سرورقسابقہ شمارےمطبوعات ایقاظفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جولائی 2009

Download in PDF Format

  بسم اللہ الرحمن الرحیم
    الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ
   

اَمَّا بَعدُ۔۔

 

تیز حرکت، بند راستہ!

 

اداریہ

   

ہمارے وہ مغرب زدہ طبقے جو امت پر طاری حالیہ زبوں حالی وبے مائیگی کی علت یہ بیان کرتے رہے ہیں کہ مسلمانوں کی اِس پس ماندگی و پسپائی کا سبب اور اِس منتشر خیالی، تفرقہ، اضطراب اور اِس اتھاہ مردنی وعدم فاعلیت اور غیر تخلیقی ہونے کا باعث درحقیقت ان کا اسلام پر ہونا ہے اور یہ کہ مسلمان اگر اپنے اِس آبائی ورثے پر برقرار رہنے کی ضد چھوڑ کر مغرب ہی کے اختیار کردہ طرزِ زندگی کو اختیار کر لیتے تو جس طرح مغرب اپنے اِس نئے طرزِ زندگی کی بدولت اپنے اوپر سے پسماندگی و زبوں حالی کی ساری گرد جھاڑ دینے میں کامیاب ہو گیا تھا بلکہ ایک نہایت مختصر عرصہ میں وہ کامرانی کی بلندیوں کو بھی چھونے لگا تھا عین اسی طرح مسلمانوں کے حالات بھی کب کے بدل چکے ہوتے اور یہ بھی ترقی و کمال کی شاہراہوں پر بڑی کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہوتے۔۔۔۔ ان مغرب زدہ طبقوں کے اس بیہودہ دعویٰ کو مسترد کرنے والے تو اللہ کا شکر ہے اب ہمارے یہاں شمار سے باہر ہیں۔ یہاں تک کہ عوام الناس پورے وثوق سے یہ کہتے ہوئے سنے جائیں گے کہ اِن آخری صدیوں کے اندر مسلمانوں پر آنے والے اِس انحطاط کا باعث مسلمانوں کا اسلام پر ہونا نہیں بلکہ اس کا باعث مسلمانوں کا اسلام سے دور ہونا ہے۔۔۔۔ اور جوکہ سراسر برحق ہے۔۔۔۔ پھر بھی یہ اِس مسئلہ کا محض ایک بالائی پرت ہے۔

مسئلہ کے کئی ایک پرت ابھی اور ہیں، اور وہ لوگ جو اِن مسلم معاشروں کے حالات تبدیل کرنے کے مشن پر عرصۂ دراز سے گامزن ہیں ان صاحبِ عزیمت طبقوں کے حق میں تو خاص طور پر یہ درست نہ ہوگا کہ وہ اِس مسئلہ کے محض ایک بالائی پرت ہی کو اتار کر سمجھ بیٹھیں کہ وہ اس مسئلہ کی کامل تشخیص سے عہدہ برآ ہو چکے اور اب محض علاج معالجہ کا کام باقی ہے!

اِس مسئلہ کا علاج تو ظاہر ہے بعد کی بات ہے، حق یہ ہے کہ اِس کی تشخیص ہی کیلئے اس کے کئی ایک پرت اتارے جانا ابھی باقی ہیں تا آنکہ مسئلہ پورے کا پورا اپنی اصل صورت کے ساتھ ہمارے سامنے نہ آ جائے اور اس کے سبھی سقم ہم پر پوری طرح واضح نہ ہو جائیں اور پھر جب ہم پر اس بحران کی پوری تصویر عیاں ہو جائے تو یہ بھی خود بخود ہم پر کھل جائے گا کہ اِس بحران کا واقعی حل کیا ہو سکتا ہے۔

اِس میں تو شک کرنا ہی ناقابل اندازہ جرم ہے کہ مسلمانوں کی اِس پس ماندگی اور انحطاط کا سبب اُن کا اسلام پر ہونا نہیں بلکہ اس کا سبب اُن کا اسلام سے دور ہونا ہے۔۔۔۔ اِس حقیقت میں تو شک کرنا بھی ایمان کھو دینے کا موجب ہے، تاہم اگر آپ ایک لمحہ کیلئے غور کریں تو اس بات سے بھی اختلاف نہ کریں گے کہ __ حالیہ صدیوں کے اندر __ وہ چیز جس کو یہ مسلم معاشرے اپنے تئیں ’اسلام‘ سمجھ رہے تھے اور ابھی تک سمجھ رہے ہیں وہ چیز ان کی پسپائی کے پیچھے یقینا کارفرما ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ وہ چیز جس کو اپنا کر ہمارے یہ معاشرے اِس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ یہ لوگ ”اسلام“ پر ہیں بلکہ ”اسلام“ پر ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں، وہ ’چیز‘ ہماری اس پس ماندگی اور ہمارے اِس انحطاط کا باعث ضرور ہے۔

پس جہاں یہ کہنا آخری درجے کی جہالت اور کفر ہے کہ مسلمانوں کو ’اسلام‘ پر ہونے کے باعث اُن کو اپنی تاریخ کے یہ بدترین دن دیکھنا پڑے، وہاں یہ بھی اپنی جگہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ وہ چیز جسے مسلم معاشرے اِن آخری صدیوں میں ’اسلام‘ کے نام سے جانتے تھے اور اپنے تئیں اس پر کسی نہ کسی حد تک ’قائم‘ تھے۔۔ ’اسلام‘ کے نام پر پائی جانے والی وہ ’چیز‘ بہرحال ہمارے اس انحطاط اور اس پسپائی کا باعث تھی۔

وہ کیا چیز تھی جسے ہمارے یہ معاشرے ’اسلام‘ کے نام سے جانتے تھے اور ابھی تک اس کو ’اسلام‘ کے نام سے ہی جانتے ہیں؟ اِس کا جواب یہاں کی ’رائے عامہ‘ سے حاصل کیجئے تو آپ کچھ ایسے دلچسپ نتائج پر پہنچیں گے جنہیں ایک بے حد بڑا لمحۂ فکریہ کہنا چاہیے۔ ’اسلام‘ جس سے ہماری یہ ’رائے عامہ‘ واقف ہے اور اُس کے سوا وہ کسی ’اسلام‘ کو پہچان کر دینے کی نہیں حق اور باطل کا ایک عجیب و غریب ملغوبہ ہے؛

مختصراً: ہر وہ چیز جو ’اسلام‘ کے نام پر سننے میں آئے یا جس پر ’اسلام‘ ہونے کا گمان ہو ایسی سب اشیاءکو اکٹھا کر دیا جائے تو اس پنڈورا باکس کا نام ’رائے عامہ‘ کے ہاں ’اسلام‘ ہے۔۔۔۔!

رافضیت بھی اِس ’اسلام‘ کا جزوِ لا ینفک ہے!

قبر پرستی کے سب مظاہر بھی اِسی ’اسلام‘ میں آتے ہیں!

ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ایک دو نہیں ہزاروں لاکھوں مزارات جن پر غیر اللہ کے لئے مراسم عبادت سر عام بجا لائے جاتے ہیں ’اسلام‘ کا باقاعدہ ایک ’مکتبۂ فکر‘ ہیں!

شرعِ محمدﷺ کو آئینی و قانونی حیثیت سے محروم کر رکھنے والے ایوان بھی ’اسلام‘ کی سند سے محروم نہیں!

کروڑوں انسانوں کی گردن میں غیر اللہ کی شریعت اور قانون کا طوق ڈال رکھنے والے طواغیت جب اپنے کسی ’معمول‘ کی کارروائی کا آغاز ’تلاوتِ کلامِ پاک‘ سے کریں تو یہ بات نہ صرف یہ کہ ہرگز ہرگز کسی کی نظر میں متناقض self-contradictory و باعث تعجب نہ ہوگی بلکہ یہ ’اسلام‘ ہی کا ایک صالح وبابرکت و باعثِ ثواب عمل باور ہوگا(1)!

میڈیا کے وہ چینل جو ایک ان پڑھ سے ان پڑھ شخص بھی دیکھ سکتا ہے کہ مسلم معاشروں کیلئے بطورِ خاص ترتیب دیے گئے یہودی اور فری میسن ایجنڈوں کو رو بہ عمل لانے کیلئے یہاں نہایت مستعد اڈوں کا کام دے رہے ہیں اور ’روشن خیالی‘ کے نام پر یہاں کی تہذیب کو تین ہزار سال پرانے رومانی و یونانی شرک کی طرف دھکیل رہے ہیں، ان چینلوں کا کسی کسی وقت خوش الحانی کے ساتھ قرآن سنانا یہاں کسی کیلئے نہ صرف باعثِ حیرت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ’نیک عمل‘ ہے اور شاید اُن ’گناہوں‘ کا کفارہ بھی جو تھوڑی بہت ’بے پردگی‘ اور ’ناچ گانے‘ کی صورت میں دن بھر اِن سے سرزد ہوتے رہتے ہیں اور وہ بھی شاید اِس لئے کہ ’عوام‘ یہ سب کچھ ’دیکھنا‘ چاہتے ہیں! کون ہے جو یہ ادراک رکھے بلکہ مخلوق پر واضح کرے کہ یہ ’توازن‘ جو ایک کافر و خدا نا آشنا اور حیاءسے برہنہ تہذیب کے شانے پر ’اسلامی شعائر‘ کی ہلکی باریک جھالر سجا کر سامنے لایا جا رہا ہے یہ باقاعدہ ایک ’پیکیج‘ ہے جو اساطینِ کفر کی جانب سے ’اکیسویں صدی‘ کے عالم اسلام کیلئے جاری ہوا ہے اور حیرت انگیز کامیابی اور پورے ایک تسلسل کے ساتھ عام کیا جارہا ہے۔۔۔۔ یعنی یہ کوئی ’بے جوڑ‘ اور ’بے ربط‘ اشیاءکا مجموعہ نہیں بلکہ ’اسلام‘ کا باقاعدہ ایک ’ورژن‘ ہے جو ہمیں دیا گیا ہے اور ہم ہیں جو اس کے بعض کاموں کو ’گناہ‘ ٹھہرائیں گے اور بعض کاموں کو ’تقربِ خداوندی کا ذریعہ‘! جبکہ اس کا ’پیکیج‘ چلانے والے پوری تن دہی کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہیں اور اس کو مقبولیت دلوانے اور وقت کا فیشن بنا دینے میں ہمارے تخیل سے بھی بڑھ کر کامیاب ہیں!

