سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

   
توحیدِ عبادت بطورِ اساسِ دعوت
اور
ہمارے تبلیغی، انقلابی اور روایتی حلقے

حامد کمال الدین

   

 

”توحید کے تین اساسی محور“، جسے ایک کتابچہ کی صورت میں شائع ہوئے سال بھر گزر چکا ہے، طبع ِ دوئم کیلئے نظر ثانی سے گزارا گیا تو اِس کے بعض مضامین کو توسیع دینے کی ضرورت سامنے آئی۔موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اِس کا ایک مضمون اپنی توسیع شدہ صورت میں حالیہ شمارہ ایقاظ کے اداریہ کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے۔

مضمون کا ابتدائی حصہ (اول دس صفحات) کتابچہ کے طبع اول میں شامل رہا ہے اور ایقاظ میں بھی اس سے پہلے دیا جا چکا ہے، مگر موضوع کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے یہ پورا مضمون ہی اکٹھا دے دیا جانا ضروری تھا۔ بعد کے چونتیس صفحات صرف طبعِ دوئم ہی کیلئے قیدِ تحریر میں لائے گئے ہیں۔

کتاب کے منظر عام پہ آنے سے پہلے اِس مضمون پر آپ کوئی ملاحظات یا سوالات ہم تک پہنچانا چاہیں تو اس پر ہم آپ کے شکرگزار ہوں گے۔

 

لا اِلٰہ الا اللہ کا مضمون۔۔

توحیدِ الوہیت، یعنی توحیدِ عبادت:

 

یہی وہ توحید ہے جو زمانہء قدیم سے اب تک باعث نزاع چلی آرہی ہے۔ اس توحید کا مطلب ہے کہ بندگی کے تمام افعال ایک اللہ وحدہ لاشریک کیلئے خاص کر دیئے جائیں مثلاً دُعا، نذر ونیاز، ذبیحہ، امید ورجاء، خوف وخشیت، توکل، رغبت ورہبت، انابت اور بندگی کے وہ تمام افعال اور رویے جن پر قرآن سے دلیل ملتی ہو۔
 

لفظِ ”الٰہ“ کا معنیٰ:

الٰہ کے لغوی مفہوم کے بیان میں امام ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ متعدد معانی ذکر کرتے ہیں جن کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے:
 

1) اَلِہَ الفَصِیل اَیُ اَوُلِعَ بِاُمُِّہ: اونٹنی کے بچے کا اپنی ماں کیلئے بے چین ہونا اور دور سے لپکنا۔ چاؤ کرنا۔ بے قرار ہونا۔

اس لحاظ سے لفظِ ”الٰہ“ کا مطلب ہوگا: وہ ذات جس کی محبت میں آدمی بے چین ہو۔ اس کا چاؤ کرے، اس کی جانب لپکے اور اس کی طمع کرے۔

2) اَلِہَ یَاَلَہُ : آدمی کا خوفزدہ اوربدحواس ہو کر کسی کی پناہ میں آنا۔

اس لحاظ سے ”الٰہ“ کا مطلب ہوگا: وہ ذات جس کے تحفظ میں آکر آدمی کا خوف ودہشت دور ہو اور جس کی پناہ میں وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھے۔ اس کا دیا کھائے، اس کی نعمت کے سہارے جئے اور اس کے فضل پہ بھروسہ کرے۔ جس کی قربت میں آدمی دل کے اضطراب سے نجات پائے۔

3) اَلِھُتُ اِلٰی فُلاَنٍ اَی سَکَنُتُ اِلَیُہِ : یعنی کسی کے پاس سکون پانا۔

اس لحاظ سے ”الٰہ“ کامطلب ہوگا: وہ ذات جس کے پاس جا کر آدمی دل کا چین اور روح کا قرار پائے اور جس کی قربت میں ایک تونگری ، ایک غِنااور ایک کفایت محسوس کرے۔ وہ ذات جس کو جان کر یا جس کے ذکر سے آدمی سکون پائے۔

4) لاہ یلوہ (لِیَاھاً) نگاہوں سے روپوش ہونا۔

س لحاظ سے الٰہ کامطلب ہوگا: وہ ذات جس کو آدمی بن دیکھے بھی حد سے بڑھ کر چاہے اور غیب میں بھی اس سے ڈرے۔

5) وَلِہَ کا لفظ بولتے ہیں: حیران وسرگرداں ہو جانے کو۔ وَالِہ (1) اس شخص کو کہتے ہیں جو عقل کھودے یا جو صحرا میں گم ہوجائے۔

اس لحاظ سے ”الٰہ“ کامطلب ہوگا: وہ ذات جس کی شان اور عظمت کے آگے آدمی کی عقل اور ہوش کے سب دعوے جواب دے جائیں اور سوائے استعجاب اور سرگردانی کے اس کے پاس کہنے کو کچھ باقی نہ رہے۔

6) لَاہَ یَلِیُہُ :یعنی بلند ہونا۔

اس لحاظ سے ”الٰہ“ کامطلب ہوگا وہ ذات جس کو آدمی نہایت بلند وبالا جانے۔ منزہ اورمبرا مانے اور جس کی عظمت اور شان کے آگے آدمی کی نگاہ میں ہر چیز ناچیز ہوجائے۔

7) اَلِہَ الرَّجُلُ: اِذا تَعَبَّدَ، وتَاَلَّہَ: اِذَا تَنَسَّکَ۔ یعنی پرستش کرنا اور مراسم بندگی بجا لانا۔ اندازِ دینداری اختیار کرنا۔

اس لحاظ سے ”الٰہ“ کا مطلب ہوگا وہ ذات جس کو پوجا اور جس کی پرستش کی جائے۔ جس کے حضور سجدہ وقیام وغیرہ کیا جائے۔ جس کے آگے مراسمِ بندگی بجا لائے جائیں اور جس کے دین اور طریقے پر چلا جائے۔

(ان لغوی معانی کیلئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر۔ جلد اول۔ تفسیر سورۃ الفاتحہ)

اب ہم ’الٰہ‘ کے اصطلاحی مفہوم کی طرف آتے ہیں۔

کتبِ عقیدہ اور تفاسیر میں ’الٰہ‘ کا جو مفہوم آتا ہے وہ ہے: لائق بندگی۔ معبود۔ مستحقِ عبادت۔ لائقِ تعظیم۔ وہ ذات جس کے دل گرویدہ ہوں اور جس کی خشیت سے دل پسیجیں۔ جس کا آدمی سہارا تھامے۔ جس پر بھروسہ کرے۔ جس سے مدد مانگے اور جس کی بات تسلیم کرے۔

یہاں کے بیشتردینی حلقوں میں فہمِ توحید کی یہ حالت ہے کہ کسی شخص کے سامنے جب لا الٰہ الا اللہ کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ’خدا سے سب کچھ ہونے کا یقین اور خدا کے غیر سے کچھ نہ ہونے کا یقین‘، تو اُس کو اِس ’ترجمہ‘ یا اِس ’مفہوم‘ میں ہرگز کوئی کمی اور کوئی جھول محسوس نہیں ہوتا۔ اُس کو __ الا ما شاءاللہ __ یہ اندازہ تک نہیں ہوتا کہ یہ جملہ، جس کو غلطی سے لا الہ الا اللہ کا مفہوم سمجھ لیا گیا ہے، خدا کی ربوبیت کا بیان ہے نہ کہ الوہیت کا۔ حالانکہ توحیدِ الوہیت ہی وہ حقیقت ہے جو کلمہ لا الہ الا اللہ میں بیان ہوئی ہے اور جوکہ انبیاء کی تحریک کا اصل مدعا رہی رہے اور ہمیشہ انبیاء اور مخالفینِ ابنیاء کے مابین اصل میدانِ کارزار۔چونکہ لا الہ الا اللہ کا یہ مذکورہ بالا مفہوم ہمارے تبلیغی حلقوں میں عام بیان ہوتا ہے بلکہ ایک اسٹینڈرڈ انداز میں ہر شخص کو ’کلمہ‘ کا یہی مفہوم ازبر کرایا جاتا ہے، اور چونکہ یہ دین کا ایک نہایت بنیادی مسئلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر بنیادی بات دین کے اندر کوئی ہے ہی نہیں، لہٰذا کچھ چارہ نہیں کہ ہم اپنے ان تبلیغی حلقوں کے یہاں پائے جانے والے مبحث کی اس سنگین غلطی پر واضح انداز میں کچھ بات کریں:

فان الا لٰہ ھو: الذی تَاُلَھُہُ القلوبُ، عبادۃ، واستعانۃ، ومحبۃ، وتعظیماً، وخوفاً، ورجاءً، واِجلا لاّ، و اِکراماً۔ واﷲ عزوجل لہ حق لا یُشرَکُ فیہ غیرُہ فلا یُعبدُ اِلاَّ اﷲُ، ولا یُدعیٰ اِلاَّ اﷲ، ولا یُخاف الا اﷲ، ولا یطاع اِلا اﷲُ (فتاوی الامام ابن تیمیہ ج 1 ص 365 ، حقیقۃ شھادۃ ان لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ۔۔۔۔)

”الٰہ وہ ہوتا ہے جس کیلئے دل عاجزی اور گرویدگی کریں۔ عبادت کی صورت میں۔ استعانت کی شکل میں۔ محبت اور چاہت میں ڈھل کر۔ تعظیم کی صورت۔ خوف کی صورت۔ اس سے امید وابستہ رکھ کر۔ اس کا رتبہ بلند جانتے ہوئے اور اس کی تکریم بجا لاتے ہوئے۔ یہ ایک اللہ کا حق ہے جس میں کسی اور کا شریک ہونا روا نہیں۔ پس عبادت کسی کی نہیں سوائے اللہ کے۔ پکارنا کسی کو نہیں سوائے اللہ کے۔ خوف کسی کا نہیں سوائے اللہ کے۔ اطاعت کسی کی نہیں سوائے اللہ کے“۔ (ابن تیمیہ کی عبارت ختم ہوئی)

*****

 

ربوبیت: خدائی افعال کا صادر کنندہ ہونا

الوہیت: بندگانہ افعال کا سزاوار ہون۔۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں توحیدِ ربوبیت، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا، خدا کی یکتائی کو تسلیم کرنے کا ایک پہلو ہے تو توحید الوہیت خدا کی احدیت کو ماننے اور تسلیم کرنے کا ایک دوسرا پہلو۔

ان دونوں میں کیا فرق ہے؟

توحیدِ ربوبیت خدا کے افعال کے لحاظ سے ہے اور توحید الوہیت بندے کے افعال کے لحاظ سے۔ یعنی ربوبیت ان افعال سے عبارت ہے جو خدا کے کرنے کے ہوں مخلوق کے معاملے میں۔ جبکہ الٰہیت ان افعال سے متعلق ہے جو بندے کے کرنے کے ہوں خالق کے معاملے میں۔

مثلاً آپ نے کسی ذات میں یہ قوت تسلیم کی کہ وہ اشیاکو وجود میں لانے والی ہے یا زندگی دے یا لے سکتی ہے یا روزی رساں ہے یا کارخانہء ہستی کے اندر مدبر الامور ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ اس ذات کو ربوبیت پر فائزکرنا ہے۔ کیونکہ ’خلق‘ یا ’رزق‘ یا ’تدبیر کائنات‘ وغیرہ ”خدائی افعال“ ہیں۔۔

البتہ اگر آپ کسی ہستی کو پوجتے ہیں تو یہ ’پوجنا‘ آپ کافعل ہے نہ کہ اس ہستی کا۔ یہ ایک ”بندگانہ فعل“ ہے نہ کہ ”خدائی فعل“۔ آپ کسی کے سامنے آخری درجے کی ذِلت ظاہر کرتے ہیں یا کسی سے حد درجہ ڈر کررہتے ہیں یا کسی کو سجدہ کرتے ہیں یا کسی کو مدد کیلئے پکارتے ہیں یا کسی کی غیر مشروط اطاعت و فرمانبرداری کا دم بھرتے ہیں تو یہ سب آپ کے افعال ہیں نہ کہ خدا کے۔ چنانچہ پوجنا، ذِلت ظاہر کرنا، سجدہ یا دُعا کرنا یا اطاعت بجا لانا وغیرہ وہ افعال ہیں جو بندے سے سرزد ہوں۔ اپنے ان افعال سے آپ کسی کو بھی الٰہ بنا دیتے ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ ہستی، جس کیلئے آپ بندگی کے یہ افعال روا رکھتے ہیں، آپ کے نزدیک خدائی کے افعال (مانند تخلیق وتدبیر) پر قادر ہے یا نہیں۔ جب آپ نے کسی کو پوج لیا یا دُعا کی صورت میں پکار لیا یا اس کو سجدہ کر دیاتو وہ آپ کا الٰہ ہوا چاہے ربوبیت کی طاقت اس کے اندر آپ نے مانی یا نہیں مانی۔

چنانچہ ”خدائی افعال“ کے معاملہ میں اللہ کو یکتا جاننا توحیدِ ربوبیت ہے اور ”بندگانہ افعال“ کے معاملہ میں اللہ کی یکتائی قائم رکھنا اور اس کے ہر شریک کا انکار کرکے رہنا توحیدِ الوہیت۔

مخلوق ہستیوں کو ربوبیت کے مرتبے پرفائز کرنا تو ظاہر ہے آسان کام نہیں۔ کسی کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جانا یا کسی کا خود اپنے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ پیداکر سکتا ہے یا کائنات کی قوتوں پر فرماں روائی کرتا ہے، ایک مضحکہ خیز امر ہے۔ اس جھوٹ کا پول کھلنا ہرگز مشکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دعویٰ بہت کم ہوا۔ یہ (ربوبیت) تاریخِ اقوام میں عموماً اللہ تعالیٰ ہی کی خاصیت مانی گئی۔ اس میں ضعفِ یقین کا عارضہ لوگوں کو ضرور لاحق رہا اوربکثرت رہا مگر اس کا اصولی انکار لوگ نہیں کرپائے۔ کفارِ قریش بھی اس کے منکر نہ تھے، جیسا کہ پیچھے گزر چکا۔ البتہ خدائی صلاحیتیں (تخلیق، تدبیر، رزق وغیرہ) رکھے بغیر خدا بن بیٹھنے یا کسی ہستی کو خدا بنا دیا جانے کے واقعات دُنیا میں بہت ہوئے اور ابھی تک ہو رہے ہیں۔ کوئی ہستی ”اپنے فعل“ سے تو خدا (بمعنی رب) بننے سے رہی۔ یہ طاقت اس میں کہاں سے آنے لگی۔ البتہ ”پوجنے والوں کا فعل“ اس کو بیٹھے بٹھائے خدا (بمعنی الٰہ) بنا سکتا ہے۔ اس کیلئے حماقت کی وہ آخری حد درکار نہیں۔ معبود عاجز ہے تو پوجنے والا بے وقوف ہونا چاہیے!

