سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2009

Download in PDF Format

 

مستعار

فراوانی اور بہتات کا قحط

گریبان - منو بھائی / روزنامہ جنگ

   

 

فریڈ ویسٹن تاریخ سے ایک چھوٹی سی کہانی نقل کرتے ہیں کہ ملاوی نام کے ایک غریب ملک کی حکومت نے 1999ءمیں اپنے کسانوں کو مفت کھاد اور بیج فراہم کئے اور انہوں نے اپنے لوگوں کی ضرورت سے بھی زیادہ اناج پیدا کر دکھایا ۔ اس پر آئی ایم ایف نے صدائے احتجاج بلند کی کہ ملاوی کے حکمران منڈیوں کو خراب کر رہے ہیں ۔ چنانچہ اس دباؤ میں آکر اگلے سال ملاوی حکومت نے کھاد اور بیج کی تقسیم روک دی ۔ سال 2002ءمیں ملاوی قحط کی زَد میں آ گیا ۔ ڈیڑھ ہزار ملاوی باشندے بھوکے مر گئے اور حکمرانوں کا تختہ الٹ گیا مگر منڈیاں خراب ہونے سے بچ گئیں ۔ پھر 2005ء میں ملاوی کی نئی حکومت نے آئی ایم ایف کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے بیس لاکھ کاشت کار گھرانوں کو منڈی سے ایک تہائی قیمت پر کھاد اور آسان نرخوں پر بیج فراہم کر دیے ۔ چنانچہ اگلے دو سالوں میں ملاوی کے کسانوں نے پیداوار کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے اور پچھلے سال دس لاکھ ٹن فالتو مکئی سمیت بہت سا اناج ساؤتھ افریقہ برآمد کیا۔ اس کہانی سے حاصل ہونے والی صداقت یہ ہے کہ محنت کشوں پر زمین اور موسم دونوں مہربان ہوتے ہیں مگر سرمایہ داری نظام کی نفع اندوزی اورہَوسِ زر سے رحم اور مہربانی کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔

آج سرمایہ داری نظام جس خوفناک اور جان لیوا مالیاتی بحران سے گزر رہا ہے اس کی جڑیں 1973-74ءکے عالمی بحران اور مہنگائی سے ابھرتی ہیں جس کا علاج سرمایہ داروں نے سرکاری صنعتی اداروں کی نج کاری اور حکومتی اخراجات کے اندر کٹوتی میں دریافت کیا تھا مگر جو اس بحران کا علاج نہیں تھا محض سرمایہ داروں کی بھوک مٹانے کا ذریعہ تھا جسے مستقبل کے مؤرخ سرمایہ داری نظام کا اپنے اوپر خودکُش حملہ بھی قرار دے سکیں گے ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال انسانی خوراک کی قلّت اور مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر بھی پیدا کر رہے ہیں اور دنیا کے لوگوں نے گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں چالیس ملکوں میں غذائی فسادات کے خوفناک تَجرُبے بھی حاصل کیے ہیں ۔ یہ محض آنے والے حالات کی ایک ہلکی سی جھلک ہو سکتی ہے ۔ اصل حالات یوں ہیں کہ دنیا میں ہر پیدا ہونے والے بچے کی ضرورت کی خوراک کرہء ارض پر موجودہے ۔

ادارہ اقوامِ متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم نے 1990ءکی دہائی کی سروے رپورٹ میں بتایا تھا کہ دنیا کے ہر شخص کے لیے روزانہ دو ہزار سات سو کیلوریز فراہم کرنے والی خوراک موجود ہے ۔ 1965ءکے سروے میں ہر شخص کے لیے روزانہ دو ہزار تین سو کیلوریز کی خوراک کی موجودگی ثابت کی گئی تھی ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی آبادی میں اضافے کی رفتار خوردنی اشیاء کی پیداوار کی رفتار سے زیادہ نہیں ہے ۔ کرہء ارض کی انسانی آبادی ایک اعشاریہ چار فیصدی کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور اشیائے خوردنی کی پیداوار کی شرح دوفیصد سالانہ ہے ۔ سال 2000ء میں بتایا گیا تھا کہ کرہء ارض پر ہر انسان کے لیے روزانہ تین ہزار پانچ سو کیلوریز فراہم کرنے والی خوراک موجود ہے بلکہ یہ محض اناج ہے ۔ اس میں سبزی ، گوشت ، مچھلی ، انڈے اور پھل شامل نہیں ہیں ۔ ان تمام چیزوں کو شامل کر لیا جائے تو دنیا کے ہر فرد کو روزانہ دوکلو خوراک فراہم کی جاسکتی ہے ۔ جس میں دودھ ، مکھن ، انڈے اورپھل بھی شامل ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2000ء کے بعد سے اب تک زرعی پیداوار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی توپھر غذائی قلت اورمہنگائی کس نے پیدا کر رکھی ہے ؟ عالمی سرمایہ داری نے !

حقیقت یہ ہے کہ امیر صنعتی ملکوں نے اشیائے خوردنی کی پیداوار کو اپنے قبضے میں لے کر غریب ملکوں کے لیے مصیبت کھڑی کر رکھی ہے ۔ چالیس سال پہلے ترقی پذیر ملکوں کی فاضل رزعی پیداوار سات ارب ڈالروں کی مالیت کی تھی ۔ 1980ءتک یہ فاضل زرعی پیداوار کم ہو کر صرف ایک ارب ڈالر کی رہ گئی تھی مگر اب یہ ترقی پذیر ممالک کم از کم گیارہ ارب ڈالروں کی سالانہ قلت یا پیداواری نقصان کا شکار ہیں ۔ وہ ممالک جو اپنا اناج دوسرے ملکوں کو برآمد کرتے تھے آج امیر ملکوں سے درآمد کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ فراوانی اور بہتات کا قحط عالمی سرمایہ داری نظام ہی پیش کر سکتا تھا ۔

فریڈ ویسٹن بتاتے ہیں کہ امریکہ بہادر کے اناج کی پیداوار کا 30 فیصدی ”بائیو فیول “ مشینیں اور انجن چلانے والے ایندھن کی تیاری میں خرچ ہو رہا ہے ۔ امریکہ انسانی پیٹ بھرنے سے زیادہ مشینوں کو چلانے سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہے ۔ لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے کہ ”بائیوفیول “ کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آ جائے گی مگر ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ بائیو فیول سے ماحولیاتی آلودگی میں بیس فیصد اضافہ ہو جائے گا ۔

دنیا میں اناج اور اشیائے خوردنی کی قلت اور مہنگائی ، بناوٹی اور مصنوعی ہے اور اس کے ذمہ دار اسٹاک مارکیٹ کے جوئے باز ہیں جنہوں نے اپنی قیاس آرائیوں سے بے شمار غبارے اور بلبلے تخلیق کر رکھے ہیں ۔ ان غباروں میں ہاؤسنگ کے غبارے بھی ہیں جو تقریباً پھٹ چکے ہیں ۔ سال 2006ءمیں زرعی پیداوار اور خوراک کے غبارے تیار کئے گئے جن کے ذریعے صرف تین سالوں میں اشیائے خوردنی کے نرخوں میں مجموعی طور پر 83 فیصد اضافہ کروایا گیا اور یہ غبارہ دنیا کے ایک ارب لوگوں کو بھوک اور کم خوراکی کی موت کے کنارے پر لے آیا ہے ۔