|
|
|||||||||
دل تھام لیجئے اور پڑھیے،وہ ’پوشیدہ ‘حقائق جنہیں دنیا جانتے ہوئے بھی انجان بنی بیٹھی ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں آباد کوئی بھی یہودی اسرائیل میں شہریت کا حقدار سمجھا جاتا ہے جبکہ صدیوں سے وہاں آباد فلسطینی زمین کا ایک معمولی ٹکڑاہی خرید سکتے ہیں نہ ہی انہیں لیز (طویل مدت کرائے کی ایک قسم) پر زمین لینے کی اجازت ہے۔ جرمنی کے نازی یہودی نسل کی نشاندہی کیلئے ان کے ملبوسات کو نشان زد کیا کرتے تھے۔ اس اہانت اور امتیازی سلوک پریہودیوں نے اس وقت خوب واویلا مچایا تھا مگر آج وہی ’مظلوم ‘یہودی ، فلسطینیوں پر مخصوص رنگ کی لائسنس پلیٹوں کی پابندی کو ( ’غیر یہودیوں‘ کی دور سے ہی نشاند ہی کیلئے) مسلط کئے ہوئے ہیں اور دنیا ہے کہ ’تعجب‘ بھی نہیں کرتی! وہ قتل بھی کرتے ہیں توچرچا نہیں ہوتا!! اگرچہ یہی دنیا جن میں امریکہ اور اقوام متحدہ جیسے ’بڑے‘ نام شامل ہیں ، یہ تسلیم کرتی ہے کہ مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں(گولان ہائیٹس) یہ سب ”مقبوضہ“ علاقہ جات ہیں اور اسرائیل کا حصہ نہیں! اسرائیل نے85فیصد پانی اپنے 400 یہودی آبادکاروں کیلئے مخصوص کیا ہے جبکہ باقی محض15 فیصد ہبرون کے ایک سو بیس لاکھ فلسطینی مسلمانوں میں ’تقسیم‘کیلئے چھوڑ دیاہے(ہبرون کا علاقہ تو ان میں سے صرف ایک مثال ہے!) فرعون ِ زمانہ یعنی امریکہ اپنے شہریوں کے ٹیکس کے پیسوں سے پانچ ارب ڈالر سالانہ اسرائیل کو نوازتا ہے ،اسرائیل جیسے چھوٹے قابض علاقے کیلئے مختص یہ موٹی رقم پورے افریقی براعظم کے ممالک کو دی جانے والی امداد سے کہیں بڑھ کر ہے۔اس رقم کا تقریبا ایک تہائی اسرائیل کے جنگی اخراجات کی مد میں خرچ ہوتا ہے۔
مشرق وسطی کا واحد ملک جو ایٹمی ہتھیاروں پر
پابندی کے معاہدے پر دستخط کرنے پر آمادہ نہیں ، اور نہ بین الاقوامی
اداروں سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر راضی ہے ،اسرائیل کے
علاوہ اور کون ہوسکتا ہے! اقوام متحدہ کی 69
قراردادوں کی قانون شکنی کامرتکب بھی جی ہاں
آپ صحیح سمجھے! مظلوم اور نہتے فلسطینی مسلمانوں
پرمخصوص اسرائیلی ’نوازش‘ یعنی بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارے جانے
کی خبریں تو ایک تکلیف دہ معمول ہے، خود امریکہ بھی اس ’نوازش‘ سے محروم
نہیں رہا کہ مصر میں امریکہ کے ایک ڈپلومیٹک ادارے کو اڑانے والا اور بین
الاقوامی پانیوں میں امریکی بحری جہاز(دا یو ایس ایس لبرٹی) پر حملہ کرکے
33 امریکیوںکو ہلاک اور 177
کوزخمی کرنے کا کارنامہ بھی اسرائیل ہی کا ہے(اور امریکہ کے پاس خاموش رہنے
کے سوا کچھ چارہ نہ تھا!)اور اس سلسلے کی (یہاں پر) آخری بات ،اسرائیل
امریکی تعلقات عامہ کے چھ اداروں کوباقاعدہ تنخواہ دیتا ہے تاکہ وہ امریکی
عوام میں اسرائیل کا’مثبت تاثر‘ اجاگر کریں! |
|||||||||