سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

  قارئین کے سوالات

مودودی صاحب سے وابستگی!۔

جوابات از: مدیر ایقاظ

   

 

(بذریعہ ای میل، انگریزی میں موصول ہونے والا ایک سوال)

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ و بعد

محترم! میں یہ جاننا چاہوں گاکہ آپ مولانا مودودی سے نسبتِ دینی رکھنے میں آخر کس بنیاد پر فخر محسوس کرتے ہیں؟سب جانتے ہیں کہ 73 کے آئین کو ’اجماع‘ کا درجہ دلوانے میں کلیدی کردار سید مودودی کا تھا، یہی وجہ ہے کہ مذہبی جماعتیں نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرنا تو درکنار، آئین کی شرعی حیثیت تک کو چیلنج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتی رہی ہیں! کہنے کو مولانا خطے میں بابائے اصولِ دین تھے !مگر ایک طرف شریعت کی صدا بلند کرنا اور دوسری جانب 73 کے آئین کو اسلامی قرار دینا؟!؟! اسکی منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے! مقامِ افسوس ہے کہ مولانا محترم ہی کی حمایت کو بنیاد بنا کر بھٹوجیسے شخص نے پاکستان کو ’شریعت‘ دینے کا سہرا ہمیشہ اپنے سر سجایا!

مجھے تو یہ اندیشہ ہے کہ خود کو’اصول پسند‘ ثابت کرتے کرتے آپ بھی بالآخر اس آئین ہی کا دفاع کرنے لگیں گے۔ یہ ’حسنِ ظن‘ کہ مولانا مودودی اس سلسلے میں خطاوار نہیں، دراصل کہنے والے کی کم علمی پر دلالت کرتا ہے! گو کہ انہوں نے 72 میں کنارہ کشی اختیار کر لی تھی مگر اسکی وجہ محض ناسازی ءطبیعت تھی ! اگر مولانا نے آئین کی کھلم کھلا مخالفت کی ہوتی تو جماعت اسلامی کبھی اسکو تسلیم کرنے کی جراءت نہ کرتی کہ جماعت کے حلقوں کیلئے وہ بہرحال گاڈ فادر کی حیثیت رکھتے تھے! اس وقت علمائے کرام نے مصلحتاً اسکو شرعی قرار دیا، سو دیا.. مگر اب بھی ایسا کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اس آئین کی منظوری بذات ِخود پاکستان کے سیکولر طبقے اور بھٹوکی فتح کی علامت تھی!

کیا آپ بھول گئے کہ یہ وہی مودودی ہیں جنہوں نے صدارتی امیدوار فاطمہ جناح کی نہ صرف حمایت کی بلکہ انہی کے حق میں ووٹ بھی دیا؟!؟! کیا آپ اس حقیقت سے لاعلم ہونے کا دعوی کر سکتے ہیں کہ یہ خاتون معظم کس منہج پر تھیں؟ انتہاپسند سیکولرزم ؟!؟!کم از کم میری نظر میں منصب خلافت یقینا اس سے ’کچھ بہتر‘ خصوصیات کا متقاضی ہے؟!؟! آپ بھی میری اس ’ناقص رائے‘ سے تو متفق ہونگے!؟

حقیقت یہی ہے کہ مولانا ،غامدی کی طرز پر اسلامی جمہوریت پر یقین رکھتے تھے جس کے تناطر میں مسلمان جب نفاذ اسلام کا نعرہ بلند کر کے اٹھ کھڑے ہوں اور ایوانِ اقتدار میں ان کو اکثریت حاصل ہو جائے تو اسلامی قوانین اس کے ’قدرتی نتیجے‘ کے طور پر آپ سے آپ لاگو ہونے لگیں گے، تاہم انکی زندگی میں ہی یہ خواب غلط ثابت ہوگیا جبکہ نہ صرف جماعت بلکہ خود مولانا مودودی کو الیکشن میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور تاحال ہر الیکشن میں یہی صورتحال ہمیں دیکھنے کو ملی!

یہ آئین خالصتاً کفر ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ میں آئین سے سطر بہ سطر اسکا ثبوت پیش کروں تو مجھے اس میں کوئی تامل نہیں! قانون سازی پارلیمنٹ میں ہوتی ہے اور وفاقی شرعی عدالت (جو کہ اس آئین کی ایک اور لغویات ہے) اس کے آگے، خصوصاً اس نامِ نہاد آئین کے نہایت اہم حصوں کی بابت کوئی ’شرعی کارروائی‘ کر ڈالنے کے معاملے میں آخری حد تک لاچار و بے بس رکھی گئی ہے!

