حصہ لیں
(1) ہارون الرشید کا یہ مراسلہ بی بی سی کے ویب سائٹ پر دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں (2) ’علماءکے بائیس نکات‘ کی حیثیت اس نظام میں محض کچھ ’نقطوں‘ سے بڑھ کر نہیں رہنے دی گئی، البتہ اس طرح کے بعض واقعات کا رعب ڈال کر ہر بولنے والے کو خاموش کرا دینے کا کام ہنوز جاری ہے۔ ہم ان علماءکی دل سے قدر کرتے ہیں جنہوں نے بڑی محنت کر کے یہ ’بائیس نکات‘ تیار کر کے دیے تھے۔ وہ وقت کہ ابھی ’ابتدائے عشق‘ تھا، یقینا کچھ علماءکی خوش امیدی ابھی ان قیادتوں اور اس نظام کے ساتھ قائم تھی اور ان کا خیال تھا کہ شاید یہاں بس اسی بات کی کمی ہے کہ اس نظام پر اسلام کے کچھ بنیادی اصول واضح کر دیے جائیں تو دوسری جانب اتنا اخلاص پایا جاتا ہے کہ اسلام کی ٹرین اپنی پٹڑی پر چڑھ آئے گی۔ مگر ہر کسی کو جب اس نظامِ مشقت کی اصل حقیقت نظر آئی تو کسی کی جلد اور کسی کی بدیر یہ خوش فہمی بڑی حد تک جاتی رہی۔ کیا کسی نے یہ بھی تحقیق کرنے کی کوشش کی ہے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی اور ان جیسے دیگر بزرگوں کا اپنی اس ابتدائی خوش امیدی کی بابت آخرِ عمر میں کیا تاثر تھا؟ کیا ایسا تو نہیں کہ علماء سے جو لینا تھا لے لیا گیا، اور بعد ازاں ان کا کام ختم ہو گیا؟!
(3) اس لحاظ سے تو آنے والے دنوں میں یہاں کی سیاسی
پارٹیوں کے ایجنڈے ’اسلام‘ کے حوالے سے ابھی اور بھی سائیں سائیں کرتے
نظر آتے ہیں (طوفان سے پہلے کا سکوتِ صحرا!)۔ اغلب یہی ہے کہ یہاں ہم
’اسلام پسندوں‘ کو ’پوچھنے والے‘ بھی کم ہی کہیں رہ جائیں گے۔ ہاں
البتہ ایک وجہ ہے جسے، اگر یہ لوگ دانشمند ہوں تو، ہرگز نظر انداز نہ
کریں اور اسلام پسندوں کو وہ کچھ دے ڈالیں جس کی بابت یہ آج تک ان کے
ساتھ حیل وحجت سے کام لیتے رہے ہیں۔ یہ وہ ’وجہ‘ ہے جو اب تک اس ملک
میں ’صحیح طرح‘ صرف اے این پی کو سمجھ آئی ہے اور اس کے باعث ’شریعت‘
کیلئے اس کا اخلاص اپنے سیکولرزم میں سچا ہونے کے باوجود اب ہر شک و
شبہ سے بالاتر ہوتا جا رہا ہے! آنے والے دنوں میں کم از کم اتنی
سمجھداری یہاں پائی جانے والی ہر ’غیر مذہبی‘ پارٹی کی ضرورت ہو گی، اس
سے مستغنی رہنا ہو تو البتہ اِن کی مرضی! بلکہ حق یہ ہے اگر یہ اس
سمجھداری کا ثبوت دیں تو جتنی جان مار کر انہوں نے ’سول سوسائٹی‘ کو
کامیاب کرایا ہے اس سے کہیں زیادہ جان مار کر یہ لوگ جماعت اسلامی کو
کامیاب کروانے کی کوئی سبیل نکال لیں، بلکہ ہو سکے تو جماعت اسلامی کی
کچھ منت سماجت کر لیں اور ’دورِ آئی جے آئی‘ میں جماعت اسلامی کے ساتھ
جس جس طرح اِنہوں نے ہاتھ کئے ہیں اس پر معافی مانگنی پڑے تو بے جھجھک
ہو کر مانگ لیں بلکہ قرارداد مقاصد کے وقت سے لے کر جس جس طرح اِنہوں
نے اور اِن کے بڑوں نے جماعت کو خراب کیا سبھی کا کفارہ دیتے ہوئے اس
کا کچھ تدارک اور تلافی کر لیں، خدا کے ڈر سے نہیں تو ’طالبان‘ کے ڈر
سے۔ ہو سکتا ہے کچھ بچت ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے معاملہ سنبھل
جائے۔ ورنہ ایک بھونچال تو آیا چاہتا ہے، صوفی محمد صاحب جیسے لوگ اِن
کی مدد کیلئے کہاں کہاں ملیں گے؟! |