|
|
|||||||||
لگتا ہے پچھلے دنوں ”تقارب ادیان“ اور ”مکالمہ بین المذاہب“ کی چکا چوند تقاریب و محافل سے نگاہیں خیرہ اور چودہ طبق روشن کرا کے لوٹنے والے شاہ عرب اپنے ’یہود و نصاری بھائیوں‘ کے ’حریت ادیان‘ سے متعلق ’پیار بھرے‘ طعنوں کو دل ہی پر لے بیٹھے! اور بظاہر سعودی حکومت کے سکیولر عناصر کی مسلسل محنت بھی رنگ لے آئی جب شاہ عبداللہ اپنے بھائی بند وں پر اپنی’روشن خیالی‘ ثابت کرنے پر تل ہی گئے۔ قارئین کرام تازہ ترین خبر اب یہ ہے کہ سعودی عرب کے تمام اہم سرکاری مناصب پر سے اسلام پسند رجحان رکھنے والے عہدیداروں کو ’اچانک‘ فارغ خطی دے دی گئی ہے اور ان کی جگہ ’پروگریسیو‘ (یا ترقی پسند) حکام اپنے پورے کرّو فر کے ساتھ براجمان ہو چکے ہیں۔ تبدیل شدہ مناصب میں سعودی عرب کی مذہبی پولیس کے سربراہ، ملک کے اعلی ترین جج ،سنٹرل بینک کے سربراہ اور کابینہ کے ارکان شامل ہیں۔یہ تبدیلیاں کچھ ناکافی محسوس ہوئیں تو لگے ہاتھوں خواتین کی تعلیم کی وزارت کا عہدہ بھی اختراع کرڈالا! ظاہر ہے عرب کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اب بھی نہ آتیں توپھر کب آتیں؟!۔۔ |
|||||||||