کیا آپ بیان فرمانا پسند کریں گے کہ مودودی صاحب کا اس آئین کی بابت یہ فرمانا کہ یہ ’صحیح سمت میں ایک قدم ہے‘ سےآپ کیا مراد لیتے ہیں؟

 

جواب:

ان بعض معاملات میں جو سوال میں ذکر ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ہم کیا کیا عذر پاتے ہیں، اس پر لکھنے لگیں تو ایک بہت طویل مضمون تیار ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اِس کو تو ہم یہاں موضوعِ بحث نہیں بنائیں گے۔ البتہ یہ واضح کر دیا جائے کہ تحریکی پہلو سے ہمارے سامنے مودودی صاحب کے دو اَدوار ہیں:

- ایک: بیس، تیس اور چالیس کی دہائی کے مودودی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو بلا شبہ اِمام ہیں، ہمارے دلوں میں بستے ہیں، اسلامی تحریک کو ایک جیتا جاگتا واقعہ بنا دینے میں اس پوری صدی کے اندر برصغیر کی کوئی ایک بھی شخصیت ہمیں سید مودودی کے پائے کی نظر نہیں آتی۔ بلکہ حق یہ ہے کہ عالم اسلام کی تحریکی دنیا میں امام مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے پائے کی شخصیت اس پوری صدی میں کم ہی کہیں پائی گئی ہوگی۔ اپنے اس کام کی بدولت جو وہ بیس تا چالیس کے عشروں میں سامنے لے آنے میں کامیاب ہوئے، مودودی رحمۃ اللہ علیہ یقینا اپنے دور کے مجددین میں ذکر ہوں گے۔

- دوسرے، ساٹھ اور ستر کی دہائی کے مودودی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جن کی امامت اور اسلامی عمل کے حق میں جن کی سر بر آوردہ حیثیت تو پھر بھی کہیں نہیں گئی ہے، (جس کی کچھ تفصیل ابھی ہم ذکر کریں گے) البتہ باطل نظام کے ساتھ معاملہ کرنے کے حوالے سے ان سے کچھ سنگین غلطیاں بھی بہر حال ہوئی ہیں بلکہ اپنے دورِ اول ہی کی کچھ بنیادوں کو ناکارہ کردینے کی سمت میں غلطی کے ساتھ کچھ قدم بھی ان سے اٹھ گئے ہیں۔ایک بڑے آدمی کی غلطی بھی بڑی ہی ہوتی ہے۔ یقینا یہ کچھ ایسے اقدامات ہیں جن کے اندوہناک نتائج برصغیر میں اسلام کا تحریکی عمل آج اس وقت بھی بھگت رہا ہے؛ ہمارے آج کے بہت سے بحرانات بلکہ وہ بند گلی جس میں آج ہمارا تحریکی عمل پہنچا ہوا ہے پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں اختیار کر لی جانے والی سمت میں زور و شور کے ساتھ چلتے جانے کا ہی ایک نتیجہ ہے جس پر نظر ثانی بہت دیر پہلے کر لی جانی چاہیے تھی۔ ایک ایسی نظر ثانی کر لینے میں یقینا امام مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی کوئی تنقیص ہوتی اور نہ ان کی راہ چھوڑ دینے کا کوئی سوال، کیونکہ مودودی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی راہ بیس کے عشرے سے شروع ہوتی ہے نہ کہ ساٹھ کے عشرے سے۔ (مودودی رحمۃ اللہ علیہ صاحب کے حق میں، اُس وقت کے لحاظ سے، ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ کچھ اجتہادات تھے جن میں وہ صحیح نتائج پر نہیں پہنچ پائے تھے اور ظاہر ہے کہ جب اجتہاد ہوگا وہاں غلطی کا امکان بہرحال ہو گا، تاہم بعد کے حالات نے جب بول بول کر بلکہ چیخ چیخ کر ان اجتہادات کا غلط ہونا ثابت کر دیا یہاں تک کہ وہ ’دائرہء اجتہاد‘ سے نکل کر ’نوشتہء دیوار‘ بن گئے تو اب البتہ اسی راہ پر اصرار کرنا وہ حیثیت نہیں رکھتا جو اس مسئلہ کو اُس وقت حاصل تھی جب اول اول اپنی بہترین صوابدید سے کام لے کر امام مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ اقدامات اٹھائے تھے)۔