یہاں مالک الملک کی بغاوت کو باقاعدہ ایک ’نظام‘ اور ’سسٹم‘ کی شکل میں چلانے والے ’اعلیٰ حکام‘ کسی دن عمرہ کی ’سعادت‘ حاصل کریں یا کسی مزار کو عرقِ گلاب کے ساتھ غسل دینے کی، ’عید‘ پڑھنے کیلئے چند ساعتیں ’مذہبی حلیہ‘ اختیار کریں یا ’عرس‘ میں شرکت کرنے کیلئے، سب ’اسلام‘ ہی کے روح پرور اعمال ہیں اور ’رائے عامہ‘ کے حق میں بے حد ضروری ہے کہ نہ صرف وہ اس بے حد اہم واقعہ سے باخبر رہے کہ ’اسلام‘ کے یہ ’مناسک‘ اور یہ ’شعائر‘ ان کے صدر نے کہاں اور کیونکر ادا کئے اور وزیر اعظم نے کہاں، گورنر نے کہاں تو وزیر اعلیٰ نے کہاں، اور دیگر اہم اہم منصب برداروں نے کہاں، بلکہ خدا کی ’عبادت اور فرماں برداری‘ کے ان روح پرور مناظر کی تصویری جھلکیاں بھی وہ اِس کثرت سے دیکھیں کہ خود ’اسلام‘ ہی کی ایک نہایت ’معتدل‘ تصویر ان کے لاشعور میں پیوست ہو کر رہ جائے!

یہاں قومیت اور وطنیت کا شرک بھی لا محالہ ’اسلام‘ ہی کا حصہ باور ہو گا اور کسی وقت تو اس کے دلائل بھی ’اسلام‘ ہی سے دیے جانا ضروری ہوں گے!

’میلاد‘ اور ’ماتمی عاشوراء‘ ہی نہیں، ’قومی دنوں‘ کو منانے پر بھی اگر ’اجر‘ کی نیت کر لی جائے تو ثواب ملنے کا پورا پورا امکان ہے! ’اسلام‘ کا دائرہ کسی نہ کسی صورت اِن سب اعمال ہی کو محیط ہو جاتا ہے!

مُردوں کے پورٹریٹ سروں سے اونچے رکھ کر آویزاں کرنے پر کسی کو ملحد اقوام کی تقلید کا شبہ تو خیر کیا ہوگا البتہ مورتوں کی اِس تعظیم میں ’قومی‘ جذبہ کے ساتھ ساتھ ’دو قومی‘ جذبہ کی آمیزش ہو جوکہ بیسویں صدی میں ’مذہبی جذبے‘ ہی کی ایک ’توسیع شدہ‘ صورت مان لی گئی تھی، تو یہ بات سونے پر سہاگہ کہی جانے کے لائق ہے!۔۔۔۔ خدایا! کوئی ایک اسلامی حلقہ تو ہو جو کبھی اِس پر معترض ہوا ہو!

’حقیقت‘ کے نام پر اور ’وحدۃ الوجود‘، ’حلول‘ اور ’اتحاد‘ ایسے عنوانات کے تحت کفر و زندقہ پھیلانے والی کتب ’اسلامی عقیدہ‘ کے مستند مراجع ہیں اور منصور حلاج کا حلولی نعرۂ ’انا الحق‘ ’افضل الجہاد‘ (یعنی حق گوئی روبروئے سلطانِ جائر) کے باب میں ضرب المثال کا درجہ رکھتا ہے، جس کا ’ترقی پسند‘ اُدَباءو شُعَراءسے لے کر ’غیر ترقی پسند‘ خطیبوں اور واعظوں تک سب کے بیان میں آنا یکساں لازم ہے، یہاں تک کہ سکھ اور ہندو شعراءوادباءبھی اردو میں سخن گوئی کریں تو اسی کے تشبیہ واستعارہ کی پابندی کریں!

اسلام کے کچھ بڑے بڑے اعمال اور عظیم الشان تہوار گنوانے کی فرمائش کیجئے، ’رائے عامہ‘ آپ کو حیران کر کے رکھ دے گی! معدودے چند سنت اشیاءکا ذکر ملے گا تو قسما قسم بدعات اور کچھ عظیم الشان خرافات بھی ’اسلام‘ کے نام پر ساتھ ہی سننے میں آئیں گی۔۔ اور ’اسلام‘ کے ان سب ’شرائع‘ کا احترام یکساں طور پر لازم!

حرمین سے وابستگی جزوِ اسلام ہے تو ’داتا دربار‘ اور’پاکپتن‘ اور ’اجمیر شریف‘ ایسے ان گنت ’شعائر‘ بھی ’اسلام‘ ہی کے ’مقدس مقامات‘ ہیں!

یہ سب ہی اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کیلئے اسلامی غیرت اور حمیت جوش میں آجایا کرے!!!

یہ سب کچھ ’اسلام‘ کا باقاعدہ حصہ ہے۔۔ ”اسلام“ یعنی عرش سے نازل ہونے والا خالص، سچا اور کھرا دین!!!

ان میں سے کسی ایک بھی چیز کو آپ ’اسلام‘ سے بے دخل کر کے دیکھئے، آپ کو اندازہ ہو جائے گا آپ نے اسلام کا کتنا بڑا نقصان کر دیا ہے۔۔۔۔ بلکہ ’اسلام‘ کے ساتھ ساتھ آپ نے خود اپنا کتنا بڑا نقصان کر لیا ہے! کونسی جماعت آخر اتنے بڑے ’نقصان‘ کی متحمل ہے۔۔۔۔؟ زیادہ سے زیادہ کسی چیز کی گنجائش ہے تو وہ یہ کہ آپ اپنا ’ذاتی‘ یا ’جماعتی‘ عقیدہ درست رکھیں اور جتنا بھی درست کرنا ہو ’اُسی‘ کو ہی درست کرتے جائیں!!! زیادہ سے زیادہ، آپ کشتی کی اندرونی حالت کو سنوار لیا کریں اور اپنی اصل محنت اور کل توجہ اپنی اُسی کشتی کی ’سواریاں‘ بڑھانے پر رکھیں، البتہ اُن پانیوں کے ’دھارے‘ سے الجھنا جس کے دوش پر آپ کی اِس کشتی کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ تیرنا ہے بلکہ کچھ دیگر ’کشتیوں‘ سے آگے گزرنا بھی اس کی (اور شاید ’اسلام‘ کی) ایک نہایت اشد ’ضرورت‘ ہے، اُن پانیوں کے ’بے قابو دھارے‘ سے الجھنا بھلا کس کے بس کی بات ہے؟!!! ’اپنا جہان آپ پیدا کرنا‘ آج کے اسلامی عمل کی جتنی بھی بڑی ایک ضرورت ہے یا تحریکی مباحث کا کتنا ہی بڑا ایک مبحث ہے، اس کا دائرہ ’کشتی‘ کی دنیا سے باہر کیونکر جا سکتا ہے؟!!!!! ’موسم کی طغیانیوں‘ پر بھلا کس کو اختیار ہے اور اس کی بابت تو سوچنا ہی چہ فائدہ؟!!!

پس ’ذاتی‘ یا ’جماعتی‘ سطح پر آپ کا تصورِ اسلام جیسا بھی ہے اور اپنی اس ’داخلی ضرورت‘ کیلئے آپ ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کی جو بھی تعریفات رکھیں اور اس کیلئے آپ نے جو بھی مراجع اختیار کر رکھے ہوں، البتہ ’قومی زمین‘ پر جو ’اسلام‘ پایا جاتا ہے اور یہاں ’اسلام‘ کا جو ایک ’خود رو‘ تصور ہے اس کو ہاتھ لگانا کسی کی ہمت نہیں! اس میں ’تصرف‘ کا حق کسی کو نہیں، حتیٰ کہ کتاب اور سنت کی قطعی نصوص کو بھی نہیں! یہاں برسوں کے برس لگا کر جو چیز بھی ’اسلام‘ کے نام پر اُگ آئی ہے، یہاں جس جھاڑ جھنکاڑ نے بھی سر اٹھا لیا ہے اور عشروں کے عشرے وہ سر اٹھا رکھنے میں کامیاب رہا ہے، اس کو تلف کر دینے کا اختیار کسی کو نہیں! اور اگر ’اسلام‘ کے نام پر کسی ’غیر اسلام‘ کو نشو و نما پائے صدیاں بیت چکی ہوں پھر تو اُس کو ”اسلام“ سے بے دخل کر دینا ایک قیامت کھڑی کر لینے کے مترادف ہے! ’رائے عامہ‘ تو اِس پر چیخے گی ہی، کہ یہ تو بیچارہ وہ مریض ہے جو ایک نہایت بنیادی اور طویل علاج سے گزارا جانے کا ضرورت مند تھا، ایسا ’ظلم‘ ڈِھ جانے پر تو ہمارے وہ چارہ گر چیخ اٹھیں گے جو عرصہ سے اِس مریض کی مسیحائی میں لگے ہیں!

اسلام کے کسی ’نمائندہ اجتماع‘ میں روافض موجود نہ ہوں تو ’پورے‘ اسلام کو دیکھنے کے عادی طبقے یہاں کتنی بڑی کمی محسوس کریں گے؟ ہمت رکھیں تو اس کا تجربہ کسی وقت ضرور کیجئے گا! ’اسلام‘ کا کوئی اسٹیج ایسے طبقوں سے یکسر خالی پایا جائے جو مُردوں کو پکارنے اور خاک کے ڈھیروں کا طواف و اعتکاف کرنے کی شہرت رکھتے ہیں تو اُس اسٹیج پر اہل اسلام کی ’پوری نمائندگی‘ کس قدر مشکوک ٹھہرے گی، یہ ایک بغور دیکھنے کی چیز ہے اور نہایت توجہ طلب مقام!

