سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

   

امورثقافت اورابلاغ عامہ کے نئے سعودی وزیرکے نام
 

سعودی عرب کے ممتاز علماءکرام کا مراسلہ۔

     

محترم جناب ڈاکٹرعبدالعزیزمحی الدین

وزیربرائے امورثقافت و ابلاغ عامہ حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

سب سے پہلے ہم اللہ تعالیٰ سبحانہ و تعالیٰ سے دعاکرتے ہیں کہ وہ آپ کو اس عظیم اور حساس عہدے پر پورا اترنے اوراس ذمہ داری کوشریعت کے مطابق چلانے کی توفیق عطافرمائے۔

روزنامہ’جریدہ المدینہ‘کی اشاعت17 ربیع الاول1430 ھ میں آپ نے مملکت کے علماء اور صلحاء کو یہ پیش کش کی ہے کہ وہ اس منصب کے تقاضوں کوپورا کرنے میں آپ کو تجاویزارسال کریں۔

ہماری سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ اس محکمے کو( مملکت کے سرکردہ مستندادارے)’دار الافتاء‘ کی نگرانی میں کام کرناچاہیے۔یہاں ہم یاد دلاتے چلیں کہ ابلاغ عامہ سے متعلقہ مملکت کے قوانین میں اس طرف واضح ہدایات بھی ہیں(کہ یہ محکمہ دارالافتاءکی نگرانی میں کام کرے گا)

مراسلین امیدرکھتے ہیں کہ اس محکمے میں اصلاح سازی کافریضہ آپ کے ہاتھوں تکمیل پائے۔اوردعاکرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس پرپورا اترنے کی توفیق دے۔

اس محکمے سے متعلق کئی بنیادی نوعیت کے انحرافات ہمارے علم میں آئے ہیں۔یہ انحرافات نہ صرف ٹیلی ویژن؛ ریڈیواورصحافت میں پائے جاتے ہیں بلکہ ادبی پروگرام اورکتابوں کی نمائیشیں بھی ان انحرافات سے خالی نہیں ہیں۔سعودی عرب کی عورت کومغربی طرززندگی پرلانے کی کوشش ہورہی ہے۔ بے حجابی ؛فیشن اوراختلاط مرد و زن کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ فکری طور پر اسے لبرل سوچ پرلانے کے منصوبے پر سرگرمی سے عمل ہورہاہے۔ موسیقی اورآلات موسیقی کے ساتھ ساتھ فحش عورتوں کی تصاویرکی نشرواشاعت ہورہی ہے۔ کوشش ہو رہی ہے کہ سعودی عورتیں گلوکاری اورخبریں پڑھنے کے شعبوں کو بطور روزگار کے اختیار کرلیں۔جناب والا کے محکمہ میں اختلاط مرد و زن کی پوری کوشش ہورہی ہے۔ ایسے اخبارات اوررسالوں کو مملکت میں فروخت کرنے کی درخواستیں موصول ہورہی ہیں جن میں فحش برہنہ تصویریں سرورق اوراندرونی صفحات پرہوں گی۔ شریعت کی رو سے ان کا حرام ہونا تو واضح ہے ہی خود مملکت کے وضع کردہ قوانین میں بھی ان چیزوں کی واضح ممانعت کی گئی ہے۔ مملکت کے دستورمیں مذکورہے:

(الف) (ساتویں شق کادوسرا باب) مملکت کے تمام قوانین کا ماخذ قرآن اورسنت ہوں گے۔نظام مملکت اورملک کے تمام محکمہ جات میں یہ دونوں ماخذ فیصلہ کن ہوں گے۔

(ب) شاہی حکم نامہ:شاہی حکم نامہ 2/4185 مورخہ 14صفر1400ھ”محترم جناب وزیر ابلاغ عامہ! آپ ہمارے دین حنیف کی تعلیمات کے مطابق امور کو چلائیں؛اورہمارے ٹھیٹ طرزثقافت کی پابندی ملحوظ خاطررکھیں:

کسی بھی عورت کے ناچ یا کسی بھی عورت کے گیت کو ٹیلی ویژن پر کسی بھی صورت میں پیش نہ کیاجائے۔

خبریں یااظہارخیال کے لیے کسی عورت کو ٹیلی ویژن پرنہیں لایا جاسکتا خواہ عربی زبان میں ہوں یا انگریزی زبان میں ہوں۔

خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں؛ کسی سعودی عورت کو ٹیلی ویژن پرپیش نہیں کیاجائے گا۔

آپ کو اس بات سے سختی سے منع کیا جاتاہے کہ اخبارات اوررسائل میں عورتوں کی تصاویرشائع کی جائیں خواہ جس نوعیت کی تصویرہویا کوئی بھی سبب ہو(عورت کی تصویرشائع نہیں ہوگی)