مودودی صاحب کے دورِ دوئم کی بابت ہم نے اپنی رائے واضح کر دی۔ البتہ مراسل کے ساتھ اِس معاملہ میں ہم پھر بھی متفق نہیں کہ مودودی صاحب کے ان آخری عشروں کے حوالے سے خدانخواستہ ایک منفی تصویر ہی بنائی جائے۔ یقینا ان عشروں میں بھی مولانا کے نہایت عظیم کارنامے روز روشن کی طرح ہمارے سامنے ہیں:

مولانا کا ایک بے مثال کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ”دین“ کو ’خانقاہی رنگ‘ سے نکال کر ’معاشرے کا دین‘ بنا دینے میں نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کی تحریک کے نتیجے میں ’دینی عمل‘ گوشوں اور درگاہوں سے نکل کر بازاروں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ابل پڑا۔ یہاں کے چوٹی کے تعلیم یافتہ نوجوان کے اندر ”دین دار“ ہونے کا وہ اعتماد پیدا ہوا جو اِس سے پہلے اس کے یہاں تقریباً مفقود تھا۔ بے شک اِس سے پہلے یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو اقبال نے بھی ’مسلمان‘ ہونے کے معاملہ میں ایک اعتماد اور ایک ’جذبہء تازہ‘ عطا کیا تھا، مگر اِس ’جذبہ‘ کو باقاعدہ ایک ’واقعہ‘ کی صورت دینا مودودی کا ہی حصہ رہا۔ ورنہ اِس جذبہ کو اس سے پہلے ’مسلم لیگ‘ اور ’تحریکِ پاکستان‘ ایسی سرگرمیوں سے ترقی یافتہ تر اور عمیق تر کوئی صورت میسر نہ تھی۔ البتہ ’ماڈرن یوتھ‘ کو مسجدوں میں پیر سے پیر ملا کر صفیں بن کر کھڑے ہونے اور ”دین“ کیلئے سرگرم ہو جانے کا شعور دینے میں مودودی کا کردار نمایاں ترین ہے اور شاید مودودی پر بر صغیر کے حوالے سے وہ بات بدرجہء اتم صادق آتی ہے، جو محدث البانی رحمۃ اللہ علیہ نے مصر کے بانی ِ الاخوان المسلمون حسن البنا رحمۃ اللہ علیہ کی بعض لغزشوں کی بابت کئے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ: حسن البنا کے دامن میں قیامت کے روز پیش کرنے کو اگر یہی ایک چیز ہو کہ انہوں نے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کلبوں اور قہوہ خانوں سے اٹھا کر مساجد میں لا کھڑا کیا تھا، تو کیا پتہ ان کو تو شاید یہی کفایت کر جائے!

دینی طبقوں کو ’ڈسپلن‘ کے مفہوم سے آشنا کرانے کا مؤسس برصغیر کی حالیہ تاریخ میں اگر سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کو قرار دے دیا جائے تو شاید اِس میں ذرہ بھر مبالغہ نہ ہو۔ روزمرہ زندگی میں اسلام کے ایک منظم اجتماعی عمل کی صورت دھار لینا حالیہ عشروں میں دیندار طبقوں کے مابین دیکھا جانے والا ایک ایسا جان دار رجحان ہے جو اپنے وجود میں آنے کے معاملہ میں بڑی حد تک سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی کوشش و محنت کا مرہونِ منت ہے۔ بے شک اس کے بعد کئی ایک دینی طبقے منظم عمل کی صورت میں دیکھے جانے لگے ہیں مگر اس رجحان کو ابتداءً وجود دینے میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی جماعتِ اسلامی کا جو ایک حصہ ہے اس کا انکار کیا ہی نہیں جا سکتا۔

