سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

 

مستعار

طالبان کا اسلام نہیں چاہیے

سَرِ راہے / (نوائے وقت) جمعرات  ۲۱ ربیع الاول ۱۴۳۰ھ ۱۹ مارچ ۲۰۰۹ ء

   

 

ناموسِ رسالت کے سیکرٹری اطلاعات محمد ضیاءالحق نقشبندی کے مطابق ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور دیگر علمائے دین نے کہا ہے کہ پاکستان میں طالبان کا اسلام نہیں چاہیے ۔

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے کہ پاکستان میں نفاذِ نظامِ مصطفی کی ضرورت ہے طالبان کا اسلام پاکستان میں نہیں چاہیے ۔ڈاکٹر صاحب نے بیک سانس میں طالبان کو ایک الگ اسلام کا حامل قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا اسلام پاکستان میں درکار نہیں۔ طالبان کے بارے میں شاید ان کی معلومات ناقص ہیں یا وہ ان کو سنی بریلوی نہ ہوتے ہوئے درخورِ اعتناء نہیں سمجھتے۔ طالبان فوری انصاف دینے کے قائل ہیں ننگے ڈانسوں والی سی ڈیز دیکھتے ہیں نہ دیکھنے دیتے ہیں اور ان کے خالصتاً مسلمان ہونے کی اس سے بڑی شہادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ دوسری بار اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمنوں کے خلاف صفِ آراء ہیں ۔ ایک طاقت کو توانہوں نے ریزہ ریزہ کر دیا اب دوسری طاقت کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ وہ جن کٹھن حالات میں جہاد کر رہے ہیں کیا مولانا نعیمی نہیں چاہتے کہ اس خطّے میں جہادِ بالسیف ہو اور اگر ہمیں توفیق ہو تو ہم اس کے ذریعے کشمیر کو ہندو کے قبضہ سے چھڑا لیں ۔

آخر مولانا کس کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مدرسہ نعیمیہ ایک ماڈریٹ دینی مدرسہ ہے جوطالبان سے اختلاف رکھتا ہے۔ شاید وہ جانتے ہوں گے کہ درسِ نظامی جس قدر شدّودمد سے افغانستان میں پڑھایا جاتا رہا ہے اس کا عُشرِ عَشیر بھی پاکستان میں نہیں ۔ اسی وجہ سے پشتو زبان میں دینی طالبِ علموں کو طالبان کہتے ہیں جس کا واحد طالب ہے ۔ پشتو گرامر کے حساب سے طالب کی جمع طالبان ہے اور فارسی قواعد میں بھی یہی شکل بنتی ہے۔ اس لیے آج اکیسوی صدی کے اسلام دشمن اور مسلم کُش ماحول میں مولانا نعیمی صاحب یہاں بیٹھے بیٹھے ڈر گئے ہیں بلاشبہ ان کا مدرسہ طالبان پیدا نہیں کرتا طالبِ علم پیدا کرتا ہے ۔

اردو میں اسلام پڑھنے والوں کی رُوز بَروز کثرت ہو رہی ہے ۔ ہمارے پنجاب کے مدرسوں میں پڑھنے والوں کو تو اتنی توفیق نہیں کہ بغیر اعراب و حرکات ایک پیرا بھی عربی کا پڑھ سکیں ۔ طالبان کٹر مسلمان ہیں وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہیں ۔ وہ متشرع ہیں اور کسی طرح اختلاطِ مردوزن کو نہیں مانتے ۔ مولانا ذرا ہاتھ ہولا رکھیں ۔ (بشکریہ نوائے وقت)