سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

   

انسانی جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ والی حدیث
اور اہل بیالوجی کی الجھن

علماءکمیٹی- الاسلام الیوم
استفادہ: عائشہ جاوید

   

عن عائشۃ، اَن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:

اِنہ خلق کل اِنسان من بنی آدم علی ستین وثلاث مائۃ مفصل، فمن کبر اللہ وحمد اللہ وہلل اللہ وسبح اللہ واستغفر اللہ وعزل حجرا عن طریق الناس اَو شوکۃ اَو عظما عن طریق الناس و اَمر بمعروف اَو نہی عن منکر عدد تلک الستین والثلاث مائۃ السلامیٰ، فاِنہ یمشی یومئذ وقد زحزح نفسہ عن النار۔ (صحیح مسلم 1675 )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”بنی آدم میں سے ہر انسان کی تخلیق 360 جوڑوں پر کی گئی، پس جو کوئی اللہ رب العزت کی بڑائی بیان کرے، اسکی حمد کرے، اسکی و حدانیت کا اقرار کرے، اسکی پاکی بیان کرے، اسکی بارگاہ میں استغفار کرے ، لوگوں کی راہگزر سے کوئی پتھر یا کانٹا یا ہڈی ہٹا دے، امر بالمعروف کرے، نہی عن المنکر کرے، کہ جو اُن تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کو پہنچ جائے، تو اُس روز وہ جہنم سے آزاد ہو کر چلتا پھرتا ہے“۔

پچھلے چند برسوں میں عالمی سطح پر فہم ِ دین کے حوالے سے ایک عجیب و غریب رجحان منظر ِعام پر نمودار ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اسلام دشمن عناصر جو اپنی تمامتر عیاری کو بروئے کار لاتے ہوئے قرآن و سنت میں موجود متشابہات کو توڑ مروڑ کرمعصوم ذہنوں کو لایعنی مباحثات میں الجھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، بالخصوص سادہ لوح مسلمانوں کی مغرب اورر اسکی’ بے مثال سائنسی پیشرفت‘سے حد سے زیادہ مرعوب ذہنیت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے نصوص کی اصطلاحات کو دور ِجدید کی سائنسی اصطلاحات کے مترادف ثابت کرنے پر کوشاں ہیں۔

مذکورہ بالا حدیث کی بابت انکا کہنا ہے کہ حدیث میں ’مفاصل‘ (جوڑ) کا جو لفظ آیا ہے وہ میڈیکل کے شعبہ علم الابدان( anatomy)میں مستعمل joint ہی کے معنیٰ میں بولا گیا ہے! طب کی جدید عربی کتب میں بھی ظاہر ہے لفظ ’مفاصل‘ کو اسی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ البتہ یہ سمجھنا باعث ِ استعجاب ہوگا کہ حدیث ِ نبوی میں استعمال ہونے والا یہ لفظ دراصل دورِجدید کی نصابی میڈیکل کتب کی اصطلاح کا ہم معنیٰ ہے!

اس طرز ِتعلم کا بالفعل نتیجہ یہ ہوا کہ حدیث سے اخذ ہونے والے اصول ،علم طب کو سمجھنے تک محدود ہو کر رہ گئے اور اسکا روحانی حاصل تو پس پردہء جہالت ہی چلا گیا

یہاں تک کہ کچھ لوگ اناٹومی کو بنیاد بناتے ہوئے اس حدیث کے اندر سے ’سائنسی اعجاز‘ بھی ڈھونڈنے چل پڑے کہ اگر انسانی جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ نکل آئیں تو یہ اِس حدیث سے جدید میڈیکل کی دنیا پر ایک معجزہ ثابت کر دیں!

اس مفروضے یا اس الجھن کی بنیاد دراصل حدیث میں آنے والے ایک کلمہ اور میڈیکل کی ایک اصطلاح کو محض لفظ ’مفصل‘ دیکھ کر ایک کر دینا ہے!

یہاں پر ہمارے ازلی عدو فوراََ حرکت میں آتے ہیں اور joint کے روایتی معنی بیان کرتے ہوئے حدیث اور اسکے ذریعے دینِ حنیف کی دقیانوسی کا راگ الاپنے لگتے ہیں کہ جی ثابت تو کیجیے کہ انسانی جسم میں واقعتا 360 جوڑ ہیں جیسا کہ آپکے نبی صلی اللہ علیہ وسلمکی حدیث میں مذکور ہے!