مودودی صاحب کی جدوجہد کے نتیجے میں ”شریعت“ کے حوالے سے یہاں ہر سطح پر جو ایک تعظیم اور احترام کا لہجہ تشکیل پا گیا ہے، یہاں تک کہ شریعت کے ساتھ بدترین بغض رکھنے والا شخص بھی یہاں برسر عام بات کرتا ہے تو خاصی لمبی ’تمہید‘ باندھ کر ہی برسرِ مطلب آنے کی ہمت پاتا ہے اور وہ بھی گھما پھرا کر ہی.... تو یقینا یہ ایک اتنی بڑی نیکی ہے جو ان شاءاللہ مودودی صاحب کے میزانِ حسنات میں ضرور دیکھی جائے گی۔

محترم مراسل یقینا اس اندازِ فکر کو پسند نہ کرتے ہوں گے جو بیٹھے بٹھائے، تحریکوں اور دینی شخصیتوں پر ’تبصرے‘ کرنا ہی اپنے حق میں ’دین کا کام‘ اور ’اِحقاقِ حق‘ کے فریضہ سے سبکدوش ہونا سمجھ لیتا ہے۔ معزز مراسل اگر اُس صنف میں سے ہیں جو اِس بات کے ادراک پر قدرت رکھتی ہے کہ ’دسترخوان‘ پر ایک ادنیٰ سی چیز بھی اگر ’پکی ہوئی‘ پائی گئی تو اس کے پیچھے ضرور کسی ’پکانے والے‘ نے صبح سے دوپہر کر لی ہوگی تو تب ہی یہ چیز کسی ’طشت‘ میں پڑی ’دسترخوان‘ پر دیکھنے کو ملی.... تو ایسی ”قدردان“ ذہنیت کے حامل حضرات ضرور جب دیکھیں گے کہ شریعت کے سوال پر یہاں کے لادین طبقے آج اِس طرح پسپا ہونے پر مجبور دیکھے جاتے ہیں، تو لازماً وہ اُن نیک ہستیوں کے شکر گزار ہوں گے جنہوں نے اس صورتحال کو وجود میں لے آنے کیلئے کوئی صدی بھر محنت کی ہے۔ یقینا اس میں مودودی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اکیلے نہیں البتہ وہ ان شخصیات میں سر بر آوردہ ضرور ہیں جن کی محنت سے یہ ممکن ہوا۔ مودودی صاحب کی ’شوکتِ اسلام‘ کا اس میں جو حصہ ہے اور جوکہ ساٹھ کے عشرے کا واقعہ ہے اور جس کا مومنٹم آج تک پاکستان کی ’تاریخ‘ کو دھکیلے جا رہا ہے، اس کا انکار کوئی انتہائی درجے کا بے قدردان شخص ہی کرے گا۔

چند سال پیشتر ہارورڈ یونیورسٹی میں مجھے ’اسلامک فنانس‘ پر ایک کانفرنس کے کچھ سیشن سننے کا اتفاق ہوا، تو وہاں مقررین یہ ماننے پر مجبور دیکھے کہ معیشت کو اسلامیانے کی حالیہ عالمی تحریک، جوکہ کیپٹل ازم کے متوقع سقوط کے پیش نظر اب نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہے، جن لوگوں کے دم سے ایک عالمی فنامنا بنی ان میں سید مودودی اور ان کی شہرہ آفاق تصنیف ’مسئلہء سود‘ بھی آتے ہیں۔ بلکہ سوال و جواب کی نشست میں ایک مقرر مودودی رحمۃ اللہ علیہ کو father of the Islamic revival in all social areas قرار دے رہا تھا!