ایک نظام جو اصلاً باطل ہے اس کے اندر کسی آمر کے ہاتھوں ’خلافِ آئین‘ اقدام ہو جانے پر قوم کا اٹھ کھڑا ہونا اور اس کی مذمت میں اُس کا سب کچھ کر گزرنا آخری حد تک روا ہو جاتا ہے اور تب ’نا انصافی‘ اور ’اختیارات کے ناجائز استعمال‘ کے خلاف ہمیں قرآن اور حدیث کے جا بجا حوالے بھی فوری فوری دستیاب ہو جاتے ہیں، گویا اسلام کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اس قدر ’غلط‘ کام کے خلاف پوری قوم ہی اٹھ کھڑی ہو اور بلاشبہ دینی طبقوں کے شریکِ احتجاج ہونے سے ’اسلام‘ کا یہ پیغام خود بخود اور بڑی کامیابی کے ساتھ نشر ہوتا ہے۔۔ مگر خود اِس نظام ہی کا ظلم جو یہ خدائے رب العالمین اور اس کی شریعت کے اختیار کو غصب کرنے کی صورت میں کرتا ہے اور جوکہ صریح شرک تک پہنچتا ہے، یہ البتہ یہاں کسی کا موضوع تک نہیں بن پاتا(2)، یہاں تک کہ اِس بات کا گلہ ہو جانا بھی ’ظلم و ناانصافی‘ کے خلاف چلنے والی ایک ’کامیاب تحریک‘ کے جوش وخروش کو بدمزہ کر دینے کا باعث سمجھا جائے گا! ایک ’خلافِ آئین‘ اقدام پر قیامت کھڑی کر دینا تو ایک ’سمجھ آنے‘ والی بات ہے اور ’اسلام‘ کا بھی اخص الخاص تقاضا ہے، مگر ایک ’خلافِ شریعت‘ اقدام تو کیا پورے کا پورا نظام ہی ’خلافِ شریعت‘ ہواور وہ وقت کی آسمانی شریعت کو اور خدائے مالک الملک کے اختیارِ فرماں روائی کو روز اپنے اداروں اور محکموں میں بیٹھ کر چیلنج کرتا ہو، تو اُس پر زمین آسمان ایک کر دینے کی سوچ تک کا آجانا ’انتہا پسندی‘ گنا جائے گا اور ’اسلام‘ میں تو آپ جانتے ہیں ’انتہا پسندی‘ (جس کی تعریف صرف ’میڈیا‘ کر سکتا ہے!) کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں!۔۔۔۔ ’اسٹریٹ‘ کا فتویٰ ایسے ہر ہر موضوع پر آخری مرجع جو ٹھہرا!

انجامِ کار۔۔۔۔ صرف یہی نہیں کہ ’اسلام‘ و ’غیر اسلام‘ کی بابت یہاں کی ’اسٹریٹ‘ کو ہم کچھ نہیں دے سکتے (گو ’دینے والے‘ ضرور دیتے ہیں اور مسلسل دے رہے ہیں!) بلکہ نوبت یہاں پہنچی ہوئی ہے کہ ’اسلام‘ و ’غیر اسلام‘ کی بابت ’اسٹریٹ‘ ہمیں جو کچھ دے اُس کو بھلے مانسوں کی طرح لے لینا ہی اپنے پاس واحد چارۂ کار رہ گیا ہے! ’اسلام‘ و ’غیر اسلام‘ کے باب میں یہاں کی ’شارع عام‘ ہمیں دینے کیلئے جو چیز بھی اپنے پاس رکھے اُس کو لینے سے انکار کرنا ہمارے لئے دوبھر ہو جاتا ہے، خود اُس کو وہ چیز چاہے جہاں سے بھی ’اِلقاء‘ ہوتی ہو! جتنی بڑی کوئی تحریک ہوگی اتنا ہی اس کیلئے یہ ’انکار‘ مشکل ہو گا! ’معاشرہ‘ ہمیں جو دے اُس کو سعادت مندی سے لے لینا اور لیتے رہنا ہی ’لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے‘ کا واحد نسخہ ہے جو ہمیں اب تک معلوم ہو سکا ہے! ہمارے ’دور رس اہداف‘ کو جتنا بھی راستہ مل سکتا ہے اِسی کے درمیان سے مل سکتا ہے! پس اگر یوں کہا جائے کہ جس طبقے کو ہم سے ’راہنمائی‘ ملنی چاہیے تھی الٹا ہم اُس سے ’راہنمائی‘ لے رہے ہیں تو شاید اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو۔ البتہ خود اُس طبقے کو ’راہنمائی‘ کون دیتا ہے؟ اِس کی بابت شاید زیادہ قیافوں اور اندازوں کی ضرورت نہیں!

یہاں حکومتوں کے خلاف دھواں دھار لہجہ اختیار کر لینے کے واقعات کئی ایک دینی طبقوں کے ہاں ایک تسلسل کے ساتھ پیش آتے ہیں، مگر ’اسلام‘ و ’غیر اسلام‘ کے موضوع پر ’عرفِ عام‘ کے ساتھ ماتھا لگانا ان دینی طبقوں کے ہاں کم ہی کہیں دیکھنے میں آ سکا ہو گا۔ یہاں حکومت کی ’غیر اسلامی‘ پالیسیوں کے خلاف ’رائے عامہ‘ کی عدالت میں ’مقدمہ‘ دائر کر رکھنے کے مظاہر بکثرت دیکھے جا سکتے ہیں، یہاں تک کہ کئی ایک دینی حلقے یہ اطمینان تک کر لیتے ہیں کہ حکومتوں کے خلاف گرجدار لہجے میں بول کر اور ’عوام کی عدالت‘ میں ان کے خلاف مسلسل ایک مقدمہ لڑ کر وہ معاشرے کے اندر ’حق گوئی و بے باکی‘ کا پورا پورا حق ادا کر چکے، مگر اِس ’عدالتِ عالیہ‘ کی اپنی حیثیت کو چیلنج کرنا اور حق وباطل کے فرق کی بابت اِس کی اپنی ہی جہالت کی بابت سوال کھڑا کر دینا یہاں ہنوز ایک عجیب و غریب بات ہی سمجھی جائے گی! جبکہ مسئلہ اگر اس ’عوامی عدالت‘ کی سادہ جہالت تک محدود ہوتا تب بھی بات اور تھی، یہاں تو کسی وقت ایک واضح صریح باطل کو ہی ’اسلام‘ قرار دے دینے پر اصرار ہوتا(3) ہے اور کسی وقت اسلام کے کئی ایک بنیادی ترین مطالب ہی کے ’باطل‘ قرار پانے کا تقاضا ہوتا(4) ہے!

حضرات! ہمارے ’دور رس اسلامی اہداف‘ کا راستہ واقعتا اگر ’اِسی‘ کے اندر سے گزرتا ہے تو پھر ہر شخص جان سکتا ہے کہ ہمارے ’اسلامی اہداف‘ کا راستہ یہاں سرے سے ہے بھی یا نہیں!

پس جہاں معاملے کی ترتیب یوں تھی کہ آج کے اِن مسلم معاشروں کو ’راہنمائی‘ ہم سے ملتی اور پھر ہم سے ملنے والی اس ’راہنمائی‘ اور اِس کی بنیاد پر چلائے جانے والے ایک ’تربیتی عمل‘ کے نتیجے میں یوں ہوتا کہ اِن معاشروں کے مؤثر و صالح عنصر کو اپنی پشت پہ لا کر ہم وقت کی جاہلیت کے ساتھ ایک نہایت حقیقی معرکہ چھیڑتے اور صرف اُسی معرکہ کے فیصلے سے ہی یہاں ایک صالح تبدیلی کی بابت اپنی کل امیدیں وابستہ کرتے، اِسی پر ہماری سب محنتیں ہوتیں اور اِسی کیلئے اللہ تعالیٰ سے ہماری دعائیں اور التجائیں ہوتیں۔۔ وہاں معاملے کی ترتیب یوں ہو گئی ہے کہ وقت کی جاہلیت کمال ذہانت و دانشمندی کے ساتھ اِن معاشروں کی ذہنی و فکری ساخت کرے، اور پھر اِن معاشروں کی اِسی فکری ساخت کو سامنے رکھ کر بلکہ اِسی کا ’سائز‘ لے لے کر ہم اپنے دعوتی و تحریکی ایجنڈے مرتب کریں، پھر جس جس طرح اِس کے ’سائز‘ میں تبدیلی آتی (یا ’لائی جاتی‘ !) رہے اُسی اُسی طرح ہمارے ایجنڈے بھی ’ترمیمات‘ کی قطع و برید سہتے رہیں، کسی وقت یہ ’ترمیمات‘ باقاعدہ فیصلہ کر کے ہوں اور زیادہ تر ایک ’لاشعوری عمل‘ کے نتیجے میں ہی!

پس وہ معاشرہ جس میں ’اسلام‘ ایسی ہی ایک مبہم چیز ہے، نہ صرف مبہم بلکہ قسما قسم انحرافات کو شامل ہے، بلکہ جہاں شرک تک ’اسلام‘ سے خارج نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔۔۔۔ وہ ماحول جس میں ’اسلام‘ حق اور باطل کا ایسا ہی ایک عجیب و غریب ملغوبہ ہے۔۔۔۔ آپ خود سمجھ سکتے ہیں وہاں جب آپ ’اسلام‘ کی بات کریں گے؛ وہاں جب آپ ’اسلام‘ لایا جانے کی دہائی دیں گے یا ’اسلام‘ کے جانے یا ’اسلام‘ کے محکوم ہونے کا رونا روئیں گے، بے شک دل اس سے کتنا ہی پسیجیں اور آنکھیں آپ کے اس بیانِ پرتاثیر سے کتنی ہی نمناک ہوں، لیکن ’اسلام‘ کے حوالے سے درحقیقت آپ ایک نہایت لایعنی و بے حقیقت بات ہی کر رہے ہوں گے۔ اِس ’رونے‘ میں تو ضرور سب کے سب آپ کے شریک ہوں گے اور کوئی بھی اِس میں پیچھے نہ رہے گا مگر ’مرا کون‘، کہ جس پر یہ سب رویا اور رلایا جا رہا ہے؟ اس کی بابت البتہ ہر شخص کا اپنا اپنا ذہن ہوگا اور اپنا اپنا اندازہ!

