|
|
|||||||||
خبر کچھ پرانی ہے مگر ’انہونی‘
نہیں! باخبر ذرائع اطلاع دیتے رہے ہیں کہ اسرائیلی فوجی فلسطینی مسلمان
بچوں کو شکار کرنے کے بعد ان کی نعشوں کو اعضاء کی چوری کیلئے رکھ لیتے ہیں
اور جب تمام ضروری اعضاء نکال لئے جاتے ہیں تو ’پوسٹ مارٹم‘ کا رنگ دینے
کیلئے خالی جسموں میں ردی اشیاءوغیرہ ڈال کر ’سی‘دیا جاتا ہے۔یاسر عرفات کی
زندگی میں 1999ء میں الجزیرہ نے ان کا انٹرویو نشر کیا تھا جس میں انہوں نے
تصاویر کے ساتھ، مع ثبوت اس بات کو دنیا تک پہنچایا تھا۔مگر دنیا اتنی
انصاف پسند ہوتی تو اسرائیل کا وجود ہی کیونکر قائم ہوتا!اسرائیل کی یہ’
اسرائیلیت‘ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں،1998ء میں ایک گمنام واقعے میں ایک
اسکاٹ لینڈ کے باشندے ایلی سٹیر سنکلیر کی بن گوریان ایئرپورٹ جیل میں
مشکوک حالات میں موت واقع ہوئی، اس کے والدین نے تب اسرائیلی حکام پر مقدمہ
دائر کردیا جب ان پر انکشاف ہوا کہ ان کے بیٹے کا دل اور دوسرے اعضاءچرا لیے
گئے تھے!
جواباً اسرائیلیوں نے دل اور
دوسرے اعضاء
برائے ’ادائیگی تاوان‘ان کو
روانہ کر دیے!۔
جنوری
2002ءاور
2004ء
میں بھی ایسے ہی واقعات
منظر عام پرآئے تھے۔ (گو کہ مغربی میڈیا کی’ نظر کرم ‘سے پھر بھی محروم
رہے!)۔اسرائیلی وزیر برائے صحت نسیم دہان نے صیہونی پارلیمنٹ کے انہی دنوں
ہونے والے اجلاس میں عرب رکن احمد تیبی کے یکم جنوری
2002ء
کے واقعےکی بابت
استفسار کے جواب میں صرف اتنا ارشاد فرما یا ”میں یقینی طور پر نہیں کہہ
سکتا کہ ایسے واقعات پیش نہیں آتے۔“ !!! بعض حالات میں دکھ کے مارے فلسطینی
والدین کو ایسی لاشیں واپس ملتی ہیں جن کی آنکھیں بھی نکالی جاچکی ہوتی ہیں
اور میت کو غسل دیتے وقت یہ انکشاف ہوتا کہ سلے ہوئے پیٹوں میں
ردی اشیاء
بھری گئی ہیں! انا للہ
وا نا الیہ راجعون! |
|||||||||