یہی نہیں، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اپنی عمر کے آخری تین عشرے کمیونزم کے ’سرخ سویرے‘ کی راہ میں ’خیبر تا کراچی‘ جو ایک ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کر کے رہے، کیا وہ کوئی معمولی کارنامہ ہے؟ جن لوگوں نے وہ دور نہیں دیکھا وہ تو شاید اندازہ بھی نہ کر پائیں کہ وہ کیسی سرخ آندھی تھی اور ایسی آندھی تو عالم اسلام کو تہس نہس کر جانے کیلئے تاریخ میں شاید ہی کبھی اٹھی ہو۔ یقینا مودودی صاحب کی سرکردگی میں جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ اور ان کی تحریک اسلامی سے وابستہ محکمہ جاتی یونینوں اور انجمنوں نے تین تا چار عشرے کمیونزم کے بالمقابل ہمالیہ تا بحر ہند ”عالم اسلام کے وجود کی ایک جنگ“ لڑی ہے۔ آج جو لوگ اپنے گھروں میں خیر و عافیت سے بیٹھے اس نعمت کی ناقدری کرتے ہیں کہ جس کے دم سے اللہ تعالیٰ نے ان کا انجام ’ترکستان کے مسلمانوں‘ جیسا نہیں ہو جانے دیا، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ کے مصداق میں نہ آتے ہوں۔ مودودی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دامن میں اِس کے سوا کوئی بھی اوراجتماعی نیکی نہ ہو تو کیا بعید ان کو تو ایک یہی کفایت کر جائے۔ یہ کوئی چھوٹا کام تھوڑی ہے! جنوبی ایشیا کے محاذ پر کمیونزم کے گھٹنے لگوا دینے کا سہرا آج کوئی اختر عبد الرحمن کے سر باندھتا ہے ، کوئی حمید گل کے سر اور کوئی کسی اور کے۔ حق یہ ہے جو کردار اس میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اس کے مقابلے میں کسی کا نام لیا ہی نہیں جا سکتا۔ کمیونزم کو ’خبر ِ ماضی‘ بنا دینے میں جنوبی ایشیا کی قابل ذکر ترین شخصیات کی واقعتا کوئی فہرست بنتی ہے تو حق یہ ہوگا کہ سب سے اوپر سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا نام لکھا جائے، اس کے بعد بھی بہت سے خانے چھوڑ دیے جائیں اور پھر اگر کسی جرنیل وغیرہ کا نام آتا ہے تو اس کو لکھا جائے!

قادیانیت کے فتنہ کے خلاف قوم کو موبلائز کرنے میں مودودی رحمۃ اللہ علیہ جس طرح کامیاب ہوئے (گو کچھ دیگر شخصیات کا حصہ اِس میں نظر انداز کرنا ہمارا مقصود نہیں) وہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ قادیانیت کے خلاف مودودی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے کام کو آپ محض اس حوالے سے ہی مت لیجئے کہ یہ تحریک بالآخر قادیانیوں کو کافر قرار دلوا لینے میں کامیاب رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک نے ”ناموسِ رسالت“ کے حوالے سے یہاں کچھ ایسی فکری و سماجی بنیادیں ڈال دیں کہ سیکولر قوتوں کی بسیار کوشش کے باوجود اور میڈیا کی تمام تر طاقت پاس رکھنے کے باوجود وہ اِن بنیادوں کو آج تک ہلا نہیں سکیں۔ ذرا اگر آپ کی نظر ’گلوبلائزیشن‘ کے آنے والے جھکڑوں پر ہو تو آپ یہ مانیں گے کہ ”ناموسِ رسالت“ ان گنت پہلوؤں اور بے شمار حوالوں سے ان کے راستے میں ایک ناقابل تسخیر فصیل بن کر کھڑی ہے۔ اس لحاظ سے مودودی صاحب اور ان کے معاصر کچھ دیگر اصحابِ خیر کے ہاتھوں ”مقامِ رسالت“ کے حق میں اتنی بڑی خدمت سر انجام دے دی گئی ہے کہ ہمارے حالیہ عشروں میں بہت سے پہلوؤں سے ہماری بچت ہوئی ہے اور ہوتی جا رہی ہے تو بفضلہ تعالی وہ اسی کے دم سے ہے۔ ہم میں سے جس کسی کو اس بات کا یقین نہیں، خدا نہ کرے کہ اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا پڑے کہ جب بھی مسئلہء ناموسِ رسالت کے پیچ ہماری ’رائے عامہ‘ کے ہاں ذرا ڈھیلے ہوئے تو پھر یہاں کی ثقافتی فصیل کے کتنے بند کواڑ یک لخت ٹوٹ کر گرتے ہیں، خدا نہ کرے کہ وہ قیامت ہمیں کبھی دیکھنے کو ملے۔

