|
|
|||||||||
میاں نواز شریف کی طرح وہ (بے نظیر) بھی پہلے دن سے ہی پاکستانی سیاست کو اپنا خداداد حق بلکہ جاگیر سمجھتی تھیں۔ ان کے لیے نہ تو پارٹی کے لیے نو سال تک جنرل ضیا نامی عذاب بھگتنے والے پارٹی کارکنوں کی کوئی حیثیت تھی اور نہ ہی انہیں جمہوری اصولوں کے تحت ضیائی نظام کی باقیات ختم کرنے میں کوئی دلچسپی۔ حصول اقتدار ان کی سیاست کا واحد محور تھا بالکل جیسے کوئی بپھرا ہوا جاگیردار اپنی چھنی ہوئی جاگیر دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے انیس سو چھیاسی میں وطن لوٹنے کے بعد وہ کسی اور سیاستدان کو خاطر میں نہ لائیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں پاکستان کے سیاسی نظام پر جنرل ضیا کی چھاپ کی گہرائی کا اندازہ تو ضرور ہو گیا لیکن کیونکہ اقتدار کی سیاست کی پیچیدگیاں ان کی سمجھ سے بالاتر تھیں اس لیے ان کا رد عمل ایک سیاستدان سے زیادہ ایک کھلاڑی کا رہا۔ اس وقت ان کا حریف میاں نواز شریف نہ سیاستدان تھا اور نہ کھلاڑی۔ اس وقت کا نواز شریف محض قسمت کی وہ بگڑی ہوئی اولاد تھی جس کی سیاست اوپر قدرت اور نیچے فوج کے انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی نے سنبھالی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے بینظیر بھٹو نے قدم قدم پر مات کھائی۔ معاملہ خواہ صوبے میں وفاق سے تعینات کیے گئے افسروں کا اٹھا یا بھارت میں جاری سکھ بغاوت کی پاکستانی حمایت کا، بینظیر بھٹو اپنی مرضی نہ کر پائیں۔ بھنا کر حمید گل جیسے جہادی جرنیل کو آئی ایس آئی سے نکال پھینکا لیکن اس کے ڈیڑھ سال بعد ہی اپنی حکومت کھو بیٹھیں۔ اپنی پہلی برطرفی سے بطور ایک سیاستدان تو بینظیر زیادہ نہ سیکھ سکیں لیکن بطور ایک کھلاڑی وہ چند اہم نتیجوں پر پہنچیں۔ لہذا جب انیس سو ترانوے میں میاں نواز شریف اپنے ہی بچپنے کی نظر ہوئے تو بینظیر بھٹو نے نسبتاً واضح اہداف کے ساتھ دوبارہ اقتدار سنبھالا۔ اس بار پنجاب میں براہِ راست حکومت کرنے کی بجائے انہوں نے منحرف نواز لیگی میاں منظور وٹو کا سہارا لیا، بھارت کے ساتھ تعلقات پر سخت جارحانہ رویہ اپنایا اور پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو رام کرنے کے لیے شمالی کوریا سے پاکستان کے میزائیل پروگرام کے لیے مدد لی۔ سیاسی کھیلوں کے پے در پے پینتروں میں ان کو نہ تو اپنی سیاست یاد رہی اور نہ ہی ایک فعال حکومت قائم کرنے کی ضرورت اور اہمیت کا احساس رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھائی قتل ہوا، ایک بار پھر حکومت چھنی، شوہر پھر جیل جا بیٹھا اور خود جلا وطن ہوئیں۔ دوسری برطرفی کے بعد بینظیر بھٹو کو آئی ایس آئی سے نفرت ہو گئی یہاں تک کہ وہ اپنے انٹرویوز میں بھی کہنے لگیں کہ پاکستان کی سیکیورٹی انتظامیہ بے لگام ہو چکی ہے۔ اب وہ آئی ایس آئی کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی بھارت دشمنی سے لے کر میاں نواز شریف کی سیاسی کامیابیوں سمیت پاکستان میں ہونے والی تمام سیاسی برائیوں کی جڑ سمجھتی تھیں۔ اور اسی بنیاد پر وہ جلا وطنی میں اپنی سیاست کی تشکیل نو کرنے لگیں۔ سوئس عدالتوں میں اپنے خلاف قائم مقدمات سے نمٹنے کے لیے انہوں نے جنرل پرویز مشرف سے رابطے کھلے رکھے، امریکی انتظامیہ میں اپنے خلاف پائے جانے والے خدشات کو بتدریج زائل کیا، امریکی انتظامیہ میں آئی ایس آئی کے خلاف بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کو اپنے مفاد میں استعمال کیا اور اپنے شوہر کو جیل سے رہا کروا لیا۔ لیکن ان تمام اقدامات سے کہیں زیادہ اہم ان کا یہ فیصلہ ثابت ہوا کہ وہ ہر حالت میں پارٹی سیاست میں متحرک رہیں گی۔ آٹھ سال کی لمبی جلا وطنی میں بھی ان کے کسی کارکن یا رہنما کو ان تک رسائی حاصل کرنے میں مشکل کی شکایت نہ ہوئی۔ دو ہزار سات کے وسط تک بینظیر بھٹو اپنے شوہر کو جیل سے چھڑا چکی تھیں، جنرل مشرف کی سیاست اپنے آخری دموں پر تھی، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو فوج کو سیاست میں نہ آنے دینے کا عہد کر چکے تھے اور پوری دنیا ان کو پاکستان کی سیاست میں پھر سے فعال دیکھنے پر مجبور ہو چکی تھی۔ اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو جب بینظیر بھٹو واپس لوٹیں تو عوام جنرل مشرف کی قاف لیگ، ملک کے حقیقی سیاستدانوں کے خلاف ان کی محاذ آرائی اور ملک بھر میں جا بجا ہونے والے خود کش حملوں سے عاجز آ چکے تھے۔ اسی لیے جب انہوں نے قومی مفاہمت کا نظریہ پیش کیا تو سوائے چند دل جلے مبصروں کے کسی نے ان کی مخالفت نہ کی اور نہ ہی ان کی مفاہمتی پالیسی کو موقع پرستی کہا۔ ------------------ یہ آصف علی زرداری کون تھا؟ کیا یہ انیس سو چھیاسی والی بینظیر بھٹو کا ایک روپ تھا جسے پارٹی وراثت میں ملی تھی اور جو اقتدار کو اپنا خداداد حق سمجھتی تھی؟ یا یہ انیس سو ترانوے والی بینظیر کا اوتار تھا جو اقتدار کی خواہش کے لیے ابلیس ابن ابلیس سے بھی اتحاد کر سکتی تھی؟ یا پھر یہ دو ہزار سات والی بینظیر کا نیا جنم تھا جو محاذ آرائی کے زخموں سے چور پاکستان پر مفاہمت کا مرہم رکھنے لوٹی تھی؟ جس وقت آصف علی زرداری نے صدر بننے کا ارادہ کیا اس وقت پاکستان میں ایک عام رائے یہ تھی کہ انہیں براہ راست اقتدار سے باہر رہتے ہوئے صرف پارٹی امور پر توجہ دینا چاہیے اور یوں وقت کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی قد کاٹھ کو بڑھاتے ہوئے پارٹی کے دل میں جگہ بنانی چاہیے۔ لیکن ان کے صدر بننے کے فیصلے میں انیس سو چھیاسی والی بینظیر کا روپ نظر آیا۔ پھر جب آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کے ساتھ اپنے تحریری معاہدوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاہدے قران یا حدیث نہیں ہوتے تو قوم نے ان میں انیس سو ترانوے والی بینظیر کی جھلک دیکھی جو حصول اقتدار کی خاطر شیطان سے بھی ڈیل کرنے کو تیار تھیں۔ کیا کبھی پاکستان کو آصف زرداری میں دو ہزار سات والی بینظیر کی جھلک بھی نظر آئے گی یا نہیں؟ یہ کہنا مشکل ہے۔ حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، اس وقت پاکستان کی سیاسی حقیقت یہی ہے کہ آصف علی زرداری کی تاحال سیاست صرف اور صرف مکاری پر مبنی رہی ہے۔ اس میں ابھی تک نہ تو پارٹی، نہ سیاسی حلیفوں، نہ ملک اور نہ ہی بینظیر سے وفاداری کا کوئی عنصر سامنے آیا ہے۔ اور صدر زرداری کے مسائل بینظیر بھٹو کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ بینظیر بھٹو کو سیاسی مکاری کے مختلف مراحل سے گزر کر ملک و قوم سے وفاداری کی منزل تک پہنچنے میں بیس سال کا عرصہ لگا۔ آصف علی زرداری کے پاس اتنا وقت کہاں۔ ان کو جو بھی کرنا ہے آج ہی کرنا ہے۔ صدر بننے سے لے کر اب تک قوم نے صرف ان کی سیاسی مکاری دیکھی ہے۔ اب انہیں اپنی پارٹی پر، اپنے سیاسی حلیفوں پر، اپنے بیرون ملک حمایتیوں پر اور سب سے بڑھ کر اپنی قوم پر ثابت کرنا ہے کہ اب تک جو ہوا وہ ان کی غلطی اور سیاسی ناسمجھی کا نتیجہ تھا۔
اور ایسا کرنے کے لیے اگر ان کا خیال ہے کہ
بینظیر بھٹو کی طرح ان کے پاس بھی بیس سال ہیں تو یہ بڑی خام خیالی ہو گی۔
بینظیر بھٹو کے قتل نے پاکستان میں سیاسی قتل و غارت کی ایک نئی روایت شروع
کی ہے جو اس سے پہلے صرف چھوٹی چھوٹی فرقہ وارانہ یا لسانی جماعتوں میں
پائی جاتی تھی۔ اور ضروری نہیں کہ اس نئی روایت کے پاسبان مذہبی جنونی ہوں۔
یہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ (بشکریہ بی بی سی اردو ڈات کام) |
|||||||||