پس وہ ’رائے عامہ‘ جو ایسے ہی ایک ’اسلام‘ کو جانتی اور پہچانتی ہے جس میں دنیا بھر کی خرافات اپنے سما جانے کیلئے ذرہ بھر دِقت نہ پائیں۔۔ صرف یہی نہیں، بلکہ وہ ’اسلام‘ جس میں یہ سب خرافات نہ پائی جائیں تو وہ اسے ’اسلام‘ کے نام سے پہچان کر ہی دینے کی نہ ہو۔۔۔۔ اُس ’رائے عامہ‘ کو ’اسلام‘ کیلئے غیرت اور جوش میں لانا، کبھی ماضی کے قصوں سے اس کے دل گرمانا اور کبھی مستقبل کے ذکر سے اُس کیلئے حدی خوان ہونا، یہ نہ صرف اُس کو کہیں لے کر جانے والا نہیں بلکہ یہ اُس کے انحراف کو پختہ تر کر دینے کی ہی ایک ناگفتہ بہ صورت ہے۔ نہ صرف اُس کے انحراف کو پختہ تر کر دینے کی ایک صورت ہے بلکہ خود اپنے آپ کو __ بالآخر __ اُسی انحراف کے سپر د کر دینے کا ایک مجرب نسخہ ہے۔ ایسی دعوتیں کسی دن وہ بند راستہ کھول دینے میں کامیاب ہو جائیں گی جو ڈیڑھ صدی سے ہمارے اس کارواں کی راہ روک کر کھڑا ہے اور کسی بھی دن یہ امت کو اس کی منزلِ مراد پر جا پہنچائیں گی اور ہمارے اختیار کردہ یہی مناہج methodologies بالآخر ہماری ناؤ پار لگا دیں گے، ہمارے بہت اصحاب اب بھی یہ امید چھوڑ دینے پر تیار نہیں!

خوش امیدی کی آخر تو کوئی حد ہے!

٭٭٭٭٭

’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کا فرق ملیامیٹ کرا دینے کی جو چند مثالیں ابھی اوپر بیان ہوئیں، اسلام میں انحرافات شامل کرانے کے یہ ابھی چند ایک مظاہر ہیں۔ ایسے بہت سے مظاہر ابھی اور ہیں جو ہمارے معاشرے اور ہماری رائے عامہ کو بری طرح اپنی گرفت میں لے چکے ہیں اور جن کے باعث ’رائے عامہ‘ کیلئے یہ اندازہ کرنا تک مشکل ہے کہ کونسا ”اسلام“ اِن سب معاملات میں ایک مستند اسلام اور ایک معتبر طریق بندگی ہے جو قرونِ سلف سے ماخوذ ہے اور جس میں قبولیت کیلئے اوپر اٹھنے اور آسمان کے دروازے کھلوا لینے کی صلاحیت ودیعت کر رکھی گئی ہے اور کونسا ’اسلام‘ غیر مستند ہے کہ جس کی کوئی بنیاد قرونِ اُولیٰ کے ذخیرۂ علم سے نہیں ملتی اور جس پر چلنا نہ صرف ایک لاحاصل مشقت ہے بلکہ اسلام کا چہرہ خراب کرنے کی ہی ایک دانستہ یا نادانستہ صورت بھی بن جاتی ہے۔

اسلام کے نام پر انحرافات سامنے آنے کی تاریخ نہایت طویل ہے۔ وہ اسلام جس کی نصرت کا وعدہ ہے مسلم معاشروں کے ہاتھ سے چھڑوا دیا جائے اور اس کی جگہ ان کو اسلام کی کچھ دیگر صورتیں تھما دی جائیں، کچھ دانستہ اور بہت سی نادانستہ کوششیں اِس سلسلہ میں نہایت ابتدا سے ہی ہماری تاریخ کے اندر ہونے لگی تھیں؛ آسمان سے اتارے جانے والے خالص ”من و سلویٰ“ سے طبیعتیں تنگ آجاتی رہیں اور ’زمین کی پیداوار‘ (مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا(5)) کیلئے بہت جلدبے چین ہو جاتی رہیں۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ (اسلام کی ابتدائی صدیوں میں ہی) ہمارے یہاں بھی ایک ’سبزی منڈی‘ تو بہر حال لگی، لیکن اصل دیکھنے کی بات یہ تھی کہ ’مسلم معاشرے‘ اور ”مسلم رائے عامہ‘ کے اندر اِس منڈی کے خریدار کتنے پائے جاتے ہیں؟ گراف در اَصل اِس چیز کا بننا تھا نہ کہ کچھ بدعات اور اَہواءاور انحرافات اور شرکیات کے محض یہاں پائے جانے کا۔۔۔۔ جہاں احمد بن حنبلؒ، شافعیؒ، ثوریؒ، اوزاعیؒ، مالکؒ اور ابو حنیفہ النعمانؒ ایسے لوگ پائے جائیں وہاں یہ ’گراف‘ حق اور سنت کی گرفت میں بھلا کیوں نہ رہتا؟۔۔۔۔ ہاں پھر اس کے بعد گراف نیچے بھی جاتا رہا اور اوپر بھی۔

یوں اِس آخری آسمانی امت کو ”آسمانی تنزیل“ کی بجائے ’زمین کی پیداوار‘ کا عادی اور اِسی کی ’مصنوعات‘ کا رسیا کر دینے کی کوششیں بہت شروع سے ہونے لگی تھیں۔ بلاشبہ اِس کا اثر ساتھ ساتھ ہی امت کے احوال پر مرتب ہونے لگا۔ تاریخ میں مسلم احوال کے اوپر نیچے جانے کا گراف اسی حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امت کے عروج وزوال کی داستانیں تو بہت لوگ ہمیں سنا سکتے ہیں مگر اس عروج و زوال کے پیچھے آسمانی ہدایت سے تمسک و وابستگی کے گراف کی زیر و بالا حرکت کو بھی ساتھ ساتھ پڑھ لینا اور ہر جگہ اور ہر موڑ پر ان دونوں کے مابین ایک قوی ترین رشتہ تلاش کر لینا یہاں کسی کسی کو ہی نصیب ہوا۔ زیادہ تر ’نکتہ وروں‘ کو بہتری اور ابتری کے کچھ ایسے اسباب ہی نظر آتے رہے جوکہ علت و معلول کی دنیا میں ’اسباب‘ تو بہرحال مانے جائیں گے مگر خود اِن ’اسباب‘ کے پیچھے ایک آسمانی امت کے معاملے میں جو ”خدائی سنتیں“ کارفرما ہوا کرتی ہیں اور جوکہ نبیِ وقت کے نام لیواؤں کی رفعت و ذلت کے پیچھے اصل اور نہایت حقیقی ”عوامل“ ہوا کرتے ہیں اور درحقیقت ’اسباب‘ کو وجود میں لانے یا نہ لانے کے معاملہ میں بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، اور اس لحاظ سے ان کا کوئی قیاس اور کوئی موازنہ کسی دوسری قوم کے عروج و زوال سے ہو ہی نہیں سکتا۔۔ اِن خاص ”عوامل“ کو ہمارے اِن دیدہ وروں کے ہاں حساب سے ہی خارج رکھا جاتا رہا۔۔۔۔ پس طبعی بات تھی کہ جب بھی ’عمل‘ کی دہائی پڑتی یہ لوگ معاملے کی ابتدا اُس چیز سے کرواتے جو ’ضروری‘ تو بے حد ہوتی مگر عمل کا ”نقطۂ ابتدا“ بہرحال نہیں۔

مسئلے کا اصل سرا یہ ہے کہ خدا کے نازل کردہ دین کے ساتھ مسلم اقوام کے تعامل کی نوعیت کیا ہے اور یہ کہ آسمانی پیغام اور آسمانی مشن کے ساتھ پیش آنے کے معاملہ میں کسی دور کے مسلم معاشرے کیا رویہ اپنائے ہوئے ہیں؟ ’خدائی سنتیں‘ کسی دور کے اندر مسلم معاشروں کے حالات سدھرنے یا بگڑنے کے حوالے سے کیا تقاضا کرتی ہیں، اس کا سارا انحصار اسی سوال پر ہے۔ پھر اِس سوال کا جواب ملنے پر، خدائی سنتیں اِن معاشروں کے حالات سدھرنے کا تقاضا کریں تو اس کے اسباب معاشرے کے اندر وجود میں آ جاتے ہیں (کہ جن کی نشان دہی کے لئے ہمارے ’حکمائے تاریخ‘کوئی بڑی مشکل نہ پائیں!) اور اگر یہ خدائی سنتیں اِن معاشروں کے حالات ابتر ہو جانے کا تقاضا کریں تو ابتری کے ہی تمام تر اسباب تابڑ توڑ واقعات کی صورت میں اُس معاشرے کے اندر پیش آ جاتے ہیں (تاکہ ہمارے ’عبقری‘ حقیقت نگار کھل کر ان کا رونا رو سکیں!) پس مسئلے کا اصل سرا ’خدائی سنتوں کا اقتضاء‘ ہے جس کے متعین اصول ہمیں بتا دیے گئے ہیں۔ رہ گئے ’اسباب‘ تو ان کا سلسلہ جتنا بھی طویل و عریض ہواور مسلم معاشروں کی پیش قدمی یا پسپائی کے حوالے سے ان کا اَثر اَنداز ہونا کتنا بھی برحق ہو، اور ان کو اختیار کرنے کی فرضیت بھی شریعت میں کتنی ہی مؤکد ہو، مگر یہ مسئلے کا اصل سرا بہرحال نہیں۔

