|
|
||||||||||
دعا کالغوی اور شرعی معنیٰ اس باب میں مصنف نے دعا کے لغوی اور شرعی معانی پرمختلف اہل علم کے اقوال پیش کرنے کے بعد ثابت کیا ہے کہ اس باب میں جتنے اقوال بھی ملتے ہیں وہ مصنف کی تعریف(جواہل علم ہی کی اختیارکردہ ہیں) دعا عبادت اور دعا طلب میں شامل ہوتی ہیں انہیں الگ سے دعا کی مستقل تعریف میں شمار نہیں ہونا چاہیے۔ عر ب دعا کو طلب اور مانگنے کےلئے استعمال کرتے ہیں ۔ یوں تو دعا کا فعل ، فعل متعدی ہے اور عموماً فعل متعدی بغیر حرف جار کے استعمال ہو تے ہیں لیکن عرب خیر اور فلاح مانگنے کےلئے حرف جار’ باء‘ یا حرف جار’ لام‘ استعمال کرتے ہیں جبکہ بدد عا کے لئے حرف جار علیٰ استعمال کر تے ہیں ۔ بھلائی طلب کرنے کے لئے کہتے ہیں :’ دُعتُ لہ بخیر ‘ میں نے بھلائی کے لئے اس کے لئے دعا کی جیسے ’وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُواْ يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ‘ (اعراف : 134) اس آیت مبارک میں حرف جار لام بھلائی کی طلب کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ جہاں تک دعا کا معنیٰ طلب اور مانگنے کا اہل لغت نے کیا ہے تو یہ مطلق طلب نہیں ہے بلکہ ضعیف اور حاجت مند جب اپنے سے بڑے سے کچھ طلب کر تا ہے تو اسے عربی زبان میں دعا کہتے ہیں ۔ دعا کا دوسرا معنی عبادت ہے : سورت بقرہ میں ’أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ‘۔ اس آیت میں دعا کا ایک اور مصدر ’دَعوَۃ‘ استعمال ہو اہے اور مفسر قرآن ابواسحاق الزجاج رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں اس سے مراد ”عبادت “ لیا ہے ، ابو منصور ازھری لغوی رحمۃ اللہ علیہ نے سورت اعراف کی آیت 194میں ’ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ ‘ : میں دعا (جوآیت کے لفظ تدعون کامصدرہے ) سے مراد عبادت لیا ہے یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن دوسر ی ہستیوں کی تم عبادت کرتے ہو۔ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف ایک قول منسوب ہے کہ آپ’لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَهًا ‘(سورۃ کہف:14)کی تفسیر میں نَدعُوَسے نَعبُدُ مراد لیا ہے ۔ اسی طرح قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں صراحتاً موجود ہے کہ دعا کا ( ایک) مطلب عبادت ہے ۔ سورت صافات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’ أَتَدْعُونَ بَعْلًا : سورت شعراء میں فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ (آیت:213) کا مطلب ہے کہ لاتعبدہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’اَلدعاءُ ھُوَالعِبَادَۃ‘ اصل عبادت تو ہے ہی دعا ۔
’ الرغبتہ الی اللہ عَزَّوَجَلَّ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف میلان اور جھکاؤ ہونا ۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ میلان اور کھنچاؤ دعا کی لازمی صفت ہے ۔دعا مانگنے والے میں پہلے میلان ہی پیدا ہو تا ہے اوریہی دعا مانگنے کا سبب بنتا ہے اس لئے اسے ایک الگ معنی کے طور پر لینے کی بجائے دعا کے لازمی امور میں سے ماننا زیادہ بہتر ہے ۔ الاستغاثہ اور استعانہ :دعا کا چوتھا معنی اہل علم نے استغاثہ اور استعانہ لیا ہے ۔ سورت بقرہ کی آیت :23 وَادْعُواْ شُهَدَاءكُم مِّن دُونِ اللّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ کا معنی فراء رحمۃ اللہ علیہ نے استغاثہ کیا ہے ۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ استغاثہ اور استعانہ دعا کا الگ سے معنی نہیں بلکہ دعا طلب میں استغاثہ اور استعانہ ویسے ہی شامل ہیں ۔ پکار : سور ت کہف آیت 52 میں اللہ تعالیٰ فرما تا ہے’وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ ‘ کی تفسیر میں متعدد اہل علم اور لغت دانوں نے فَدَعَوْهُمْ سے پکار مراد لیا ہے اس طرح سورت روم آیت 52 میں اللہ تعالی ٰ فرماتا ہے کہ فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ میں دعا سے مراد پکار ہے ۔ ّ قول: جیسے:فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ تسمیہ یعنی نام لینا یا رکھنا: جیسے ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ (سورت احزاب:5) اسی طرح عرب کہتے ہیں دعوتہ بزید یا دعوتہ زیداً میں نے اس کا نام زید رکھا ہے ۔ بد دعا : اس صورت میں حرف جار علیٰ استعمال ہو تا ہے ۔ اس کے علاوہ دعا کے دیگر معانی بھی اہل علم نے بیان کئے ہیں لیکن ہمارے خیال میں وہ سب معانی گزشتہ بیان کئے گئے معانی دعا عبادت اوردعا طلب کے اندر موجود ہیں جیسے قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ میں ابن عباس رحمۃ اللہ علیہ نے دعا سے مراد ایمان لیا ہے ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخا ری میں ”کتاب ایمان“ کے ذیل میں لکھا ہے: ’دعا ئُکُم یعنی ایمانکم‘ مصنف کہتے ہیں کہ یہ باب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عبادت کی تعریف کرنے کے لیے نہیں باندھا بلکہ اس عنوان کے تحت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ دراصل اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ دعا یوں تو عمل ہے لیکن اس کے لئے ایمان کا لفظ استعمال ہو اہے جو دراصل اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں عمل شامل ہے ۔ امام بخار ی رحمۃ اللہ علیہ یہاں ان لوگوں کا رد کر رہے ہیں جو عمل کو مسمیٰ ایمان میں شامل نہیں سمجھتے جیسے اَشاعرہ اور ماتُریدیہ اور مرجئہ ۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ ایمان جب مفرد طور پر استعمال ہو تو اس سے تمام قسم کی عبادات اور ہمہ قسم کی اطاعت مراد ہو تی ہے ۔ بنا بریں دعا سے خواہ عبادت مراد لیں یا ایمان مراد لیں دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی مراد ہے اس لئے دعا بمعنی ایمان الگ سے ایک معنی نہیں بلکہ یہ مفہوم عبادت والے معنی میں شامل ہے ۔ شریعت میں دعا کی تعریف فاضل مصنف نے مذکورہ بالا معانی اپنے مقالے میں بہت تفصیل سے لکھے ہیں جنہیں ہم نے نہایت اختصار سے پیش کیاہے۔مذکورہ بالا لغوی اوراصطلاحی تعریف کے بعدمصنف نے دعا کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: الرغبتہ الی اللہ تعالیٰ والتوجہ الیہ فی تحقیق المطلوب او دفع المکروہ والابتہال الیہ فی ذلک اما باسؤال او بالخضوع والتذلل والرجاء والخوف والطمع کسی چیز کے حصول کے لئے یا کسی ناگوار چیز کو دور کرنے کےلئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف مائل اور متوجہ ہونا، گڑگڑاتے ہوئے اپنی حاجت (صریح الفاظ میں ) بیان کرتے ہوئے مانگنا یا (اسی غرض کےلئے ) خشوع اور خضوع اور عاجزی و انکساری کا اظہار کرنا ، بیم و رجاء کی کیفیت کے ساتھ ۔ فاضل مصنف اس کے بعد اس تعریف کو مکمل اور جامع بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سوا ل سے کسی چیز کا طلب کرنا یا کسی چیز سے بچنا مراد ہے اور خشوع و خضوع سے دعا کی وہ نوعیت مراد ہے جس کا مقصد خدا ئے برتر کی حمد و ثناء بیان کرنا ہے ۔ اس طرح اس تعریف میں دعا کی دونوں اقسام سماں گئی ہیں یعنی دعائے طلب (کسی چیز کا حصول یا کسی چیز کو دور کرنے کے لئے دعا کرنا ) اور دعائے عبادت ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ ہماری مذکورہ بالا تعریف سے یہ مراد نہیں ہے کہ دعاء کرنے والے کے دل میں ہربار دعاء کرتے ہوئے یہ صفات ضرورپیدا ہوجاتی ہیں بلکہ مصنف کہتے ہیں کہ اس تعریف سے ہمارا مقصد یہ بتانا ہے کہ مذکوربالا صفات دعاء کے ساتھ خاص تعلق رکھتی ہیں ۔دعاء کرنے والے کی تمام قلبی کیفیات کا احاطہ کرنا یہاں مطلوب نہیں ہے کیونکہ بسااوقات دعا گو کے دل میں بہت عمیق جذبات اور خیالات ہوتے ہیں اور بسااوقات دعا گو کے دل میں چند ہی قلبی کیفیات ہو تی ہیں ۔ دعاء کے مترادفات مصنف لکھتے ہیں کہ دعا کے معانی میں شریعت میں اورالفاظ بھی مستعمل ہیں جن کی دوبنیادی اقسام بنتی ہیں : ّ(الف) دعا کے قریبی مترادفات تین ہیں : عبادت ، ذکر ، صلوٰۃ اور استعانت۔
(ب) دعا کی مختلف صفات میں سے کسی خاص
صفت کو نمایا ں کرنے والے مترادافات ۔ یہ تین گروہ بنتے ہیں ۔ پہلے
گروہ میں وہ الفاظ آتے ہیں جن سے نا پسندیدہ یا مضر رساں چیزوں کو دور
کرنے کےلئے دعا کی جاتی ہے اس پہلے گروہ میں یہ الفاظ آتے ہیں ۔
استعاذۃ ، استغاثہ ، استجار ہ ، لیاذہ ، استغفار ، اور شفاعت ۔ تیسرا گروہ :دعا کی مختلف صفات میں سے کسی مخصوص صفت کو استعمال کرنا :جیسے ’نداء‘ (پکارنا) ’جؤار‘ اور’ ابہتال ‘اس گروہ میں شامل ہیں ۔ (الف)قریبی مترادفات : یہ الفاظ اگرچہ دعا کے معنی میں استعمال ہو تے ہیں لیکن ان میں سے ہر لفظ میں ایک دعا والا معنی پایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور معنی بھی ہو تا ہے ۔ اگلی سطور میں جب ان الفاظ کی وضاحت ہوگی تو قاری پر ان شاء اللہ ان الفاظ کی گہرائی کھل جائے گی ۔ (1) عبادت : عبادت کا بطور دعا کے استعمال گزشتہ سطور میں بیان ہو اہے یہاں دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے البتہ عبادت کی تعریف امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں کی ہے: عبارۃ عما یجمع کمال المحبۃ والخضوع وا لخوف (بندے کے ) ایسے جتن جس میں کامل محبت کے ساتھ ساتھ خشوع و خضوع اور شدید قسم کے ڈر اور خوف کی کیفیت پائی جائے ۔ امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ فاضل مصنف نے دوسرے ائمہ کرام کی تعریفات مذکورہ بالا مفہو م میں پیش کی ہیں اور اس کے بعد لکھتے ہیں کہ پورا دین ہی عبادت کے مفہوم میں داخل ہے اور دعا خواہ دعا ئے طلب ہو یا دعا ئے عبادت یا حمد و ثناء ، سب عبادت کے مفہوم میں شامل ہے ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ نصوص قرآنیہ اور احادیث مبارکہ میں بکثرت دعا کےلئے عبادت کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اس لئے جب کبھی دعا کا لفظ عبادت کے لفظ سے الگ استعمال ہو گا تو اس میں دعا کی دونوں اقسام یعنی دعا ئے طلب اور دعا ئے حمد و ثناء یا عبادت شامل ہو گی مگر جب دعا اور عبادت کے الفاظ ایک ساتھ استعمال ہوں تو پھر دعا کے لفظ سے دعائے طلب مراد ہو تی ہے اور عبادت سے اللہ تعالی ٰ کے اوامر اور ان کی بجا آوری یا ممنوعہ کام اور ان سے اجتناب مراد ہو تا ہے ۔ بنا بریں جب کبھی دعا سے مراد دعائے عبادت لی جائے گی تو دعا اور عبادت کے مفہوم میں کامل اتفاق پایا جائے گا ۔ ایسی صور ت میں یہ دنوں الفاظ ایک دوسرے کے مترادف ہونگے ۔ جب دعا سے مراد دعا ئے طلب لیا جائے گا تو اس میں عبادت کے دوسرے مفہومات از قسم خشوع و خضوع ، عاجزی ، بیم ورجاء وغیرہ کے ساتھ کسی خیر کو مانگا جائے گا یا کسی ناگوار چیز سے بچنے کی التجا کی جائے گی ۔ دعا کے مفہوم میں حاجت روائی تو پائی ہی جا تی ہے لیکن حاجت روائی کےلئے سائل عبادت کا ذریعہ اختیار کرتاہے ۔ (2) ذکر(1): دعاء کے مترادفات میں ذکر بھی شامل ہے ۔احادیث مبارکہ میں دعاء کی بجائے لفظ ’ذکر‘ کا استعمال بھی ہوا ہے اور سلف صالحین کے اقوال میں بھی ہوا ہے۔ اہل علم کے ہاں ذکر کو دعا کی جگہ اور دعاء کی جگہ ذکر کا استعمال بکثر ت ملتا ہے ۔ترمذی شریف کی یہ روایت دعا کی بجائے ذکر کے لفظ کی واضح مثال ہے :نبی علیہ السلام سے جابر بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ : اَفضَلُ الذِّکرِ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَفضَلُ الدعا ئِ اَلحَمدُ لِلّٰہِ ۔ اسی معنی میں موطا کی روایت میں ’افضل الذکر‘کی بجائے ’افضل الدعاء‘ کے الفاظ آئے ہیں :موطا امام مالک میں یوم عرفہ میں ذکر کی فضلیت بیان کرتے ہوئے نبی علیہ السلام کا فرمان ہے : افضل الدعاء یوم عرفۃ وافضل ماقلت انا والنبیوں من قبلی ”لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحدَہ لَاشَرِیکَ لَہ“ سفیان رحمۃ اللہ علیہ بن عیینہ فرماتے ہیں عرفہ (یعنی حج کے دن میدان عرفات میں ) کے دن کوئی دعا مروی نہیں ہے مگر نبی علیہ السلام سے (عرفہ کے روز) ذکر مروی ہے ۔ امام ابن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں دعا سے ذکر مراد لیا ہے ۔ اس کے بعد امام صاحب اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’اللہ تعالیٰ فرماتاہے’ جب بندہ میری حمد و ثناء میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی حاجت زبان پر نہیں لا تا تومیں ایسے بندے کو مانگنے والوں سے زیادہ نوازتا ہوں ‘ ۔ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حمد و ثناء (یعنی ذکر) بذات خودد عا طلب ہے کیونکہ نبی علیہ السلام نے الحمداللہ (جو ذکر ہے ) کو دعا کہا ہے ۔ عز بن عبد السلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ذکر میں سے وہی کچھ لازم آتا ہے جو دعا مانگنے سے مطلوب ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ ذکر کا لفظ بجائے دعا کے بکثرت استعمال ہوت اہے ۔ فاضل مصنف فرماتے ہیں کہ دعا اور ذکر کے مترادف ہونے میں ایک اور دلیل ائمہ کرام کی وہ کتب ہیں جن کے عنوان میں لفظ ذکر کا آیا ہے اور ان کتب کے مندرجات میں بکثرت دعا ئیں پائی جاتی ہیں ۔ (3) صلوٰۃ : دعا کا تیسرا مترادف لفظ صلوٰۃ ہے۔ لغت میں صلوٰۃ سے مراد دعا ہو تا ہے ۔ سورت توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ میں وَصَلِّ عَلَيْهِمْ سےدعا مراد ہے ۔اورزکوٰۃ کی وصولی کے بعد زکوٰۃ اداکرنے والے کے لئے دعا کیا کریں ۔ حضر ت عائشہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتی ہیں کہ سورت اسراء کی آیت (110)وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا میں لفظ بِصَلاَتِكَ دعا کے لیے آیاہے ۔ اسی طرح نبی علیہ السلام نے فرمایا ؛صحیح مسلم کی روایت ہے جس کا ترجمہ ہے ۔ جب کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے (ولیمہ ) تو اسے قبول کرنا چاہیے اگر روزے سے ہو تو آپ نے فرمایا ’فلیصل‘یعنی اہل خانہ کے حق میں دعا کہے ۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نماز پوری کی پوری دعا ہی ہے ۔ لفظ صلوٰۃ کی لغوی بحث میں اہل سنت و الجماعت کا فرقہ معتزلہ فرقہ خوارج اور دوسرے فقہاء کے ساتھ اختلاف ہوا ہے کہ لفظ صلوٰۃ اپنے لغوی معنی شرعی مفہوم رکھتا ہے یا شریعت نے عربی زبان سے یہ لفظ اپنا شرعی مفہوم ادا کرنے کے لئے مستعار لیا ہے ۔ معتزلہ اور خوارج اور ان کے ہم خیال فقہاء کہتے ہیں کہ صلوٰۃ کا ایک شرعی مفہوم ہے اورشریعت نے اپنے اس مخصوص مفہوم کے لیئے عربی زبان سے صلوٰۃ کا لفظ اپنے خاص معنی کے لیئے استعمال کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ لغوی معنی کا اس میں اب اعتبار نہیں ہے ۔ جمہور ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ شریعت نے صلوٰۃ کے لغوی مفہوم کو ہی شرعی اصلاح میں رائج کر دیا ہے البتہ اس کی ادائیگی میں پابندی جاری فرما دی ہے جسے ہم نماز پنجگانہ وغیرہ میں دیکھتے ہیں ۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لفظ صلوٰۃ کو شریعت نے لغوی معنی میں مخصوص ہیئت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔مصنف کہتے ہیں کہ یہی راجح قول ہے۔ دعا کے دوسرے مترادفات جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ اس باب میں وہ الفاظ ذکرہوں گے جن میں دعا کی مختلف صفات میں سے کسی خاص صفت کے اظہار کے لیئے کوئی لفظ استعمال ہوا ہے۔ (1) اِستعاذہ :استعاذہ کا حقیقی مفہوم ہے کہ کسی خوفناک چیز سے ڈر کر ایسی شخصیت کی پناہ میں آنا جو اس خطرے سے پناہ میں آنے والے کو محفوظ کر سکے۔ اس نسبت سے یہ دعا مستقبل میں پیش آنے والے دوزخ کے عذاب سے بچنے کے لیئے مانگی جاتی ہے کہ اَعُوذ ُبِاللّٰہِ مِنعَذَابِ جَہَنَّم یا اگر کسی ایسی چیز سے سامنا ہو جائے تو فی الفور خدا کی پناہ میں آنے کی دعا کی جاتی ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ دعاء کیا کرتے تھے : اَعُوذُبِاللّٰہِ وَ قُدرَتِہ مِن شَرِّمَا اَجِدُ وَ اُحَاذِر(2)اس عمومی معنی میں استجارہ ، استغاثہ اور لیاذہ کے مترادفات بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ (2) اِستغاثہ: استغاثہ کا مطلب ہے صاح یعنی (کرب یا ڈر سے) فلاں شخص مدد کے لیے چیخا یا پکارا یا چلایا ۔ یہ لفظ غوث طلب کرنے کے لئے استعمال ہو تا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی کی پکار پر اس کی مدد کر کے اسے کرب یا ڈر سے نجات دلا دیتا ہے تو کہتے ہیں اغاثہ اللہ اغاثۃ یعنی اللہ نے اس کی آہ وفغاں سن کر اسے مصیبت سے بچا لیا ۔ اس لئے اہل علم کہتے ہیں کہ استغاثہ کا معنی ہے عون طلب کرنا اس لئے استغاثہ کا معنی ہے استعانہ یعنی کسی اور سے مصیبت سے نکلنے کے لیے عون طلب کرنا مگر استغاثہ کا لفظ استعانہ سے اس طرح مختلف ہے کہ استغاثہ انتہائی سنگین مصیبت میں مبتلا ہونے کی طرف دلا لت کر تا ہے اور سائل کوفوری طور پر مصیبت سے نکلنے کےلئے عون چاہ رہاہوتا ہے ۔ دعا اور استغاثہ میں تعلق اوپر والی بحث سے واضح ہو جا تا ہے ۔ دعا ایک ہمہ گیر معنی ہے جس میں سریر آئی مصیبتوں سے بھی نجا ت کی دعا کی جاتی ہے اور آنے والے مصیبتوں سے بچنے کی بھی جو کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہیں ۔ جبکہ استغاثہ شدید مصیبت میں مبتلا شخص فوری عون طلب کرنے لے لئے کر تا ہے ۔ اس لئے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ داعی ( دعاء کرنے والا) اور مستغیث میں یہ فرق ہے کہ داعی اسے پکارتا ہے جو ہمہ قسم کی دعائیں سنتا ہے یعنی مدعو جبکہ مستغیث اپنی شدید مصیبت سے بچنے کے لئے مدعوکی ایک صفت معین سے عون طلب کر تا ہے ۔مستغیث اللہ کی مخصوص صفت مغاث کوواسطہ بناتاہے۔ (3) استجارہ: کہتے ہیں کہ اجارہ اللہ من العذاب یعنی اللہ نے اسے عذاب سے بچا لیا۔ جسے اللہ اپنے جوار میں لے لے تو پھر کوئی دشمن اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ استجارہ ہمہ قسم کے مصائب سے بچنے کے لئے اللہ کے جوار میں آجانے کا نام ہے جبکہ دعاء مصائب سے بچنے کےلئے بھی کی جا تی ہے اور خیر طلب کرنے کے لئے بھی۔ جہاں تک ایک اور مترادف ”لیاذہ“ کا تعلق ہے تو خیر طلب کرنے کے لئے جو دعا طلب کی جائے اسے لیاذہ کہتے ہیں ۔ یہ قول ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ کا ہے لیکن اکثر اہل علم نے ’لیاذہ ‘اور ’عیاذہ‘ یعنی مصائب کے وقت کسی کی پناہ میں آنا کا ایک ہی معنی کیا ہے سوائے اس کے کہ ایک ہی عبارت میں لیاذہ اور عیاذہ ایک ساتھ استعمال ہو ئے ہوں ۔ ایسی صورت میں عیاذہ تو ضرر سے بچنے کےلئے ہو گا اور لیاذہ میں حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ والا معنی ہو گا یعنی ضرر سے بچنے کے ساتھ ساتھ کوئی بھلائی بھی مانگنا ۔ (4)اِستغفار :استغفار اصل میں غفر سے ہے جس کا مطلب ہے پردہ پوشی کر نا اور چھپانا ۔ مغفرت یہ ہے کہ گناہوں کی پردہ پوشی کر نا اور ان سے صرف نظر کرنا جسے عَفو کہتے ہیں ۔ دعا اور استغفار میں تعلق واضح ہے ۔ دعاء کا لفظ گناہوں کی پردہ پوشی اور اس کے علاوہ ہمہ قسم کی خیر اور ہمہ قسم کے شر سے بچنے کےلئے استعمال ہو تا ہے جبکہ استغفار دعا کی وہ قسم ہے جس میں مدعو کی ایک صفت غفور کے ذریعے گناہوں کی پردہ پوشی کی التجا ءکی جاتی ہے ۔ دعاء کے حسن کو دو بالا کرنے والے مذکورہ بالا معانی کی لطافت سمجھنے کےلئے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی تشریح ملاحظہ فرمائیں جو انہوں نے اپنی کتاب ”اقتضاء الصراط المستقیم “ میں اس حدیث کے ذیل میں کی ہے : ’من ید عونی فاستجیب لہ؛من یسالنی فاعطِیَہ؛من یستغفرنی فاغفِرَلہ(3)‘ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث مبارکہ میں پہلے دعا کالفظ استعمال ہوا ہے پھر سوال (کوئی مخصوص چیز مانگنا ) اورآخرمیں استغفار لفظ آیا ہے جبکہ استغفار کرنے والا بھی سائل ہو تا ہے اور جو (اللہ کے دربار میں ) سوالی بن کر جا تا ہے وہ داعی (دعا گو ) ہی ہوتا ہے ۔ (پھر ان تین مترادفات کا اکھٹا استعمال اپنے اندر کوئی تو معنی ضرور رکھتا ہو گا)اس کی وضاحت کرتے ہوئے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جہاں تک حدیث میں یسالنی کا تعلق ہے تو سوالی دراصل خیر کا طالب ہو تا ہے اور مستغفر (استغفار کرنے والا) شر (گناہوں ) سے گلو خلاصی کا طالب ہو تا ہے۔ حدیث کے الفاظ کی ترتیب میں خیر مانگنے کے بعد مصیبت (گناہ) سے صرف نظر کی دعا کا ذکر ہے اور خیر اور شر دونوں کی دعاء والے الفاظ دعاء کے لفظ ِعام من یدعونی یعنی داعی کے بعد آئے ہیں ۔ عربی میں یہ استعمال بات میں حسن پیدا کرنے یا اپنی حاجت کو مؤثر انداز میں بیان کر نے کا اسلوب ہے ۔ لفظ داعی میں خیر کی طلب اور شر سے بچاؤ دونوں آجاتے ہیں لیکن سائل اس پر اکتفا نہیں کر تا بلکہ پھر خیر کو الگ سے طلب کر تا ہے اس طرح وہ اپنی ایک ہی حاجت کو مکرر نئے نئے پیرائے میں بیان کر تا ہے۔ عربی زبان میں ایسے اسلوب کو لفظ عام پر لفظ خاص کا عطف کر نا کہتے ہیں ۔ مصنف حفظہ اللہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی اس تشریح سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ استغفار میں دعا کا معنی پایا جاتا ہے اور یہ دعاء کا مترادف بھی ہے لیکن یہ مترادف دعا کی ایک خا ص صفت کے لئے یعنی خصوصاً (شر) گناہ سے بچنے اور اس سے صرف نظر کرنے کے لئے مستعمل ہے ۔ اس بات کی مزید وضاحت کر تے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ اس ضمن میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک اثر بھی بھی مروی ہے کہ دعاء کی مختلف صفات کےلئے مانگنے کے انداز میں بھی فرق ہوتا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ خیر کی طلب یوں کی جاتی ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ شانوں تک یا شانوں کے متوازی اٹھا کر دعا مانگو۔ استغفار یہ ہے کہ ایک ہی انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال اس طرح کیا جا تا ہے کہ دونوں ہاتھوں کو پوری طرح پھیلا لیا کرو ۔ دوسری روایت کو جمع کرنے سے ایک انگلی سے اشارہ کرنے کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ یہ انگلی دائیں ہاتھ کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی( شہادت ) ہے ۔ مندرجہ بالا اثر سے دعا میں شدت کی ترتیب واضح ہو تی ہے کہ سب سے زیادہ التجا ابتہال میں پائی جا تی ہے اس کے بعد خیر کی طلب جسے دعاء مسئلہ بھی کہتے ہیں اور اس کے بعد استغفار یا اخلاص آتاہے ۔ (5) شفاعت :امام مبرد رحمۃ اللہ علیہ اور ثعلب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ’مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِِ‘ میں لفظ یشفع سے مراد ہے دعاء۔ شفاعت میں دراصل شفاعت کرنے والا دعا کرتا ہے کہ اے اللہ فلاں شخص کی کار ستانیوں اور نا فرمانیوں (جرائم ) سے در گزر فرما ۔ شفاعت اور دعا میں ایک فرق تو وہی ہے کہ دعا عام ہو تی ہے اور شفاعت خاص نافرمانی سے درگزر فرمانے کےلئے ہو تی ہے۔ ابو عبداللہ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے شفاعت اور دعا میں فرق بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ شفاعت ایسے شخص کے لیے کی جاتی ہے جس کی حالت زار واضح ہو جائے تب کی جاتی ہے جبکہ دعا مستقبل میں اس اندیشے کے تحت بھی ہوتی ہے اورنافرمانی کرچکنے کے بعدبھی ۔ (6) سوال : خیر کی طلب کرنے والے کو سائل کہتے ہیں ۔ سورت طہٰ میں موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:’قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَى ‘ یعنی آپ نے جو آرزو (بڑے بھائی ہارون کو شریک نبوت کر نے کی دعا ) ظاہر کی ہے وہ ہم نے (آپ کے اظہار خیال کے ساتھ ہی ) قبول کر لی ہے ۔ اس آیت مبارکہ میں سوال خیر کی طلب کے لئے دعاء کی ایک صفت خیرکی طلب کے مترادف کے طورپر استعمال ہوا ہے ۔ اس کے بعد مصنف نے متعدد آیا ت پیش کی ہیں جن میں سوال کا صیغہ دعاء کے لئے استعمال ہو اہے جو کہ طوالت کے پیش نظرہم یہاں بیان نہیں کر رہے ہیں ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ دعاء اور سوال میں تعلق عام اور خاص کا ہے ۔ دعاء میں خیر کی طلب بھی ہو تی ہے اور شر سے بچانے کی درخواست بھی ہوتی ہے جبکہ سوال میں سائل خاص طور پر پورا زور لگا کر خیر کی طلب پر اصرار کرتا ہے ۔ اہل علم نے لفظ دعا اورساَل کے درمیان ایک اور فرق مشائخ صوفیہ سے بیان کیا ہے کہ داعی (جب صیغے میں لفظ ’دعا ‘یااس کا کوئی مشتق لائے) مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد دعاء کرتا ہے جبکہ سائل دعا کرتے ہوئے اس وقت کسی مصیبت میں مبتلا تو نہیں ہو تا لیکن (اپنی ظاہری یا باطنی حالت کو بہتر بنانے کے لئے اپنی آزاد مر ضی سے بلا مجبوری ) خیر کی درخواست کر تا ہے ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ یہ فرق اگر چہ بہت لطیف ہے لیکن یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے مرجوح لگتی ہے :آپ نے فرمایا کہ جس شخص کی یہ خواہش ہے کہ اس کی دعاء مصیبت کے وقت سنی جائے اسے چاہیے کہ ( مصیبت میں مبتلا ہونے سے پہلے) بھلے دنوں میں بھی دعا ئیں بکثرت کر تا رہے ۔ اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے ۔ صحیح بخاری کے شارح امام کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے دعاء اور سوال میں ایک اور فرق بتایا ہے ۔ فرماتے ہیں دعاء میں کوئی (صریح )طلب نہیں ہو تی ہے جیسے داعی کایہ کہنا’ یا اللہ‘ ! جب کہ سائل دراصل (کوئی خاص چیز )طلب کر تا ہے ۔ صاحب مقالہ نے امام کرمانی کے اس قول کو مرجوح قرار دیا ہے اور لکھتے ہیں کہ صحیح بات وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے کہ دعاء ایک عام صیغہ ہے اس میں دعاء طلب یا دعاء مسئلہ بھی شامل ہے اور دعاء عبادت (جسے کہ امام کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ یااللہ کہنا ) بھی ۔ البتہ سائل دعاء گو شخص کی ایسی دعاء ہے جس میں وہ خیر طلب کر تاہے خواہ دنیاوی ہو یا دینی ۔ دعاء کی مخصو ص صفات میں سے چند اور صفات درج ذیل ہیں : نداء، (پکارنا )جؤار اور ابتہال (1)نداء : (یعنی برتر ہستی کو داد رسی کے لئے پکارنا )کا معنی ہے بلند آواز سے پکارنا جبکہ اس کا متضاد صیغہ ہے نجاء (یعنی دھیرے دھیرے دل میں ہی کسی بر تر ہستی سے التجائیں مناجات میں کرنا )۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نداء کا لفظ بمعنی دعاء کے استعمال ہو اہے۔ طوالت سے بچنے کےلئے ہم صرف یہاں ایک دلیل پر ہی اکتفا ءکریں گے ۔ جبکہ صاحب مقالہ نے متعدد مثالیں پیش کی ہیں ۔ سورت مریم میں حضر ت زکریا علیہ السلام کی دعاء مذکور ہے جس کے الفاظ ہیں : ’إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاء خَفِيًّا نداء اور دعاء میں مناسبت یہ ہے کہ نداء ایک ایسی دعاء ہے جس میں نسبتاً بآواز بلند التجا کی جاتی ہے جبکہ دعاء لفظ عام ہے اس میں وہ دعاء بھی شامل ہے جس میں آواز منہ سے باہر نہیں نکلتی اور وہ دعاء بھی جس میں داعی اپنے اوپر ضبط نہیں رکھ سکتا تو اس کی آواز نسبتاً بلند ہو جاتی ہے ۔ بعض اہل علم نے نداء اور لفظِ عام دعاء میں ایک اور فرق بتایا ہے کہتے ہیں کہ دعاء یہ ہے کہ داعی اپنے آپ کو اللہ کے قریب پاتا ہے جبکہ نداء یہ ہے کہ بندہ عاجزی محسوس کر تے ہو ئے سمجھتا ہے کہ میں اس قابل کہاں کہ اللہ کے قریب ہو سکوں اس لئے وہ اللہ کو بزرگ وبر تر سمجھتے ہوئے (روحانی )فاصلے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آواز نسبتاً بلند کر لیتا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ یہ فرق لغوی فرق ہے جو لفظ نداء میں اہل لغت کے ہاں تسلیم شدہ ہے کہ منادۃ یا نداء دور کےلئے ہوتی ہے مگر قرآن مجید میں نداء اصطلاحی معنی میں استعمال ہوئی ہے اور تمام آیات کا احاطہ کرنے سے یہی فرق واضح ہو تاہے جو منا جات اور پکارنے میں ہوتے ہیں یعنی آواز کا بلند ہونا ۔ (2)جؤار :(ہچکی کے ساتھ آواز بلند ہو نا ) زیادہ بلند آواز کو عربی میں جؤار کہتے ہیں ۔ قرآن مجید میں اس لفظ کے بطور دعاء استعمال کےلئے مصنف سورت نحل کی آیا ت 53 لاتے ہیں :’وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ (4)‘ اس آیت کی تفسیر میں مجاہد کہتے ہیں :’تضرعون دعاء‘ امام سدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ’تضجون بالدعاء‘ امام ثعلب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ’ہو رفع السوت الیہ بالدعاء‘ آیت کی تینوں تفسیروں کا لفظی اختلاف کے ساتھ یہی معنی ہے کہ زیادہ بلند آواز کے ساتھ آہ و زاری کر تے ہوئے دعاء کرنا ۔ (3)ابتہال :دعاء کرتے ہوئے جذبات میں شدید ہو جانا اور اللہ کے ساتھ تعلق داری میں دوسروں سے بیگانہ ہوئے جانا کی کیفیت کو ابتہال کہتے ہیں ۔ پچھلی سطور میں عبداللہ بن عباس رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اثر نقل ہو چکا ہے جس میں ہاتھو ں کی کیفیت اور انگلی سے اشارہ کرنے کا تذکرہ ہوا ہے ۔ وہی اثرمصنف نے یہاں پھرپیش کیا ہے جسے دہرانے کی ضرورت نہیں ۔ دعاء اور ابتہال میں مصنف نے یہ فرق بتایا ہے کہ ابتہال میں (تصور کیا جا تا ہے کہ )داعی (دعاء کرنے والے)نے دونوں بازوں اپنی آخری حد تک پھیلا لیے ہیں جبکہ دعاء ایک عام لفظ ہے اس میں ہا تھ پھیلانا بھی آتا ہے اور بغیر ہاتھ پھیلا کے دعاء کرنا بھی آتا ہے ۔
دعاء کی اغراض اہل علم نے دعاء کی اغراض کے متعدد گروہ بنائے جن کی تفصیل درج ذیل ہے: اہل علم کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ دعاء کی تین اقسام ہیں (الف) دعاء توحید و ثناء (یعنی حمد و ثناء ) (ب) آخرت (میں بہتری )کی دعاء جسے وہ دعا ء لِامراخروی کہتے ہیں ۔ (ج) دنیاوی غرض کے لئے دعاء جسے وہ دعاء لِحظّ دنیوی کہتے ہیں ۔
اہل علم کے ایک اور گروہ نے دعاء کی تین ہی اقسام بیان کی ہیں لیکن وہ الفاظ اور لاتے ہیں : (الف) دعاء طلب جسے وہ دعاء مسئلہ کہتے ہیں ۔ (ب) دعاء ثناء ۔ (ج) دعاء تعبد
ایک اور گروہ نے دعاء کی دو اغراض بیان کی ہیں ۔ (الف) دعاء عبادت ۔ (ب) دعاء عادت (یعنی اپنی کسی غرض کےلئے دعاء کرنا )
اہل علم کے ایک چوتھے گروہ نے بھی دو اقسام بیان کی ہیں ۔ (الف) دعاء مسئلہ ۔ (ب) دعاء عبادت۔
مصنف کہتے ہیں کہ بظاہر ان اغراض میں کوئی بڑا فرق نظر نہیں آتا لیکن ہر گروہ میں کوئی نہ کوئی لطیف نکتہ یا کوئی علمی یا روحانی معنی ضرور پا یا جاتا ہے ۔ صاحب مقالہ اس کے بعد مذکورہ بالا اغراض کو تفصیل سے بیان کرنے اور ان میں چھپے گہرے معانی کو کھول کر بیان کرتے ہیں جسے ہم طوالت کے ڈر کی وجہ سے بیان نہیں کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد مصنف نے اہل علم کے چوتھے گروہ کو راجح قرار دیا ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سطور میں بھی صاحب مقالہ نے انہیں دو اغراض کو بنیا د بناکر اپنا مقالہ لکھاہے یعنی دعاء مسئلہ یا دعاء طلب اور دعاء عبادت یا جسے ہم نے دعاء حمدو ثناء کہا ہے ۔
مصنف مزید لکھتے ہیں کہ ہماری اختیار
کردہ مذکورہ بالا ثنائی تقسیم سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے یا اہل علم کے
مختلف گروہوں میں سے کوئی گروہ بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ جب داعی (دعاء
کرنے والا) دنیاوی غرض کےلئے دعاء کر تاہے تو وہ عبادت نہیں کر رہا ہو
تا ۔ یا جب داعی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء پیش کر تا ہے تو وہ اللہ سے