(ج) رئیس مجلس وزارت کے حکم کی مخالفت:حکمنامہ8/459 مورخہ 20 شوال1402ھ”اگرمملکت میں کوئی ایسادفتر پایاگیاجہاں عورت سے ایسا کام لیا جاتا ہو جو عام طورپرعورتوں کے لیے مناسب نہیں ہوتے یا جہاں مرد و زن میں اختلاط پایا گیا تو اس غلطی کا فوری ازالہ کیا جائے ۔متعلقہ محکمے اس بات کو یقینی بنائیں۔

(د) ابلاغ عامہ سے متعلقہ مجلس وزارت کے منظرشدہ قانون کی مخالفت:شق 169 مورخہ 20 شوال1402 :سعودی عرب کا ابلاغ عامہ اسلام کا پابند ہوگا۔ یہ پابندی اسلام کے ہر حکم میں کی جائے گی۔اسلام کی پابندی سے ہی سلف صالحین کے عقیدے کی رکھوالی ہوسکتی ہے۔تمام محکمہ جات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے زیر استعمال وسائل کو شریعت کی مخالفت میں استعمال کرنے سے باز رہیں گے۔وہ شریعت جو تمام انسانوں(کی فلاح )کے لیے اتری ہے۔

اسی طرح مجلس وزارت کی قرارداد(2)میں سعودی عرب کے میڈیا کے اغراض و مقاصدبیان کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے: ملکی میڈیا کامقصد الحاد پرمبنی افکارکی بیخ کنی ہوگا؛(ہمارے ثابت شدہ اعتقادات میں)بگاڑ پیداکرنے والے افکار اورعقیدہ اسلام کے مخالف فلسفوں کا رد کرنا میڈیا کے فرائض میں شامل ہے۔ مسلمانوں کو ان کے اعتقادات سے برگزشتہ کرنے والے تمام افکار کو دلیلوں سے باطل ثابت کرنا؛ ان افکا رکے کھوٹ کو باہر نکال کر(عوام) مسلمانوں کوآگاہ رکھنا کہ یہ افکار کس قدران کے لیے خطرناک ہیں۔

(ھ) ابلاغ عامہ سے متعلقہ قوانین کی نویں شق اوراٹھارویں شق کے باب نہم میں مطبوعات کی بابت وضاحت ہے کہ مطبوعات کی اس وقت تک مارکیٹ میں فروخت کی اجازت نہیں دی جاسکتی جب تک مندرجہ ذیل امورکاجائزہ نہیں لے لیاجاتا: مطبوعات میں شریعت کے منجملہ احکام کی مخالفت نہں پائی جاتی؛ اشخاص کے درمیان پھوٹ ڈالنے اورمملکت کے باسیوں میں تفرقہ پیدا کرنے سے پاک ہوں؛ درآمد کی جانے والی کتب میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان میں اسلام کے لیے نازیبا الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہیں یاملک میں رائج نظام کے خلاف اکسانے سے پاک ہوں یاملک کے مفادات کے خلاف ہوں یا بداخلاقی پیدا کرنے والی ہوں۔

اس کے بعدہم جناب والا کی خدمت میں عرض کرناچاہیں گے کہ معاملہ خطرناک حدتک بڑھ گیاہے کیونکہ ابلاغ عامہ میں کھلم کھلا اللہ کی بغاوت کی جارہی ہے۔ بخاری اور مسلم کی روایت ہے؛ نبی علیہ السلام نے فرمایا:’میری امت میں ہر شخص کے لیے ہی رعایتیں موجودہیں سوائے ایسوں کے لیے جوبرائی کو برسرعام کرتے ہیں‘ ۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ معیصت پر مبنی پروگرام جب ہزاروں لوگ دیکھیں گے تو ان سب افرادکے گناہوں کاوزن نشریاتی اداروں کواٹھانا ہوگا۔

جناب عالی ہم آپ کواللہ کاواسطہ دیتے ہیں کہ ہماری گزارشات کونہایت سنجیدگی سے لے کر ان امورکافی الفور تدارک کیاجائے۔

علاوہ اس کے ہمارے اس مراسلے کوپیش کرنے والے چندعلماء کرام آپ سے ملاقات کاشرف بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ماہ رواں یا اگلے مہینے تک امید ہے کہ آپ کاجواب موصول ہوجائے گا۔

محترم قارئین اس کے بعد مراسلے میں جید علماء کرام کے ناموں کی فہرست ہے جن میں سے پاکستان میں معروف یہ علماءکرام ہیں:شیخ عبدالرحمن ناصر البراک؛ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ الراجحی؛ شیخ عبدالرحمن صالح المحمود؛ شیخ عبدالعزیزآل عبداللطیف اورعبداللہ بن ناصرالسلیمان حفظہم اللہ۔