|
|
|||||||||
قارئین کرام جارج گیلوے کے نام اورافکار سے تو آپ واقف ہونگے، اگر نہیں تو ہم بتائے دیتے ہیں۔ جارج گیلوے برطانیوی پارلیمنٹ کے رکن ہیں،اپنی انصاف پسند طبیعت اور اصول پسند کردار،مظلوم دوست آراءاور افغانستان و عراق و فلسطین پر مسلط کردہ جنگوں کے خلاف تحاریک کی وجہ سے تمام مسلمان دشمن ممالک اور اداروں کی آنکھ میں کھٹکتے ہیں۔برطانوی لیبر پارٹی سے بھی انہی وجوہات کی بنا پر خارج کیے گئے۔تازہ ترین خبر یہ ہے کہ جارج گیلوے پر کینیڈا میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور اس پابندی کی ’شاندار‘ وضاحت ”سیکیوریٹی وجوہات“ کہہ کردی گئی ہے۔ جارج گیلوے جو کہ اپنے جری انداز بیان کی وجہ سے مشہور ہیں ،نے اس پابندی کو ”احمقانہ“ قرار دیا ہے اور اس کے خلاف اپنے تمام وسائل کو استعمال کرکے قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ یہ پابندی کینیڈا نے ان کے ایک بیان کے ردِعمل میں لگائی ہے جس میں انہوں نے افغانستان کی جنگ اور اس میں کینیڈین افواج کی موجودگی پر تنقید کی تھی۔ جارج گیلوے نے کہا کہ ”یہ پابندی، جنگ مخالف تحریک کی اِس دلیل کے حق پر ہونے کو مزید عیاں کررہی ہے کہ بیرون ممالک مسلط کی گئی ناجائز جنگیں ہماری اپنی سرزمین پر مہیاشخصی آزادی کو بھی ہڑپ کر جائینگی!“ انہوں نے مزید کہا کہ”تمام انصاف پسند کینیڈین باشندے اس جارحانہ اقدام کی مخالفت ضرور کرینگے، چاہے وہ میرے ہم خیال نہ بھی ہوں! “ |
|||||||||