ایک چیز خواہ کتنی ہی اہم ہو، اُس کے اصل سرے سے اُس کا تعلق منقطع کر دیجئے اور پھر اُس کو بار بار ’زیر مطالعہ‘ لائیے، خوب تجزیے کیجئے، اس پر وقیع مقالے قلمبند کیجئے، تھنک ٹینک بٹھا دیجئے، اور حتیٰ کہ اُس کو سورج کی روشنی میں ہی لا کر رکھ دیجئے، آپ اُس کی حقیقت کا سراغ بہرحال نہ پا سکیں گے۔ یہی نہیں، بلکہ اس کا اصل سرا علیحدہ کر دینے کے بعد اس پر ہونے والا ’تحقیقی عمل‘ الٹا آپ کے حق میں نقصان دہ اور گمراہ کن ہوگا کیونکہ ’تحقیق و مطالعہ‘ کا زعم آپ کے اور اُس گم شدہ حقیقت کے مابین ایک دیوار کی طرح حائل ہو جائے گا اور پھر جتنا آپ اِس ’دیوار‘ کو بلند کرتے جائیں گے اتنا ہی آپ کا مطلوب آپ سے روپوش ہوتا چلا جائے گا۔ تب آپ کے ساتھ سب سے بڑی بھلائی کوئی ہو سکتی ہے تو وہ یہی کہ کوئی درد مند آپ کو ’تحقیق‘ اور ’مطالعہ‘ کے اِس زعم سے ہی رہائی دلوانے کی دانش مندانہ تدبیر کرے اورجستجوئے حقیقت کے اُس نقص ہی کی جانب سب سے پہلے آپ کی راہنمائی کرے۔

حضرات! یہ مسئلہ کسی ’تحقیقات‘ کا ضرورت مند ہے اور نہ ’بحث و تجزیہ‘ کا۔ ”اسلام“ اور ”ایمان“ ایک نہایت سادہ حقیقت ہے؛ ایک ایسی حقیقت جو ایک صریح دوٹوک واشگاف ”لا“ سے شروع ہوتی ہے اور جو کہ معاشرے کے ایک اَن پڑھ سے اَن پڑھ شخص کو اَزبر کرائی جانا ہوتی ہے۔ ایک ایسی ’نہ‘ جو ہر قسم کے اِثبات سے پہلے ہے: اللہ کی پرستش ، اللہ کی فرماں برداری اور اللہ کی اطاعت و تابعداری کے سب دروس بعد میں مگر غیراللہ کی پرستش، غیر اللہ کی فرماں برداری اور غیر اللہ کی اطاعت و تابعداری کا صاف صاف اور کھلا اِنکار اُس سے پہلے۔۔ خدا کے اَسماءو صفات کے درست معانی کا اِثبات بعد میں، اور خدا سے منسوب باطل تصورات کا بطلان اُس سے پہلے۔۔ حق کی اتباع اور رسول کی لائی ہوئی ہدایت کی پیروی کی تمام تر تلقین اور تذکیر بعد میں، لیکن باطل سے برگشتہ ہو جانے کے نقارے اس سے پہلے۔۔ اللہ اور رسول سے وابستگی کا اعتبار اُس وقت جب طاغوت سے برأت اور اولیائے طاغوت کے ساتھ دشمنی اور عداوت متحقق ہو جائے۔۔ شریعتِ خداوندی کی شرح و توضیح اور نشر و تبلیغ و تنفیذ کی بات بعد میں اور کسی دَور کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے شریعت کی تطبیق کی عملی تفاصیل (جسے ’اسلامی نظام‘کا بھی نام دیا جاسکتا ہے) بہت بعد میں، البتہ غیر اللہ کی شرع و قانون کے خلاف ہر ہر کلمہ گو کا یک آواز ہو جانا اور اس کو ہر رسم، ہر رواج، ہر دستور اور ہر آئین کی پامالی سے بڑی پامالی اور ہر جرم سے بڑا جرم ماننااور منوانا بلکہ صاف صاف اس کو رب العالمین کے ساتھ کفر اور اس کی ہمسری قرار دینا اور دلوانا اس سے بہت پہلے۔۔۔ اِسی ایک بات پر جنگ اور اِسی پر صلح، اسی پر ٹوٹنا اور اِسی پر ملنا اور اِسی کو ہر ہر مسئلہ سے بڑھ کر بالائے مفاہمت مسئلہ جاننا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حضرات! معاشرے کی ’کلمہ گوئی‘ میں اگر اس ’لا‘ کا ہی فقدان ہے، یعنی لا الہ الا اللہ کا پہلا لفظ ہی کسی معاشرے کے ہاں درست نہیں کروایا گیا جوکہ ’ اِلا اللہ‘ کے مفہوم کو بھی یقینی طور پر بے معنیٰ کر کے رکھ دیتا ہے، تو پھر باقی سب دروس چھوڑ کر کیا یہی ضروری نہیں ہو جاتا کہ سب چارہ گر اُس ’کلمہ گو‘معاشرے کو لا الہ الا اللہ کی تعلیم دینے پر ہی کمربستہ ہو جائیں؟ ’عمل‘ میں سستی اور کوتاہی پر بات ہو سکتی اور اِس پر کچھ چھوٹ دینے کی بات ہو تو وہ بھی زیر بحث آسکتی ہے مگر لا الہ الا اللہ کے مفہوم ہی میں اتنا بڑا نقص، اتنا بڑا الجھاؤ بلکہ اتنا بڑا انحراف بھی کیا کسی صورت میں نظر انداز کردیا جا سکتا ہے؟ ایک معاشرے کی لا الہ الا اللہ کے موٹے موٹے مفہوم سے وابستگی ہی ابھی متحقق نہیں بلکہ لا الہ الا اللہ کے نہایت واضح اور جلی مفہوما ت ہی اگر اس معاشرے پر واضح کئے جائیں تو وہ یہ سن کر حیران اور دم بخود رہ جائے بلکہ اس کی ایک بڑی تعداد تو لا الہ الا اللہ کے اِن مفہومات کو ’اسلام‘ ہی کے منافی اور ’اسلام‘ ہی کا نقصان کر دینے پر محمول کرے کیونکہ آج تک وہ اِسی ’اسلام‘ سے مانوس ہو پائی ہے۔۔۔۔ تو اُس معاشرے کے چارہ گر بتائیں خدائی سنتوں کا اقتضاءاس معاشرے کی بابت ہو تو آخرکیا ہو؟

’اسباب‘ کو زیربحث ضرور لائیے، ان کا شکوہ جی بھر کر کیجئے، اور آس پاس کی غیر مسلم اقوام کے یہاں ’اسباب‘ کی فراوانی نظر آئے تو اُس کو بھی حیرت سے ضرور دیکھئے۔۔ مگر خدا را اِس پر بھی ضرور غور فرمائیے کہ ایک ایسی قوم جس کے ہر گھر میں خدا کی آخری کتاب کا ایک مستند ترین نسخہ ہر دم دستیاب رہتا ہے اُس قوم کے معاملہ میں ’طبعی اسباب‘ سے پہلے کچھ ’فوق الطبعی اسباب‘ (خدائی سنتوں) کیلئے، جن کا کل تعلق سماوی حقائق سے ہے اور جن کی خبر دینے کیلئے دنیا میں نبی مبعوث ہوا کرتے ہیں، ہمارا پریشان ہو جانا تو ضروری نہیں؟

ہرگز ضروری نہیں کہ قوم کو ’ترجمۂ قرآن‘ آتا ہو اور تفسیر کے لمبے لمبے مباحث ازبر ہوں۔۔۔۔ کم از کم یہ تو ہو کہ قوم یا قوم کے ایک معتد بہ طبقے کے یہاں توحید کا مفہوم درست کرا دیا گیا ہو۔ اُس کو لا الہ الا اللہ کا مفہوم سکھا دیا گیا ہو۔ وہ نہایت بنیادی بات جو مکہ کے کافروں تک کو معلوم تھی ، یعنی توحید اور شرک کا فرق، وہ یہاں کے مسلم معاشرہ کو معلوم کروا دی جائے۔ یہاں جتنے لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ کن کن باتوں سے آدمی کا وضو باطل ہو جاتا ہے، اور وہ کون کون سی باتیں ہیں جن کے باعث آدمی کی نماز نہیں ’ہوتی‘، اور کن کن باتوں سے ایک رکھا رکھایا روزہ ساقط الاعتبار ہو جاتا ہے۔۔ کم از کم اُتنے لوگوں کو تو یہ معلوم ہو کہ کن کن باتوں کے سرزد ہو جانے سے آدمی کاپڑھا ہوا کلمہ غیر معتبر ٹھہرتا ہے اور اس کا اسلام اور ایمان ہی بالکلیہ جاتا رہتا ہے۔۔۔۔ اسلام کی بنیادی ترین باتوں سے کیا ایسی نا آشنائی!!!(6)

داعیانِ اسلام! کم از کم اِتنا تو کر لیجئے کہ لا الہ الا اللہ کے موٹے موٹے مفہومات بتائے جائیں تو اِس پر آپ کا معاشرہ حیران پریشان ہو کر نہ رہ جایا کرے!!! ’چھوٹی بدعات‘ کو چلئے جانے دیجئے، جو ”شرکیہ بدعات“ آپ کے اِن معاشروں میں پائی جاتی ہیں اور جو ”الحادی رجحانات“ یہاں عام ہیں اُن کا شرعی حکم بیان ہونے پر اور اُن کی بابت شرعی مواقف اختیار کرائے جانے پر تو یہ معاشرے سر پکڑ کر نہ رہ جایا کریں!!! شریعت کی دقیق باتیں تو چلئے بعد میں سہی، کم از کم ’محکمات‘ کی ہیبت تو برقرار رکھی جائے اور اِس پر لال پیلے ہو جانا تو انہونی بات نہ رہے!!!