چنانچہ دُنیا میں زیادہ انکار توحیدِ الوہیت کا ہوا، اعتقاداً بھی اور عملاً بھی۔ مخلوق ہستیوں کو ”پوجنے“ اور ”پیشوا بنانے“ کے مظاہر دُنیا میں بے حد زیادہ ہوئے۔ کھاتے خدا کا رہنا اور گاتے کسی اور کا، ایک کثیر خلقت کا مذہب رہا۔ چیزوں کو پیدا کرنے والا خدا اوران میں حلال وحرام اور جائز وناجائز کا تعین کرنے والا ’ناخدا‘۔ خالق ومالک آسمان پر اور سجدہ زمین والوں کو بلکہ زمین میں مٹی ہو رہنے والوں کو۔ زندگی دے عرش والا اور زندگی گزرے یہاں کسی اور کی ہدایت اور قانون پر۔ شرک کی یہ قسم ”شرکِ الوہیت“ یا ”شرک فی العبادۃ“ کہلاتی ہے۔ گمراہ قوموں میں سب سے زیادہ چلن اسی شرک کا ہوتا رہا۔ پس لازمی تھا کہ انبیاء کے ساتھ دُنیا اسی بات پر سب سے زیادہ جھگڑا کرتی اور انبیاء بھی اپنی دعوت اور جدوجہد میں سب سے زیادہ اسی کو موضوع بناتے۔

 

 

کلمہء اخلاص کی اپنی شہادت:

یہ دعویٰ کہ انبیاء کی دعوت اور جدوجہد کا اصل عنوان یہی توحیدِ بندگی رہی اور جو کہ سچ ہے۔۔۔۔ اس دعویٰ کے برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل خود کلمہء شہادت ہے۔ کلمہء توحید آپ ہی اس بات کی دلیل ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ میں آپ دیکھتے ہیں کہ ’مسئلہ عبادت‘ ہی کو نفی اور اثبات کاموضوع بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے ہم شروط لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کے ضمن میں یہ ذکر کر آئے ہیں کہ کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ میں لفظ ’الٰہ‘ کا استعمال ہونا اس کلمہ کے ایک اقراری سے اور اس کلمہ کے ایک داعی سے خاص توجہ چاہتا ہے۔ اس کلمہء اخلاص میں الٰہ کی جگہ، کہنے کو، رب کا لفظ بھی استعمال ہو سکتا تھا۔ ’الٰہ‘ کی جگہ خالق یا مالک یا رازق یا معطی اور وہاب کوئی بھی لفظ بولا جاتا تو اس سے خداکی توحید ہی ثابت ہوتی مگر کیوں لفظ الٰہ کو ہی اس کلمہ کے اندر موزوں جانا گیا اور کیوں اس لفظ سے تشکیل پانے والے اس کلمہ کو ہی ہر نبی کی دعوت کا اولین موضوع قرار دیا گیا:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ (ال انبیاء :25)

”تم سے پہلے ہم نے جو کوئی بھی رسول بھیجا اس پر یہی وحی کی کہ: میرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو“

چنانچہ کلمہء شہادت کے اپنے ہی الفاظ یہ واضح کر دینے کیلئے کافی ہیں کہ دین اسلام کے داعی سب سے زیادہ زور دیں تو توحید کے کس پہلو پر اور چوٹ لگائیں تو سب سے زیادہ شرک کے کس پہلو پر۔ غیر اللہ کے ’پوجے‘ اور ’پکارے‘ اور ’اطاعت‘ کئے جانے کی جب تک نفی نہیں کی جاتی تب تلک لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کا ادا ہو جانا کیونکر تصور ہو سکتا ہے؟

یہ ایک اطمینان بخش امر ہے کہ ہمارے یہاں قرآن، احادیث، اذکار اور دینی موضوعات پر مشتمل کتب کے جتنے تراجم اُردو میں ہوئے بیشترمیں بلکہ تقریباً سب میں ”لَآ اِلٰہَ“ کا مطلب یہی بیان کیا گیا ہے کہ ’نہیں کوئی عبادت کے لائق‘ یا یہ کہ ’نہیں کوئی بندگی کے لائق‘۔ کیونکہ اس کے سوااس لفظ کا کوئی اور ترجمہ ممکن ہی نہیں جو کہ بہت بڑی دلیل ہے اس بات کی کہ یہ کلمہء لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ درحقیقت ”عبادت وبندگی“ کو ہی اصل موضوع بناتا ہے جو کہ ”بندے کا فعل“ ہے نہ کہ ”تخلیق اور تدبیر اور مشیئت“ کو جو کہ ”خدا کا فعل“ ہے۔ پھر جب کتابوں کے اندر ایک بات اس قدر واضح ہے تو دعوت اور تبلیغ اور تحریک میں وہ بات اس قدر غیر واضح کیوں کر دی گئی اور ”کلمہ کی تعلیم“ میں یہ بات کیونکر پس منظر میں چلی گئی؟ کیا اس لئے کہ اس معاملہ میں صراحت ’مشکلات‘ کا باعث بنتی ہے اور یہ کہ آپ بس توحیدِ ربوبیت ہی بیان کرتے رہیں تو لوگ آپ کے منہ نہیں آتے؟ یہ اگر معقول وجہ ہے تو انبیاء جو کہ خدا کے فرستادہ داعی تھے اور ہر دم خدا کے زیرنگرانی کام کرتے تھے، کی نگاہ سے آخر یہ بات کیوں اوجھل رہی؟!

توحیدِ بندگی میں لا سے شروع ہونے والی جو صراحت اور قطعیت اور نفی ِ جازم ہے اور جو کہ خاص لفظِ ”الٰہ“ سے جوڑ رکھی گئی ہے اور یہ نفی ہی اللہ رب العزت کیلئے نیاز وبندگی کے اثبات کی پہلی کڑی بنا دی گئی ہے (اندازہ کیجئے ایک بات شروع ہی ’نہیں‘ سے کی جاتی ہے) ۔۔۔۔ اس صراحت اور قطعیت اور نفی جازم میں ہی تو توحید کا اصل لطف پوشیدہ ہے۔ یہی تو اس کلمہ کا حسن ہے۔ یہی تو وہ چیز ہے جو موحدین کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔

توحید محض ایک عقیدہ نہیں توحید دراصل ایک ذوق بھی ہے۔

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلّهِ حَنِيفًاً ۔ (2)

*****

 

توحید کی تقسیمِ مباحث۔۔

 

پیرائے اہم نہیں، اصل چیز اِس کے مضامین ہیں:

 

توحید کی تین انواع (ربوبیت، الوہیت اور اسماءوصفات) ہمارے اِس کتابچہ میں آسانیِ مبحث کیلئے بیان ہوئی ہیں۔ تاہم توحید کے بیان اور تفہیم کا یہ کوئی واحد طریقہ نہیں۔ علماء نے دراصل مختلف طریقوں سے حقائقِ توحید کوذہنوں میں واضح کیا ہے۔ اصل اعتبار ان تقسیمات یا اصطلاحات کا نہیں کہ آدمی ان کا لفظ بہ لفظ پابند ہو اور یوں ’اصطلاحات‘ کو ہی ایمان اور عقیدہ کا مسئلہ بنالے! توحید کے اس بیان میں اصل اعتبار ان حقائق کا ہے جن کو توحید کے مفہومات میں واضح کیا جانا ہے۔ اصل اعتبار ان حقائق کا ہے اور حقائق میں ترتیبِ مراتب کے برقرار رہنے کا۔ بیان کا طریقہ اور پیرایہ کوئی ہومگر توحید کے بنیادی عناصر میں اس سے خلل نہیں آنا چاہیے۔

انبیاء کی دعوت کا جو اصل مدعا رہا اور جو کہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ میں سمو دیا گیا بہرحال اس تعلیم اور دعوت اور بیان کے عمل پرچھایا رہنا چاہیے۔ یوں رسالت کا جو اصل موضوع اور لب لباب ہے وہ بہرحال ایک مسلم فرد یا جماعت کے ”تصورِ دین“ کا جلی عنوان بنارہنا چاہیے۔ الفاظ اور تعبیرات خواہ کوئی ہوں۔

بہرحال تعلیم کے پیش نظر اس رسالہ میں توحید کی جو یہ سہہ گانہ صنف بندی ہوئی۔ یہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کی اختیار کردہ ہے۔ اسی کو علمائے توحید کی ایک کثیر تعداد نے سہولت کیلئے تعلیمی اور دعوتی نصابوں میں اختیار کیا ہے۔

البتہ بعض علمائے توحیدکے ہاں توحید کو ایک اور طریقے سے بھی بیان کرنے کا منہج رائج ہے۔ یہ ایک دوگانہ تقسیم ہے۔ ایک ”توحیدِ اعتقاد“ جسے کہ” توحیدِ معرفت واثبات“ بھی کہتے ہیں اور دوسری ”توحیدِ قصد و ارادہ“ یا ”توحیدِ طلب“ جسے کہ” توحیدِ عمل“ بھی کہا جاتا ہے۔

اس تقسیم کی رو سے توحید کی جو پہلی قسم ہے یعنی توحیدِ اعتقاد یا توحیدِ معرفت، اس میں ہمارے اس رسالہ کی بیان کردہ ”توحیدِ ربوبیت“ اور ”توحیدِ ذات وصفات“ دونوں آجاتی ہیں۔ جبکہ دوسری قسم یعنی توحیدِ قصد یا توحیدِ طلب یا توحیدِ عمل میں توحید الوہیت آتی ہے۔

چنانچہ ربوبیت اور اسماء وصفات دراصل اعتقاد سے متعلق ہیں۔ یہ آدمی کا خدا کے بارے میں تصور درست کرنا ہے۔ جبکہ توحیدِ الوہیت یا توحیدِ عبادت انسان کے قصد اور عمل سے متعلق ہے۔ توحیدِ بندگی خدا کے ساتھ انسان کا طرز عمل درست کرنا ہے۔

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول فجر کی سنتوں میں پہلی رکعت کے اندر قل یاایھا الکافرون تلاوت کرنا تھا اور دوسری رکعت کے اندر قل ھو اﷲ احد۔ امام صاحب کے نزدیک قل ھو اﷲ احد توحیدِ اعتقاد پر مشتمل ہے اور قل یاایھا الکافرون لا اَعبد ما تعبدون توحیدِ عمل پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلی رکعت میں قل یاایھا الکافرون پڑھنا امام صاحب کے نزدیک یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی کا دن (جو کہ عمل کا آغاز ہے) توحیدِ عمل سے شروع ہو۔

یوں توحیدِ بندگی کو توحیدِ قصد یا توحیدِ طلب یا توحیدِ عمل کے نام سے پہچاننا توحید بندگی کا واقعتا ایک خوبصورت پہلو ہے۔

*****

 

توحیدِ الوہیت، بطورِ اساسِ دعوت ۔۔

 

اور ہمارے برصغیر کے مختلف دعوتی حلقوں کے ’مضمونِ دعوت‘ کا ایک جائزہ:

 

بے شک ہمارے مسلم بر صغیر نے پچھلی دو صدی میں ”حقیقتِ توحید“ کی جانب خاصا سفر طے کیا ہے اور اس میں روز بروز پیش رفت ہو رہی ہے، پھر بھی کسی بڑی سطح پر ”توحید“ کو ایک جامع تحریک کی شکل دھار لینا ابھی میسر نہیں آیا۔یہاں کی تبلیغی جماعتیں ہوں یا تحریکی وانقلابی جماعتیں، یا حتی کہ یہاں کے روایتی داعیانِ توحید ہی، بیشتر کیلئے ابھی یہ ممکن نہیں ہوا کہ توحید اپنی پوری شدت کے ساتھ، بلکہ ’شدت‘ سے بھی پہلے اپنی ’حقیقت‘ کے ساتھ، ان کی تبلیغ اور تحریک کا نمایاں ترین مقدمہ بن گیا ہو۔ نہ صرف یہ کہ ”توحید“ اپنی حقیقت کے ساتھ ان کی تحریک کا مقدمہ case نہیں بنا، بلکہ ”توحید“ کے فہم ہی میں ہنوز کئی ایک جھول ہیں۔۔

ان میں سرِ فہرست جھول ہمیں جو نظر آتا ہے وہ ہے ’مسئلہء الوہیت‘ کو ”توحید“ کے اصل بنیادی ستون کی حیثیت نہ دینا۔ اس مسئلہ کو اپنی ’تبلیغ‘ اور ’تحریک‘ ہی کی بنیاد بنالینا تو ظاہر ہے اور بھی دور کی بات ہے۔۔

’عبادت اور پرستش والی توحید‘ کو اساسِ دعوت نہ بنایا ہونا۔۔ اس حوالے سے پہلے ہم تبلیغی حلقوں کے طرزِ فکر پر کچھ بات کریں گے اور پھر انقلابی تحریکوں کے ہاں پائے جانے والے طرزِ فکر پر، اور آخر میں ان روایتی حلقوں کے مضمونِ دعوت پر جو توحید کی دعوت دینے کے حوالے سے ہمارے یہاں معروف ہیں۔۔۔۔

یہ ایک علمی مسئلہ ہے اور دین کا ایک نہایت بنیادی مضمون، جس کا بیان ایک بے لاگ معروضی انداز میں کر دیا جانا ہر بات سے بڑھ کر ضروری ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو ہم اپنے کسی دینی طبقے کی نشاندہی کر کے اُس کے طرزِ فکر پر بات کرنا ہرگز مناسب نہ جانتے۔ اللہ جانتا ہے ہم اپنے ان سب قابل احترام بھائیوں اور بزرگوں سے خدا واسطے کی محبت اور لگاؤ رکھتے ہیں۔ یہ گفتگو محض علمی اور تحریکی مقاصد کیلئے ہے ۔۔۔۔

 

”توحیدِ عبادت“ کی دعوت۔۔ اور ہمارے تبلیغی حلقے

اس نقطہ پر ہم پیچھے کچھ گفتگو کر آئے ہیں، مگر یہاں ہم اس بات کو مزید کھولنے کی کوشش کریں گے کہ یہاں کے بیشتردینی حلقوں میں فہمِ توحید کی یہ حالت ہے کہ کسی شخص کے سامنے جب لا الٰہ الا اللہ کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ’خدا سے سب کچھ ہونے کا یقین اور خدا کے غیر سے کچھ نہ ہونے کا یقین‘، تو اُس کو اِس ’ترجمہ‘ یا اِس ’مفہوم‘ میں ہرگز کوئی کمی اور کوئی جھول محسوس نہیں ہوتا۔ اُس کو __ الا ما شاءاللہ __ یہ اندازہ تک نہیں ہوتا کہ یہ جملہ، جس کو غلطی سے لا الہ الا اللہ کا مفہوم سمجھ لیا گیا ہے، خدا کی ربوبیت کا بیان ہے نہ کہ الوہیت کا۔ حالانکہ توحیدِ الوہیت ہی وہ حقیقت ہے جو کلمہ لا الہ الا اللہ میں بیان ہوئی ہے اور جوکہ انبیاء کی تحریک کا اصل مدعا رہی رہے اور ہمیشہ انبیاء اور مخالفینِ ابنیاء کے مابین اصل میدانِ کارزار۔

