|
|
||||||
قارئین ایقاظ کے ہمیں موصول ہونے والے مراسلے اس کالم میں
شائع ہو سکتے ہیں۔ کوئی اہم موضوع سامنے لائیے ۔ہم پر تنقید کیجئے۔ ملاحظات
و تجاویز دیجئے۔قارئین ایقاظ کے ساتھ کچھ معلومات بانٹنا چاہیں
تو اس کیلئے بھی ہمارا یہ کالم حاضر ہے۔ قارئین کے مراسلے ایقاظ میں
من وعن شائع کر دیے جاتے ہیں۔ ادارہ ایقاظ کا یہاں شائع ہونے والے کسی
مراسلہ سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایقاظ نے شیخ قرضاوی کو عالم اسلام کے ممتاز علماء میں کیوں شمار کیا؟ (ای میل میں اردو اٹیچمنٹ کی صورت موصول ہونے والا ایک مراسلہ): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم محترم مدیر مسؤل سہ ماہی ایقاظ لاہور السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا رسالہ ”ایقاظ“ با قاعدگی سے پڑھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں الحمدللہ اس رسالے سے کافی کچھ سیکھنے کا موقعہ ملااس دفعہ بھی” اصول فقہ کی اہمیت کے اصول سے “ اس کی اہمیت واضح ہوئی اور اس موضوع پر کچھ پڑھنے کی طلب پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ آپکو جزائے خیر دے۔ آپکا مضمون ”کیا مرجئہ طے کریں گے کہ تکفیری کون ہیں؟“ بہت خوب ہے اللہ تعالیٰ آپ کے قلم کو اور زور بیان عطا فرمائے آپ نے موجودہ اور دور سلف کے حکمرانوں کا خوب موازنہ کیا۔” تکفیر حق“ اور ”تکفیر نا حق“ اور” فکر ارجا ئی “کا اچھا بیان ہے۔ ”ارض مقدس“ پڑھتے ہوئے ایک قاری اپنے شاندار ماضی میں تقریبا کھو جاتا ہے ”سعودیہ تقارب ادیان کی راہ پر“ پڑھا سعودی حکومت کی حرکتوں پر اچھی تنقید ہے اللہ تعالیٰ توحید کی اس بستی کو دین کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق دے آمین۔ البتہ دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا:۔ 1۔:” رافضی عزائم اور قرضاوی کی شہادت“مضمون پڑھ کر حیرت اور افسوس ہوا کہ آپ نے قرضاوی کو عالم اسلام کے ممتاز علماء میں شمار کیا ہے۔ اس بات میں شاید کوئی حرج نہ ہو کہ قرضاوی یا اس سے بڑے کسی اور گمراہ کی صحیح بات کو فائدہ کی خاطر بیان کیا جائے ۔لیکن ان گمراہوں کی گمراہ کن آراء کو جو کہ اہل سنت کی آراء کے ہی نہیں بلکہ اسلام کے بنیادی امور کے خلاف ہیں کے بارے میں صرف یہ لکھا جائے کہ چند امور میں جمہور علماءِ سنت اس کے مؤید نہیں جبکہ یہ تبصرہ تو فقہی اختلاف میں تو کیا جا سکتا ہے۔ اُن خلاف عقیدہ آراء میں سے ایک جس کا آپ نے ذکر کیا ہے یعنی ”ایرانی رافضی انقلاب کو اسلامی انقلاب کہنا“ کیا یہ بھی کوئی فقہی قسم کا اختلاف ہے؟ یوسف قرضاوی کی گمراہیوں پر چند علماء کا کلام بھیج رہا ہوں مطالعہ کیجیے اور ایسے لوگوں کو اہل سنت کے علماء ہونے کا تاثر دیتے ہوئے ان علماء کے یوسف قرضاوی پر ہونے والے اعتراضات کا جواب ضرور دیجیے ۔ 2۔”ایقاظ میں شائع شدہ مواد کی کانٹ چھانٹ کر کے اپنے مضمون کی صورت میں پیش کرنے والے حضرات اللہ سے ڈریں“ کے عنوان سے جو آپ نے لکھا ہے اس سلسلے میں چند گزارشات ہیں۔ A۔میں نے جمہوریت دین ابلیس میں بعض غلط فہمیوں کے ازالہ میں محترم حامد صاحب کا جواب نقل کیا جو انہی کے نام سے پیش کیا گیا اور انکی کتاب کا حوالہ بھی دے دیا گیا اگر آپ کا مقصود یہ ہے کہ یہ طریقہ غلط ہے تو پھر آپ کا اپنے مضامین میں ابن کثیر ابن قیم محمد بن عبدالوہاب اور محمد بن ابراہیم رحمتہ اللہ علیہم سمیت بہت سے علماء کے اقتباسات بیان کرنے کی کیا دلیل ہے ؟ B۔میں نے ”دعوت کا منہج کیا ہو؟“ سے استفادہ کر کے ایک مختلف انداز سے اس بات کو ایک پمفلٹ میں بیان کیا ۔کتاب سے استفادہ ضرور کیا اور آخر میں لکھ بھی دیا کہ ماخوذ از دعوت کا منہج کیا ہو؟ آپ نے اپنی کتاب ”ایمان کا سبق “میں ایسا ہی استفادہ امام ابن قیم کی تحریرات سے کیا ۔ اور خود آپ نے لکھا ۔ ”استفادے کی بابت ہم یہ واضح کر دیں کہ ترجمہ یا ترجمانی سے ایک بہت مختلف چیز ہے یوں سمجھیں کہ ہم نے آئمہ سنت کی کسی تحریر کو بنیاد بنا کر خود اپنے الفاظ میں ایک مضمون تیار کیا ہوتا ہے کسی وقت یہ اسکا اقتباس ہو سکتا ہے کسی وقت اسکی شرح اور کسی وقت اس سے بھی کچھ مختلف چیز۔ اصل تحریر کو صرف بنیاد بنایا گیا ہوتا ہے اور اسکو زیادہ واضح کرنے کے لیے اس میں بہت کچھ ہمارا اپنا بھی ہو سکتا ہے۔“ اگر آپ کے لیے یہ کرنا درست ہے تو کسی اور کے لیے غلط کیسے؟ اسی طرح آپ کے مضمون کی کوئی اچھی بات کسی کو پسند آئے اور وہ اس بات کو اپنے اندازِ بیان سے آپ کا حوالہ دیے بغیر لکھ لے تو اگرچہ بات اس نے آپ ہی کی تحریر سے سمجھی ہوتی ہے ، ہو سکتا ہے کہ بعض دلائل آپ ہی کے ہوں مگر اس تحریر کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں تو اس میں اعتراض کیسا؟ میں یہ بھی واضح کر دوں کہ ان تحریرات کو شائع کرنے کا مقصد کوئی شہرت حاصل کرنا نہیں ان شاءاللہ بلکہ عوام کے اس طبقے تک بات پہنچانا مقصود ہے جو آپ کی تحریرات پڑھنے سے عاجز ہیں ۔اور ایسے لوگ میری نظر میں بہت زیادہ ہیں ۔ البتہ اگر اعتراض ہو سکتا ہے تو وہی جو آپ نے لکھا ہے کہ:” عمومی طور پر ہم اس خیال سے باہر نہیں جاتے جس کو اصل تحریر ذہن میں اجاگر کرنا چاہتی ہے “۔ میری بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اصل تحریر کے مفہوم سے باہر نہ جایا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاءفرمائے ۔اور جنت میں ہمیں جمع کرے اور ہماری کاوشوں کو اسلامی انقلاب کی عمارت کی اینٹ بنائے ۔آمین دعاوں کا طلبگا ر :۔ ڈاکٹر سید شفیق الرحمن 40۔اے ۔نور الحق کالونی بہاولپور
محترم ڈاکٹر صاحب! ہماری تحریر کا حوالہ دے دیا جاتا ہے تو ہمارا اعتراض باقی نہیں رہتا۔ جزاکم اللہ خیرا - ادارہ ایقاظ اس شمارے کی ضخامت کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے پہلے اعتراض کا مفصل جواب نہیں دیا جاسکا۔ البتہ اس شمارے کے انٹر نیٹ ایڈیشن میں حامد صاحب کی ای میل کے ذریعے متعلقہ موضوع پر ہوئی ایک گفتگو ایک دوسرے مضمون میں یہاں پر دی جارہی ہے |
||||||