مقصد یہ کہ مودودی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دورِ ثانی میں بھی کمال کے تابناک ابواب موجود ہیں۔ ہاں مگر یہ درست ہے کہ ان کے دور ثانی کے کئی ایک اقدامات ایسے ہیں جو ’ایک شہسوار کی کاری غلطی‘ باور ہوں۔ مراسل نے جو باتیں کہی ہیں، سب نہیں مگر ان میں سے بیشتر کی بابت ہمیں اتفاق ہے کہ وہ مودودی صاحب کی غلطیاں ہیں۔ ان اَخطاء کے معاملہ میں ان کیلئے ہم عذر ضرور تلاش کریں گے البتہ ان کا دفاع یا ان کی حمایت نہیں۔ ہم نہیں سمجھتے خود مودودی صاحب کو یہ پسند ہو کہ لوگ قیامت تک ان کی ہر ہر بات کو ’درست‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ ”مراجعہ“ ہر چیز کا ہو سکتا ہے۔ ”نظر ثانی“ ہر فیصلے ہر اقدام پر ہو سکتی ہے، خصوصاً کچھ عرصہ بیت جانے پر تو کسی طریق عمل کے مالہ وماعلیہ کو دیکھ لینا اور اس کے صائب ہونے کو وقفے وقفے سے جانچتے رہنا اس مشن کی کامیابی کا اپنا ہی تقاضا ٹھہرتا ہے۔ (عین یہی بات بہت سی دیگر تحریکوں کے سوچنے کی بھی ہے حتی کہ ان قابل احترام طبقوں کے سوچنے کی بھی جو مودودی صاحب کی غلطیوں کو ہی اپنا موضوع بنا کر رکھتے ہیں)۔ اس بات سے بھلا کون مستثنیٰ ہو سکتا ہے؟ اور اگر ایسی ’استثناءات‘ کا کسی نیک طبقے کے یہاں سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو اس کا تو پھر ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے کہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہنے کا ارادہ بقیہ زمانے کیلئے اب ترک کر دیا گیا ہے ۔

مراسل سے ہماری درخواست ہوگی، مودودی صاحب کے ان دونوں ادوار کو سامنے رکھئے، اور جو عدل و انصاف کی بات ہو وہ ان کی بابت کہہ دیجئے۔ ان کا دورِ اول تو ہے ہی انتہائی حد تک قابل ِ تحسین۔ دورِ ثانی البتہ ملا جلا ہے۔ جہاں تک اس بابت شریعت کی ہدایت ہے تو وہ یہ کہ کسی کی حسنات کے اعتراف میں ’محتاط‘ ہونا ضروری نہیں بلکہ اپنے سوا ہر کسی کی حسنات کا اعتراف کھلے دل سے ہی کرنا چاہیے۔ یہاں ’بخل‘ سے کام لینا بھی ہرگز مستحسن نہیں۔ البتہ ’احتیاط‘ کی تاکید اُس کی سیئات کو سامنے لانے کے وقت ہوتی ہے، خصوصاً جبکہ وہ شخص اپنی حسنات کا نہایت اعلیٰ ثبوت اس سے پہلے ہی دے چکا ہو۔

رہ گئے وہ عذرات جو ہم ایک ایسی نیک ہستی کیلئے تلاش کرتے ہیں، اور جن کا تذکرہ کسی اور مقام پر ہی ہوسکتا ہے، تو ہماری ان توجیہات سے اگر آپ اتفاق نہیں بھی کریں گے تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ان کی ایک غلطی کو غلطی ہی مانا جائے اور اس کو درست کردینے کی ضرورت بھی تسلیم کی جائے، اور اس پر ظاہر ہے کہ ہمیں اختلاف نہیں۔ اس سے بھی اہم تر بات البتہ یہ ہے کہ عدل کا دامن کسی بھی وقت نہ چھوڑا جائے؛ نہ تو عقیدت رکھتے وقت اور نہ ان غلطیوں کو زیر بحث لاتے وقت جو ایسے کسی بزرگ سے سرزد ہو گئی ہوں۔