چونکہ لا الہ الا اللہ کا یہ مذکورہ بالا مفہوم ہمارے تبلیغی حلقوں میں عام بیان ہوتا ہے بلکہ ایک اسٹینڈرڈ انداز میں ہر شخص کو ’کلمہ‘ کا یہی مفہوم ازبر کرایا جاتا ہے، اور چونکہ یہ دین کا ایک نہایت بنیادی مسئلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر بنیادی بات دین کے اندر کوئی ہے ہی نہیں، لہٰذا کچھ چارہ نہیں کہ ہم اپنے ان تبلیغی حلقوں کے یہاں پائے جانے والے مبحث کی اس سنگین غلطی پر واضح انداز میں کچھ بات کریں:

ہمارا یہ حلقہ جس کے ہاں ’اِلٰہ‘ کا لقظ ’فاعل حقیقی‘کے معنیٰ میں لیا جاتا ہے نہ کہ ’وہ ذات جس کے سوا پرستش اور بندگی ہرگز ہرگز کسی کو لائق نہیں‘ کے معنیٰ میں۔۔۔۔

طبعی بات ہے کہ یہ طبقہ ’شرک اور توحید‘ کی اُس جان لیوا کشمکش سے ہی کبھی واقف نہ ہو پائے جو انبیاء کی سعی وجہاد کا اصل عنوان رہی ہے، بلکہ یہ طبقہ ان فضاؤں کو ہی تصور میں نہ لا سکے جو توحید کی حقیقت بیان کی جانے پر ملتِ شرک کے ساتھ ایک شدید تناؤ اور کھچاؤ کی صورت خود بخود وجود میں آجایا کرتی ہے اور نہ یہ طبقہ ان کیفیات کا ہی اندازہ کر سکے جو اس وقت خود بخود اور لازماً دیکھنے میں آتی ہیں جب آپ لا الٰہ الا اللہ کا مفہوم کھلم کھلا بیان کرتے ہیں تو آپ کے اور جاہلیت کے مابین لازماً ٹھن جاتی ہے، خواہ اِس عبادت اور پرستش والے شرک کا رد آپ نے کتنی ہی حکمت اور موعظۃ حسنہ سے کام لے کر کیا ہو، کیونکہ انبیاء سے بڑھ کر کوئی ’حکمت‘ اور ’موعظۃ حسنہ‘ سے کام لے ہی نہیں سکتا مگر پھر بھی انبیاء کی دعوت سے اٹھ کھڑی ہونے والی اس کشمش کا حال ہر قرآن پڑھنے اور ہر سیرتِ انبیاء کا مطالعہ کرنے والے پر واضح ہے۔

اس طبقہ کی جانب سے ”توحید“ کو ’ربوبیت‘ اور فاعلیتِ حقیقی‘ میں محصور کر دینے کا لازمی نتیجہ یہی ہوسکتا تھا کہ ’خدائی افعال‘ ہی ”توحید“ کے ضمن میں ان حضرات کا موضوع بنتے جبکہ ’عبادت کے افعال‘ ان کا موضوع ہی نہ بن پاتے۔ ”عبادت کے افعال“ تو تبھی ان کے زیر بحث آتے اور یہ غیر اللہ سے ان افعال کی نفی کرنے پر تبھی جان کھپاتے جب پہلے ان پر ”الوہیت“ کا مفہوم واضح ہو گیا ہوتا۔

تعجب کی بات ہے کہ اس قدر واضح ہونے کے باوجود کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب کیا ہے، ’کلمہ‘ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کبھی ان داعیوں اور بزرگوں کی زبان پر نہیں آتا کہ اللہ کے ماسوا جن جن کو پکارا جاتا ہے، جن جن کی نذر دی جاتی ہے، جن جن کے نام کا چڑھاوا چڑھایا جاتا ہے، اور خدا کو چھوڑ کر جس جس کا قانون چلتا ہے وہ سراسر باطل ہے اور خدا کا شریک ہے اور اس کی الوہیت سے انکار کرنا انبیاء کے مشن کا اصل الاصول ہے اور کلمہء طیبہ کا براہِ راست مفہوم۔

سب جانتے ہیں ہمارے ان داعیوں اور بزرگوں کی زبانیں اِس ”توحیدِ عبادت“ کے بیان سے آخری حد تک ناآشنا ہیں!!!

ائمہء اہلسنت نے بلا وجہ نہیں کہا کہ ’ربوبیت‘ میں شرک کی نوبت تاریخ انسانی کے اندر کم ہی کبھی آئی ہے، اصل شرک دنیا میں جتنا بھی ہوا یا ہو رہا ہے وہ دراصل ’الوہیت‘ (یعنی پرستش و بندگی) ہی کے اندر ہوا اور آج تک ہو رہا ہے۔۔۔۔

ائمہء سنت کی بیان کردہ اس بات کی صداقت کا اندازہ آپ اِسی چیز سے لگا سکتے ہیں کہ ہمارے تبلیغی حضرات جب لا الہ الا اللہ کا مطلب ’خدا سے سب کچھ ہونے کا یقین، اور اس کے سوا کسی سے کچھ نہ ہونے کا یقین‘ بیان کرتے ہیں۔۔۔۔ تو پوچھنے پر بھی یہ کبھی بیان نہیں کر سکتے کہ:

توحید کا مفہوم اور لا الہ الا اللہ کا معنیٰ اگر یہی ہے جو یہ حضرات بیان کرتے ہیں۔۔۔۔ تو پھر ’اللہ کی شریک ہستیاں‘ جن کو آج اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا جا رہا ہے ، آخر وہ کون کون ہوسکتی ہیں؟ یعنی ’خدا کی شریک ہستیوں‘ کا بیان آج اِس دور کے اندر ہو تو اس کی کیا صورت ہو؟ اور یہ کہ کیوں آخر ایسا ہوا کہ انبیاء کے مخاطبین کیلئے تو اپنے اُن شریکوں کی طرف ایک جسارت آمیز اشارہء ابرو ہوجانا بھی ناقابل برداشت تھا، ان کی عبادت کو باطل کہا جاتا تو وہ مرنے مرانے پر اتر آتے تھے؟! جھگڑا اگر ’عبادت اور پرستش والے شرک‘ کے گرد نہ تھا تو کیوں آخر وہ اپنے شریکوں کی پوجا و پرستش کے خلاف ایک لفظ سننا گوارا نہ کرتے تھے؟

گرامی قدر بزرگانِ تبلیغ! کیا ہمارے توحید کے بیان میں، بلکہ توحید کے مفہوم میں ہی تو کوئی نقص نہیں چھوڑ دیا گیا، جو ’کلمہ کا مطلب‘ بیان کرتے ہوئے نہ اللہ کی شریک ہستیاں کبھی ہمارے موضوعِ بحث آتی ہیں اور نہ ان باطل ہستیوں کے ذکر پر کہیں سے کوئی رد عمل اور نہ اِس ردعمل کا کہیں کوئی امکان؟! باطل ہستیوں کے لئے کسی کی حمیت جوش میں آئے ہی کیوں جب لا الٰہ کے مفہوم سے باطل ہستیوں کا تصور ہی نکال دیا گیا ہو!

اللہ کے شریکوں اور ہمسروں کا ذکر تو ظاہر ہے اُسی وقت ہو گا بلکہ اِس کی نوبت ہی تب آئے گی جب ’پرستش اور عبادت‘ کا شرک زیر بحث آئے گا اور ’پرستش اور عبادت‘ والی توحید ہی دعوت کا عنوان بنے گی اور جوکہ لا الٰہ الا اللہ کا اصل معنیٰ ومفہوم ہے۔ مگر چونکہ ہمارے ان اصحاب کے ہاں ’کلمہ‘ کا مفہوم فاعلیت والی توحید (یعنی ربوبیت) کے گرد گھومتا ہے نہ کہ عبادت اور پرستش والی توحید (یعنی الوہیت) کے گرد۔۔ لہٰذا اللہ کے شریکوں اور ہم سروں کی کوئی ایک مثال تک دینے سے ہمارے یہ قابل احترام بزرگ آخری حد تک عاجز نظر آتے ہیں۔۔۔۔! بھلا وہ ’کلمہ کا بیان‘ کیسا جس میں اللہ کے شریکوں کی کوئی ایک مثال تک نہ دی جاسکتی ہو؟؟؟!!

سوچ سوچ کر ہمارے تبلیغی اصحاب کے ذہن میں ’باطل ہستیوں‘ اور ’اللہ کے شریکوں‘ کے حوالے سے کوئی بات آتی ہے تو وہ چیزیں جن کی ’فاعلیت‘ کی جانب لوگوں کا ذہن کسی وقت چلا جاتا ہو یا جا سکتا ہو، مثل: کھیت، کاروبار اور دوا دارو وغیرہ!!! یہ حضرات ’اللہ کے شریکوں‘ کی کوئی مثال کبھی بیان کر سکیں گے تو بس وہ ایسی ہی چند ناقابلِ ذکر اشیاء ہوں گی۔ کم از کم دعوتِ انبیاء کے مرکزی مضمون کے حوالے سے یہ اشیاء ناقابلِ ذکر ہی ہیں۔ البتہ وہ قبریں، وہ مزار، وہ درگاہیں اور آستانے اور وہ زندہ ومردہ ہستیاں، وہ طاغوت جن کو __ اللہ کو چھوڑ کر __ سجدے ہوتے ہیں، جن کے آگے باقاعدہ سر جھکتے ہیں، جن کے نام کی نذریں مانی جاتی ہیں، جن کو __اللہ کو چھوڑ کر __ پکارا جاتا ہے اور حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے دعائیں ہوتی ہیں، اور جن کے ہاں سے صادر ہو جانے والے قانون اور جن کی جانب سے طے کر دیے گئے روا و ناروا کو حرفِ آخر تسلیم کیا جاتا ہے اور انسانوں کیلئے ان کو مطلق واجبِ اطاعت مانا جاتا ہے۔۔ ایسی سب ہستیاں __ ’باطل معبودوں‘ اور ’اللہ کے شریکوں‘ کے حوالے سے __ پھر بھی ہمارے اِن اصحاب کے ذہن میں نہ آئیں گی، ان ہستیوں کا لا الٰہ کے مفہوم کے طور پر دعوت کا موضوع بن چکا ہونا تو خیر اور بھی دور کی بات ہے!!!

 

انبیاء کے منہج سے ایسی ناواقفیت!!!؟

 

چنانچہ یہ طبقہ لوگوں کو اس بات سے خبردار کرنا تو بہت ضروری سمجھتا ہے کہ ’کھیت، کاروبار، ملازمت یا دوا وغیرہ‘ کی بابت آدمی کے ذہن میں یہ آجانا کہ ان چیزوں کے خود اپنے اندر کچھ کر دینے کی صلاحیت ہے ان چیزوں کو بُت کا درجہ دے دینا ہے اور اس معنی میں ان ’بتوں‘ کو دلوں کے اندر توڑنا بھی ہمارا یہ قابل احترام طبقہ بے حد ضروری اور توحید کا تقاضا جانتا ہے کیونکہ ’شرک‘، جس سے لوگوں کو خبردار کیا جانا ہے، ان کے نزدیک اگر کہیں ہے تو وہ ایسی ہی کچھ باتوں کے اندر محصور ہے! حالانکہ یہ چیز زیادہ تر ’ضعفِ یقین‘ میں آتی ہے نہ کہ سیدھا سیدھا رب العالمین کے ’ہمسر اور شریک‘  کھڑے کرنے میں جس پر آدمی کی کبھی بخشش نہ ہونے والی ہو اور جس کے باعث اس کو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلنا ہو، جیسا کہ قرآن کے اس بیان سے واضح ہے جو باطل معبودوں کے حوالے سے قرآنی آیات کے اندر حد سے زیادہ دہرایا گیا ہے اور جس کو کہ انبیاء اور ان کی قوموں کے مابین پائے جانے والے وجہِ تنازعہ کے حوالے سے اور جہنمیوں کے تذکرہ کے حوالے سے قرآنی وعیدیں ہمارے لئے نہایت کھول کھول کر بیان کرتی ہیں۔

دین کی بنیادوں کو قرآن سے اور رسولوں کے منہج سے نہ سیکھا جائے گا تو یہ نقصان تو پھر ہوگا کہ آپ کی محنت عین اس بنیاد پر نہ ہو جس کو خدا کے فرستادہ رسولوں نے اپنی دعوت اور جدوجہد کیلئے اختیار کیا تھا۔ حتیٰ کہ آپ ’کلمہ‘ پر محنت کرا رہے ہوں گے مگر وہ سب معانی اس محنت سے روپوش ہوں گے جو اِس ’کلمہ‘ میں جلی طور پر بیان کئے گئے اور جن کے اثبات کیلئے پے در پے کتابیں نازل کی اور رسول بھیجے جاتے رہے۔

کلمہ لا الٰہ الا اللہ کے تحت یہ محض ایک ’روحانیت‘ قسم کی چیز نہ تھی اور نہ محض ’یقین‘ کی دعوت تھی جس کی قرآن ہمیں خبر دیتا ہے اور جس کو دنیا میں کھڑا کرنے کیلئے رسولوں کی بعثت ہوتی رہی تھی، بے شک آج مادیت کے دور میں ”دین“ اور ”بعثتِ انبیاء “ کے حوالے سے یہی ہمیں ’سب کچھ‘ لگے!!!

ہم جانتے ہیں رسولوں کی دعوت اس سے کہیں بلند تر اور عمیق تر اور وسیع تر اور شان دار تر ایک حقیقت تھی۔

بسا اوقات سوال کرنے پر ہمارے اِن تبلیغی حلقوں میں ’شرک‘ اور ’باطل ہستیوں‘ کی بابت وضاحت کر کے دی جاتی ہے کہ: بھائی ’دلوں کے بت‘ توڑنا ’ظاہری بتوں‘ کو توڑنے کی نسبت کہیں زیادہ ضروری ہے اور یہ کہ اسی وجہ سے ہمارے بزرگوں کی یہ محنت اور تبلیغی مساعی اِن ’چھپے ہوئے‘ بتوں کو توڑنے پر ہی ہو رہی ہے۔

کیا کمال کا نکتہ ہے!!! ان ’چھپے ہوئے بتوں‘ سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے یہی ’کھیت، کاروبار، دوائی‘ ایسی سب کی سب اشیاء جن کو اللہ نے زمین پر انسانی ضرورت اور منفعت کے ’اسباب‘ بنا رکھا ہے اور جن کی جانب __ ضعفِ یقین کے باعث __ کسی وقت انسان کی نظر یوں چلی جاتی ہے کہ انسان”مسبب الاسباب“ کی جانب سے غافل اور بے توجہ ہوجاتا ہے، اور جس پر اُسے تذکیر و یاد دہانی ہوجانا بلاشبہ فائدہ مند ہے اور ایمان میں اضافہ کا باعث۔

پس کلمہء توحید کی یہ اگر کوئی تفسیر ہے جو ہمارے ان بزرگوں کے ہاں پائی جاتی ہے تو اِس کو دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں: دعوتِ انبیاء کا محور کس بری طرح اِس میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور کتابوں اور رسولوں کے بنیادی مضامین کس صفائی کے ساتھ اس سے محو ہو کر رہ گئے ہیں؟!

