|
|
||||||||||
’ایقاظ‘کے گزشتہ شمارہ میں مذکورہ بالا عنوان سے ایک مضمون شائع ہواتھا۔ مضمون کی اشاعت کے بعدہم سے بعض قارئین نے شکایت کی کہ پاکستان میں ایسے حضرات زیادہ نہیں ہیں جو روافض کی بابت علامہ یوسف قرضاوی کے کسی سابقہ موقف یا موجودہ موقف سے آگاہ ہوں۔ ایسے قراء بھی زیادہ نہیں ہیں جو خود علامہ یوسف قرضاوی سے ہی واقف ہوں۔ اس لیے مناسب تھا کہ آپ علامہ یوسف قرضاوی کے اِن بیانات پر تبصرہ کے ساتھ ساتھ ان کے مندرجات سے بھی قارئین کوآگاہ کر دیتےکیونکہ ہمارے سابقہ مضمون میں خودعلامہ یوسف قرضاوی کا کوئی بیان مذکو رنہیں ہے۔ ہم معززقارئین کی فیڈبیک کے شکرگزارہیں۔اس مضمون میں ہم علامہ صاحب کے بیانات بھی دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی جانب سے کچھ وضاحتیں بھی کریں گے۔ پاکستان میں رہنے والے تحریکی نوجوانوں کے لیے شاید یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ دنیا بھرکے سرکردہ علماء کرام کی شبانہ روز مصروفیات اوران کے دروس بیانات یا تحریکی سرگرمیوں سے با خبررہ سکیں۔ ’ایقاظ‘کی اشاعت کا ایک مقصد پاکستان کے تحریکی حلقوں کو بین الاقوامی خصوصاً عرب ممالک اور بالخصوص جزیرہ عرب کے تحریکی عمل سے باخبر رکھنا اور عالم اسلام میں برپا تحریکی عمل میں فکری قربت پیداکرنا ہے۔ پھر بھی تحریکی دنیا کے بعض نہایت معروف واقعات کی بابت یہ فرض کرتے ہوئے کہ یہ واقعات یہاں کے تحریکی حلقوں سے وابستہ قارئین کے علم میں پیشگی طور پر ہیں، ایقاظ اپنی گفتگو کو تجزیوں اور تبصروں تک ہی محدود رکھتا ہے۔ بہر حال اس عظیم پیش رفت پر، جو ایرانی انقلاب سے عالم اسلام کو خبردار کرنے کی بابت علامہ قرضاوی کے موقف میں آئی، ہم یہاں قارئین کو بعض تفاصیل سے مطلع کرتے ہیں۔۔۔۔ گزشتہ مضمون میں ہم نے عرب علماء کے حوالے سے لکھا تھا کہ سو سے زائدعلماء کرام نے علامہ یوسف قرضاوی کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہوئے ’کہ عرب سنی ممالک میں رافضیت کے پھیل جانے کا شدید خطرہ ہے‘کہا تھا کہ علامہ صاحب کے اس بیان کے بعد اس بات کا پورا امکان ہے کہ ایران علامہ صاحب کے خلاف ابلاغ عامہ کی سطح پرکیچڑ اچھالے گا اور انہیں نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ سنی علماء کرام نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ علامہ صاحب کوتنہا نہیں چھوڑیں گے اوران کا بھرپور دفاع کریں گے۔ یہی درخواست ہم نے اپنے مضمون میں بھی کی تھی کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا’مسلمان دشمنوں کے مدمقابل سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہوتے ہیں۔ ہمارے پچھلے مضمون سے یہ مطلب نکالنا غلط ہوگا کہ ہم علامہ صاحب کے سبھی مواقف کو درست سمجھتے ہیں۔اس سلسلے میں واضح ہوکہ ’ایقاظ‘ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اسکول آف تھاٹ کوخلیج کے علماء کرام کی وساطت سے پاکستان میں عام کرنے کی ایک نا چیز سی کوشش کررہاہے۔ اہل سنت کے منہاج کا یہ وصف ہے کہ وہ اپنے سے اختلاف کرنے والے مسلمانوں کاحقِ نصرت سلب نہیں کرتے۔ اسی قاعدے پرعمل کرتے ہوئے ہی ہم نے علماء کرام کی موافقت والے بیان کا ترجمہ اپنے وضاحتی اضافوں کے ساتھ گزشتہ شمارے میں شائع کیا تھا۔ اب آپ علامہ یوسف قرضاوی کے بیانات کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ان بیانات کے بعدہی علامہ موصوف شیعہ حضرات کے ہاں مطعون ٹھہرے ہیں ورنہ وہ سنی علماء میں سے شیعوں کے ہاں سب سے زیادہ قابل احترام ہواکرتے تھے۔ علامہ یوسف قرضاوی نے مصر کے روزنامہ’المصری الیوم‘مورخہ 9 ستمبر2008ءکوانٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: ’یوں توشیعہ مسلمان ہی ہیں لیکن وہ بدعتوں میں مبتلا ہیں لیکن ان کا اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ مذہب سنی (اکثریتی) خطوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں سرگرم عمل ہے۔اس مقصدکے حصول کے لیے ان کے پاس لاکھوں روپے بھی ہیں اوروہ اس مقصد کے لیے زبردست ٹیم بھی رکھتے ہیں جواس کام کوکرنے کی پوری اہلیت رکھتی ہے۔ دوسری طرف سنی خطوں کا یہ حال ہے کہ ان کے ہاں شیعیت کے پھیلاؤ کوروکنے کی صلاحیت نہیں ہے۔(اس میں بڑے قصوروارتو) ہم علماء ہی ہیں جنہوں نے اب تک اپنے عوام میں یہ قابلیت نہیں پیدا کی کہ اگرشیعہ اپنے مذہب کوسنی خطوں میںرائج کرنے کوشش کریں توانہیں عوام میں ہی کام کرنے میں مشکلات پیش آجائیں۔ہم (توبھلے مانس کی طرح) یہی کہتے رہے کہ بھائی فتنوں سے بچ (تفرقہ بازی سے)کرمسلمانوں کومتحد رکھو اورہوا یہ کہ سنی علماء کوہزیمت پرہزیمت اٹھانا پڑی۔ علامہ صاحب کہتے ہیں: ’اب مجھے تعجب ہوتا ہے کہ مصرمیں(جگہ جگہ) شیعہ دیکھے جاتے ہیں۔ مصرتو سنی آبادی کی ایسی زمین رہی ہے کہ صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے دور سے لے کر پچھلے بیس سال تک پورا زور لگانے کے باوجود مصرمیں کسی ایک سنی نے بھی اپنامذہب تبدیل نہیں کیا تھا۔ (اشارہ ہے مصرمیں فاطمیوں کی حکومت کی طرف جن کا مذہب شیعہ تھا، اور جس کو بالآخر صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے مصر سے ختم کیا تھا) اب ان کے ٹھٹ کے ٹھٹ ہیں؛ اخبارات میں بھی چھائے ہیں اورٹی وی کی نشریات میں بھی۔وہ ڈٹ کر اپنے مذہب کا پرچا رکرتے ہیں۔(ایک اورخطرناک بات یہ ہے کہ) شیعہ مذہب میں’تَقِیَّہ ‘ کاعقیدہ پایا جاتا ہے۔زبان پر کچھ اوراند رکچھ (شیعہ مذہب میں یہ نیکی کا کام ہے)اس عقیدے کی وجہ سے یہ اور بھی ہمارے لیے گھمبیرمسئلہ بن گیا ہے۔اس خطرے سے نبردآزما ہونے کاطریقہ یہ ہے کہ سنی عوام کو شیعت کے خطرے سے آگاہ کیا جائے۔میں اہل سنت کے تمام علماء کرام سے یہ اپیل کرتاہوں کہ وہ اس خطرے کے تدارک کے لیے متفق ہوکرکام کریں اس کی وجہ یہ ہے کہ سبھی عربی سنی خطے اس منظم تبدیلی کی لپیٹ میں ہیں او رشکست کھاتے جارہے ہیں۔مصر؛ سوڈان؛ مراکش؛ الجزائر؛ اس کے علاوہ مشرقی ممالک میں ملائشیا؛ انڈونیشیا اور یہاں تک کہ نائجیریا بھی جہاں کبھی شیعہ نہی ںتھے اب شیعت کی لپیٹ میں ہے۔ محترم قارئین ہم نے گزشتہ شمارے میں لکھا تھا کہ سنی علماء میں سے سب سے بڑھ کرعلامہ یوسف قرضاوی نے ایران کے ’اتحاد بین المسلمین‘پروپیگنڈے کا ساتھ دیا ہے۔ عرب کے سنی حلقوں نے علامہ صاحب کے مذکورہ بالابیان پرخوشی کا اظہاراوران کی نصرت کرنے کا عہداسی لیے کیا تھا کہ علامہ صاحب کی ایرانی عزائم کے خلاف شہادت بے حد اہم ہے کیونکہ سنی معروف علماء میں علامہ صاحب ہی سب سے زیادہ شیعہ تحریک ’اتحادبین المسلمین‘ کے مؤید رہے ہیں۔ جہاں تک رافضیت کے بارے میں علامہ صاحب کا جوایک مستقل موقف چلا آرہا ہے اسے سنی علماء نے کبھی قبول نہیں کیا۔اہل سنت کیونکہ عدل اورنصیحت کونہیں چھوڑتے اس لیے جہاں کسی مسلمان کی نصرت کی ضرورت ہے وہاں وہ اس کی نصرت کرتے ہیں اورجہاں اسے نصیحت کی ضرورت ہو یا اس کااجتہاد غلط ہو وہ اسے قبول بھی نہیں کرتے مگر کسی غلط موقف کی بنا پراپنے بھائی کوبے یارومددگار بھی نہیں چھوڑتے۔ پس اہل سنت والجماعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ ایک ہی شخص میں دومتضاد (نہ کہ متصادم) صفات پائی جاسکتی ہیں۔ نیکو کاری کی وجہ سے وہ مسلمانوں کی نصرت اورمحبت کا حق دار ہوتاہے اورجس قدروہ نیک و کاری سے دورہوگا اسی قدر وہ نصیحت کا بھی مستحق ہوگا اور تادیب کا بھی بشرطیکہ تادیب سے ہی مصلحت حاصل ہونے کا یقین غالب ہو جس کا فیصلہ اہل علم کو کرنا ہوتاہے۔ اہل سنت کے اوصاف کا بیان ’ایقاظ‘ کا مستقل موضوع ہے جس پر قارئین کو وقتاً فوقتاً علمی مواد پہنچانے کا ہم اپنے تئیں اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ مذکورہ بالا انٹرویومیں ہی اخبارکے اس سوال کے جواب میں کہ’سنی اور شیعہ کے مابین اختلاف جوہری اوراصولی ہے یامعمولی نوعیت کاہے‘۔اس کے جواب میں علامہ صاحب فرماتے ہیں:’فروعی اختلافات توکبھی اہم ہوتے ہی نہیں ہیں( کہ ان کی بنیاد پرہی کسی کوفرقہ پرست کہاجائے)تقریباَ سبھی شیعہ موجودہ قرآن کوہی کلام اللہ کہتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن میں کچھ چیزوں کا اندراج نہیں ہوسکا جس میں ان کے بقول ایک سورت’سورت ولایت‘بھی ہے۔ ہم صرف نبی علیہ السلام کی (ثابت شدہ )سنتوں کو سنت کہتے ہیں اور وہ سنت اسے بھی کہتے ہیں جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اورانہیں بھی جو گیارہ اماموں کے اقوال اوراعمال پر مبنی ہیں جنہیں وہ معصوم (عن الخطاء)سمجھتے ہیں اور اس کادرجہ ان کے نزدیک وہی ہے جو نبی علیہ السلام کی سنتوں کاہے۔ ہم ابو بکرصدیق؛عمربن خطاب اورعائشہ کے لیے رضی اللہ عنہم کہتے ہیں اوروہ(معاذاللہ) ’لعنہم اللہ‘ کہتے ہیں۔(اس کے علاوہ شیعہ کا سنیوں سے ایک اورجوہری اختلاف یہ کہ وہ)خلافت کوعلی بن ابی طالب کا حق ازروئے نص رسول سمجھتے ہیں اوریہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نص کوچھپا کرخیانت کے مرتکب ہوئے تھے اورانہوں نے(وصی)کوچھوڑ کردوسروں کو خلیفہ نامزد کردیا تھا‘۔ اخبارکے اس استفسارپرکہ’جب شیعہ سے ہمارا(سنیوں)کااصولی اختلاف ہے توپھروہ مسلمان کیسے ہوئے‘۔علامہ صاحب نے اس کے جواب میں کہا’اس لیے وہ مسلمان ہیں کہ وہ اللہ اس کے رسول اورقرآن پرایمان رکھتے ہیں۔ مذکورہ بالا انٹرویو کے بعداسی بات کا اعادہ علامہ صاحب نے شیعہ علماء کی اہم ترین شخصیت سید محمد حسین فضل اللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران میں بھی کی تھی جسے کویت کے اخبار’الرای العام‘نے 19 ستمبر2008ءکی اشاعت میں شائع کیا تھا۔اس ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں علامہ یوسف قرضاوی نے سید محمد حسین کے تعجب پر اپنا اظہار تعجب کرتے ہوئے کہا’مجھے تعجب ہے کہ مولانا میرے بیان پر حیران ہوئے ہیں ۔ میں اب بھی اپنے پرانے بیان پرقائم ہوں اورمیں سمجھتا ہوں کہ سنی ممالک شیعہ اثرات کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔اس بات کا ہمی ں(ہرموقع پر) اظہار کرنا چاہیے اگرہم اس (خطرے) سے امت کو خبردار نہیں کریں گے تو ہم خیانت کے مرتکب کہلائیں گے اور (اہل علم پر جوذمہ داریاں ہوتی ہیں اس سے) کوتاہی برتنے والے شمارہوں گے‘۔ اخبار لکھتا ہے کہ علامہ صاحب نے مزید کہا کہ میرا اس بات پرپختہ ایمان ہے کہ اہل سنت ہی فرقہ ناجیہ ہیں اور دوسرے تمام کے تمام فرقے کسی نہ کسی بدعت اورگمراہی میں مبتلاہیں۔(میں متعدد بار کہہ چکا ہوں کہ) شیعہ مذہب مبنی بر بدعات مذہب ہے لیکن شیعہ کافرنہیں ہیں اس پرامت کا اجماع ہے۔(میرے نزدیک)سنی اور شیعہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی نوعیت اس سے بڑی نہیں جو سنیوں کے مابین پائے جاتے ہیں۔میں فتنہ پرداز نہیں ہوں اور نہ تفرقہ پرستی ک وپسند کرتا ہوں جیسا کہ میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ہاں میں امت کوایک بہت بڑے فتنے سے ضروربچانے کی کوشش کررہا ہوں۔اس سے پہلے کہ فتنہ پھیل جائے اور اچھے برے سب کو نگل جائے سنی کیا اورشیعہ کیا؛اس کابندوبست کرلینا چاہیے۔ قارئین کرام مندرجہ بالا سطورسے علامہ یوسف قرضاوی کا شیعہ کے بارے میں موقف واضح ہو جاتا ہے۔عرب علماء نے علامہ صاحب کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ سنی ممالک شیعہ کی منظم دعوت کا ہدف ہیں اور یہ کہ اس منظم دعوت کے نتیجے میں ان ممالک میں بھی شیعہ اہم عہدوں پرفائز ہیں جہاں تاریخ میں کبھی شیعہ نہیں پائے جاتے تھے اورشیعہ کے اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سنی علماء کو ہنگامی بنیادوں پر متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سنی شیعہ کے اختلافات کا وہی درجہ ہے جو سنی مختلف اسکول آف تھاٹ میں بھی پایاجاتا ہے تو اس کی بابت فلسطین کے محکمہ اوقاف کے سابق سکریٹری؛غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ عقیدہ کے پروفیسرڈاکٹر صالح الرقب معروف ویب سائیٹ (المفکرہ) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں:’علامہ صاحب نے شیعہ کو بدعت پرمبنی گروہ کہاہے اورسنی ممالک میں شیعہ اثر ونفوذ کواس قدر زور دے کر بیان کیا ہے کہ (جیسے سنی) ممالک کوایران کی قدیم شہنشاہت ’صفوی‘استعمارجتناخطرہ ہو۔ یہ بات اپنی جگہ لیکن علامہ صاحب کاشیعہ کے بارے میں مجموعی موقف تساہل پرمبنی ہے‘۔ڈاکٹرصاحب کہتے ہیں کہ جس فرقے کے اصول اورمبادیات ہی ہم سے مختلف ہیں جوصحابہ پرسب وشتم اورطعن کریں؛ان پیکر امانت ودیانت ہستیوں کوخائن کہیں؛ امامت کوعقیدے کاجزء قراردیں۔ان میں سے کوئی ایک اصول بھی ایسا نہیں ہے کہ جسے اہل سنت کے ہاں عقائد کا جزء سمجھا جاتا ہو‘۔ڈاکٹرصاحب مزید کہتے ہیں کہ ’علامہ صاحب سے پہلے بھی بہت سے علماء حسن ظن کی بنیاد پر شیعہ سنی اتحاد کے لیے سرگرم عمل رہے لیکن شیعہ کے عقیدہ ’تقیہ‘ کا پول ان پرکھل گیااوریہ کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں نہ ہو سکتی ہیں اس لیے کہ ہمارا اور شیعہ کا اختلاف محض اتنا نہیں کہ وہ صرف مبتدعہ ہیں بلکہ ہمارا اختلاف اصولی ہے اورکسی (مزعوم)اتحاد کی قیمت ہم دین کی مبادیات کو تج کرکے نہیں دے سکتے۔دونوں مذاہب کے اتحاد کی کوشش ایک سعی لاحاصل ہے‘۔ ڈاکٹرصالح الرقب کہتے ہیں’شیعہ نے حال ہی میں ہمارابیڑاغرق کیا ہے۔امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران نے بھی سنی ممالک کوغنیمت سمجھ کرلوٹا ہے۔ جسے یقین نہ ہو وہ ایران کی سرکردہ شخصیات کے وہ واضح بیانات پھر سے کھنگال لے۔ایران کے متعدد سیاسی قائدین سینہ ٹھونک کرکہتے ہیں کہ’ہم امریکہ کا ساتھ نہ دیتے توامریکہ اتنی آسانی سے کبھی بھی افغانستان اورعراق میں داخل نہ ہوسکتا تھا‘۔ ڈاکٹرصاحب کہتے ہیں کہ میں فلسطینی ہوں۔فلسطین’ارض مقدس‘مقبوضہ خطہ ہے۔ ایران اگرفلسطین کی آزادی میں سنجیدہ ہے تو دیرکس بات کی ہے۔قدس کا نام لینے والے ہاتھ پرہاتھ رکھ کرکیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔آئے روزسنی فلسطینی(مہاجرکیمپوں میں) شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں ذبح ہوتے ہیں۔یہ سب ظلم ایران کی تربیت یافتہ ملیشیا کرتی ہیں۔عراق میں شیعوں نے سنیوں پر جو ظلم کیا وہ کس سے پوشیدہ ہے۔ایران صرف سنیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے فلسطین کی مددکے دعوے ببانگ دہل کرتا ہے۔ جو متعصب ملک تہران میں سنیوں کو ایک چھوٹی سی مسجد نماز پنجگانہ کے لیے تعمیرکرنے کی اجازت نہیں دیتا وہ کس طرح اس بات کوپسند کرے گا کہ ارض مقدس آزاد ہواور وہاں سنی ریاست وجودمیں آجائے۔ ہمارے بے شمارفلسطینی بھی ایران کے پروپیگنڈے میں آئے ہوئے ہیں۔دراصل شیعہ کے واردات کرنے کے تین راستے ہیں اورتینوں ہی بدقسمتی سے فلسطین میں پائے جاتے ہیں:افلاس؛جہالت اورامراض‘۔ ڈاکٹرصاحب مزید کہتے ہیں’ میری درخواست ہے کہ اس سنجیدہ مسئلے کو سنی علماء متفقہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے حل کریں اور ہ رممکن طریقے سے فلسطین کے عوام مسلمانوں میں پائی جانے والی مذکورہ بالا تینوں کم زوریوں کودورکرنے کے لیے فلسطین میں سرگرم عمل سنی حلقوں کا بھرپور ساتھ دیں اور اہل سنت کے اصول ومبادیات کوپیش کرنے والے لٹریچر کوعام کریں۔ آخرمیںہم قارئین کوبتاتے چلیں کہ پروفیسرصالح الرقب کے انٹرویومیں ہم نے اختصار کے لیے تصرف کیا ہے۔ ای میل کے ذریعے عربی متن طلب کیاجاسکتاہے۔ علاوہ ازیں، سابقہ مضمون کی اشاعت کے بعد قرضاوی صاحب کیلئے تکریم و ستائش کے کلمات کہنے پرہمیں بعض قارئین کی جانب سے اعتراض بھی موصول ہوا ہے۔ادارے کو اپنی رائے پہنچانے پرہم ان کے شکرگزار ہیں۔ ایقاظ جملہ علمائے اسلام کے معاملہ میں اہل علم کی آراء کی پابندی کو لازمی سمجھتاہے اور کسی بھی معتبر عالم کے لیے نہایت اعلیٰ القاب و آداب استعمال کرنے میں یقین رکھتا ہے خواہ کسی عالم سے کوئی سنگین غلطی تک سرزد کیوں نہ ہو گئی ہو۔جب تک علمائے امت ہی نے (نہ کہ کوئی اکا دکا طالب علم) کسی عالم کی عدالت ساقط نہ کر دیں، یا اس کو بدعتی اور گمراہ قرار نہ دے دیں، اس وقت تک اُس عالم کی عزت و تکریم کاحق ہم پر واجب اور برقرار رہتاہے ۔ حالیہ شمارہ میں، پرچہ کی ضخامت کے پیش نظر، ہم اس اعتراض پر اپنا مفصل جواب نہیں دے پائیں گے۔ تاہم اس مضمون پر مبنی ایک استفسار جوکہ ہمیں انگریزی میں ای میل سے موصول ہوا ہے ، اس کے جواب میں ہونے والی انگریزی گفتگو نیچے دی جارہی ہے۔
اس مکالمے کو PDF میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں۔
|
||||||||||