|
|
||||||
عن اَبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اِن اللہ قال: ”بد اَ ال اِسلام غریبا وسیعود کما بد اَ غریباً، فطوبیٰ للغرباء.... (صحیح مسلم، کتاب ال اِیمان، باب: بیان اَن ال اِسلام بد اَ غریبا وسیعود غریبا) عن عبد الرحمن بن سنۃ رضی اللہ عنہ، اَنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: بد اَ ال اِسلام غریبا ثم یعود غریبا کما بد اَ، فطوبیٰ للغرباء، قیل یا رسول اللہ: ومن الغرباء؟ قال: الذین یصلحون اِذا فسد الناس (مسند اَحمد بن حنبل، ، وب اَلفاظ قریبۃ فی السلسلۃ الصحیحۃ: 1273)
”اسلام شروع میں اجنبی تھا۔ عنقریب یہ شروع ہی کی طرح
پھر اجنبی ہو کر رہ جائے گا۔ تو پھر خوش خبری ہو (اُس دور کے)
غرباء(اجنبیوں) کو “
اسلام کا شروع تھا تو اجنبی تھا، یہ پھر ویسے ہی اجنبی
ہو رہے گا جیسے کہ شروع میں تھا، تو پھر خوش خبری ہو (اُس دور کے)
اجنبیوں کو۔ آپ سے دریافت کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ ’غرباء‘
(اجنبی) کون ہوں گے؟ فرمایا: جو اُس وقت اصلاح کریں گے جب لوگ فساد میں
پڑے ہوں گے“ |