پوجا، پرستش، دعا و پکار، استغاثہ، حاجت روائی اور مشکل کشائی کی فریاد، نذر ونیاز، منت، چڑھاوا، ذبیحہ، طواف، سجدہ و رکوع، تضرع وخشیت، اطاعت وانقیاد۔۔ ایسے امور پر باطل ہستیوں کے حق کا کھلم کھلا انکار اور اس کی مسلسل مخالفت، اور عبادت کے اِن سب افعال کو اللہ وحدہ لاشریک کیلئے خاص کر دینے کی مسلسل پکار لگانا۔۔ یہ سب موضوعات ’کلمہ‘ کے معانی سے کس خاموشی کے ساتھ روپوش کرا دیے گئے ہیں؟!

انبیاء نے اپنی محنت اگر ’چھپے ہوئے بتوں‘ کے تڑوانے تک ہی محدود رکھی تھی، مانند ’کھیت، کاروبار اور دوائی وغیرہ‘ ایسی اشیاء کی فاعلیت۔۔ اور خدا کے فرستادہ ان داعیوں کی دعوت کا اصل محور اگر یہی رہا تھا پھر تو ہم بھی غیر اللہ کی عبادت اور پرستش اور نیاز اور اطاعت کا انکار کرایا جانے ایسے امہات المسائل کو اپنی دعوت میں حاشیائی ہوجانے دیں گے اور اپنے ان بھائیوں کے ساتھ مل کر ’اسباب کی فاعلیت‘ کی نفی کرائی جانے کو ہی ’لاالٰہ‘ کا اصل معنیٰ ومضمون مان لیں گے(3) لیکن اگر نبیوں اور کتابوں کے مضامین ہمارے اِن حضرات کے اس دعویٰ کی تائید نہیں کرتے اور رسولوں کی دعوت کا اصل مضمون ’اسباب کی فاعلیت‘ کا انکار کرانے کے گرد نہیں گھومتا تھا بلکہ خدا کے ماسوا ہسیتوں کی عبادت و پرستش و نیاز اوراطاعت و پیروکاری کی نفی کرانے کے گرد ہی گھومتا تھا۔۔ تو پھر کلمہ کی تشریح کیا ہم اپنے اِن قابل قدر اصحاب سے لیں یا خدا کی نازل کردہ کتابوں اور اس کے مبعوث کرد ہ رسولوں سے؟

انبیاء کی دعوت کے مضامین اگر ’پوشیدہ بتوں‘ کے خلاف آواز اٹھانے پر ہی مرکوز رہے تھے اور ’اعلانیہ بتوں‘ کے خلاف آواز اٹھائی جانا انبیاء کی دعوت کا مرکزی ترین مضمون نہ تھا پھر ضرور ہم بھی اِن ’نظر نہ آنے والے بتوں‘ کے خلاف ہی اپنی دعوت کو مرکوز کر لیں گے اور ’نظر آنے والے بتوں‘ کی بابت آخری درجے کی خاموشی اختیار کر لیں گے۔۔۔۔ مگر کیا واقعتا انبیاء کی دعوت یہی ہے؟؟؟!

’کھیت‘، ’ملازمت‘، ’روپیہ پیسہ‘ اور ’دوائی‘ اور ’طبیب‘ وغیرہ ایسی اشیاء آخر انبیاء کے زمانے میں بھی تو پائی ہی جاتی تھیں!!!!!

پھر کیا انبیاء کا جھگڑا اپنی قوموں کے ساتھ ’کھیت‘ اور ’کاروبار‘ اور ’دوائی‘ کی فاعلیت کے گرد تھا؟؟؟ اور کیا انبیاء کا زیادہ وقت لوگوں کو یہ سمجھانے میں گزرتا تھا کہ دیکھنا دوا یا غذا یا کھیت کی اپنی کسی فاعلیت کو مان کر اللہ کے ساتھ شرک نہ کر بیٹھنا اور دیکھنا اللہ کا کوئی شریک (اس معنیٰ میں) نہ ٹھہرالینا کہ چھری کے خود اپنے اندر کاٹ دینے یا آگ کے خود اپنے اندر جلا دینے کی کسی صلاحیت کو مان بیٹھو؟؟!!! یہ تو، جیساکہ ہم نے کہا، قوتِ یقین یا ضعفِ یقین کے موضوعات میں آتا ہے اور بلاشبہ اس پر بھی محنت ہونی چاہیے۔۔ مگر اُن قوموں کے شریک تو وہ تھے جن کیلئے وہ آپے سے باہر ہو جایا کرتی تھیں، جن کی وہ جے بولتی تھیں، جن کو وہ سجدے کرتی تھیں، جن کے در کا طواف کرتی تھیں اور جن کے نام کا ذبیحہ اور نذر ونیاز دیتی تھیں اور جن کے آستانوں کا وہ باقاعدہ قصد کرتی تھیں اور جن کے نام پر ان کے معاشروں میں حلال و حرام کے احکام اور آئین صادر ہوتے تھے۔ سب جانتے ہیں ’کھیت‘ اور ’کاروبار‘ اور ’ملازمت‘ ایسی اشیاء نہ تو نبیوں اور ان کی قوموں کے مابین کسی جھگڑے اور تکرار کا موضوع بنیں اور نہ وہ قومیں ’کھیت‘ اور ’کاروبار‘ اور ’دوا‘ کے خلاف انبیاء کی کوئی ’ناگوار‘ بات سن کر، جسے وہ اپنے اِن ’معبودوں‘ کے حق میں ’گستاخی‘ جانتیں، کبھی ’زمین آسمان ایک کر دینے‘ پر آئیں۔ منہجِ انبیاء پر جہالت اور لاعلمی کی جتنی بھی دھول پڑ گئی ہو، مگر اس حقیقت میں کیا کوئی شخص ذرہ بھر شک کر سکتا ہے کہ انبیاء کی دعوت کا لب لباب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے روکنا تھا اور اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم دینا؟؟؟!!!

قرآن کے اساسی موضوعات سے یہ لاعلمی بہر حال کوئی چھوٹی لا علمی نہیں۔

چنانچہ کھل کھلا کر یہ طبقہ جس توحید کی دعوت دیتا ہے وہ ”ربوبیت“ ہی ہے جس کا منکر کبھی کوئی نہیں رہا۔ رہی ”الوہیت“ تو اس باب میں لوگوں کا شرک واضح کرنا، غیر اللہ کی پوجا اور بندگی کی مذمت کرنا اور انبیاء کے سے انداز میں اس کی کھل کھلا کر مخالفت کرنا ہمارا یہ طبقہ یا تو قرین مصلحت نہیں جانتا یا پھر اس بات سے ہی واقف نہیں کہ انبیاء کی دعوت کا اصل مضمون تو دراصل یہ ہے، یعنی اس بات پر زور دینا اور اسی بات کو تبلیغ کا اصل عنوان بنا دینا کہ ’اللہ کے سوا جس جس کی پوجا ہوتی ہے اور جس جس کو پکارا جاتا ہے اور جس جس کیلئے دعا، ذبیحہ، نذر، طواف اور اطاعتِ قانون ہوتی ہے وہ باطل ہے اور یہ کہ ان سب افعالِ بندگی کو ایک اللہ وحدہ لاشریک کیلئے ہی خاص کیا اور کروایا جائے اور اِسی کی باقاعدہ تحریک چلائی جائے‘۔

’حکمت‘ اور ’موعظہء حسنہ‘ اختیار کی جانا بلاشبہ فرض ہے، کیونکہ ہمیں یہ خود قرآن ہی کی ہدایت ہے، مگر ’حکمت‘ اور ’موعظۃ حسنہ‘ اِسی ’عبادت اور پرستش والے شرک‘ سے روکنے کے دوران اور اِسی ’عبادت اور پرستش والی توحید‘ کے نشر واشاعت کے دوران!!!

’حکمت‘ اور ’موعظہء حسنہ‘ کا مطلب بات گول کر دینا نہیں بلکہ بات کو نہایت برجستہ اور نہایت خوب انداز میں سامنے لے آنا ہے۔ البتہ وہ بات جس کو ’حکمت اور موعظہء حسنہ کی راہ سے سامنے لے آنے پر خوب خوب محنت کرائی جانا ہے وہ وہی لا الہٰ الا اللہ کا مدعا ومفہوم ہے، یعنی غیر اللہ کی عبادت کا بطلان اور اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی وپرستش کا اثبات۔

’حکمت اور موعظہء حسنہ‘ کا مطلب موضوعات کا محور تبدیل ہوجانا نہیں بلکہ اسلوب میں حسن اور تاثیر پیدا کر لینا ہے۔۔۔۔!

زیادہ سے زیادہ۔۔ ہمارا یہ طبقہ اس باب میں کسی بات کو ضروری جانے گا تو وہ یہ کہ ”عبادت اور پرستش والی توحید“ لوگوں سے ایک ’غیر محسوس‘ انداز میں ہی تسلیم کروالی جائے!!! یعنی اِن کے زیر تربیت لوگ اگر کسی شرکیہ پس منظر سے آنے والے ہوں تو یہ اُن کے ہاں پائے جانے والے اُن شرکیہ کاموں کو رفتہ رفتہ کچھ اِس انداز سے متروک کروا دیں گے کہ اُن کو پتہ بھی نہ چلے اور وہ شرکیہ کام چھوڑ چکے ہوں!

البتہ غیر اللہ کی عبادت کو اپنے اور باطل کے مابین اصل ”وجہ تنازعہ“ کے طور پر پیش کرنا اور اللہ کی بلا شرکت غیرے بندگی کو ہی دعوت کا اصل عنوان اور ولاء اور براء کی بنیاد بنانا جیسا کہ انبیاء نے بنا دیا تھا، لسان حال کی رو سے، اس طبقہ کے ہاں کچھ خاص ضروری نہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ انبیاء کی دعوت کے اس اصل الاصول کا ادراک ہی ہمارے ان حلقوں میں بہت کم ہے۔

کسی شرکیہ پس منظر سے سے آئے ہوئے وہ افراد جو ’تبلیغ‘ کے نتیجے میں ان بزرگوں کے ساتھ شامل ہو گئے ہوں، من جملہ دیگر مسائل اُن سے اِس ”پوجا و پرستش والے شرک“ کو بھی ایک خاموش اور غیر محسوس انداز میں ترک کروا لینا۔۔ اور یہ سمجھنا کہ اِس سے ”دعوتِ توحید“ کا حق ادا ہو گیا ہے، بلکہ اس کو ’کامیاب دعوت‘ کی ایک مثال کے طور پر پیش کرنا۔۔۔۔ حق یہ ہے کہ یہ اندازِ فکر ہمارے ’تبلیغی حلقوں‘ میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ بیشتر ’انقلابی تحریکوں‘ میں بھی باقاعدہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ چونکہ یہ مغالطہ دونوں جانب برابر پایا جاتا ہے، لہٰذا اِس پر ہر دو فریق کے منہج پر گفتگو کر لینے کے بعد کچھ روشنی ڈالنا زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

 

”توحیدِ عبادت“ کی دعوت۔۔ اور ہماری انقلابی تحریکیں

 

’اسلامی نظام‘ یا ’اسلامی انقلاب‘ یا ’حکومتِ الٰہیہ کا قیام‘ ایسی بحثیں اِس وقت ہمارا موضوع نہیں۔ اِس پر مفصل گفتگو کسی اور مقام پر ہی ہو سکے گی۔ باوجود اِس حقیقت کے کہ ’اسلامی حکومت کا قیام‘ ایک خاص سیاق میں اور ایک خاص ترتیب سے واجباتِ دین میں سے ایک نہایت اہم واجب ہے اور دین کے مطالب میں سے ایک نہایت برگزیدہ مطلب۔۔۔۔ یہ البتہ واضح ہے کہ دین کا اصل الاصول یہ نہیں۔

رسالتوں اور کتابوں کو سامنے رکھیں اور پھر صلحائے امت وائمہء سنت کے ہاں پائے جانے والے جو جلی ترین مباحث__ ایک عظیم الشان تکرار اور ناقابلِ اندازہ ترکیز کے ساتھ __ ہمیں نظر آتے ہیں اُن مباحث کو بھی سامنے رکھیں، تو:

- ”اساسِ دین“ اور ”بعثتِ انبیاء کی مرکزی ترین غایت“ کے حوالے سے، نصوصِ وحی اور ورثہء سلف کے اندرپائے جانے اِن عظیم الشان مباحث پر ’انقلاب‘ اور ’نظام‘ ایسے موضوعات کبھی حاوی نہیں رہے۔ ’نظام‘ اور ’ریاست‘ ایسے موضوعات ”بعثتِ انبیاء کی مرکزی ترین غایت“ کے ساتھ جڑتے بھی ہیں تو ایک خاص سیاق اور ایک خاص ترتیب میں آکر ہی۔

- البتہ وہ موضوع جو کسی ’خاص سیاق‘ اور کسی ’خاص ترتیب‘ کی ضروت سے بے نیاز، کسی بھی ’تمہیدی وضاحت‘ کے بغیر، علی الاطلاق، ”دین کی اساس“ ٹھہر تا ہے اور انبیاء کی دعوت میں اصل الاصول کے طور پر سامنے آتا ہے وہ ”توحیدِ عبادت“ ہی ہے۔۔ یعنی طاغوت کی عبادت سے انکار اور اللہ وحدہ لاشریک کیلئے ہی پرستش، بندگی اور نیاز کے سب معانی کو خاص کر دینا۔

اشد واضح ہو۔۔توحید کے یہ بنیادی ترین مطالب آپ اپنی ذات میں مقصود ہیں۔ ان کو محض کسی ’انقلابی عمل کے فلسفے‘ کے طور پر پیش کرنا اور اِن کا تھوڑا بہت ذکر کر کے اپنے کسی ’اصل موضوع‘ پر جا پہنچنے کی جلدی کرنا جوکہ تحریکوں کے ہاں عام طور پر ’تبدیلیِ نظام‘ ہوتا ہے اور خاص اِس مقصد کیلئے ہونے والی ’تجدیدی مساعی‘۔۔ حق یہ ہے کہ کتابیں، رسالتیں اور صلحائے امت وائمہء سنت کے علمی ذخیرے اِس منہج سے آخری حد تک ناآشنا ہیں۔

پرستش اور بندگی کے وہ سب خوبصورت معانی جو نبوتوں نے بیان کئے، غیر اللہ سے آخری حد تک اِن کی نفی جوکہ ہر نبی کے لہجے میں شدت کے ساتھ نظر آتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شدت بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔۔ ’عبادتِ طاغوت‘ کے خلاف ایسا ہی ایک زوردار لہجہ اختیار کرنا اور اللہ مالک الملک کیلئے پرستش اور بندگی کے اِن سب افعال اور رویوں کو خالص ترین صورت میں پیش کر دینے پر آخری درجے کا زور دینا۔۔ اِسی کی تاکیدیں اور اِسی کی تذکیریں۔۔اِسی پر بشارتیں اور اِسی پر نذارتیں۔۔ اِسی پر جنت اور اِسی پر جہنم۔۔ اِسی کی روشنی میں تاریخِ انسانی کی تفسیر (قصص الانبیاء)، اور اسی کی بنیاد پر وجودِ انسانی کی غایت کا کل بیان۔۔ اِسی کی بنیاد پر دوستی اور اِسی کی بنیاد پر دشمنی۔۔ اور اِسی سے متفرع، احکامِ شریعت کا فہم وتطبیق۔۔