مَّا كَانَ اللّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىَ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ (7)

خبیث کا طیب سے الگ ہونا دعوتی عمل کی اساس ہے۔ اُس عنصر کو یہاں نکھر کر آنا ہے جو صحابہ و تابعین والے اسلام کا پیروکار ہے۔ جو لا الہ الا اللہ کی حقیقت پر قائم ہے اور رسولوں کی بعثت کا مقصد بتا سکتا ہے۔ جو طاغوت کی بندگی کے خلاف معاشرے کے اندر برسر جنگ ہے اور جو شرک و اہل شرک سے اپنی برأت متحقق رکھتا ہے اور جو اپنے دَور کی جاہلیت کے مد مقابل اپنے فرض اور اپنے مشن سے آگاہ ہے۔ جو ”اسلام“ کی تعریف صرف اور صرف کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہ سے لینے اور اس کی صحت کو قرونِ سلف کے ذخیروں سے چیک کرنے پر ہی مصر ہے۔۔۔۔ اور جو اُس ’اسلام‘ کو تو صاف صاف رد کر دینا ضروری جانتا ہے جو یہاں کے ’تاریخی عوامل‘ کی پیداوار ہے اور جس میں شرک اور عبادتِ غیر اللہ تک نے تشویشناک حد تک راستہ پا لیا ہے اور جوکہ آج اِس دور میں حق اور باطل کا ملغوبہ ہونے کی ایک اندوہناک مثال ہے۔

واضح واضح، یہاں اُس صالح عنصر کو اپنا ایک جداگانہ تحریکی وجود سامنے لے کر آنا ہے جو توحید کی حقیقت پر قائم ہو کر دکھانے میں سنجیدہ ہے۔ جو زمانے کی جاہلیت کے ساتھ ایک نہایت گہرا اور اصیل اختلاف سامنے لے آنے میں مخلص ہے اور جو جاہلیت کے ساتھ اپنے اِس اختلاف کو اتنا آگے لے جانے پر بھی تیار ہے جو دن اور رات کے فرق کی طرح زمانے کی نگاہوں میں اتر جائے۔۔۔۔ اور پھر جب اسلام اور جاہلیت کا یہ ”اختلاف“ معاشرے کا سب سے بڑا اور سب سے مرکزی ایشو بنا دیا جائے تو یہیں سے روشنی اور اندھیرے کے مابین کشمکش کی وہ کہانی شروع ہو جائے جو فطرتِ انسانی سے اپنے سوالات اور اپنے مطالبوں کا جواب مانگ کر رہتی ہے اور جوکہ قرآن پڑھنے اور بعثتِ انبیاءکے قصے سننے والی قوم کے گلی محلوں سے تو اپنے اِن چیختے سوالات کا جواب لئے بغیر کبھی رہ ہی نہیں سکتی۔

اِن ’چیختے‘ سوالات کا پایا جانا اور اِنکا جواب لینے پر آپکے ہاں آخری حد تک دلجمعی اور شدید درجے کا اصرار پایا جانا البتہ شرط ہے۔ اِس کے بغیر ’رائے عامہ‘ نام کی مخلوق سے کبھی کسی دعوت کو جواب نہیں ملا! لمبے لمبے دروس اِسکی ضرورت بہرحال نہیں۔

حقیقتِ توحید کو لے کر چلنے والا یہ صالح عنصر، پوری بے پروائی کے ساتھ اور کسی ملامت کا ادنیٰ ترین خوف رکھے بغیر، اپنے ماحول کے اندر پائے جانے والے اُس ’اسلام‘ کو پہچاننے سے اِنکار کرے جوکہ ”اسلام“ نہیں مگر محض کچھ ’معاشرتی عوامل‘ کا سہارا لے کر اور ’عوام الناس‘ کی جہالت کا فائدہ اٹھا کر ’اسلام‘ کی سند پا چکا ہے یا پانا چاہتا ہے۔۔۔ یہ حق پرست جمعیت نہ صرف اُس ’اسلام‘ کو پہچاننے سے صاف انکار کر دے بلکہ اپنے اِس مسلم معاشرے اور ’مسلم رائے عامہ‘ کو اُس سے بری و بیزار کر دینے کے مشن پر بھی پوری تن دہی اور اولو العزمی کے ساتھ عمل پیرا ہو۔۔۔۔ اور جس کا سب سے اہم حصہ یہ ہوگا کہ ”اسلام“ کی سند پانے کیلئے کوشاں انحرافات (اور اصحابِ انحرافات) سے وہ پہلے خود بری و بیزار ہوکر دکھائے۔

’سمت‘ کے بغیر کبھی قافلہ نہیں بنا! ’چلنے والے‘ ہوں بھی تو ”اِس“ شرط کے پورا ہوئے بغیر وہ آپ کے پیچھے صفیں بنانے پر تیار نہ ہوں گے۔

تا آنکہ قوم کا صالح عنصر آپ کے پیچھے آکھڑا ہو، اور باطل کے خلاف ایک نہایت زوردار محاذ آپ کی قیادت میں برپا ہو جائے، معاملے کی ایک سمت بنا کر آپ کو بہرحال دینا ہوگی۔ باطل ’حکومت‘ میں ہو یا ’اپوزیشن‘ میں، شرک ’مذہبی‘ چولے میں ہو یا ’غیر مذہبی‘ لبادے میں، جاہلیت ’قدیم‘ ہو یا’جدید‘، ’آبائی‘ ہو یا ’بدیشی‘۔۔ اِس سے برأت اور مفاصلت اختیار کر لینا ہی اُس مبارک عمل کا نقطۂ آغاز ہو گاجو باطل کے خلاف اِس جدوجہد میں معاشرے کے صالح ترین عنصر کو آپ کی پشت پر لا کھڑا کرے گا۔ وہ نیزہ جسے جاہلیت کے دل میں چبھنا ہے اُس کی ’نوک‘ خود آپ کو بننا ہو گا، نیزے کی ’چوب‘ کا بندوبست تب خود بخود ہونے لگے گا۔ ہاں البتہ یہاں پائے جانے والے شرک اور باطل اور جاہلیت کے ساتھ آپ کا ایک نہایت اصولی اختلاف ہی اگر دیکھنے میں نہیں آیا ہے، لوگ اگر دیکھتے ہیں کہ اسلام کے نام پر پائے جانے والے انحرافات کے ساتھ آپ کی خیرسگالی ہی ختم ہونے میں نہیں آئی ہے اور آپکی طبعِ نازک حق کی خاطر ماحول کی تند و ترش سہنے کی متحمل ہی سرے سے نہیں ہے، تو آپ کی یہ خواہش کہ باطل کے خلاف ایک زوردار دھارا یہاں تشکیل پا جائے، اور وہ بھی آپ کی سرکردگی میں، اِس کو بہر حال ’آرزو‘ ہی کا نام دیا جا سکتاہے۔

٭٭٭٭٭

’مسلم رائے عامہ‘ کی یہ تصویر جو ہمارے اِس مضمون میں پیش ہوئی، اپنی جگہ۔۔ مگر اِس بے چاری مخلوق کے ساتھ حسن ظن نہ رکھنا بھی ناقابل اندازہ زیادتی ہے۔

’رائے عامہ‘ کا معاملہ اُس معصوم بچے کی طرح ہے جو ضرور آپ کی اُس بات سے جو اُس کے حسبِ خواہش نہیں وقتی طور پر جز بز ہوتا ہے مگر جلد ہی جب اُس کو ادراک ہوتا ہے کہ آپ کی وہ بات اُس کیلئے کس قدر فائدہ مند تھی وہ آپ کی بزرگی کا قائل ہوئے بغیر بھی نہیں رہتا۔ جلد یا بدیر وہ آپ کا شکر گزار ہو کر رہتا ہے اور تب اعتماد اور ارشاد کا وہ دو طرفہ تعلق قائم ہوتا ہے جو خیر اور ترقی کی ہزاروں صورتوں کی جانب اُس کی راہنمائی کرے۔ پھر جب وہ پختگی کے کسی اعلیٰ تر معیار پر پہنچے تب تو وہ آخری حد تک آپ کا ممنون ہوتا ہے اور وہی ’سرزنش‘ جو کبھی اُس کیلئے سوہانِ روح تھی آج اُسے وہ اپنے اوپر آپ کا ایک ’عظیم احسان‘ مانے گا اور بجا طور پر آپ کو ایک ’پدرانہ مقام‘ دے گا! البتہ اگر آپ نے اُس دن جب وہ بے شعور تھا اُس کی نظر میں ’اچھا‘ نظر آنے کو ترجیح دی ہوتی تو شعور پا کر وہ لازماً آپ کو ’برا‘ جانتا! ایک بے شعور کے ہاں برا پڑنا، خاص طور پر جبکہ آپ اُس کو ایک نہایت خوب بات بتا رہے ہوں، اِس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ ایک باشعور کے ہاں ناقابل التفات جانے جائیں!

پس بجائے اِس کے کہ آج کے اِن مسلم معاشروں اور اِن کی ’رائے عامہ‘ کی بابت ہم کوئی بد ظنی رکھیں۔۔۔۔ آج کی اِس مسلم رائے عامہ کو دنیا کی مظلوم ترین مخلوق کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو؛ ایک طرف عالمی ومقامی جاہلیت نے جی بھر کر اِس کو گمراہ کیا ہے اور نظریاتی و تہذیبی طور پر اِس کو حقیقتِ اسلام سے برگشتہ کرنے کیلئے بھاری دیوہیکل منصوبے چلائے ہیں تاکہ وہ عالم اسلام میں اپنے گھناؤنے اہداف بروئے کار لائے، جس کیلئے ’رائے عامہ‘ کی اہمیت بہرحال ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔۔ تو دوسری طرف ہم اسلام پسندوں نے اِس کو تھپکیاں اور دلاسے دیے ہیں اور اِس کے ’ناراض‘ نہ ہو جانے کے ڈر سے اِس کو نہایت میٹھی اور کیف آور خوراکیں دینے کی ایک دوسرے سے بڑھ کر کوششیں کی ہیں، خاص طور پر اِس لئے کہ ہمارا مقابلہ یہاں صرف جاہلیت ہی کے ساتھ نہ تھا بلکہ اپنے بھائیوں کے ساتھ دوڑ کی ایک آزمائش بھی ہم کو برابر درپیش رہی، جس کی قیمت بہرحال رائے عامہ ہی کی جیب سے جانا تھی، اور وہ یہ کہ رائے عامہ کو زیادہ سے زیادہ ’مطمئن‘ کرنے کا یہاں ایک کھلا مقابلہ ہو۔ عمومی طور پر، ہم نے اِس کو وہی کچھ سنانے کی کوشش کی جو ہمارے اندازے میں اِس کو بے حد بھلی لگنے والی ہو۔ ’قومی دھارا‘ تو، جوکہ ہر دینی طبقے کا مطمعِ نظر تھا، تھا ہی اِس بلا کا نام کہ ’رائے عامہ‘ کو فیصل اور حَکَم کی حیثیت دیتے ہوئے کون اس کو زیادہ سے زیادہ متاثر کرتا اور ’دوسروں‘ سے توڑ کر اپنے ساتھ لگاتا ہے۔ کم ہی کوئی دینی طبقہ یہاں ایسا پایا گیا ہو گا جو اِس مریض کیلئے کسی ایسے نشتر کا بندوبست کرے جو اگرچہ وقتی طور پر اِس کی چیخیں نکال دے مگر اس کے نتیجے میں وہ ایک دائمی صحت پائے اور پھر اُس ’کام‘ پر کھڑا ہو جو یہاں ایک حقیقی اسلامی تبدیلی کی بنیاد فراہم کرے۔