کچھ مانگ نہیں رہا ہو تا۔ اہل علم کا کہنا صرف یہ ہے کہ دعاء کی مختلف
اغراض میں سے کوئی ایک غرض جو اس وقت داعی کے پیش نظر ہو تی ہے نمایاں
ترین ہوتی ہے اور دوسری اغراض اس سے کم نمایاں ہوتی ہیں ۔ جہاں تک ایسی دعاء کا تعلق ہے جس میں سرے سے کوئی طلب اور حاجت روی پائی نہ جائے اور دعاء صرف کسی ایسی غرض کےلئے ہو جو دوسرے انسان کی مدد سے بھی پوری ہو جاتی ہو ایسی دعاء جس میں اللہ تعالیٰ سے مدد لینا یاکسی انسان سے مدد لینے میں بڑا فرق نہ ہو (جیسے کے عام سی بیماری میں طبیب سے مدد لینا) تو صوفیہ میں سے گمرہ ٰ لوگ کہتے ہیں کہ ایسی دعاء کا غیر اللہ سے مانگ لینا شرک نہیں ہے ۔ شرک صرف و ہ دعاء ہے جو بغرض عبادت کی جائے ۔ صوفیہ کے گمراہ گروہ کی یہ رائے مصنف لکھتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے تصور دعاء کے برعکس ہے۔ دعاء خواہ دنیاوی مقاصد کےلئے ہو اور خواہ اس غرض کی نوعیت ایسی ہو کہ عام طور پر انسان بھی اسے پورا کر سکتے ہوں تو ایسی دعاء بھی عبادت ہوتی ہے اور اسے غیر اللہ سے مانگنا اسی طرح کا شرک ہے جس طرح دعاء عبادت کا غیر اللہ کے لئے ہونا ۔ صوفیہ کے گمراہ لوگوں نے نہ صرف دعاء کے مفہوم میں اہل علم کی مخالفت کی ہے بلکہ انہوں نے ستم یہ کیا ہے کہ اپنے من گھڑت تصور دعاء کوعوام مسلمانوں میں رواج دینے کے لیے عبادت کے مفہوم کو بدل کراس کادائرہ بہت محدود کر کے رکھ دیا ہے تا کہ غیر اللہ سے دعا ئیں مانگنے کی مختلف صورتوں کےلئے گنجائش پیدا ہو سکے ۔ صوفیہ کے اس گمراہ فریق کے نزدیک عبادت میں سجدہ، رکوع اور ایسی ہی صریح ہئیات عبادت آتی ہیں ۔ صوفیہ کی عبادت کی تعریف کے اس مفہوم میں استغاثہ ، نذر و نیاز اور قربانی عبادت میں شمار نہیں ہوتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صوفیہ دعاء کی ایسی صورتوں کو غیر اللہ کےلئے بجا لانے پر زور دیتے ہیں ۔ ضوابط معرفۃ نوعی الدعاء: یعنی ہر دو قسم کی دعاء کے پہچاننے کے ضابطے : صوفیہ کے گمراہ عقیدے کے بطلان کےلئے مصنف نے یہ باب باندھا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں ۔ قرآن مجید میں دعاء سے متعلقہ تمام آیات کا احاطہ کر نے کے بعد یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ قرآن مجید میں دعاء تین اغراض کے لئے آتی ہے ۔ (1) دعاء مسئلہ یا جسے ہم نے (مترجم ) دعاء طلب کہا ہے ۔ (2) دعاء عبادت یا جسے ہم نے (مترجم )دعاء حمد و ثناء کہا ہے ۔ (3) یا مذکورہ بالا دونوں اغراض کا ایک ساتھ مانگنا ۔ دعاء مسئلہ یا دعاء عبادت پہچاننے کے لیے قرآن مجید میں مذکو ردعا ؤں والی آیات کا احاطہ کرنے کے بعدان دعا ؤں کے چارمجموعے بنتے ہیں ۔ قرآن مجید میں مذکور ساری دعا ئیں مندرجہ ذیل مجموعوں میں سے کسی نہ کسی مجموعہ میں شمارہوگی۔ قارئین کرام مصنف نے ہر گروہ میں بہت ساری مثالیں دی ہیں لیکن ہم اپنے اس مضمون میں ایک یا چند مثالوں پر اکتفاء کریں گے ۔ پہلا گروہ :شدید مصیبت اور شدید آزمائش کے وقت جودعا ئیں قرآن میں آئی ہیں ؛یہ قرآنی دعا ؤں کاایک مجموعہ بنتاہے۔ دوسرا گروہ :کسی نبی کی قوم کا اپنے نبی کے توسل سے اللہ سے دعاء کرنا ۔ تیسرا گروہ :انبیاء کی اپنی دعا ئیں اور مناجات کامجموعہ۔ چوتھا گروہ :وہ آیات جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کاچھوڑ کر جن دوسر ی ہستیوں سے دعا ئیں کی جاتی ہیں وہ انہیں سننے کی طاقت نہیں رکھتی ہیں ۔ قرآن مجیدکی وہ ساری دعائیں جو پہلے گروہ میں شمار ہوں گی جن میں کوئی چیز؛ دنیاوی یا اخروی طلب کی گئی ہے؛تمام ایسی دعا ؤں میں عبادت کا مفہوم موجود ہے۔ صوفیہ کایہ دعویٰ کہ دعاء مسئلہ پرمبنی دعاؤں کواولیاء سے مانگنے سے انسان شرک کا مرتکب نہیں ہوتا۔ایسی دعا ؤں کی نوعیت ایسے ہے جیسے کوئی انسان دوسرے انسان سے کسی ایسی بات میں مدد مانگے جوانسان کے لیے ممکن العمل ہوتی ہیں ۔جس طرح عام انسان سے مدد لیناجائز ہے اسی طرح دعاء مسئلہ پرمبنی حاجات کی دعاء کرناجائزہوگا۔ مصنف نے دعاء مسئلہ پرمشتمل تمام قرآنی دعا ؤں کوسامنے رکھ کرثابت کیاہے کہ دعاء طلب میں عبادت کامفہوم لازمی موجود ہوتاہے۔ دوسراخود دعاء کی تعریف میں جو نبی علیہ السلام سے صحیح روایت سے ثابت ہے کہ دعاء ہی اصل عبادت ہے۔ بنابریں اہل علم نے ان تمام آیات کو جن میں واضح طور پر کوئی چیز ہی مانگی گئی ہے دعاء عبادت میں بھی شمار کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دعاء خواہ دعاء طلب ہو یا دعاء عبادت یا حمد و ثناء؛ دعاء کی ان دونوں اقسام میں عبادت کا مفہوم اتنا گہرا اور یقینی ہے کہ عبادت کے مفہوم کودعاء طلب سے الگ کرنامحال ہے۔ شریعت کے اس اصول کوثابت کرنے کے لیے اس کے بعد پہلے مجموعے میں جودعا ئیں آتی ہیں ان کی متعدد مثالیں دی ہیں ۔ ہم نے طوالت سے بچنے کے لیے ہرمجموعے میں ایک یاچندمثالیں دی ہیں ۔ پہلا گروہ : شدید مصیبت کے وقت داعی(دعاء مانگنے والا) کی دعاء کا منشاء واضح طور پر یہ ہو تا ہے کہ وہ جس مصیبت میں گھرا ہے اس سے اس کی نجات ہو جائے جیسا کہ سورت نمل میں اللہ تعالی ٰ فرما تا ہے ۔ أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء (النمل:62) کون ہے جو (مصیبت زدہ مترجم) کی دعاء سنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کر تا ہے؟ (ابو الاعلی رحمۃ اللہ علیہ) اور کون تم کو زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنا تا ہے ( شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ) مصنف لکھتے ہیں کہ یہ آیت دعاء مسئلہ یا طلب میں بالکل واضح ہے کیونکہ داعی کی اس دعاء سے غرض ہی یہی ہے کہ اسے اس مصیبت اور آزمائش سے چھٹکارا ملے جس میں وہ مبتلا ہے ۔ صوفیہ کے دعوے کی رو سے اس طلب کوغیراللہ سے مانگنا جائز ہے! تصورکیاجاسکتاہے کہ اس آیت مبارکہ سے اگراللہ کی عبادت کا معنی یکسر نکال دیں اورصرف مطلوب ’کشف السوء‘ہوتواس آیت کامقصداس غرض کے خلاف نہیں ہوگا جس کے لیے یہ آیت اتری ہے۔ دعاء مسئلہ کوغیراللہ سے طلب کرنے کوقرآن نے سورت انعام کی آیت 40اور41میں شرک کہاہے: 40. قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ 41. بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ کہہ(بھلا)بتلؤ توسہی اگرتم پرخدا کا عذاب آجاوے یا تم پر قیامت آن کھڑی ہوت وکیا اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارو گےاگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔ (ہرگزنہیں) خاص اسی کوپکاروگے پھر اگر وہ چاہے گا تواس مصیبت کو جس کے لیے پکارتے تھے دورکر دے گا اور جن کوتم نے اسکا شریک (شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ) بنارکھاہوتاہے اسے بھول جاتے ہو(مترجم) ان آیات میں واضح طورپرغیراللہ سے دعاء مسئلہ مانگنے والوں کوشرک کامرتکب قراردیاگیاہے۔ دوسرا گروہ :دعاء مسئلہ کے طلب کرنے کی دوسری دعائیں قرآن میں وہ ہیں جن میں کسی نبی کی قوم اپنے پیغمبرسے کہتی ہے کہ وہ اللہ سے دعا کرے کہ وہ انہیں اس مصیبت سے بچالے۔انبیاء کرام کی ایسی تمام دعا ؤں میں ’مسئلے ‘کی طلب کے علاوہ عبادت کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اس کی مثال موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے مطالبات ہیں جو وہ اپنے نبی سے گاہے بگاہے کرتے رہے مثال کے طورپر سورت بقرہ کی یہ آیت : وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَن نَّصْبِرَ عَلَىَ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یادکرو جب تم نے کہا تھا کے اے موسیٰ ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے (اس لئے مترجم )اپنے رب سے دعاء کر و (ابو الاعلی رحمۃ اللہ علیہ ) تیسرا گروہ :یعنی انبیاء کی دعا ئیں : آیات کے اس مجموعہ میں سب سے نمایا ں ترین مثال سورت آل عمران کی آیت 38 ہے جس میں حضرت زکریا علیہ السلام دعاء کرتے ہوئے کہتے ہیں : هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا پروردگار اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطاء کر (ابو الاعلی رحمۃ اللہ علیہ) چوتھا گروہ :غیر اللہ کا لوگوں کی دعا ئیں سننے سے عاجز ہونا سورت فاطر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ (13) اسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پیر کاہ کے بھی مالک بھی نہیں ہیں (ابو الاعلی رحمۃ اللہ علیہ) اگلی آیت میں اس موضوع کو مزید کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرما تا ہے : ِإِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعا ئیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے۔(ابوالاعلی رحمۃ اللہ علیہ) مصنف لکھتے ہیں کہ دونوں آیات اپنے سیاق کے لحاظ سے اس بات پر واضح دلالت کرتی ہیں کہ ان میں دعاء سے مراد دعاء مسئلہ یا دعاء طلب ہے ۔ آگے چل کر گمراہ صوفیہ کے عقائد کا رد کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں : سورت قصص کی آیت 64 میں کسی تاویل کی بھی گنجائش نہیں کہ مصیبت (آخرت کا عذاب) آن پڑی ہے اورمصیبت کی اس گھڑی میں انہیں اپنے مدعو (جس سے دعاء مانگنے کا انہیں کہا جا رہا ہے )سے مصیبت سے نجات کی دعاء کےلئے کہا جا رہا ہے ۔ اس دعاء میں کسی قسم کی عبادت کا بظاہر کوئی شائبہ تک نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ آیت اللہ کے ساتھ شرک کی ممانعت کے سیاق میں آئی ہے اور شرک کی حرمت پر نص ہے ۔ آیت ملاحظہ فرمائیں ۔ وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَأَوُا الْعَذَابَ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ اور ان سے کہا جائے گا اپنے شریکو کو پکارو (کچھ تمہاری مدد کریں ) تو وہ پکاریں گے پر وہ ان کو جواب تک نہ دیں گے ۔ اور اللہ کا عذاب دیکھ لیں گے (کہیں گے ) کاش (دنیا میں )وہ ٹھیک رستے پر ہوتے (شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ ) یہ آیت دعاء طلب یا دعاء مسئلہ میں واضح ہے اوردعاء کی اس قسم کوغیراللہ سے مانگنے میں شرک کے لازم ہونے پرنص ہے۔ قارئین کرام اس مقالے کے اگلے حصے میں مصنف ہمہ قسم کی دعاؤں کو عبادت میں شمارکرنے کے مزید دلائل کے علاوہ تقدیراوردعاء کے مسئلے پربھی بحث کریں گے۔
(3)(رات
کے آخری پہر میں اللہ تعالیٰ پہلے آسمان پر آکر منادی کرتے ہیں کہ ) کو
ن ہے جو مجھ سے دعاکرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی سوالی (جو
کچھ بھی مانگ لے ) تو میں اسے دے دوں ، کوئی استغفار مانگنے والا کہ
میں اس کی پردہ پوشی کروں ۔ |
||||||||||