غرض ”توحیدِ عبادت“ کے اِن برگزیدہ مطالب پر ہی ڈیرے ڈال دینا، برس ہا برس اِنہی مطالب پر رکے رہنا، اور اِس بات کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا کہ دین کے دیگر سب مباحث درحقیقت اِسی مبحثِ اوّل سے پھوٹیں، اِسی سے شروع ہوں اور اِسی پہ جاکر ختم ہوں، دین کے ہر مبحث میں درحقیقت اِسی اصل مبحث کا بیان ہو اور دین کی ہر بات اور ہر عمل میں اسی ”توحید“ کا اثر جھلکے، جیسا کہ قرآنی بیانِ توحید کا واضح طور پر ہمیں یہ خاصہ نظر آتا ہے۔۔۔۔ کتابوں اور رسالتوں کا یہی اصل موضوع ہے اور صلحائے امت و ائمہء سنت کا یہی نقطہء ترکیز۔

کتابوں اور رسالتوں کا یہ اصل موضوع اور صلحائے امت و ائمہء سنت کا یہ نقطہء ترکیز وہ برگزیدہ حقیقت ہے جو آپ اپنی ذات میں مطلوب ہے۔ یہ وہ چیز نہیں جو دین کے کسی اور مبحث کیلئے محض ایک ’گزرگاہ‘ کا کام دے۔ نہ ’نظام‘ نہ ’انقلاب‘ نہ ’حکومت‘ اور نہ ’ریاست‘۔۔ اِن میں سے کوئی بھی موضوع یہ حق نہیں رکھتا کہ ایک صالح تحریکی عمل کا نہایت مرکزی عنوان بنے یا کسی منظم اجتماعی عمل کا مرکزی ترین حوالہ یا بنیادی ترین نکتہ۔

چنانچہ ”توحیدِ عبادت“، جوکہ لا الٰہ الا اللہ کا اصل مفہوم ہے، ایسی ہی برگزیدہ حقیقت ہے جس کو اسلام کے کسی بھی تحریکی عمل سے پھوٹ پھوٹ کر برآمد ہونا ہے۔ یہ اِس کا حق ہے۔ اسلام کی بابت سب سے دائمی حقیقت یہی ہے۔ یہ کبھی پرانی اور ’متروک الرواج‘ ہوجانے والی نہیں۔ کسی تحریکی عمل میں اِس کا حاشیائی ہو جانا اسلام کی اصل حقیقت اور اصل روح کا حاشیائی ہو جانا ہے، ویسے چاہے اُس میں کتنا ہی زوروشور ہو اور کتنی ہی محنت وجدوجہد اُس کے یہاں کیوں نہ ہورہی ہو۔

جس تحریک سے ”توحیدِ عبادت“ ہی کا حوالہ پھوٹ پھوٹ کر نہیں نکل رہا۔۔ یاد رہے توحید اپنی اُسی جامعیت کے ساتھ جس کی کہ قرآنی ونبوی بیان کے اندر ہمیں جابجا تکرار ملتی ہے، نذر ونیاز میں، دعاء وفریاد میں، استعانت میں، استغاثہ، مشکل کشائی اور حاجت روائی کروانے میں، سجدہ ورکوع میں، ذبیحہ وطواف میں، قصد و زیارت اور شد الرحال میں، خشیت اور توکل اور انابت میں، خوف اور رجاء میں، اطاعت، پیروکاری اور اتباعِ آئین میں۔۔ غرض اِس جامعیت کے ساتھ ”توحیدِ عبادت“ ہی کا حوالہ جس تحریک کے وجود سے پھوٹ پھوٹ کر برآمد نہیں ہورہ ۔۔۔۔ اُس کو قرآنی ونبوی منہج کے ساتھ اپنے دعوائے نسبت پر ضرور ایک نظرثانی کر لینی چاہیے۔

یہ کہنا کہ ”توحید“ کے ان تمام مباحث کا ہم بھی ’انکار‘ نہیں کرتے، یا یہ کہ اِن مباحث کو ہم بھی پوری طرح ’تسلیم‘ کرتے ہیں۔۔ ”نبوی منہجِ تحریک“ کا حامل قرار پانے کیلئے ہرگز کافی نہیں۔ ’تحریک‘ وہ چیز نہیں جو ایک بات کو ’مانتی‘ ہو۔ ’تحریک‘ وہ چیز ہے جس سے وہ بات پھوٹ پھوٹ کر برآمد ہورہی ہو۔ ”نبوی منہجِ تحریک“ کا حامل وہی طبقہ ہوسکتا ہے جس کے وجود سے ”توحیدِ عبادت“ کی دعوت ہی اپنے جملہ مباحث سمیت پھوٹ پھوٹ کر برآمد ہورہی ہو بلکہ ”توحیدِ عبادت“ سے جلی تر کوئی چیز بھی اُس کے وجود سے نشر نہ ہو رہی ہو۔

”دعوت“ کے زیر عنوان آپ کے ہاں سے جو چیز نشر ہورہی ہے کہاں تک وہ وہی چیز ہے جو نبوی منہج کی حامل ایک تحریک سے نشر ہونی چاہیے؟ یہ جانچنے کا ایک سادہ اور آسان طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ماحول میں پائے جانے والے ایک عام آدمی سے اگر یہ کہا جائے کہ وہ آپ کی دعوت کا خلاصہ کر کے بتائے تو بے ساختہ وہ وہی بات بتائے جو جزیرہء عرب کا کوئی بھی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا خلاصہ کرتے ہوئے بتاسکتا، جیساکہ ابوسفیان نے ہرقل کے دربار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا ایک بے ساختہ خلاصہ کیا(4) یا اور بھی کئی مواقع پر مختلف اہلیتوں کے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدعا کو خود اپنے الفاظ میں بیان کیا۔

بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو اللہ تعالیٰ نے ہزارہا انداز میں کامیابی عطا فرمائی، لیکن اگر صرف اِسی کامیابی کو ہی ذرا دیکھ لیا جائے کہ ماحول کا کوئی بھی شخص اِس دعوت کا مدعا اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہوئے عین وہی بات کر پائے گا جوکہ واقعتا اِس دعوت کا اصل لب لباب ہے یعنی عین وہی بات جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک یہ کامیابی ہی بخدا ایک نہایت عظیم کامیابی ہے!!!

وَأَنزَلَ اللّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء: 113)

’دیگر کامیابیاں‘ نہ بھی ملیں، یا اگر موخر ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں، محض اِسی ایک محاذ پر ہماری آج کی تحریکیں اگر سرخرو ہوجاتی ہیں تو اِس کو ایک عظیم الشان کامیابی گننا چاہیے! کسی تحریک کا عین اُس نبوی منہج پر پایا جانا جس پر تن دہی کے ساتھ اُس کا صرف چلنا باقی رہ جاتا ہو، یہ بھی کوئی چھوٹی کامیابی تو نہیں!!!

’اجتماعی جدوجہد‘ کے زیر عنوان۔۔ پس کسی تحریک کا عین اُس چیز کو ہی پوری کامیابی کے ساتھ سامنے لے آنا اور اِس بات کو یقینی بنانا کہ یہ تحریک بھی اپنے ماحول میں عین اُسی حوالے سے جانی جائے جو حوالہ انبیاء کی جدوجہد کو حاصل رہا ہے اور جس حوالے سے جزیرہء عرب کا ہر کس وناکس، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد کو پہچانتا اور اس کا اپنے الفاظ میں ذکر کر سکتا تھا۔۔ یوں کہہ لیجئے یہ وہ پہلا محاذ ہے جس کو وقت کی ایک صالح تحریک کو لازماً سر کرنا ہے۔

حق تو یہ ہے کہ ”توحیدِ عبادت“ ہی ایک تحریک کا اصل مقدمہ case بن کر سامنے آئے، بلکہ وہ اِس بے ساختہ حد تک اُس کے وجود سے نشر ہو کہ ہر دیکھنے والا اُس تحریک کے case کا ذکر اپنے الفاظ میں کرنے پہ آئے تو اُس کیلئے سوائے اِس ایک حوالے (یعنی توحید) کے کوئی حوالہ تک نہ پاسکے۔۔ کسی صالح تحریکی عمل کو اصل میں تو اِسی نقطہ تک پہنچنا ہے، اور یہ بات اوپر ہم کر چکے۔۔

البتہ۔۔ ”دعوتِ توحید“ ایک تحریک کا ”امتیاز“ بن جائے، یہ توقع تو چلئے بے حد عظیم ہے، اِس پر آپ کیا کہیے گا کہ اُس تحریک کی بابت کبھی یہ سننے میں ہی نہ آیا ہو کہ وہ لوگوں کو شرک سے روکتی ہے؟!

ایک تحریک لوگوں کو غیر اللہ کی نذر ونیاز دینے سے، ان قبروں اور آستانوں کا قصد کرنے سے جہاں غیر اللہ کی عبادت ہوتی ہے، مردوں کو پکارنے سے، فوت شدہ اولیاء و صالحین سے مشکل کشائی اور حاجت روائی کروانے سے، غیر اللہ کے چڑھاووں سے، روکنے اور خبردار کرنے میں کوئی سرگرمی دکھاتی ہے، اُس تحریک کی بابت یہ کبھی سننے میں ہی نہ آیا ہو؟!!!

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک جماعت ’تحریک‘ ہونے کا دعویٰ کرے مگر غیر اللہ کی پرستش کے مظاہر جوکہ ہمارے یہاں چارسو پھیلے ہوئے ہیں، اُن سے روکنے اور خبردار کرنے کی بابت وہ جماعت اپنے یہاں کوئی کارگزاری نہ دکھا سکے سوائے اپنی کتب میں پائی جانے والی ردِ شرک پر مبنی بعض تحریروں کے!

تحریک ہو اور شرک کے رائج ِ عام مظاہر سے روکنے کیلئے وہ اپنے پاس تحریروں کے چند حوالے ہی رکھتی ہو؟!!!

’اسلامی ریاست‘ سے متعلقہ مضامین کیا اس بات سے کفایت کرتے ہیں کہ ایک تحریک جو نبوی منہج پہ چلنے کی دعویدار ہو لوگوں کو شرک سے روکتی کبھی نظر ہی نہ آتی ہو؟! ’انقلاب‘ سے متعلقہ طویل وعریض مباحث کیا اِس سادہ فرض سے کفایت کرتے ہیں کہ انبیاء کے طریقے پر چلتے ہوئے وہ تحریک لوگوں کو خدا کے ماسوا ہستیوں کو پکارنے سے روکتی اور حاجت روائی کیلئے ان ہستیوں سے دعائیں کرنے کے گناہ سے چیخ چیخ کر خبردار کرتی کبھی دیکھی ہی نہ گئی ہو؟!

بے شک ”قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں“ برصغیر کے تحریکی حلقوں یا عرب کے بھی اُن حلقوں کے حق میں، جن کو مدرسہء ابن تیمیہ و ابن عبد الوہاب تک پوری رسائی نہ تھی، ایک نہایت خوب پیش رفت تھی کہ جس نے لفظ ’الٰہ‘ اور ’عبادت‘ اور ’دین‘ کے معانی میں ’حاکمیت‘ سے متعلقہ مباحث بھی باقاعدہ طور پر شامل کرا دیے تھے۔۔ اور یوں اِس کتاب نے یہاں کے تحریکی حلقوں میں قرآن پڑھنے کے کئی افق ایک نئے سرے سے طلوع کروا دیے تھے۔۔(گو اِس سے پیدا ہوجانے والے ایک گونہ افراط سے متنبہ رہنا بھی ضروری ہے)۔۔۔۔ لفظ ’الٰہ‘ اور ’عبادت‘ اور ’دین‘ کی یہ تفسیر، جوکہ صرف یہیں کے فکری حلقوں کیلئے نئی تھی، بے شک ایک درست تفسیر تھی لیکن اِس تفسیر نے اُن ’پرانے‘ معانی کو ”الوہیت“ اور ”عبادت“ اور ”دین“ کے معانی سے بے دخل تو نہیں کر دیا جو غیر اللہ کو پکارنے کو شرک قرار دیتے ہیں؟!

یعنی ’الٰہ‘ اور ’عبادت‘ کے اِس ’حاکمیت‘ والے مفہوم نے، جوکہ حق ہے، اُن ’روایتی معانی‘ کو آخر کالعدم تو نہیں کردیا جو ’نذر‘ اور ’طواف‘ اور ’ذبیحہ‘ اور ’چڑھاوا‘ ایسی اشیاء کو غیر اللہ کیلئے صَرف کردینے ایسے رویوں کو ”عبادتِ غیر اللہ“ قرار دیتے ہیں؟!

’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘ نے کچھ ایسے معانی کا اثبات ضرور کیا جو یہاں کے ’مذہبی‘ حلقوں کیلئے نئے ہوں گے، مگر اِس کتاب نے ”الٰہ“ اور ”عبادت“ کے اُن معروف معانی کو باطل تو نہیں کر دیا جن کی رو سے یہاں کے بہت سے مزار، یہاں کی بہت سی ’درگاہیں‘ اور ’آستانے‘ اور بہت سے ’دربار‘ بھی عین اُسی طرح ”طاغوت“ قرار پاتے ہیں جس طرح ہماری اِنقلابی جماعتوں کے یہاں ’سیاسی اتھارٹیاں‘ طاغوت قرار پاتی ہیں؟!

تو پھر کیا ”توحید“ یہ ہے کہ ایک طرح کے طاغوت کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور دوسری طرح کے طاغوت کے خلاف سرگرم ہونے سے آخری حد تک احتراز کیا جائے؟!! بلکہ ’مذہبی‘ قسم کے جو ’طواغیت‘ ہیں (یعنی جن کو نذریں اور چڑھاوے چڑھتے ہیں) اور درگاہوں پر ہونے والا جو شرکِ بواح ہے اور جوکہ یہاں ہر طرف دیکھا جا سکتا ہے۔۔ عقیدہ کے ان ’روایتی‘ موضوعات کو ہماری یہ انقلابی جماعتیں ’فرسودہ‘ جانیں اور اِن کو اپنے امتیازی مباحث کے احاطہ میں پیر دھرنے تک نہ دیں، چاہے اِن درگاہوں اور اِن میں سرزد ہونے والے افعال پر ’طاغوت‘ اور ’شرک‘ ایسے شرعی الفاظ واصطلاحات کتنے ہی کیوں نہ صادق آتے ہوں؟!!

جبکہ دوسری طرف کچھ (روایتی) حلقے ہوں جو ”دعوتِ توحید“ کے زیر عنوان صرف اور صرف ’مذہبی‘ طواغیت (مانند وہ درگاہیں اور آستانے جہاں قبوری شرک ہوتا ہے) کے خلاف ہی آواز اٹھائیں جبکہ ’دنیوی‘ قسم کے طواغیت (مانند وہ سیاسی اتھارٹیاں جو ’خدا کے اتارے ہوئے‘ کے بجائے ’اپنے بنائے ہوئے‘ کے تحت حکم چلاتی ہیں) کی بابت یوں خاموش ہوں گویا یا تو وہ طاغوت نہیں اور یا پھر وہ آج دنیا میں کہیں پائے ہی نہیں جاتے؟! گویا اِن کے خیال میں مردوں اور قبروں کے سوا ’طواغیت‘ کا دنیا میں آج کہیں کوئی وجودنہیں!!!
تاہم اِس موخر الذکر طبقے کے ذکر کی جانب ہم ذرا دیر بعد آئیں گے۔

*****

 

تدریجی اور غیر محسوس انداز میں لوگوں سے ”شرک“ چھڑوا لینا!

