|
|
|||||||||
آج کل روس میں ڈاکٹر اگنور این پانارن کا
بہت چرچا ہے۔ہو بھی کیوں نہ کہ وہ بات ہی ایسی کررہے ہیں کہ کریملن(روس کا
’وائٹ ہاوس‘) خوشی سے پھولے نہیں سما رہا۔ دراصل وہ تو یہ بات بہت
پہلے سے کر رہے تھے مگر اس کی تعبیر بظاہر سامنے
آتے دیکھ کر شوروغل کچھ فزوں تر کردیا ہے۔اس سے
پہلے کہ اس بات کی طرف جایا جائے اوراس کا تجزیہ کیا جائے،
پرفیسر پانارن کا کچھ تعارف بے جا نہیں ہوگا۔
یہ پروفیسر پولیٹیکل سائنس میں ڈاکٹر اور
روس کی وزارت خارجہ کی ڈ پلومیٹک اکیڈمی میں پروفیسر اور ڈین ہیں۔
معلومات عامہ اور اس کے بطور’ہتھیار‘استعمال کیے جانے و دیگرموضوعات
پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ سابق تجزیہ نگار برائے کے جی بی (روس کی خفیہ
ایجنسی) بھی رہ چکے ہیں۔ان کی معلومات اور مطالعہ کا دائرہ بہت وسیع ہے
اورروس کے ٹی وی پروگراموں میں سیاسی مباحثوں، کریملن کی دعوتوں، اورطالب
علموں کو دروس دینے وغیرہ جیسے موقعوں پر بلائے جاتے ہیں۔آج کل اپنی ’پیش
گوئی‘ کی وجہ سے ہاتھوں ہاتھ لئے جارہے ہیں بلکہ دن میں دو دو بار انٹرویو
کا ریکارڈ بھی قائم کردیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ
اب ’ریاست ہائے منتشرہ امریکہ‘ ہونے کو ہے! گو کہ اس بات کی پیش گوئی انہوں
نے ستمبر 1998ء میں آسٹریا کی ایک کانفرنس میں
کردی تھی اورحاضرین کی ’ضیافت ِ طبع ‘کیلئے ساتھ ہی امریکہ کا ’نیانقشہ‘
بھی فراہم کردیا تھا ۔چونکہ آپ (تب کے) روسی صدر بورس یلسن کے لائحہ عمل
کیلئے درکار پیشن بینی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ہیں اورروسی نیشنل
سیکیورٹی ایجنسی ”فاپسی“کیلئے کام کرتے تھے اس لئے ان کا اصرار ہے کہ انکا
امریکہ سے متعلق یہ تجزیہ’خفیہ معلومات‘ اورحقائق پر مبنی ہے۔ امریکہ کے
’چھ‘ ٹکڑے ہونے کی وجہ تب انہوں نے معاشی زبوں حالی،غیرملکی تارکین ِ وطن
کی امریکہ میں حد سے بڑھتی ہوئی تعداد اور سماجی بحران کی وجہ سے جنم لینے
والی خانہ جنگی کی کیفیت بتلائی تھی۔ 1998ءکی
کانفرنس میں اس صورتحال کے رونما ہونے کاوقت انہوں نے وسط
2010ء باور کرایا
تھا۔ موجودہ بد سے بد تر ہوتی امریکی معاشی حالت اور ماضی قریب میں وسیع
پیمانے پر ہونے والی بدانتظامیوں کے طفیل ڈاکٹر پانارن کواپنی پیش گوئی کی
تشہیر کا خوب موقع ہاتھ آگیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کے چھ ٹکڑے، روس سمیت
پاس پڑوس کے تمام ممالک لے اُڑیں گے۔اس پیش گوئی پر روس کے بیشتر حلقوں میں
ایک جوش کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ۔۔۔مگر ہم، اے نوجواں مسلم ،مستقبل کے
’سہانے‘سپنوں پر یوں تکیہ نہیں کرتے۔ |
|||||||||