سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

   
اے امت کے غدارو!۔
اللہ تمہاری مکافات عمل جلد لائے

انور العولقی
مترجم: محمد فاران

   

کچھ ’ایسے ویسے‘ ذرائع نہیں، باقاعدہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی خبرہے کہ: الجزائر میں تعینات سی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو واشنگٹن میں اس الزام کی تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا ہے کہ اس نے اپنی رہائش گاہ پر دو الجزائری عورتوں کو نشہ آور ادویات پلا کر ان کی عصمت دری کی ہے۔ یہ خبر دیتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے کہ:

”پہلی عورت جو کہ الجزائر کی شہری ہے اور وہ جرمنی کا پاسپورٹ بھی رکھتی ہے ، نے سفارت خانے کے افسران کو بتایا کہ وارن نے اس کے ساتھ اپنے گھر میں ملاقات کے بعد اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔اس نے کہا کہ وارن نے اسے نشہ آور مشروب پیش کیا جو اس نے چھپ کر تیار کیا تھا۔اس نے مزید بتایا کہ کچھ دہری شہریت رکھنے والی عورت مزید کہتی ہے کہ شراب کے نشے سے وہ واقف ہے لیکن وارن نے جومشروب اس کی ضیافت کے لیے تیار کیا تھا اس کے اثرات شراب کے نشے جیسے نہیں تھے۔ صبح جب وہ بیدار ہوئی تو وہ ایک بستر پر مکمل طور پر برہنہ پڑی تھی اور اسے کچھ بھی یاد نہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔

دوسری الجزائری عورت جو کہ شادی شدہ ہے اور اور سپین میں رہائش پزیر ہے؛نے سفارت خانے کے افسران کو بتایا کہ پچھلی سترہ فروری کو وارن کی رہائش گاہ پر اس کی حالت یک لخت بگڑ گئی۔اس نے بتایا کہ اس کی یہ حالت وارن کے لائے ہوئے دو مختلف مشروب پینے کے بعد ہوئی تھی۔ اس نے کہا کہ اسے کبھی ہوش آتا اور کبھی ہوش کھو دیتی اور جب وہ تھوڑی دیرکے لیےیبدار ہوئی تو کیا دیکھتی ہے کہ وارن اس کے ساتھ زنا کر رہا ہے۔اس نے مزید کہا کہ وہ دوبارہ بے ہوش ہو گئی اور اسے یہ یاد نہ رہا کہ وہ گھر کیسے پہنچی۔ ایفی ڈیوٹ میں لکھا ہے کہ تفتیش کنندہ افسر کے مطابق یہ بات مان لینے کی امکانی وجہ موجود ہے کہ وارن بہیمانہ تشدد پر مبنی جنسی بد فعلی کا مرتکب ہوا ہے۔“

آرٹیکل مزید کہتا ہے کہ:

”اے بی سی نیوز ایجنسی نے ایک امریکی افسر (جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) کے حوالے سے بتایا کہ عورتوں کے بیانات کی سچائی ان Video Tapes سے بھی ثابت ہوتی ہے جو سی آئی ای کے افسر (وارن) کے گھر سے ملی ہیں۔ ویڈیو جو کہ بظاہر خفیہ طریقے سے تیار کی گئی ہے؛ مبینہ طور پر دکھاتی ہے کہ سی آئی اے کا افسر کئی عورتوں کے ساتھ جنسی بد فعلی کا ارتکاب کر رہا ہے اور ان میں وہ عورت بھی شامل ہے جونیم بے ہوشی کی حالت میں دکھائی دے رہی ہے۔“ یہ خبر یہاں ملاحظہ فرمائیے
 

اس کے بعد شیخ انور العولقی کہتے ہیں:

مسلمانو! آخر یہ واقعہ ہمیں کیا بتا رہا ہے؟

1) کبوتر با کبوتر، باز با باز.... ایک ہی سرشت کے حامل لوگ آپ کو اکٹھے رہتے ہی ملیں گے۔ان امریکی افسران کے دفاتر، رہائش گاہیں اور اجتماع گاہیں زمین کے بد قماش اور گندے لوگوں کو اس طرح کشش کرتی ہیں جیسے گندگی کا ڈھیر مکھیوں کو۔امریکی فوجی اپنا گند تھائی لینڈ اور فلپائن میں پھیلا چکے ہیں اور اب عراق اور دبئی میں یہ سلسلہ جاری رکھے ہوے ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ امریکی شہری مشنری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اوران ممالک میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کے عمل کو Cover فراہم کر رہے ہیں جو یہاں مقامی جاسوسوں کا بڑا نیٹ ورک قائم کر کے اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

