|
|
|||||||||
حالیہ جی ایٹ کے اجلاس سے کچھ پہلے یورپین یونین کے سربراہ میرک توپولانک نے امریکہ کے خوب لتے لیے جب امریکہ نے یہ تنقید کرکے یورپین یونین کے ممالک کو چراغ پا کردیا کہ وہ معاشی بحران کو سہارا دینے کیلئے ’ناکافی خرچ‘ دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ نے اپنے عالم ِ نزع میں گرفتار، ڈوبتے اقتصادی و معاشی نظام کو ’سٹیمیولس پیکج‘ جیسی نالائق تدبیر سے بچانے کی کوشش کی ہے جس کے تحت اُس نے بند ہوتے کاروباروں اور سودی بینکوں کے ”خطرناک اثاثو ں“ کو خریدڈالا ہے۔ مثالاً یوں سمجھ لیں کہ نا خلف اولاد تمام دولت لٹا کر مقروض ہو جائے تو ’امیر‘باپ ’مزید‘رقم اسی نالائق کے حوالے کرکے کہے کہ ’ یہ لو ، خوب اُڑاؤ ‘۔صدر ابامہ کا کہنا ہے کہ اس کوشش کے ذریعے لوگوں کے پاس بازار میں لگا نے کو رقم ہوگی اور معیشت کو آگے کی سمت دھکا ملے گا۔ اس تدبیر کے مخالف امریکہ میں بھی ہیں مگریورپی یونین کے کئی ممالک اس قسم کے شاہانہ خرچ کے بالکل متحمل نہیں ہیں اور درست طور پر ایسے کسی بھی جلد باز اقدام کے خلاف ہیں ۔ یورپی یونین کے صدر نے تو تب سب ہی کوہڑبڑا دیا جب انتہائی غصے میں انہوں نے امریکی لائحہ عمل کو road to hell ”جہنم کا زادِ راہ “قرار دے دیا۔ |
|||||||||