سرورقسابقہ شمارےمطبوعات ایقاظفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جولائی 2009

Download in PDF Format

 

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

     

عن اَبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اِن اللہ قال:

”بد اَ ال اِسلام غریبا وسیعود کما بد اَ غریباً، فطوبیٰ للغرباء....

(صحیح مسلم، کتاب ال اِیمان، باب: بیان اَن ال اِسلام بد اَ غریبا وسیعود غریبا)

عن عبد الرحمن بن سنۃ رضی اللہ عنہ، اَنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:

بد اَ ال اِسلام غریبا ثم یعود غریبا کما بد اَ، فطوبیٰ للغرباء، قیل یا رسول اللہ: ومن الغرباء؟ قال: الذین یصلحون اِذا فسد الناس

(مسند اَحمد بن حنبل، ، وب اَلفاظ قریبۃ فی السلسلۃ الصحیحۃ: 1273)


بروایت حضرت ابو ہریرہؓ،کہا: فرمایا اللہ کے رسول نے: کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”اسلام شروع میں اجنبی تھا۔ عنقریب یہ شروع ہی کی طرح پھر اجنبی ہو کر رہ جائے گا۔ تو پھر خوش خبری ہو (اُس دور کے) غرباء(اجنبیوں) کو “
بروایت حضرت عبد الرحمن بن سنہ، کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:

اسلام کا شروع تھا تو اجنبی تھا، یہ پھر ویسے ہی اجنبی ہو رہے گا جیسے کہ شروع میں تھا، تو پھر خوش خبری ہو (اُس دور کے) اجنبیوں کو۔ آپ سے دریافت کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ ’غرباء‘ (اجنبی) کون ہوں گے؟ فرمایا: جو اُس وقت اصلاح کریں گے جب لوگ فساد میں پڑے ہوں گے“