|
|
|||||||||
امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے
کہ سوات میں طالبان کی کامیابی کی بڑی وجہ غریب اور بے زمین افراد کو مالی
فوائد پہنچانا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونیوالی رپورٹ میں کہا گیا ہے
کہ طالبان کو سستے اور فوری انصاف اور بے زمین افراد کو کاشت کاری کے لیے
کھیتوں کی فراہمی کے باعث عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان
کے ڈر سے علاقے میں موجود تمام بڑے جاگیر داراور سیاستدان فرار ہو چکے ہیں
جبکہ ان کی زمینوں پر اب غریب کسانوں کا قبضہ ہے جبکہ قیمتی دھاتوں کی
کانوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کو آمدن کا دو تہائی فراہم کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناقص پولیس نظام، کرپٹ عدالتی نظام اور جاگیرداروں
کے ہاتھوں مزاروں کا استحصال ہی وہ وجوہات ہیں جن کے باعث طالبان کو سوات
میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی
جانب سے طبقاتی تقسیم ختم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے باعث ان کی عوامی
حمایت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اخبار نے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ
اگر سوات میں معاشرے کے غریب طبقات کو انصاف کی فراہمی اور معاشی فوائد کا
تجربہ کامیاب رہا تو اس کے اثرات پورے ملک میں پھیلنے کا امکان ہے۔ رپورٹ
میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسند گروہ عوام کے لیے موسیقی اور دیگر تفریحی
سرگرمیوں سے بہتر سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں جبکہ معاشی فوائد کے باعث غریب
عوام میں تیزی سے اسلامی نظام کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اخبار کا
کہنا ہے کہ اس سے پنجاب کے جاگیرداروں کے لیے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ وہ بھی
مزاروں پر شدید ظلم کرتے ہیں۔ (بشکریہ:
اردو مجلس
فورم) |
|||||||||