حدیث کے اگلے حصے میں سُلَامٰی کا لفط استعمال ہوا ہے جو ہاتھ کی انگلیوں یا انگشتِ پا کیلئے استعمال ہوتا ہے جوکہ مفاصل (جوڑ) سے زیادہ عظا م (ہڈیوں) کا مفہوم دینے میں اغلب ہے ایک بات یقینی طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ حدیث کی ابتدا میں مفاصل کا لفظ علم الابدان میں بولے جانے والے jointsسے بہر کیف مختلف معنی رکھتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ جب علم الابدان کے ماہرین ہمارے جسم میں موجود جوڑوں کا تعین کرتے ہیں تو اپنے شعبے کے اعتبار سے اسکی ایک مخصوص تعریف وضع کردیتے ہیں اور ایسا کرنے میں اسکے 1400 سال قبل بیان کردہ حدیث سے مطابقت رکھنے کی کوئی قید نہیں! یہ بھی اپنی جگہ برحق ہے کہ حدیث مبارکہ میں بیان کردہ اصطلاح اپنے مفہوم کی وضاحت کیلئے جدید طبیterminology کی قطعا َ محتاج نہیں !

انگریزی لفظ joint (جوڑ)کی تعریف بیان کرتے ہوئے اطباء کہتے ہیں کہ یہ وہ سطح ہے کہ جہاں دو یا دو سے زائد ہڈیوں کا ملاپ ہوتا ہے اور ہڈیوں کی تعداد کی بنیاد پراسکی مزید کئی اقسام ہیں :

Simple joint: یعنی جہاں دو ہڈیوں کا ملاپ ہومثلاََ shoulder joint(کندھا)، hip joint(کولہا)

Compound joint: تین یا اس سے زائد ہڈیوں کا ملاپ مثلاََradiocarpal joint(بازو اور ہاتھ کی ہڈیوں کے مابین جوڑ)

Complex joint: دو یا دو سے زائد ہڈیوں کا ملاپ اور دونوں سطح کے درمیان disc or meniscus جیسے knee joint (گھٹنہ)

اس وضاحت کے بعدیہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ضروری نہیں انسانی وجود کو ’جوڑ‘ کر رکھنے والے فنکشنز انسانی جسم میں موجود ’ہڈی کے جوڑوں‘ کی تعداد اور ہڈی والے جوڑوں کی ’سطح‘ کی تعداد سے لازماً ہی مطابقت رکھیں، اِس معنیٰ میں جسم کے اندر ’جوڑوں‘ کی تعداد یقینی طور پر زیادہ ہے!

ایک نسبتاً معقول وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ یہ اصطلاح انسانی جسم میں موجود لچک اور مختلف سمت میں حرکت کرنے کی صلاحیت کیلئے بیان کی گئی ہے، دیکھا جائے تو حدیث کا موضوع ہی عمل بالجوارح اور اسکے نتیجے میں حاصل کردہ اجر و ثواب ہے!گویا اصل مقصد علم البدن کی وضع کردہ تعریفات سمجھنا نہیں بلکہ اعمال ِصالحہ و عبودیت کی روح تک رسائی پا لیناہے!اس نظریے سے محسوس کیا جائے تو کسی اور ہی دنیا کے دریچے کھلنے لگتے ہیں! متفرق حصہءبدن کی حرکت کرنے کی صلاحیت ایک دوسرے سے منفرد!کسی کی کم! !کسی کی زیادہ!! کسی کا انحصار آپ پر کہ آپ اسے کیسے ،کب اور کہاں عمل میں لانا چاہیں!!!یہ اجسام، یہ ابدان انکو حرکت میں لانے کیلئے اللہ کی ودیعت کردہ صلاحیت اس ذات ِ باری تعالی کی جود وسخا، بیکراں رحمت اور نوازشات میں سے ایک گراںمایہ ہدیہ نہیں تو اور کیاہے؟!؟!

نہ جانے کیوں ہم دین کے حسن کو لغو مباحثات کی بھینٹ چڑھا کر اپنے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی ریت پر قائم و دائم ہیں ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایسا کرنے سے ہم پر دائرہ ءحیات تنگ ہوتا جائے گامگر اللہ کے دین کی وسعت میں رتی برابر کمی واقع نہ ہوگی! و لن تجد لسنۃ اللہ تبدیلاََ!!!

٭٭٭٭٭