نتیجہ یہ کہ: بڑی دیر سے اِس کو وہ چارہ گر میسر نہیں جو اِسے اِس کے فائدے کی کوئی کڑوی دوا کھلا کر اِس کے ہاں ’برا‘ پڑنے کا خطر ہ مول لیں۔

’مسلم رائے عامہ‘ گویا ایک امیر باپ کی وہ یتیم اولاد تھی جس کے بھاری اثاثوں کو دیکھ کر اُس کا ہر ’خیرخواہ‘ اُس کا دل لبھانے کی تدبیر کر رہا ہو! ہر شخص ’شیرینی‘ پیش کر کے اُس کا ہاتھ تھام لینے کی فکر میں ہو! اور کوئی ایک بھی رشتہ دار اِس کا روادار نہ ہو کہ وہ اپنے اِن عزیزوں کو اُس بے راہ روی سے بچانے کیلئے جو ہر طرف سے اُن پر حملہ آور ہے، اور اُن کو ’مکتب‘ کا پابند کر رکھنے کیلئے ’سخت گیری‘ کا الزام مول لے!
چنانچہ مسلم ’شارع عام‘ کے خلاف ایک ’انتقامی‘ انداز کی سوچ پھیلانا اور اِس کی بابت کسی ’معاندانہ‘ اپروچ کی پرورش کرنا بھی ایک بے رحم اندازِ فکر ہے۔

نہایت واضح ہو۔۔۔۔ مسلم معاشروں کی ’رائے عامہ‘ کو ہم کبھی بھی ’جاہلیت‘ کا نام نہیں دیتے، اور نہ اسکو ’جاہلیت‘ کا مترادف سمجھتے ہیں۔ یہ فکر یہاں کے تکفیری طائفوں کی ہو تو ہو، ہماری ہرگز نہیں۔ ہم اِس سے ہیں اور یہ ہم سے، البتہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ ’رائے عامہ‘ جاہلیت کے چنگل میں گرفتار ضرور ہے۔ ہم اُن طبقوں کے بھی ہم خیال نہیں جو ’انقلاب‘ لانے اور حکومت حاصل کر لینے کے بعد ہی کہیں جا کر اپنی اِس ’رائے عامہ‘ کو جاہلیت کے چنگل سے آزادی دلوائیں گے (بلکہ اِس طرح کے اور بہت سے امت کے رکے ہوئے کام بھی تب ہی انجام دیں گے!) فی الحال یہ رائے عامہ کو ’کسی نہ کسی طرح‘ ساتھ ملا کر ’حکومت‘ تک پہنچیں گے اور تب اُس دن اِس پر شرک اور توحید، بدعت اور سنت، اور حق اور باطل کا سارا فرق واضح کردیں گے اور بعید نہیں یہ کام کسی ’آرڈیننس‘ سے ہی لے لیا جائے! حق یہ ہے کہ ’رائے عامہ‘ یا اِسکے ایک معتد بہ طبقہ کو راہِ راست پر لانے کا یہ پراجیکٹ آج ہی شروع کرنے کا ہے۔ ”دعوتِ عام“ کا پہلا مرحلہ ہی یہی ہے۔ اِس سے پہلے کوئی چیز ضروری ہے تو صرف یہی کہ آپکے پاس وہ ”بنیادی جمعیت“ تشکیل پا چکی ہو جو بعد ازاں جتنی بھی ’مزاحمت‘ ہو اُس پر قابو پالینے اور جتنی بھی ’عوامی بھرتی‘ ہو اُسکو بڑے آرام سے سنبھال لینے اور تربیت دے لینے کی صلاحیت رکھے۔(8)

البتہ ”دعوتِ عام“ جس چیز کا نام ہے اُس کی ابتدا یہیں سے ہو گی کہ اِن مسلم معاشروں پر ”اسلام“ کی تعریف ہی آخری حد تک واضح کر دی جائے، چاہے وہ اِن کیلئے کتنا ہی بڑا دھچکا ہو۔ ہر وہ انحراف جو ’اسلام‘ میں جگہ پا چکا ہے یا جگہ پانے کیلئے بے چین ہے صاف صاف ”اسلام“ سے بے دخل کر دیا جائے۔۔۔۔ اور یوں اِن معاشروں کے آگے ’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘ صاف رکھ دیا جائے، چاہے معاشرہ اِس امر کو اپنے تصورات کے حق میں کتنا ہی بڑا جھٹکا جانے۔ ’معروفِ عام‘ تصورات کو ملنے والے یہ ’دھچکے‘ اُس ارتعاش کیلئے جو ایک ’کھڑے پانی‘ کے اندر پیدا کر دینا ایک دعوت کے میدان میں اترنے کیلئے ناگزیر ہوتا ہے ایک بنیادی ضرورت کا کام دیں گے۔ لہٰذا یہ ’دھچکے‘ 'shocks' ہرگز ڈرنے کی چیز نہیں۔ ماحول کے اندر اِس عمل کے جو کوئی ابتدائی رد عمل ہوں گے وہ ایک پیشگی معلوم چیز ہونی چاہیے، اور ’پریشانی‘ کا باعث تو یہ ہرگز نہ ہونا چاہیے۔ ’حرکت‘ اور ’دھچکے‘ میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔’تحریک‘ ایک معاشرے کو ہلا دینے کا ہی نام ہے۔ یہ کسی ایسی حرکت سے عبارت نہیں جسے ماحول شدت کے ساتھ محسوس تک نہ کر سکے۔ یہی عمل کا نقطہ آغاز ہے۔ ’جھٹکے‘ ایک نئی دعوت کے ظہور کرنے کیلئے ناگزیر ہوں گے۔ خاصی مدد اِس سلسلہ میں خود جاہلیت اور اُس کے ذرائع ابلاغ ہی آپ کیلئے دستیاب کریں گے اور ’شارعِ عام‘ کو آپ کے خلاف اکسانے کیلئے آپ کے بہت سے ’انتہا پسندانہ‘ نظریات کو عوام تک پہنچائیں گے (گو وہ آپ کی دعوت کے بہت سے نکات کو توڑ مروڑ کر بھی پیش کریں گے، لیکن اگر آپ ایک ”بنیادی جمعیت“ کو ساتھ لئے بغیر میدان میں نہیں اترے ہیں تو یہ معاملہ بھی بہت زیادہ پریشانی کا نہیں۔ ’رائے عامہ‘ کا صالح عنصر بات کی تہہ میں جائے بغیر نہ رہے گا اور اگر ماحول میں پوری ایک جمعیت اِس امر کیلئے مختص ہے اور پیشگی اِس بات کی تربیت پا چکی ہے کہ متلاشیانِ حقیقت پر بات نہایت کھول کر واضح کر دے اور پھر اُن میں سے جس جس کو بات سمجھ آئے اُس کو اپنی اُسی جمعیت میں مدغم کرتی چلی جائے اور تب وہ بھی اُس کے ساتھ مل کر معاشرے پر دعوت کے مضامین واضح کرنے لگیں۔۔ تو لازماً نتیجہ یہ رہے گا کہ آپ کی دعوت کی بابت جاہلیت کی پھیلائی ہوئی گمراہ کن ہیجان خیزی رفتہ رفتہ آپ ہی کے حق میں بیٹھتی چلی جائے۔ یوں وہ آپ کی ”توسیعِ جمعیت“ ہی کے حق میں مددگار ثابت ہوگی)۔ شرط یہ ہے کہ ایک اولو العزم جمعیت، جو علم اور بصیرت سے بھی ایک حظِ وافر رکھتی ہو، ابتداءً ماحول میں پائی جائے۔

٭٭٭٭٭

البتہ ”اسلام“ کا یہ حوالہ درست کر دیے بغیر آگے بڑھنا اپنے آپ کو جاہلیت کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھنے کے مترادف ہو گا۔ تب جاہلیت یہاں آپ کی ’رائے عامہ‘ کے اندر بولے گی اور ’رائے عامہ‘ خود آپ کے اندر۔۔ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں! آپ کے پاس ’مجبوریوں‘ کی ایک طویل فہرست ہوگی جن کا آپ کے ہر درد مند کو ادراک کرنا ہوگا! زیادہ سے زیادہ، آپ کے ساتھ حسنِ ظن رکھا جا سکے گا کہ آپ کا بولنا کس ’مجبوری‘ کے تحت تھا اور آپ کا خاموش رہنا کس ’حکمت‘ کے تحت! تب معاشروں کو ’قیادت‘ فراہم کرنے کا مطلب یہی ہو گا کہ ہمیشہ یہاں وہ ’خالی جگہیں‘ تلاش کی جائیں جنہیں کوئی پر نہیں کر رہا!!! حالات ہم پر اثر انداز ہوں گے البتہ ہم حالات پر اثر انداز ہوں، بڑی حد تک یہ ایک خواب ہی رہے گا۔۔۔۔ مختصر یہ کہ ’معاشرے‘ ہمیں چلائیں گے اور ’معاشرے‘ ہی ہماری بابت فیصلے کریں گے خواہ کچھ بھی کریں، ہم نہ ’معاشروں‘ کو چلائیں گے اور نہ اِن کا کوئی فیصلہ کرنا ہمارے بس کی بات!!!

