سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

 

اخبار و آراء

برطانیہ میں بچوں کی زندگی دشوار تر کیوں ہو گئی؟

جمع و ترتیب: مریم عزیز

   

 

برطانیہ میں ایک دستاویز جاری کی گئی ہے جس کا نام ”تفتیش برائے صحتمند بالپن “(داگڈ چائلڈ ہوڈ انکوائری) ہے۔گیارہ خود مختار ماہرین نے ، جن میں آٹھ یونیورسٹی کے پرفیسر اور ایک عدد آرچ بشپ(اعلی عہدے کا پادری) شامل ہیں،ا س رپورٹ کو تین سال کی تحقیقی مطالعے کے بعد شائع کیا۔ تجاویز پر مبنی اس دستاویز کے تاثرات بہت عبرت انگیز ہیں۔اس کے مطابق انگلستان کے معصوم بچے اپنے بڑوں کی حد سے سوا دنیا پرستی کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہیں۔اس سلسلے میں جو عناصر گنوائے گئے ان میں خاندان کا ٹوٹ جانا(علیحدگی و طلاق)، بے مہار اشتہارات کی نشریات ، تعلیمی میدان میں حد درجہ مقابلہ بازی اور آمدنیوں میں تفاوت شامل ہیں۔ اجتماعی کی بجائے ’انفرادی‘کامیابی کی طرف خودغرضانہ میلان جیسی تمام دیرینہ بے قاعدگیوں نے ماضی کی نسبت دور حاضر میں بچوں کو کئی نفسیاتی الجھنوں اور بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے۔ طلاق یافتہ ، اکیلے یا سوتیلے والدین کے ساتھ رہنے والے بچوں میں سکولوں میں فیل ہونے، احساس کمتری ، نفسیاتی اور رویہ کی الجھن اور پریشان مزاجی و ڈپریشن کے امکانات پچاس فیصد زیادہ پائے جاتے ہیں۔اس کمیشن کے رہنما، لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے، لارڈ رچرڈ لےرڈ نے بچوں کے مناسب تربیتی ماحول اور ان کے ’بچپن‘کی حفاظت کے سلسلے میں کچھ رہنما اصول مرتب کئے جن میں اخلاق باختہ اشتہارات(خاص طور پر بچوں کو مخاطب کرنے والے) پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ نیز والدین کیلئے بچوں کی پیدائش کے دنوں میں مفت تربیتی تعلیم، شادی شدہ جوڑوں کے رشتہ ازدواج کو مستحکم رکھنے کیلئے مفت نفسیاتی و دیگر طرزکی امداد ، نوکری کرنے والے والدین کیلئے ان کے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں اوقات کار میں ترامیم اور کم سن بچوں اور نوجوانوں کے لئے صحتمند سرگرمیوں کے اداروں کے قیام وغیرہ جیسے اہم اقدامات کی سفارِش کی گئی۔ اس رپورٹ کو جاری کرنے کے سلسلے میں دا چلڈرن سوسائٹی کے چیف ایگزیکیٹیو بوب ریٹیمیئر نے اہم کردار ادا کیا جس میں تیس ہزار سے زائد اداروں اور بچوں کی معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔قارئین کرام لکھنے والے لکھتے ہیں کہ برطانوی حکومت شاید ہی ان سخت ترین تجاویز پر عمل کرے مگر یہ مغرب کی اندھی تقلید میں مبتلا ہمارے معاشرے کیلئے لمحہء فکریہ ہے!