 

رہ گیا یہ کہ ہماری یہ تبلیغی اور انقلابی جماعتیں اپنے ساتھ شامل ہوجانے والے افراد سے ایک غیر محسوس انداز میں شرک چھڑوا لینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔۔ تو بے شک یہ بات درست ہے۔

بلاشبہ ان جماعتوں میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو آپ کو خود بتائیں گے کہ وہ کس کس طرح شرک کرتے تھے اور پھر کیونکر اِن جماعتوں میں آکر اُن کو شرک چھوڑ دینے کی توفیق ملی۔ لوگوں کے شرک سے نکل آنے کا ذریعہ بننا بلاشبہ آدمی کے حق میں ایک سعادت ہے اور خدا کی میزان میں تو ہر نیک عمل کا وزن پڑتا ہے۔

پس اگر قدر دانی کی بات ہے تو ہم اِس کے قدردان تو بہرحال ہیں۔ لیکن بات اگر نبوی منہجِ تحریک کی ہے اور سوال اگر یہ ہے کہ آپ کی دعوت کا مرکزی مضمون بھی کیا عین وہی ہے جو رسولوں کی دعوت کا تھا۔۔ تو یہاں بہرحال ایک شدید جھول ہے۔

”توحید“ دراصل وہ حقیقت ہے جس کو آپ کے عمل کی ابتدا بھی ہونا ہے اور انتہا بھی۔ وہ قوی ترین حوالہ جو لوگوں کے آپ کے ساتھ جڑنے اور آپ سے ٹوٹنے کا ہونا چاہیے وہ یہی ”توحید“ ہے۔ آپ کا وہ جلی ترین مقدمہ جو آپ کے وجود اور آپ کی اِس اجتماعی جدوجہد سے پھوٹ پھوٹ کر نشر ہو رہا ہے”توحید“ ہی ہونا چاہیے۔آپ کی ولاء وبراء (یعنی دوستی ودشمنی) کی بنیاد اِسی ”توحید“ کو ہونا ہے اور یہ ”توحید“ کا حق ہے۔ یہی آپ کی پہچان اور یہی آپ کا اوڑھنا بچھونا۔ لوگ آپ سے محبت کریں تو ”توحید“ کے ناطے۔ آپ کیلئے لوگوں کی اِس محبت کے آڑے آئے تو بھی آپ کی یہی ”توحید“۔

البتہ اِن حضرات کا یہ کہنا کہ ’ہمارے ساتھ شامل ہونے سے پہلے ہی لوگ ہم سے اگر شرک کا عیب سنیں اور شرک ہی کے خلاف ہمیں سب سے زیادہ زور دیتا پائیں پھر تو عین ابتدا میں ہی وہ ہم سے بدک کھڑے ہوں گے اور تب تو بہت ہی تھوڑے لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو پائیں گے‘ اور یہ کہ ’مقصد لوگوں سے شرک چھڑوانا ہے اور وہ ہمارے ساتھ شامل ہوجانے کے بعد رفتہ رفتہ لوگ خود ہی چھوڑ جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات ہمیں اُنکو یہ کہنا تک نہیں پڑتا کہ شرک چھوڑ دو!‘۔۔ تو ’حکمت‘ اختیار کرنے کا یہ نکتہ اِس بات پر دلیل ہوگا کہ دعوتِ انبیاء کے اِس بنیادی ترین مضمون کی کوئی حیثیت سرے سے نہیں پہچانی گئی۔

حق یہ ہے کہ وہ ’بہت تھوڑے لوگ‘ ہی تو آپ کی ضرورت ہیں جو آپ سے شرک کا عیب سن کر آپ کی دعوت کے گرویدہ ہوں! اِسی سے تو آپ کی دعوت کا وہ رخ بنے گا اور آپ کی صدا میں وہ جان آئے گی جو ہزاروں لاکھوں افراد رکھنے کے باوجود آپ کی تحریک میں مفقود ہوتی ہے!

اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں ہی ہر قسم کی کامیابی رکھ چھوڑی ہے۔ من جملہ بے شمار دنیوی واخروی فوائد، توحید میں شدت اختیار کرنے کا جو تحریکی فائدہ برآمد ہوتا ہے وہ بھی کمال کا فائدہ ہے۔وہ زور اور بلاخیزی جو ایک سیلِ رواں میں ہوا کرتی ہے اپنے تحریکی عمل میں آپ کو یہیں سے تو ملے گی!

ہر قسم کی توڑ پھوڑ دنیا کے اندر نقصان دہ دیکھی گئی ہے سوائے شرک کے خاتمے کے ۔ رموزِ شرک کو توڑنے میں خدا نے وہ بے پناہ طاقت اور توانائی رکھی ہے بلکہ ایسی صالح توانائی رکھی ہے کہ حق کی تحریکیں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کیلئے اور اپنے بہت سے کٹھن فاصلے سمیٹنے کیلئے یہیں سے قوت پاتی ہیں۔

کفر بالطاغوت۔۔ شرک سے براءت۔۔ باطل سے الجھن۔۔ اللہ کے ہمسروں اور شریکوں کے خلاف برسر پیکار ہون۔۔۔۔ یہ تو طاقت کا وہ خزانہ ہے جو تحریکوں کی راہ میں بند سے بند راستے کھلوا دیتا ہے!

********

شرک کے خلاف محاذ اٹھانا اور لوگوں کو مشرک کہنا ایک چیز نہیں

 

یہاں ہم نے جو نکات اٹھائے ان کے حوالے سے عام طور پر جو ایک سوال سامنے آتا یا آسکتا ہے، یقینا ہم بھی اُس سوال سے غافل نہیں۔۔۔۔!

’کسی کو مشرک کہہ دینا تو بے حد خطرناک مسئلہ ہے، لہٰذا اِس منہج کو اختیار کر لینا کیونکر ایک صائب طریق کار ہو سکتا ہے؟‘ ہمارے تبلیغی و انقلابی ہر دو حلقوں کی جانب سے ’شرک کے خلاف دعوت کھڑی کرنے‘ کے حوالے سے یہ جو تحفظ ظاہر کیا جاتا ہے بلا شبہ وہ ایک برحق تحفظ ہے اور یہاں کے کچھ طبقوں کے ہاں پرورش پا جانے والے ’فتویٰ باز‘ اسلوب کو سامنے رکھا جائے تو ہمارے ان حضرات کا یہ تحفظ بے جا بھی ہرگز نہیں۔ البتہ جو بنیادی نکتہ اِس مضمون میں ہم نے اٹھایا ہے وہ سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ’کسی کو مشرک کہا جائے‘۔ لہٰذا ہماری درخواست ہوگی کہ گفتگو کا محور وہی رکھا جائے جس پر اِس موضوع کی اٹھان ہوئی ہے اور وہ ہے :

’معاشرے میں شرک کے خلاف ایک زوردار محاذ کھڑا کر دینا، عبادتِ غیر اللہ کی ہر ہر صورت سے ممانعت کو اپنی سب سے نمایاں تحریکی پہچان بنا لینا اور عبادت کو اللہ وحدہ لاشریک کیلئے خالص کر دینے کو اپنی دعوت کا ایک ایسا جلی عنوان بنا دینا کہ آپ کی دعوت کا جو شخص بھی اپنے لفظوں میں خلاصہ کرے اس میں یہی بات سب سے نمایاں ہوکر بیان ہونے میں آجایا کرے‘۔

’شرک کے خلاف برسر عمل ہونا‘ ہرگز ہرگز اِس بات کو لازم نہیں کہ آپ لوگوں کو ’مشرک‘ کہتے پھریں۔۔۔۔

جہاں کلمہ گو معاشرے ہیں وہاں لوگوں کو ’مشرک‘ قرار دینے کے معاملہ میں آپ جس جس احتیاط کے قائل ہیں ضرور آپ وہ سب کی سب احتیاطیں اختیار کریں۔ ”دعوتِ توحید“ کا مقصد لوگوں کو دائرہء اسلام سے خارج کرنا نہیں بلکہ دائرہء اسلام کے اندر لانا ہے۔ پس لوگوں پر کوئی حکم اور کوئی فتویٰ آپ نہیں لگانا چاہتے تو بے شک نہ لگائیں۔ ’لوگوں کو شرک سے روکنا‘ اور ’لوگوں پر مشرک ہوجانے کا فتویٰ لگانا‘ ہرگز لازم وملزوم نہیں۔ آپ موخر الذکر سے اجتناب کرتے ہوئے اول الذکر سے بخوبی عہدہ برآ ہوسکتے ہیں۔ البتہ اول الذکر سے عہدہ برآ ہونا ہے ایک بہت بڑا سوال اور ایک جان لیوا فرض۔

شرک کے خلاف برسر عمل نہ ہونے کے معاملہ میں پس یہ ہرگز کوئی عذر نہیں کہ ’بھائی یہ تو مسلمان معاشرہ ہے۔ یہاں کیسے ہم لوگوں کو مشرک قرار دینے لگ جائیں؟‘ کس نے کہا ہے کہ آپ لوگوں کو مشرک قرار دینے لگ جائیں؟ سوال تو صرف دو ہیں، جن کا نبوی منہج پہ چلنے کی دعویدار کسی بھی جماعت کو بہرحال جواب دینے ہیں:

1) کیا یہاں کے معاشروں میں پرستش اور عبادت کا شرک پایا جاتا ہے یا نہیں؟

 

2) اِس شرک سے چیخ چیخ کر روکنے اور خبردار کرنے والوں میں کیا آپ نظر آرہے ہیں یا نہیں؟

 

یہاں اگر شرک ہے تو شرک کی آپ شدومد سے مخالفت کیجئے۔ یہاں اگر عبادتِ غیر اللہ کے مظاہر پائے جاتے ہیں تو اِس عبادتِ غیر اللہ کیلئے دشمنی اور عداوت ظاہر کیجئے۔ یہاں اللہ مالک الملک کے ہمسر کھڑے کئے جاتے ہیں تو اِس کے خلاف لازماً آپ کو ایک محاذ برپا کرنا ہوگا۔ جہنم کے ان راستوں کے آڑے آنے کی ہر صورت اور ہر سبیل اختیار کرنا ہوگی۔ بلکہ اِس بات کو اپنی دعوت کا طرہء امتیاز بنانا ہوگا، یوں کہ اگر چند لفظوں میں کوئی آپ کی دعوت کا ذکر کرنے پہ آئے تو شرک سے آپ کا بیر رکھنا اُس میں سرفہرست ہو۔ شرک اور عبادتِ غیر اللہ کے خلاف آپ اُسی شدت سے بولنا اپنا امتیاز بنائیے جس شدت کے ساتھ اِس کے خلاف انبیاء بول بول کر گئے۔ ہاں لوگوں پر حکم لگانے میں آپ احتیاط کرنا ضروری جانتے ہیں، اِس لئے کہ یہ ایک کلمہ گو معاشرہ ہے، اور اُن کا معاملہ آپ اللہ پر چھوڑ دینا چاہتے ہیں ،تو یقینا یہ ایک درست بات ہے اور ایک علمی اسلوب۔

’لوگوں کی بابت احتیاط‘ ایک درست بات ہے البتہ شرک کے خلاف ایک زوردار تحریک کھڑی کردینے کی راہ میں یہ ہرگز کوئی رکاوٹ ہے اور نہ کوئی عذر۔

*****

 

جزئیات کی دعوت غلط نہیں

یقینا اس بات کی پوری گنجائش ہے کہ ایک جماعت کچھ جزئیات میں ہی اختصاص پیدا کرے، اور وہ جماعت اُن جزئیات کے لئے محنت اور کام کے حوالے سے ہی جانی پہچانی جائے۔۔۔۔

مثلاً۔۔۔اِس میں کوئی بھی حرج کی بات نہیں کہ کوئی ایک یا متعدد جماعتیں صرف جہادی عمل کیلئے مختص ہوں، کچھ گروہ غلبہء اسلام کے لئے ہی مصروف عمل ہوں اور ان کی دعوت اِسی امر کیلئے ہو۔ کچھ تعلیم کیلئے، کچھ سماجی خدمت کیلئے، کچھ تبلیغی سرگرمی کیلئے، کچھ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کیلئے، کچھ سیاسی جدوجہد یا اقامتِ حکومت الٰہیہ کیلئے وغیرہ وغیرہ۔

تاہم ایک ایسا گروہ جو اپنی دعوت اور محنت کے معاملہ میں دین کے کسی ایک یا چند اجزاء کیلئے ہی مختص ہوجانا چاہتا ہے، اُس کو دو چیزوں کا خیال بہرحال رکھنا ہوگا:

1) یہ گروہ اپنی عمومی وابستگی اُس وسیع تر طبقے کے ساتھ ہی یقینی بنائے جو دین کی اساس کو تھام کر کھڑا ہو، یعنی جو دعوتِ توحید کا حق ادا کر رہا ہو اور اپنی دعوت میں دین کی جامعیت کو برقرار رکھے ہوئے ہو، جو لوگوں کے ساتھ شرک اور توحید کے مسئلہ پر الجھنے کی شہرت رکھتا ہو اور باطل سے براءت رکھنا اُس کا امتیاز ہو۔ توحید کا داعی وہ جو وسیع تر طبقہ ہے اُس کے علماء ہی اِس گروہ کے علماء ہوں۔ اُس کے داعی اِس کے داعی ہوں اور اُس کے شعارات اِس کے شعارات۔ یعنی یہ جماعت اپنے آپ کو کسی بڑی جماعت یا کسی بڑے طبقہ کے ایک حصہ کے طور پر پیش کرے۔

2) یہ گروہ اپنے آپ کو دین کے ایک جامع پروگرام کے طور پر پیش نہ کرے۔ اپنے آپ کو اسلام کی کلی واساسی دعوت کے طور پر سامنے نہ لائے۔ خود کو ایک ایسی جماعت کے طور پر پیش نہ کرے کہ گویا یہ دین کی ایک مکمل دعوت رکھتا ہے۔ آپ دین کے کسی ایک ہی جزء کی دعوت دینا چاہتے ہیں تو بے شک دیجئے، اِس میں حرج کی کوئی بھی بات نہیں۔ اسلام کے کسی خاص شعبے کو اپنی محنت اور تحریک کا محور بنا لینے میں ہرگز کوئی غلطی نہیں البتہ بطور ایک ایسا گروہ جو ایک یا چند اجزاء کو اپنی محنت کا میدان بنائے ہوئے ہے، آپ کو اِس حد تک قانع ومتواضع ضرور رہنا ہوگا کہ امت میں اپنے لئے آپ اُس مقام کیلئے مصر نہ ہوں جوکہ ایک جامع دعوت کو لے کر چلنے والے طبقے یا جماعت ہی کا حق ہے۔

