|
|
|||||||||
پھر وہی ڈرامہ! ایک سستے سے موبائل فون پر بنائی گئی چھوٹی سی فلم نے کمال کر دیا۔ پہلے بغض کا نشانہ صرف مسلمان بلکہ صرف چند مسلمان بنتے تھے۔ اب کھل کے کوڑوں والی شریعت بھی بنی اور ہمیں پتہ ہی نہ چل سکا کہ مسئلہ طالبان ہیں یا اسلام؟ پہلے ذرا پاکستانی طالبان کو فارغ کریں ۔ طالبان اب ایک عام لفظ ہے۔ کسی دفتر میں بھی ایک آدمی ڈاڑھی رکھ لے اور نماز پڑھتا پایا جائے تو اس کا مینیجر یہ دائمی حق رکھتا ہے کہ اس کے خلاف طالبانائزیشن کا چارج لگائے۔ یہ بے چارے تو اس سے کچھ تھوڑا زیادہ ہی کر گزرے ہیں اور بعض جزوی مسائل میں غلطی بھی کر گئے ہیں۔ اب ظاہر ہے، ان غلطیوں کو خوب اچھالناہماری اولین زمہ داری ہے! طالبان عمومی طور پر فقہ حنفی کے پیروکار ہیں ۔ فقہ حنفی کی کتب میں یہ ہدایات درج ملتی ہیں کہ کسی عورت کو کوڑے مارنے کے دوران اسکو بٹھایا جائے گا اور اس کے ستروحجاب کو اولین ترجیح دی جائے گی ۔ دوسرا اختلا ف ایک متفق علیہ حدیث کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ وہ جرائم جن کی کوئی طے شدہ سزائیں نہیں ہیں انکی سزا دس کوڑوں تک دی جا سکتی ہے ۔ کچھ علماء کی رائے میں اس حد سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا جبکہ بعض علماء، جن میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں، کی رائے ہے کہ یہ فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صورتِ حال کے مطابق ایک بہترین حل بتانا تھا نہ کہ کوئی قطعی حکم دینا۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ یہ اسی نوعیت کا اختلاف ہے جو کہ غزوہ بنو قریظہ کے دن عصر کی نماز سے متعلق ہمیں بتایا جاتا ہے۔ یعنی معاملہ کسی مسلمہ نقطہ نظر سے اختلاف کرنے کا ہے ہی نہیں۔ اس کے علاوہ کوئی شخص بھی اس بات کا ادراک نہیں کرتا کہ یہ شرعی سزائیں کوئی گلاب جامن تو ہیں نہیں کہ ایک منٹ کیلئے منہ کا ذائقہ اچھا ہو گیا ۔ بلکہ اگر آپ شرعی سزاؤں کی فطرت اور نوعیت پر غور کریں جیسے رجم (یعنی مجرم کی موت تک سنگباری کرنا) ، کوڑوں کی سزا (جو کہ سوال میں زیرِ بحث ہے) ، قطعِ ید (یعنی چوری پر ہاتھ کاٹنا ) ، سر قلم کرنا وغیرہ تو کوئی بھی سمجھدار شخص کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سزائیں انتہائی سخت نہیں ہیں ۔ یہ واقعی بھیانک ہیں۔ اور ہوں بھی کیوں نہ؟ اسلام میں خاندان کا جو تقدس ہے، حیا کی جو پاسداری ہے، کسی کے جان و مال کا جو احترام ہے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ جو ان کا لحاظ نہ کرے، وہ اپنے ساتھ یہ بھیانک سلوک کروانے کا روادار بھی ہو۔ جام ہاتھ میں تھامے حیا کی سرعام دھجیاں اڑانے والوں کو یہ سب کیسے کڑوا محسوس نہ ہو گا؟ دکھ ہے تو مسلمانوں کا۔ خاندان دھڑا دھڑ ٹوٹتے جائیں (1)، شراب خور ی کا چلن عام ہو(2) ،چوری ورہزنی معمول ہو(3) ، قتل و غارت کا دور دورہ ہو۔ صورتحال اتنی خراب ہو کہ خاندان کی تباہی اور شراب نوشی جرم سمجھے ہی نہ جائیں اورہر قتل اور ڈاکے کے بعد صدر کے سخت نوٹس اور کسی وزیر (صوبائی یا وفاقی ہونا لازمی نہیں) کے مجرموں کو سخت سزا اورکیفرِ کردار تک پہنچانے کے کھوکھلے وعدے سنتے سنتے ہمارے کان پک جائیں، اور ہم یہ جاننے کی کوشش ہی نہ کریں کہ اللہ کا فیصلہ ان سب کے بارے میں کیا ہے؟ حدود تو کبھی بھی گلاب جامن نہ تھیں۔ یہ ایک سنجیدہ چیز ہے۔ یہ میں نہیں کہتا، یہ میرا رب خود کہتا ہے۔ وہ تو کہتا ہے کہ جب کوئی میری ان پابندیوں کو پامال کرے تو اسے دنیا میں وہ سزا ملے جس کا وہ حقدار ہے۔ وہ تو یہ بھی کہتا ہے اگر تم پر یہ گراں گزرتی ہیں تو گزریں۔ تمہارے دل کی نرمی کسی زانی کو اس کے جرم کی سزا دینے سے باز نہ رکھیں۔ یہ اس رب کا حکم ہے جس کی ایک صفت ہے ہی العدل (4)۔ وہ کہتا ہے: وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اور نہ آڑے آئے ان کے حق میں کوئی نرمی اللہ کے دین پر عمل کرنے میں اگر ہو تم ایمان رکھتے اللہ پر اور یوم آخرت پر (سورۃ النور:2) اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے: وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ اور چاہیے کہ موجود ہو ان کی سزا کے وقت اک گروہ مسلمانوں کا (سورۃ النور:2) شیخ محمد قطب حفظہ اللہ نے اس دلیل کی بے وقعتی کو کس خوبصورت انداز میں واضح کیا ہے جو کہتے ہیں کہ مکی سورتوں کے موضوعات سارے کے سارے ایمانیات پر مشتمل ہیں اور مدنی سورتوں میں صرف احکام کا بیان ہے ۔مصنف نے انہی مذکورہ بالا مثالوں کو بات کی وضاحت میں بیان کیا ہے کہ یہ احکام دراصل ہمارے اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان کی شہادت ہیں جیسا کہ ہم نے اوپر والی دو آیات میں ملاحظہ کیا ۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں ؟ ذرا اوپر والی آیات پر ایک نظر پھر ڈال لیجئے بھلا یہ ہم سے کیا کہہ رہی ہیں؟ یہی کہ ہم ان خوفناک سزاؤں کو ان جرائم کے مرتکبین پر لاگو کریں ۔ اور یہ کہ اگر ہم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان کا دعوی کرتے ہیں تو یہ کام کرتے وقت ہم ہرگز نرم نہ پڑیں ۔ اور یہ بھی کہ ہم میں سے ایک گروہ اس سزا کے نفاذ کی شہادت کے لیے ضرور وہاں کھڑا ہونا چاہیے ۔ یعنی ان سزاؤں کا اجرا سرِعام ہو۔ اگر موبائل فون پر کرائے کی ایکٹریس کے ساتھ بنائی گئی اس فلم کو دنیا کی واضح ترین حقیقت مان ہی لیا جائے تو بھی جاہل ، ان پڑھ ، اجڈ طالبان احکام کی روح کو پامال کرنے کے ذمہ دار نہیں۔ ہاں اگر کسی کو تکلیف ان حدود سے ہے، نفرت اللہ کے احکام سے ہے تو معاملہ اور ہے۔ طالبان اگر اس معاملے میںفیل بھی ہوتے ہیں، تو جزئیات میں۔ البتہ طالبان پر ان اسلامی سزاؤں ہی کے حوالے سے تنقید کرنے والے فیل ہوتے ہیں اسلام میں۔ ذرائع ابلاغ ہیں تو ہم سی این این اور بی بی سی ہی کو وحی مانیں گے کیونکہ باقی تو ہیں ہی جھوٹے! ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی مسلمان ہو مگر کیسے اعتبار کر لیں؟ ہمیں کیا غرض کہ اللہ نے کیا کہا ؟ ہم اس آسمانی ہدایت کی طرف دیکھیں ہی کیوں جب ہمارے پاس سی این این، بی بی سی کی حدیث پاک موجود ہو ؟ ! يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (الحجرات:6) اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، اگر لائے تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر تو تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسانہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نقصان پہنچا بیٹھو نادانی سے اور پھر ہو اپنے کیے پرنادم ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان جاہل طالبان پر اگر کوئی حکم لگ سکتا ہے تو بھی وہ ایک خطا کا شکار مسلمان سے زیادہ کا نہیں ۔ چاہے ہم ان بھائیوں کے متعلق حسنِ ظن رکھیں یا سی این این اور بی بی سی پر اپنا ایمان بچاتے ہوئے اور طالبان فتنے کے خلاف حق گوئی کی آڑ میں وہ سب کچھ کہہ بیٹھیں جو ہماری آخرت کی بربادی کیلئے کافی ہو۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے دشمن یہاں موجود اعتدال پسند اداروں کو اخلاقی اور معاشی طور پر مدد فراہم کرتے ہیں اور جن کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ پوری دنیا کو اور خصوصا مسلمانوں کو اسلام سے دور کیا جائے(معاذاللہ)۔ وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ اور ہرگز راضی نہ ہوں گے تم سے یہودی اور عیسائی حتی کہ تم پیروی کرو انکی ملت کی (البقرہ:120) کتنے ہی مواقع ایسے ہیں کہ جب انہی مجرموں اور ٹھگوں کی طرف سے منشیات کے اسمگلروں ، ڈاکوں، چوروں اور دوسرے مجرموں پر شرعی سزاؤں کا نفاذ کیا گیا تو ان واقعات کو میڈیا پر کیوں نہ لایا گیا ؟ صرف اسی لڑکی کی ویڈیو کو کیوں منتخب کیا گیا؟ کیا یہ کہیں اس لئے تو نہیں تھا کہ کہیں غلطی سے ان کی کوئی تعریف نہ ہو جائے؟ اس سے شیطان کو ہنسنے کا موقع ملے یا نہ ملے، لوگ گمراہ ہوں یا نہ ہوں۔ مسلمانوں کو یہ بات جان لینی چاہئے کہ شریعت میں ایسی سزائیں ہیں۔ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نافذ کی ہیں اور یہ کہ یہ سب درحقیقت ہمارے لیے ایک اور لٹمس ٹیسٹ Litmus Test ہے کہ ہم اللہ کے احکام سے کیا رویہ رکھتے ہیں! فتوی بازی تو بہرحال بہت آسان ہے مثلا امریکہ بلکہ اب تو پاکستان میں بھی خود ساختہ مجتہدین اور علماء کی ایک خاصی بڑی تعداد موجود ہے جو آپ کو آپ کا دل پسند فتوی دیں ۔ سوال تو یہ ہے کہ ہماری عقل کہاں گھاس چرنے چلی گئی؟ ہم کیوں اس قدر گر گئے کہ چند سنسنی خیز خبروں کی بنیاد پر ہم حدود اللہ سے دشمنی کا کھلم کھلا اعلان کرنے لگے؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ عمل ہمیں دائرہ اسلام ہی سے خارج(5) کروا سکتا ہے! اس واقعے میں اصل مقدمہ تو طالبان سے متعلق ہے ہی نہیں ۔ یہ تو اللہ کے دین کا معاملہ ہے جسے ہم دوسری چیزوں کی طرح اپنی نفرت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہوحشیانہ سزا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے بیان کردہ توہے ! مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے رجم کے متعلق لکھا تھا کہ اللہ نے اعلان کیاہے کہ جو کوئی ان معاملات میں اللہ کی حدود کو توڑے اس کی چمڑی ادھیڑ دی جائے۔ اوروہ مجرم ،عورت بھی تو ہو سکتی ہے؟ وہ ایک ایسی عورت بھی تو ہو سکتی ہے جو گناہ کر بیٹھے اور آخرت کی پکڑ کا خوف اس پر اس قدر طاری ہو کہ وہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہے کہ مجھے پاک کیجئے۔ خواتین کے حقوق کے اسلامی علم بردار دورِ نبوت کے اس واقعے کے بارے میں کیا فتوی صادر فرمائیں گے؟ ایک آخری بات:یہ کوئی ثقافتی اسلام کا کیس نہیں ۔ پختون قوم اپنی عورتوں کے معاملے میں بہت زیادہ حساس ہیں ۔ کسی عام پٹھان سے ہنستے بیٹھتے پوچھ لیں کہ ایک کنواری لڑکی کسی نا محرم کے ساتھ پائی جائے تو وہ ایک دم کہے گا کہ ہم تو اسے گولی مار دے گا۔ ہماری قومی اسمبلی میں اس سے کہیں زیادہ دہشت ناک روایتوں کا دفاع ہو چکا ہے۔ یہ طالبان نہ ہوتے تو سرحد کے ان دوردراز خطوں میں ہو سکتا ہے کسی نامحرم مرد کے ساتھ پائے جانے کی صورت میں ایک کنواری لڑکی کو گولی مار دی جاتی۔ آخر وہ لندن یا مین ہیٹن میں تو نہیں تھی! رہ گئے طالبان تو ان کی یہ حرکت زیادہ سے زیادہ حدود اللہ کے نفاذ کی ایک سادہ سی کوشش تھی، جو بحر حال ان رسوم سے کم ہی خوفناک تھی ۔ اللہ ان بھائیوں کی مدد کرے ، انہیں ہدایت دے جو کم از کم ہم میں سے بہت سے لوگوں کے مقابلے میں اس معاملے میں تو مخلص ہیں ۔ جہاں تک ہمارا معاملہ ہے تویہ سب نواقضِ اسلام کا ادراک نہ ہونے کے بھیانک ترین نتائج کا پیش خیمہ ہے۔ اس موقع پر بعض روایتی حلقوں کے کرتوت پر بھی اپنی نظرِ شریف ڈالتے جائیں ۔ کبھی خیبر ٹو کراچیKhyber to Karachi پولکا آئس کریم Polka Ice Cream کے ڈبوں کی زینت ہوتا تھا۔ جہاں ہم نے شکست کھانے کو معمول بنا لیا وہاں پولکا آئس کریم بھی ملٹی نیشنلز کے کھاتے میں جا گر گم ہو گئی اور خیبر ٹو کراچی بھی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ بعض بیما ر ذہنوں کو تقویت چاہئے تھی۔سو خیبر ٹو کراچی کا حربہ کام آیا اور اتنا کام آیا کہ خیبر ٹو کراچی کرنا ہی نہیں پڑا۔ لاہور ٹو خیبر ، یعنی آدھا سفر اور وہ بھی الٹا ، کافی ثابت ہوا اور داعیان اسلام میں سے بعض بزرگ شخصیات کے خلاف ایک فتوی نما چیز ڈھونڈ ہی لی گئی۔ اس سے ملتا جلا رویہ یہاں بھی موجود ہے اور کچھ مزید بیمارذہن اس موقع پر حنفی فقہ کا ردّ زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔ اسلام جاتا رہے لیکن فقہی برتری قائم رہے اور فقہی دنگل بھی قائم رہیں، وقت کی اس سے بڑی ضرورت آخر ہو بھی کیا سکتی ہے؟ کم از کم ان لوگوں کے لیے!
اللہ ہمیں ہدایت دے۔ (1) بھائیو! چار عدد تو میرے اپنے سکول کے ساتھی اپنی شادیاں آزادنہ اختلاط اور پینے پلانے کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں۔ (2) کسی بھی انگریزی اخبار جیسے ڈیلی ٹائمز کا اتوار میگزین ملاحظہ فرما لیں ۔ (3) دن دہاڑے ڈاکہ ہفتے میں کتنی بار آپ اخبار کے پہلے صفحے پر پڑھتے ہیں؟ (4) إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ (سور النحل:90)
(5)
فِقہ یا ایمانیات کی کسی بھی کتاب میں باب المرتد یا اس جیسے کسی موضوع
کو اٹھا لیں، یہ بات ہرجگہ واضح
ہے کہ اللہ کے دین یا اس کے کسی بھی جز سے نفرت رکھنا ایک مسلمان کو
مسلمان نہیں رہنے دیتا۔ یہاں صرف نفرت کی بات نہیں ہو رہی، اس کے برملا
اعلان کی بات ہو رہی ہے جو شیطان اور اس کے حواریوں نے نہ جانے کتنے ہی
سادہ لوح مسلمانوں سے کروایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ہمیں آنے والے خطرات کے متعلق خبردار کیا ہے:
فتنوں کا ایک ایسا دور آنے والاہے ۔۔۔ آدمی صبح
مومن ہوگا تو شام کو کافر۔ (رواہ مسلم) |