یقینا ہمیں تسلیم ہے کہ ’تہتر کا آئین‘ یہاں کے اسلام پسندوں اور سیکولر طبقوں کے مابین ایک ’مفاہمت‘ کا نام ہے بلکہ اس کو ایک ’طویل کشمکش کا خاتمہ‘ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ نہایت واضح ہے کہ ہر دو فریق نے اس قومی دستاویز کے اندر بڑے کڑوے کڑوے گھونٹ بھرے ہیں؛ ہر دو فریق نے بڑی مشکل کے ساتھ، بلکہ دل پر ہاتھ رکھ کر ایک دوسرے کے حق میں بڑی بڑی اہم چیزوں سے دستبردار ہونا قبول کیا ہے۔ بہت سے طبقوں کی جانب سے جب اس کو ’قومی اتفاقِ رائے‘ کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو حق یہی ہے کہ اس معنیٰ میں وہ غلط نہیں ہوتے۔ مفاہمت ہمیشہ ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی بنیاد پر ہوتی ہے اور بلا شبہ ’تہتر کا آئین‘اسلام پسندوں اور سیکولر طبقوں کے مابین اس امر کی ایک نا گفتہ بہ مثال ہے۔ خود ہمیں کسی وقت تفصیل کے ساتھ بات کرنے کا موقعہ ملا تو ان شاءاللہ اس پر روشنی ڈالیں گے کہ اس ’دستاویز‘ میں ہم نے اپنے ہاتھ سے کیا کیا کچھ دے دیا ہے (گو اس سے بھی ہمیں اختلاف نہیں کہ فریق مخالف کو بھی بہت کچھ دینا پڑا ہے ، جس سے یہ ایسا ملغوبہ بنا ہے کہ ہر فریق ہی اس ملغوبہ سے اپنی اپنی مرضی کا ’ذائقہ‘ لے سکتا ہے۔ اس سے یہ ایک ایسی ’الجھن‘ کا نام بن گیا ہے کہ ہر دو فریق قیامت تک اس کو اپنی اپنی مرضی کے معانی پہنانے کیلئے ’مباحثے‘ منعقد کرتے رہیں، تو اس کی پوری گنجائش رہے۔ ہر دو فریق کے پاس ’آئین ِ تہتر‘ کی تفسیر وتعبیر میں جواب در جواب کہنے کیلئے اتنا کچھ ہے کہ دفتروں کے دفتر کم پڑ جائیں!)

البتہ یہ ایک ’مقدس‘ ملغوبہ ہے اور اس سے ہاتھ کھینچ لینا کئی ایک حلقوں کے یہاں قریب قریب وہی حکم رکھتا ہے جو ’اجماعِ امت‘ کا انکار کر دینے کا ہے! ابھی کتبِ ستہ (جن کو عرف عام میں صحاح ستہ کہا جاتا ہے) کی بابت تو ’تحقیق‘ اور ’تخریج‘ پر مبنی کام سامنے آنے کے باعث یہ شعور خاصا بڑھا ہے کہ، سوائے صحیحین کے، ان میں کئی ایک احادیث ضعیف بھی نکل ’سکتی‘ ہیں اور یہ کہ ان میں وارد ہونے والی کسی حدیث کو کوئی مستند عالم اپنی تحقیق کی بنا پر کمزور اور بے جان قرار دے دے تو وہ رد ہونے کے قابل مان لی جائے.... البتہ ’تہتر کے آئین‘ کی کسی ’کلاز‘ کی بابت ایسی کسی سوچ تک کا آجانا شاید ایک اچھنبا جانا جائے، کیا کہا ’تہتر کا آئین‘؟!

مختصر یہ کہ .... باوجود اِس کے کہ سوال میں مذکور کئی ایک وقائع کے ساتھ ہم اتفاق کرتے ہیں (گو سوال کے اسلوب سے ہمیں اتفاق نہیں)، اور باوجود اس کے کہ ہم سمجھتے ہیں سائل نے مولانا کے بعض اقدامات کے نتائج کی سنگینی بتانے میں غلطی سے کام نہیں لیا، پھر بھی سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی صرف یہی ’تصویر ‘ دکھانا آخری درجے کا ظلم اور ناانصافی ہو گی۔ ایک نہایت روشن تصویر کے کسی ایک آدھ تاریک حصے کو ہی ’کل تصویر‘ قرار دینا ’وقائع بینی‘ کی ایک آشوب ناک قسم ہے۔

باوجود اس کے کہ تصویر کے کسی تاریک حصے کی نشاندہی کرنے والا شخص ’غلط‘ نہیں کہہ رہا ہوتا، البتہ ’پوری تصویر‘ کی بابت رائے رکھنے کے معاملہ میں اس کا دعویٰ آخری حد تک ناقابل قبول ہوتا ہے۔ ’خورد بینی‘ عمل کا یہ بھی ایک نقصان ہے کہ چیز کے چھوٹے چھوٹے اجزاءتو کمال واضح نظر آتے ہیں مگر ایک ’کل‘ کے طور پر وہ چیز نظر سے ہی اوجھل ہوتی ہے!