|
|
|||||||||
یہ سطور لکھے جانے سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل بغداد میں امریکی فوجیوں نے ستر کروڑ ڈالر مالیت سے تیار ہونے والے نئے امریکی سفارتخانے میں امریکی جھنڈانصب کیا تھا۔ اس ’تاریخی‘ موقع پر امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ اور ’نئے‘عراق کی طرف نامزد پہلے امریکی سفیر، جان نیگروپونٹے نے ارشاد فرمایا” اس سفارتخانے کے قیام سے آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ ہم ’دیرپا‘ دوستی، ’باہمی‘ تعاون اور مدد کا آغاز کیا چاہتے ہیں جس کی بنیاد 2003ء سے ہی ’اخلاص‘کے ساتھ کام کرنے والے امریکی فوجیوں نے رکھ دی تھی“۔قارئین کرام یہ سفارتخانہ نہیں بلکہ پورا ایک شہر ہے۔عراقی سرزمین پر واقع امریکی شہر! جس کا رقبہ قریب قریب ویٹی کن شہر جتنا ہے(ویٹی کن شہر اس سے محض پانچ ایکڑ زیادہ ہے)۔ ایک سو چارایکڑ رقبے پر محیط یہ فصیل بند مضبوط امریکی قلعہ نیگرو پونٹے کے ’باہمی تعاون‘پر مبنی ’ دوستی کے پیغام‘ کی بجائے کسی اور ہی عزائم کا پتہ دے رہا ہے اور امریکہ کی بدنیتی کاپول بیچ چوراہے میں کھول رہا ہے۔ قارئین کرام اس قلعے کی چھبیس عمارتیں انتہائی ٹھوس بنائی گئی ہیں اور اس میں کام کرنے والے ملازمین ہی کی تعداد ایک ہزار ہے۔یہ بات انتہائی واضح ہے کہ یہ امریکی اقدام ’باہمی‘مدد کے علاوہ سب کچھ ہے!اس ’فوجی چوکی‘ کی بنیاد بہت پہلے بش کے دور اقتدار کے عین بیچ میں رکھ دی گئی تھی جب وہ اور اُس کے ”نیو کون“حواری مشرق وسطی میں عراق کے پڑوسی مسلم ممالک پر ’ممکنہ‘ نہیں بلکہ ’یقینی‘حملوں کی تیاری میں دانت تیز کیے بیٹھے تھے۔مغرب، بالخصوص امریکہ کے عزائم کس قدر پُر پیچ اور ہولناک ہیں یہ تو سامنے کی بات ہے، کیا مسلم نوجوان سب کچھ’ حالات ‘پر چھوڑ کررنگ و بو کی دنیا میں مگن رہنے جیسی بھیانک غلطی کا متحمل ہو سکتا ہے؟ذرا سوچئے۔ |
|||||||||