2) یہ امریکی افسر اپنی رہائش گاہ پر پارٹی کا انتظام کیے ہوئے تھا جس میں اس نے مقامی لوگوں کو مدعو کیا ہوا تھا۔ اگر اسے میزبان ملک کی طرف سے ایک خاص سطح کی سیکیورٹی فراہم نہ کی گئی ہو اورہر قسم کے رد عمل سے تحفظ کا احساس اس کے ذہن میں موجود نہ ہو تو مسلمانوں کے ایک بڑے شہر کے عین وسط میں اپنے گھر کے اندر وہ ایسی پارٹی کا انعقاد کبھی نہ کر سکتا۔امریکی افسران کے حالیہ طرز عمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ممالک میں ایسی حرکتوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو وہ اس صورت میں کبھی نہ کر پاتے جب وہ اپنے ملک میں ہوتے۔ درحقیقت ان کا واحد خوف صرف یہی ہے کہ کہیں امریکی حکومت ان کے کسی معاملہ کی تفتیش کرے نہ کہ نام نہاد مسلم حکومتیں جو ان کی میزبان ہیں۔ ان بدبختوں کو ہمارے گھروں میں یہ احساس تحفظ کبھی بھی حاصل نہ ہو سکتا اگر مسلم دنیا کی برسر اِرتداد حکومتیں انھیں بھرپور حمایت اور مکمل کھل کھیلنے کا موقع فراہم نہ کرتیں اور اسکے ساتھ گرین زون اسکالرز کے جاری کردہ فتاویٰ جو ان حکومتی اقدامات کو سند توثیق بخشتے ہیں عند الطلب دستیاب نہ ہوتے۔

اصل میں ہوا کیا ہے؟ امریکہ ہماری زمینوں میں داخل ہونا چاہتا تھا لیکن اسے ہماری زمینیں اپنے چلنے کے لیے ناساز گار اور کانٹوں سے بھری دکھائی دیں لہٰذا اس نے موٹے تلوے والے بوٹ پہن لیے تاکہ ہماری زمینوں پر چل سکے۔لیکن کچھ عرصہ بعد ہی بوٹ بہت گندے اور بھدے لگنے لگے لہٰذا اس نے کچھ ایسے لوگوں کو نوکری دی جو اس کے بوٹوں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں گے ا ور انھیں پالش کیا کریں گے۔امریکیوں نے جو بوٹ پہنے ہیں یہ دراصل مسلم دنیا کی وہ طاغوتی حکومتیں ہیں جنھوں نے امریکیوں کی کھلم کھلا حمایت کی اور انھیں ہر طرح کا کھل کھیلنے کی اجازت بھی دی اور بوٹ صاف کرنے والے نوکر وہ دین فروش ہیں جو ان حکومتی اقدامات کی حمایت میں اورامت اسلام کی سرزمین اور اس کے مفادات پر حملہ آوروں کے خون کے تحفظ کے لیے فتاویٰ جاری کرتے ہیں۔ان حکومتوں کی مقبولیت اور حمایت سیدھے سادھے عوام میں بالکل برقرار نہ رہ سکتی اگریہ کرپٹ سکالر ان کا تحفظ نہ کرتے۔امریکہ کا تاثر انتہائی خراب ہے اور جو اسکی حمایت میں کھڑا ہوتا ہے وہ بھی اپنا تاثر خراب کر بیٹھتا ہے۔یہ گرین زون اسکالرز ہی ہیں جو ان کرپٹ حکومتوں کے تاثر کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان سرکاری ملّاؤں نے انتہائی حقیر شے کے بدلے میں اپنا دین بیچ ڈالاہے۔
اب اس واقعہ کے بعد فرض کریں الجزائر میں کوئی ایسی کاروائی ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں سی آئی اے کا یہ افسر مردار ہو جاتا ہے، تب تصور کیجئے بھلا کیا ہوگا؟ یہ گرین زون اسکالر بلا تاخیر مذمتی بیانات داغنے کیلئے ہی اپنی زبانوں کو تکلیف دینا گوارا کریں گے! لیکن اب دیکھتے ہیں کہ سی آئی اے کے اس افسر کی گھناؤنی حرکت پر یہ مذمت میں کیا کہتے ہیں! کیا یہ سامنے آ کر علانیہ کہیں گے کہ ایسی صورتحال میں شریعت میں کیا حکم ہے؟ کیا ان میں اتنی ہمت ہے کہ ہمیں بتا سکیں کہ اس معاملہ میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ سی آئی اے کے افسر کو گرفتار کیا جائے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں بلا تامل قتل کر دیا جائے؟

یہ حقیقت کہ سی آئی اے کے اس افسر نے اسلام قبول کیا تھا اس وجہ سے غیر متعلق ہو جاتی ہے کہ وہ سی آئی اے کے ا سٹیشن کے سربراہ کے عہدہ پر فائز ہے جو اسے ارتداد میں دھکیل دیتا ہے۔ ماضی میں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے صرف اتنا فرق پڑے گا کہ اس پر کفر اصلی کا حکم لگایا جائے یا کفر رِدہ کا۔ان حکومتوں کی حالت اس قدر بے بسی کی سی ہے کہ امریکی میڈیا اس خبر کو پہلے ہی اچھال رہا ہے اور امریکی افسران اس واقعہ کے حوالے سے مذمتی بیانات دے رہے ہیں جبکہ امریکہ میں موجود الجزائر کے سفارت خانے کے ترجمان کے پاس فوری طور پر کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

اے امت کے غدارو ! اللہ تمہاری مکافاتِ عمل جلد لائے!!!