سارا خلط مبحث دراصل ان دو باتوں کو نظرانداز کرنے سے ہی جنم لیتا ہے نہ کہ بجائے خود اس بات سے کہ ایک گروہ کسی خاص جزء ہی کی دعوت دینے پر قدرت رکھتا ہے یا اُس جزء کی دعوت کی ہی زیادہ ضرورت محسوس کرتا ہے۔

ایسی جماعت اس بات سے تو البتہ خاص طور پر متنبہ رہے کہ وہ دین کی کلیات کو اپنے اُن جزئیات میں محصور کردے۔ مثلاً بعثتِ انبیاء کی اصل غایت ’غلبہء اسلام‘ یا ’حکومتِ الٰہیہ کا قیام‘ یا ’انقلاب‘ کو قرار دینا۔

اور اِس بات سے تو وہ جماعت شدید متنبہ رہے کہ اُسکی دعوت میں اسلام کے مسلمات ہی بدل کر رہ جائیں، مثلاً الٰہ (یعنی لائقِ پرستش) کو فاعلیت کے معنیٰ میں لینا اور یوں لا الہ الا اللہ کا مطلب ”نہیں کوئی عبادت اور پرستش کے لائق مگر اللہ“ کے بجائے یہ کرنا کہ ’اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین اور اُس کے غیر سے کچھ نہ ہونے کا یقین‘۔ یا مثلاً لا الٰہ الا اللہ کو جو کہ علم، عمل، یقین، کردار اور سماج کے اندر ”کفر بالطاغوت اور ایمان باللہ“ کو ایک حقیقت بنا دینا ہے محض ’ یقین کی محنت‘ کے طور پر لینا، جوکہ پیچھے واضح کیا جا چکا۔

*****

 

”توحیدِ عبادت“ اور ہمارے بعض روایتی داعیانِ توحید

 

”عبادت“ ایک بے حد جامع لفظ ہے مگر بہت سے تاریخی عوامل ایسے ہوئے ہیں کہ ذہنوں کے اندر اِس کا مفہوم سکڑ کر رہ گیا ہے اور عمومی طور پر قلبی وبدنی عبادات تک ہی محدود ہو ٹھہرا ہے۔ سماجی زندگی میں کسی کی بات کو حرفِ آخر جاننا اور روا وناروا کے سب پیمانے اُسی سے لینا ”عبادت“ نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ اصولِ اسلام نہایت صریح ہیں کہ کسی کو انسانی معاشروں کے لئے صحیح اور نا صحیح کے پیمانے صادر کرنے کا مطلق حق دینا اُس کو خدا بنانا ہے۔ کسی کے ٹھہرائے ہوئے جائز وناجائز کو تسلیم کر لینا اُس کی عبادت کرنا ہے۔

ہمارے روایتی داعیانِ توحید جو ایک لگے بندھے انداز میں ہی توحید بیان کرتے ہیں عموماً اس بات کا ادراک نہیں کر پاتے۔ اِسی وجہ سے شرک کی ایک بہت بڑی قسم اُن کے بیان میں آنے سے رہ جاتی ہے۔ معبودانِ باطلہ کی ایک نہایت اہم صنف اُن کی دعوت کے مضامین میں روپوش رہتی ہے۔ دراصل وہ بہت سی کتب جو اہل سنت کے یہاں رد شرک پر لکھی گئی تھیں، خاص اُس دور کے بتوں سے ہی نبردآزما رہی تھیں، (اہل سنت کا خاصہ ہے کہ اپنے دور کی گمراہیوں اور مسئلوں پر اپنی توجہ مرکوز کر لیتے ہیں، مگر بعد کی نسلوں کو بعض اوقات اِس سے یہ مغالطہ لگ جاتا ہے کہ دین کی ترجمانی یا تطبیق اِس کے سوا کچھ نہیں ہے)۔ اِس سے ہمارے بعض روایتی حلقوں میں یہ ذہن بن گیا ہے کہ ”عبادت“ صرف انہی اشکال میں محصور ہے جو پچھلی چند صدیوں میں لکھی گئی بعض کتب کے اندر بیان ہوئی ہیں اور جن کے حوالے سے عبادتِ غیر اللہ کی شدید مذمت اور مخالفت ہوئی ہے، یعنی قبور اور دعا وغیرہ کا شرک۔

معاملہ یہ ہے کہ عالم اسلام کے اندر تیرہ صدیوں تک قریب قریب کبھی بھی حاکمیت والے شرک کی نوبت نہیں آئی تھی۔ یہ فتنہ اِس بڑی سطح پر آج ہی جا کر پیدا ہوا کہ نماز روزہ اللہ کیلئے اور قانون غیر اللہ کا۔ سماجی زندگی میں روا وناروا کا تعین مطلق طور پر انسانی عقل ودانش اور انسانی اداروں کے سپرد کر دیا گیا، تو یہ واقعہ اِن آخری ادوار کے اندر جاکر ہی رونما ہوا۔ اصولِ اسلام اِس بات پر نہایت صریح ہیں کہ یہ چیز غیر اللہ کی عبادت ہی میں آتی ہے۔ مگر چونکہ یہ بات ردِ شرک کی ان کتب میں زیادہ وارد نہیں ہوئی جو پچھلی صدیوں میں باطل کے بطلان کیلئے امت کے نہایت قابل اعتماد ائمہ کے ہاتھوں تصنیف ہوئیں، نہ ہی شرک کی یہ صنف پچھلی صدیوں میں داعیانِ توحید کے ہاں بہت زیادہ مذکور پائی گئی (جسکی وجہ ظاہر و باہر ہے)، اِس لئے ہمارے اِن روایتی طبقوں کے ہاں یہ ایک ذہن سا بن گیا کہ حاکمیت کے شرک پر بات کرنا عقیدہ کے تاریخی موضوعات سے انحراف ہے! آخر پچھلی صدیوں میں ائمہء توحید کی جانب سے حاکمیت کے شرک کا رد جو نہیں کیا گیا!

یہ الگ بات، کہ پچھلی صدیوں میں امت کے اندر ’حاکمیت کا شرک‘ کبھی پایا ہی نہیں گیا تھا!

یہاں تک کہ یہاں کے بعض طبقے حاکمیتِ غیر ا للہ پر ہرگز کوئی بات نہ کرنے کو، اور سماجی زندگی میں عبادتِ طاغوت پر آخری درجے کی خاموشی اختیار کر رکھنے کو ’سلف کا منہج‘ بھی باور کرتے ہیں!

جہاں تک اصولِ اسلام کا تعلق ہے تو وہ اس پر بے حد واضح اور صریح ہیں کہ کسی کو انسانی زندگی کیلئے ضابطے اور پیمانے صادر کرنے کا حق دینا اُس کی عبادت کرنا ہے اور اُس کو خدائی کے منصب پر فائز کر دینا اور اللہ رب العزت کے ساتھ باقاعدہ شریک کر دینا، کیونکہ جائز وناجائز متعین کرنے کا مطلق حق رکھنا اللہ رب العالمین کا خاصہ ہے:

إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ (یوسف: 40)

”حکم دینا صرف اللہ کو سزاوار ہے، اُس نے یہ ٹھہرا رکھا ہے کہ تم نہ عبادت کرو مگر ایک اُسی کی ہی، یہ ہے سیدھا ٹھیٹ طریقِ بندگی، مگر لوگوں کی اکثریت جانتی نہیں ہے“۔

وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا(الکہف: 26)

”اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا“

أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (ال اَعراف:54)

خبردار! اُسی کے لئے سزاوار ہے تخلیق کرنا، اور اُسی کے لئے سزاوار ہے حکم صادر کرنا، بہت برگزیدہ ہے اللہ جہانوں کا پروردگار!

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ (الشوری:21)

”تو کیا اِن کے شریک ہیں جنہوں نے اِن کیلئے وہ طریقِ زندگی متعین کر رکھا ہے جس کا اللہ نے کہیں حکم نہیں دیا“؟

وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ  (الاَنعام: 121)

”اور اگر تم نے ان کی بات تسلیم کر لی تو یقینا تم مشرک ہو“

اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ  (التوبۃ: 31)

”انہوں نے پکڑ رکھا ہے اپنے احبار ورہبان کو ہی، اللہ کو چھوڑ کر اپنا رب، اور مسیح بن مریم کو بھی۔ جبکہ اِن کو نہ حکم دیا گیا تھا مگر یہ کہ یہ عبادت کریں ایک ہی الٰہ کی، کوئی الٰہ ہے ہی تو نہیں مگر ایک وہی، پاک ہے وہ اس سے جو یہ (اُس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں“

سورہء توبہ کی اس آیت کی تفسیر میں، امام ابن کثیر ودیگر مفسرین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس توضیح کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے مشہور صحابیِ عدی بن حاتم کو سورہء توبہ کی اِس آیت کی بابت کر کے دی تھی۔ چونکہ اس آیت میں مذکور ہوا ہے کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار و رہبان کو اللہ کے بجائے اپنا رب بنا لیا تھا، جبکہ وہ ایک ہی الٰہ کی بندگی کرنے کے مامور تھے۔۔ تو اِس پر عدی بن حاتم، جو پیش ازاں نصرانی تھے، نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس آیت کی حقیقت دریافت کرنے کیلئے پوچھا اور کہا کہ ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَما اِنہم لم یکونوا یعبدونہم، ولکنہم کانوا اذا اَحلوا لہم شیئا استحلوہ، واذا حرموا علیہم شیئا حرموہ، [فتلک عبادتہم]

(قال ال اَلبانی: اَخرجہ الترمذی فی السنن (309) والطبرانی فی المعجم الکبیر (17: 92) والبیہقی فی السنن (10: 116)۔۔ السلسۃ الصحیحۃ: الباب:3293، الجزء: 26، الصفحۃ: 96)

”ہاں وہ ان کی پوجا پاٹ نہیں کرتے تھے، لیکن جب وہ ان کے لئے کوئی چیز حلال ٹھہرا دیتے تو وہ اُسے اپنے لئے حلال ٹھہرا لیتے، اور جب وہ ان پر کوئی چیز حرام ٹھہرا دیتے تو وہ اُسے اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیتے، تو یہی تو ہے ان کا ان کی عبادت کرنا“

البانی رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ بالا مقام پر ہی سورہ توبہ کی اِس آیت کے ضمن میں بحوالہ عبد الرزاق، طبری، بیہقی، و ابن عبد البر، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک اثر نقل کیا ہے:

سئل حذیفۃ - رضی اللہ عنہ - عن ہذہ الآیۃ (اتخذوا اَحبارہم ورہبانہم اَرباباً من دون اللہ)؛ اَکانوا یصلون لہم؟ قال: لا، ولکنہم کانوا یُحِلُّؤنَ لہم ما حرَّم اللّٰہُ علیہم فیستحلونہ، ویحرمون علیہم ما اَحلَّ اللّٰہُ لہم فیحرمونہ، فصاروا بذلک ( اَرباباً)

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اس آیت کی بابت دریافت کیا گیا: کیا وہ ان کیلئے نماز (سجدہ ورکوع) بجا لاتے تھے؟ حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: نہیں، بلکہ جب وہ ان کیلئے اللہ کے حرام ٹھہرائے کو حلال ٹھہرا دیتے تو وہ اسے اپنے لئے حلال ٹھہرا لیتے اور وہ ان پر اللہ کے حلال ٹھہرائے کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ اس کو خود پر حرام ٹھہرا لیتے، سو اِس طرح وہ (اُن کے لئے) رب بن جاتے تھے۔

فیصلہ و قانون کے باب میں شرک کی بابت شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:

ذم اللہ عز وجل المدّعین الایمان بالکتب کلہا، وہم یترکون التحاکم الی الکتاب والسنۃ، ویتحاکمون الی بعض الطواغیت المعظمۃ من دون اللہ، کما یصیب ذلک کثیرا ممن یدعی الاسلام وینتحلہ فی تحاکمہم الیٰ مقالات الصابئۃ الفلاسفۃ اَو غیرہم، اَو الیٰ سیاسۃ بعض الملوک الخارجین عن شریعۃ الاسلام (مجموع فتاویٰ ابن تیمیۃ، جلد 12، صفحۃ 339)

”اللہ عزوجل نے ان لوگوں کو مذموم ٹھہرایا ہے جو سب کی سب (آسمانی) کتابوں کے ساتھ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اپنے فیصلے کتاب اور سنت سے کروانے پر نہیں آتے، بلکہ اپنے فیصلے ان بعض طاغوتوں کے پاس لے جاتے ہیں جن کی اللہ کے ماسوا تعظیم ہوتی ہے۔ اِسی مصیبت میں وہ بہت سے لوگ گرفتار ہیں جو اسلام کے دعویدار ہیں اور اسلام کو بطورِ مذہب اختیار کرتے ہیں مگر وہ فیصلہ کیلئے صابئہ فلاسفہ وغیرہ کے اقوال کی جانب رجوع کرتے ہیں، یا بعض ایسے بادشاہوں کے طرز حکومت کی جانب رجوع کرتے ہیں جو شریعتِ اسلام سے خروج کرتے ہیں“

شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے اِس بیان سے واضح ہے کہ اہلسنت کے نزدیک غیراللہ کی جانب فیصلہ وقانون کیلئے رجوع کرنے کا عین وہی حکم ہے جو غیر اللہ کی جانب ہدایت کیلئے رجوع کرنے کا ہے۔ عقیدہ میں فلاسفہ کی اتباع کرنا جتنا برا ہے اتنا ہی برا یہ ہے کہ فیصلہ وقانون میں عقولِ مغرب کی جانب تحاکم کیا جائے۔ دونوں ایک ہی درجے کی گمراہی ہیں اور ایک ہی درجے کا شرک۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ نواقض اسلام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

چوتھا، جو شخص یہ سمجھے کہ کوئی ہدایت یا قانون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور شریعت وقانون سے جامع تر یا مکمل تر ہے یا یہ کہ کسی اور کا حکم وقانون آپ کے حکم وقانون سے بہتر ہے مثلاً وہ شخص جو طاغوتوں کے حکم وقانون کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے اور آپ کے قانون پر ترجیح دے، تو ایسا انسان کافر ہے۔

(ملاحظہ فرمائیے: نواقضِ اسلام، از محمد بن عبد الوہاب)

علاوہ ازیں، محمد بن عبد الوہاب کا مشہورِ عام رسالہ ”معنی الطاغوت ورؤوس اَنواعہ“ جوکہ ہمارے اس سلسلہ رسائل توحید میں بھی آگے چل کر آئے گا، اِس موضوع پر یہ واضح کر دینے کیلئے کافی ہے کہ اصولِ اہلسنت میں ’دین‘، ’عبادت‘ اور ’الٰہ‘ کے مضامین میں مسئلہء حاکمیت کو کس قدر اہمیت حاصل ہے اور شرک وتوحید کے مباحث میں یہ کس قدر عظیم مبحث ہے۔ اِس رسالہ کے اندر ”انواعِ طاغوت“ کا بیان شروع ہوتا ہے تو طاغوت ہستیوں میں پہلے نمبر پر شیطان کا ذکر ہوتا ہے تو دوسرے اور تیسرے نمبر پر ”طاغوت“ کا ذکر یوں آتا ہے:

