سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

 

اخبار و آراء

مسلم یورپ کا تجدید نو

جمع و ترتیب: مریم عزیز

   

بوسنیا کے مسلمانوں کو جب مذہبی آزادی کا موقع بالآخرنصیب ہوا،(جوکہ چالیس سالہ اسلام مخالف دور جو سپ بروز ٹیٹو حکومت اور اس کے بعد بارہ سالہ خوں ریز خانہ جنگی جس میں سرب فوجوں نے وحشت و درندگی کی انتہا کردی تھی، کے بعد کہیں جا کر ہاتھ آیا تھا)، تواسلام کی طرف ان کا والہانہ رجوع اور وارفتگی ایسی ہی تھی جیسی پیاسے کی پانی کے لیے ہوتی ہے!

بوسینامیں اب صورت حال نہایت دل خوش کن ہے۔ جگہ جگہ مساجد کے مینار بلند ہورہے ہیں۔بوسنیائی مسلمان مرد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے چہروں کو سجائے اور مسلمان خواتین برقعوں سے اپنی تکریم کو چار چاند لگاتی قدم قدم پر نظر آتی ہیں۔ اسلامی طرز تعلیم کے سکول فروغ پارہے ہیں اور رمضان میں بڑوں سے زیادہ بچے مساجد کی رونق بڑھاتے نظر آتے ہیں۔1995ء میں ڈیتون امن معاہدے کے تحت خانہ جنگی اختتام پذیر ہوئی اور بوسنیا کو سرب اور مسلمان حصوں میں تقسیم کردیا گیا جس کے بعد بالآخر امن رائج ہوا مگر مکمل انصاف کا حصول ابھی ہوا چاہتا ہے ! حال ہی میں جمعہ کے اجتماع میں شاہ فہد مسجد کے باہر ایک نوجوان ایک مقبول میگزین بیچ رہا تھا جس پر براک حسین اوبامہ کی تصویر تھی جس کا عنوان تھا ”حسین! کیا تمہارا امریکہ مسلمانوں کا خون پھر بہائے گا؟“