دوسرا: وہ ستم گر حاکم جو اللہ کے احکام وقوانین کو اپنی جگہ پر نہ رہنے دے۔جس کی دلیل ہے:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا  (النساء: 60) ”کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہیں زعم ہے کہ وہ ایمان لے آچکے اُس پر جو تیری طرف نازل ہوا اور جو تجھ سے پہلے نازل ہوا، (مگر)چاہتے ہیں کہ یہ اپنے فیصلے لے کر جائیں طاغوت کے پاس ہی، جبکہ وہ باقاعدہ مامور تھے اس بات کے کہ طاغوت کے ساتھ کفر کریں، جبکہ شیطان ان کو بھٹکا کر گمراہی میں بہت دور لے جانا چاہتا ہے“

تیسرا: وہ شخص جو غیر ما انزل اللہ کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ جس کی دلیل ہے: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ  ”اور جو شخص نہ فیصلہ کرے اس (شرع) کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں“

(دیکھئے رسالہ: معنی الطاغوت ورؤوس اَنواعہ، از محمد بن عبد الوہاب)

مسئلہء حاکمیت کا باقاعدہ طور پر توحید الوہیت کے مباحث میں شامل ہونا، موحدین کے ہاں ایک واضح و معلوم حقیقت ہے۔ ’حاکمیت‘ کے موضوع پر ”توحید“ کی الگ سے ایک قسم ایجاد کرنا خوامخواہ کا ایک تکلف ہے اور ائمہء علم کے تسلسل سے ہٹ جانے میں شمار ہوگا۔ مسئلہء حاکمیت کی سب سے بڑھ کر اہمیت ہے ہی یہ کہ یہ ”توحیدِ الوہیت“ میں آتا ہے۔ اس سلسلہ میں سعودی عرب کی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ وال اِفتاءکا ایک فتویٰ بھی ملاحظہ ہو:

سوال: داعیوں میں سے بعض لوگوں نے ’توحیدِ حاکمیت‘ کا بالاہتمام ذکر کرنا شروع کر دیا ہے، یوں کہ اس کو توحید کی تین معروف اقسام کے علاوہ ایک قسم کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔ تو کیا یہ چوتھی قسم، ان تین اقسام میں سے ہی کسی قسم میں شمار ہوتی ہے یا نہیں، اور اس صورت میں ہم اس کو الگ سے ایک قسم شمار کریں، تاآنکہ اس کا اہتمام کرنا ہم پر واجب قرار پائے؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اپنے زمانے میں توحیدِ الوہیت (کے نشر ودعوت) کا اہتمام کیا کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ لوگ اس پہلو سے کوتاہ ہو گئے ہیں، جبکہ امام احمد نے اپنے زمانے میں توحید اسماءو صفات (کے نشر ودعوت) کا اہتمام کیا کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ لوگ توحید میں اس پہلو سے کوتاہ ہو گئے ہیں۔ مگر آج لوگ توحید حاکمیت کے معاملہ میں کوتاہ ہو رہے ہیں لہٰذا ہمیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایسا کہنا کہاں تک صحیح ہے؟

 جواب:توحید کی تین ہی اقسام ہیں: توحیدِ ربوبیت، توحیدِ الوہیت، اور توحیدِ اسماءوصفات۔ چوتھی کوئی قسم نہیں۔ حکم بما انزل اللہ توحیدِ الوہیت ہی میں داخل ہے، کیونکہ یہ عبادت کو اللہ سبحانہ وتعالی کیلئے کردینے کی ہی ایک قسم ہے۔ جبکہ عبادت کی سب اقسام توحیدِ الوہیت ہی میں داخل ہیں۔ حاکمیت کو الگ سے توحید کی ایک قسم بنا دینا ایک نیا کام ہوگا جس پر ائمہ میں سے ہمارے علم کی حد تک کسی ایک کا قول نہیں پایا جاتا۔ ہاں ان میں کسی نے اجمال سے کام لیا اور توحید کی دو ہی قسمیں کیں؛ توحیدِ معرفت و اثبات، جوکہ توحیدِ ربوبیت اور توحید اسماءوصفات پر مشتمل ہے۔ اور توحیدِ طلب وقصد، جوکہ توحیدِ الوہیت ہے۔جبکہ ائمہ میں سے کچھ نے تفصیل کی اور توحید کی تین قسمیں بتائیں جیسا کہ پیچھے گزر چکا۔ اللہ اعلم۔ واجب یہ ہے کہ پوری کی پوری توحیدِ الوہیت ہی کا اہتمام کیا جائے، اور شرک کے خلاف بات کرنے سے ہی آغاز کیا جائے، کیونکہ یہی گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے، اور تمام اعمال کو برباد کر دینے کا موجب، اور اس کا مرتکب جہنم میں ہمیشگی پانے والا۔ انبیاء سب کے سب اللہ کی عبادت اور شرک کے رد سے ہی آغاز کرتے ہیں۔ جبکہ اللہ نے فریضہء دعوت ودیگر امور دین میں انبیاء ہی کی اتباع اور انہی کے منہج پہ چلنے کا ہمیں حکم دیا ہے۔ نیز توحید کی تینوں ہی انواع کا اہتمام ہر زمانے میں واجب ہے؛ کیونکہ شرک بھی اور اسماء وصفات کی تعطیل بھی ہر زمانے میں ہی موجود رہے ہیں۔ بلکہ آخری زمانے میں ان دونوں کا واقع ہونا اور ان کے خطرے کا شدید ہونا کہیں زیادہ ہے، اور اس کا مسئلہ بھی کثیر مسلمانوں پر مخفی ہے۔ ان دونوں (گمراہیوں) کے داعی زیادہ بھی ہیں اور سرگرم بھی۔ نہ شرک کا واقع ہونا شیخ محمد بن عبد الوہاب کے زمانے میں محصور ہے اور نہ اسماءوصفات کو معطل ٹھہرایا جانا امام احمد کے زمانے تک محدود ہے، جیسا کہ سوال میں بولا گیا ہے۔ اس کے برعکس مسلم معاشروں میں یہ دونوں (فتنے) سنگین تر بھی ہیں اور ان کی بہتات بھی ہے۔ پس ان دونوں کے معاملہ میں ضرورت ہے کہ لوگوں کو ان میں پڑنے سے روکنے والے اور ان کی سنگینی سے خبردار کرنے والے پائے جائیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ اللہ کے احکامات کی بجاآوری اور اس کے ممنوعات سے اجتناب اور اس کی شریعت کی تحکیم پر استقامت اختیار کرنا تحقیقِ توحید اور شرک سے بچنے کے معنیٰ میں ہی داخل ہے۔ اور توفیق دینے والا اللہ ہے۔ وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔ دیکھئے: فتاوی اللجنۃ الدائمۃ - المجموعۃ الثانیۃ - جمع وترتیب: احمد بن عبد الرزاق۔ فتوی نمبر 18870 فتوی میں وارد پانچواں سوال اور اس کا جواب۔ فتویٰ دینے والے علماء ہیں: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز۔ عبد العزیز آل الشیخ۔ عبد اللہ بن غدیان۔ صالح الفوزان- بکر ابو زید انٹرنیٹ پر دیکھئے

السؤال: بداَ بعض الناس - من الدعاۃ- یہتم بذکر توحید الحاکمیۃ، بالاِضافۃ اِلیٰ اَنواع التوحید الثلاثۃ المعروفۃ، فہل ہذا القسم الرابع یدخل فی اَحد الاَنواع الثلاثۃ اَم لا یدخل، فنجعلہ قسما مستقلاً حتیٰ یجب اَن نہتم بہ؟ ویقال: اِن الشیخ محمد بن عبد الوہاب اہتم بتوحید الاَلوہیۃ فی زمنہ، حیث ر اَی الناس یقصرون من ہذہ الناحیۃ، والاِمام اَحمد فی زمنہ بتوحید الاَسماءوالصفات، حیث ر اَی الناس یقصرون فی التوحید من ہذہ الناحیۃ، و اَما الآن فبداَ الناس یقصرون نحو توحید الحاکمیۃ، فلذلک یحب اَن نہتم بہ، فما مدیٰ صحۃ ہذا القول؟

الجواب: اَنواع التوحید ثلاثۃ: توحید الربوبیۃ، وتوحید الاَلوہیۃ، وتوحید الاَسماء والصفات، ولیس ہناک یدخل فی توحید الاَلوہیۃ، لاَنہ من اَنواع العبادۃ للہ سبحانہ، وکل اَنواع العبادۃ داخل فی توحید الاَلوہیۃ، وجعل الحاکمیۃ نوعا ستقلاً من اَنواع التوحید عمل محدث، لم یقل بہ اَحد من الاَئمۃ فیما نعملم، لکن منہم من اَجمل وحعل التوحید نوعین: توحید فی المعرفۃ والاِثبات؛ وہو توحید الربوبیۃ وتوحید الاَسماء والصفات۔ قسم رابع، والحکم بما اَنزل اللہ وتوحید فی الطلب والقصد؛ وہو توحید الاَلوہیۃ، ومنہم من فصل فجعل التوحید ثلاثۃ اَنواع کما سبق۔ واللہ اَعلم۔ ویجب الاہتمام بتوحید الاَلوہیۃ جمیعہ، وببداَ بالنہی عن الشرک؛ لاَنہ اَعظم الذنوب ویحبط جمیع الاَعمال، وصاحبہ مخلد فی النار، والانبیاء جمعیعہم یبدؤون بالاَمر بعبادۃ اللہ والنہی عن الشرک، وقد اَمرنا اللہ باتباع طریقہم والسیر علی منہجہم فی الدعوۃ وغیرہا من اَمور الدین۔ والاہتمام بالتوحید باَنواعہ الثلاثۃ واجب فی کل زمان؛ لاَن الشرک وتعطیل الاَسماء ولاصفات لایزالان موجودین، بل یکثر وقوعہما ویشتد خطرہما فی آخر الزمان، ویخفی اَمرہما علی کثیر من المسلمین، والدعۃ اِلیہما کثیرون ونشیطون۔ ولیس وقوع الشرک مقصورا علی زمن الشیخ محمد بن عبد الوہاب، ولا تعطیل الاَسماءوالصفات مقصورا علی زمن الاِمام اَحمد - رحمہا اللہ -، کما ورد فی السؤال، بل زاد خطرہما وکثر وقوعہما فی مجتمعات المسلمین الیوم، فہم بحاجۃ ماسۃ اِلی من ینہی عن الوقوع فیہما ویبین خطرہما۔ مع العلم باَن الاستقامۃ علی امتثال اَوامر اللہ وترک نواہیہ وتحکیم شریعتہ - کل ذلک داخل فی تحقیق التوحید والسلامۃ من الشرک، وباللہ التوفیق، وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم

 

چنانچہ یہ بات از حد واضح ہے کہ ’حکم وقانون‘ کا باب بھی ”عبادت“ کے مضامین میں عین اسی طرح شامل ہے جس طرح کہ ’نذر نیاز و زیارت‘ کا باب۔ پچھلی صدیوں میں علمائے امت کے یہاں ایک غیر معمولی کثرت کے ساتھ اِس کا ذکر نہیں ہوا تو اُس کی وجہ یہ تھی کہ اس امت کا اجتماعی نظام اللہ کی شریعت پر ہی قائم رہا تھا جس کے باعث ’حکم وقانون‘ کے باب میں شرک کی نوبت ویسے نہیں آئی جیسے کہ ’نذر نیاز وزیارت‘ کے باب میں آئی رہی تھی۔ توحید کا موضوع البتہ یہ بھی ہے اور وہ بھی۔

”توحید“ کی بنیاد پر ایک جامع انداز کی دعوت کھڑی کرنا اس وقت کا اہم ترین فرض ہے۔ اِس پر دو رائیں ہو ہی نہیں سکتیں کہ انبیاء کے مشن کا اصل الاصول یہی ہے۔


 

(1) اُردو میں ’والہانہ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ گو یہ استعمال میں عربی سے ذرا مختلف ہے
(2) النحل: 120ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک امت تھا، اللہ کا فرمانبردار، یکسو (موحد) عبادت گزار“

(3) ’اسباب کی فاعلیت کی نفی‘ ہم کسی سلبی معنیٰ میں ’تبلیغی دعوت‘ کے ساتھ منسوب نہیں کر رہے۔ یعنی ہم یہ نہیں کہ رہے کہ ’تبلیغی دعوت‘ میں اسباب کی فاعلیت کی مطلق نفی کرائی جاتی ہے۔ بلاشبہ تبلیغی حلقوں میں ’اسباب کی فاعلیت کی نفی‘ جس معنیٰ میں کرائی جاتی ہے وہ ایک نہایت صالح معنیٰ ہے اور ہم بھی اس کی دل سے قدر کرتے ہیں اور اس کی ضرورت کے بھی ہم بلاشبہ داعی ہیں۔ البتہ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ کلمہء لا الٰہ الا اللہ کے تحت بیان ہونے والی وہ عظیم الشان حقیقت جو انبیاء کی دعوت کا عنوان رہی ہے اُس کا مفہوم بہرحال یہ نہیں ، چاہے یہ بات فی نفسہ کتنی ہی اچھی اور اپنی جگہ کتنی ہی مستحسن ہو۔
(4) بخاری میں ہرقل اور ابوسفیان کا مکالمہ تفصیل سے آتا ہے، اِس کا متعلقہ حصہ یوں ہے:
قال: فماذا یاَمرکم بہ؟ قال: یاَمرنا اَن نعبد اللہ وحدہ لا نشرک بہ شیئاً، وینہانا عما کان یعبد اَباؤنا، ویاَمرنا بالصلاۃ والصدقۃ والعفاف والوفاء بالعہد و اَداءالاَمانۃ۔
یعنی: ہرقل نے دریافت کیا: وہ (نبی علیہ السلام) تمہیں کیا کرنے کو کہتا ہے؟ ابوسفیان نے جواب دیا: وہ ہمیں کہتا ہے کہ ہم اللہ کی عبادت کریں، تنہا اُسی کی، اُس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ وہ ہمیں روکتا ہے ان معبودوں سے جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے۔ اور وہ ہمیں کہتا ہے ادائے صلوٰۃ کریں، (خدا کی راہ میں) خرچ کریں، عفت وپاکیزگی اختیار کریں، ایفائے عہد کریں اور امانت حقدار کو دیں“
(صحیح بخاری: 2327، کتاب الجہاد والسیر، باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم الناس الیٰ الاسلام)
کس قدر سادہ اور بے ساختہ الفاظ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دشمن آپ کی دعوت کا خلاصہ کر کے رکھ دیتا ہے اور وہ اسلام کے اساسی مضمون کو کس جامعیت کے ساتھ سامنے لے آتا ہے۔ آپ تصور کرسکتے ہیں ماحول کے کسی شخص کو آج کی کسی تحریک کے مقدمہ case کا خلاصہ کرنے کیلئے کہا جائے تو ہمیں کیسی کیسی پیچیدہ اصطلاحات سننے کو ملیں، جبکہ اسلام کے اساسی مضمون کا ذکر پھر بھی شاید اُس کے بیان میں نہ آپائے۔