جبکہ ’کچھ ہاتھ‘ (عالمی و مقامی جاہلیت) پوری آزادی کے ساتھ اِن معاشروں کو چلا رہے ہوں گے، حتیٰ کہ اُس وقت بھی جب یہ ’معاشرے‘ ہماری بابت کوئی فیصلہ کریں اور جب یہ ہم اسلام پسندوں کے مابین کسی ایک کو دوسرے پر ’ترجیح‘ دیں اور کسی ایک کے اسلام کو دوسرے کی نسبت ’معتدل تر‘ جانیں!!!

جاہلیت ایسا تو کبھی نہ کرے گی کہ وہ مسلم معاشروں کو آ کر کہے کہ خدا اور رسول کے ساتھ صاف صاف کفر کر لو۔ وہ اتنی نادان بہر حال نہیں۔ خاص طور پر جبکہ اِس کی ضرورت بھی نہیں! وہ آپکے معاشروں کو ’اسلام‘ ہی کے کچھ ’ورژن‘ دے گی۔ وہ آپ کے یہاں ’اسلام‘ ہی کے کچھ ماڈل متعارف کرائے گی۔ پھر ان کے اندر آئے روز اپنی مرضی کی ترمیمات کرے گی۔ تھوڑے تھوڑے وقفے بعد وہ ایک ’معتدل مسلمان‘ کی ڈیفی نیشن جاری کرے گی ۔ اب یا تو آپ کا معاشرہ ”اسلام“ کی ایک متعین تعریف جانتا ہے اور ’غیر اسلام‘ کو ”اسلام“ سے بے دخل کر دینے کے منہج سے آگاہ ہے۔۔۔۔ اور یا پھر وہ اِس منہج پر ہے کہ جس چیز پر بھی ’اسلام‘ کے ایک ورژن کے طور پر کچھ وقت گزر گیا ہے اور ’اسلام‘ کے جس ورژن پر بھی معاشرے کا ایک طبقہ پایا جانے لگا ہے اس کو ’غیر اسلام‘ کہہ دینا ’بے لحاظی‘ اور ایک ’غیر سماجی رویہ‘ کے طور پر دیکھے۔

اول الذکر منہج، جوکہ ایک صحیح منہج ہے، کا تقاضا ہو گا کہ ایک چیز پر چاہے جتنا بھی وقت گزر گیا ہے اگر اس پر ”اسلام“ کی تعریف صادق نہیں آتی (جوکہ کتاب و سنت اور قرونِ سلف سے لی جائے گی) تو وہ رد ٹھہرے۔ تب ’اسلام‘ کے صرف وہی ماڈل رَد نہ ہوں گے جن کی عمر چند سال یا چند عشرے ہے، بلکہ ’اسلام‘ کے نام پر کوئی انحراف اگر صدیوں پرانا ہے تو بھی اُس کو باطل کہہ ڈالنے کی ہمت درکار ہو گی۔ (یہ تو آپ کر نہیں سکتے کہ کوئی ایسی ’مدت‘ متعین کر دیں جس سے پہلے کے انحرافات کو جو کہ ’اسلام‘ کے نام پر ہوئے نہ چھیڑا جائے گا بلکہ ’اسلام‘ کے نام پر ان انحرافات کو ammunity بھی حاصل ہوگی!) لا محالہ آپ کو وہ جرأت اور بے لحاظی درکار ہو گی کہ ایک غلط کو آپ غلط ہی کہیں خواہ وہ ایک سال پرانا ہو یا ہزار سال۔ اِس صورت میں آپ اسلام کے محافظ ہوں گے۔ خدا کے دین کے پاسباں ہوں گے۔ اور اسلام میں لگائے جانے والے ہر نقب کا توڑ کر نے والے اور ’اسلام‘ کے نام پر کی جانے والی ہر واردات کے راستے کی ایک ناقابل تسخیر رکاوٹ ہوں گے۔ معاشرے کا وہ طبقہ جو آپ سے عین اِسی منہج پر تربیت پا چکا ہے اسلام کی سپاہ گنا جائے گا اور اُس پر جاہلیت کا کوئی افسوں نہ چل پائے گا۔اور چونکہ وہ جاہلیت کے ہاتھ آنے کا نہیں لہٰذا وہ جاہلیت کے ساتھ آپ کی اِس جنگ میں آپ کا ایک نہایت قابل اعتماد دستہ ہے۔ اور اب آپ کو ایسے ہی دستوں کی تعداد بڑھاتے جانا ہے۔

البتہ اگر ثانی الذکر منہج ہی آپ کا اختیار کردہ ہے۔۔۔۔ یعنی جس چیز پر بھی ’اسلام‘ کے ایک ورژن کے طور پر کچھ وقت گزر جائے اور ’اسلام‘ کے جس ورژن پر بھی معاشرے کا ایک طبقہ پایا جانے لگے اسکو ’غیر اسلام‘ کہہ دینا اور اُسکو ”اسلام“ سے صاف بے دخل ٹھہرا دینا ’غیر سماجی رویہ‘ اور ’ناقابل عمل‘ گنا جائے، اور جوکہ ایک غلط منہج ہے۔۔۔۔ تو پھر سب فیصلے آپ سے آپ جاہلیت کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔ تب زیادہ سے زیادہ، آپ جاہلیت کو ’تجویز‘ دے سکتے ہیں کہ ایک کام جسے وہ کرنے جارہی ہے نہ کرے۔ البتہ جب ایک تصرف اُس نے کر لیا اور ’اسلام‘ کے کسی ورژن یا یا پیکیج کے طور پر وہ کچھ دیر چل لیا اور معاشرے کے کسی ایک طبقے نے اُسکو اپنا بھی لیا تو اُس کو وہ ammunity آپ سے آپ حاصل ہو گئی جو اِس منہج کی رو سے اصولاً آپ تسلیم کر چکے۔ انجام کار۔۔۔۔ آپ پھر اسلام کی خدمت بھی اُسی دائرے میں رہ کر کر سکتے ہیں جو جاہلیت آپکے عمل کے لئے متعین کر دے۔ وقفے وقفے سے اِس دائرے کی از سر نو حد بندی کر دینا بھی تب جاہلیت ہی کا کارِ منصبی ہے!

اول الذکر منہج میں آگے بڑھتے بڑھتے وہ پوائنٹ آتا ہے جہاں معاشرے کو اپنی پشت پہ لا کر آپ جاہلیت کی بابت اپنا فیصلہ کرتے ہیں۔۔۔۔ جبکہ ثانی الذکر منہج میں ذرا آگے چل کر وہ مقام آتا ہے کہ جاہلیت معاشرے کی وساطت آپکا فیصلہ کرتی ہے!

٭٭٭٭٭

پس یہ بات تو اپنی جگہ برحق ہے کہ مسلم معاشروں کا زوال اور انحطاط اُن کے اسلام پر پایا جانے کے باعث نہیں بلکہ اسلام سے اُن کی دوری کے باعث ہوا ہے۔ البتہ جب ہم یہ بات کہتے ہیں اُس وقت ہمارے تحریکی نوجوانوں پر جو چیز سب سے زیادہ واضح رہنی چاہیے اور تحریکی عمل میں جس چیز کی جانب سب سے بڑھ کر ان کی توجہ رہنی چاہیے وہ یہ کہ اِس جملے میں سب سے اہم لفظ ”لفظِ اسلام“ ہی ہے؛ جس کا ”مفہوم“ واضح نہ ہونے کے باعث ایک ہی لفظ بولنے والوں کے مابین کسی وقت ایک بڑا خلط مبحث جنم لے لیتا ہے بلکہ ’کمیونی کیشن‘ کا یہ گیپ مسلسل بڑھ رہا ہے۔۔۔۔

’اسلام‘ کے نام پر جو کچھ پایا گیا اُسے ”اسلام“ کے طور پر قبول کر لینے کے بعد واقعتا ہماری کوئی جہت نہیں رہتی۔ ہم ایک ایسے بیابان میں ہوتے ہیں جہاں چلنا اور نہ چلنا ایک برابر ہو۔ نہ ہمیں یہ معلوم رہتا ہے کہ ہم پر ہماری تاریخ کا یہ بدترین وقت آیا تو اِس کا سبب کیا تھا؟ اور نہ ہمیں یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اِس دشت ناپیداکنار سے نکلنا کس طرف کو ہے؟

ہم پر اسلام سے دور ہونے کے باعث یہ وقت آیا، درست ہے۔۔ مگر کونسے اسلام سے دور ہونے کے باعث؟ کیا وہی ’اسلام‘ جس سے شرک بھی خارج نہیں کیا جاسکتا، جس کا رافضیت بھی باقاعدہ ایک ’مکتبہ فکر‘ ہے اور عبادتِ اولیاءاور قبر پرستی بھی اور وحدۃ الوجود اور حلول و اتحاد کی ضربیں بھی، اور جس سے فکرِ ارجاءاور جہمی اعتزال کو بھی بے دخل نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اور جس کی سند طواغیت کو بھی باقاعدہ طور پر حاصل رہتی ہے، غیر ا للہ کی شرع چلانے والے ایوانوں کو بھی، سیکولر ایجنڈا کے حامل طبقوں کو بھی، اور یہود ونصاریٰ کے ٹینکوں اور طیاروں کو اسلام کے شہروں پر چڑھا لانے والے ملت فروشوں کو بھی، اور یہاں کے الہڑ بچوں اور چڑھتی جوانیوں کو تہذیبی الحاد اور اخلاقی غلاظتوں کی راہ پر لگانے والے ’روشن خیال‘ طبقوں کو بھی؟؟؟!! کیا وہی ’اسلام‘ جس میں ہر کسی کو اپنے اپنے ’اعتقاد‘ اور اپنے اپنے ’وتیرہ‘ پر چھوڑ رکھنا ضروری ہے خواہ اُس کا وہ ’اعتقاد‘ اور اس کا وہ ’وتیرہ‘ صحابہ و تابعین کے طریقِ بندگی کے ساتھ کتنا ہی بنیادی تصادم ہو اور خواہ کسی کے اعتقاد اور عمل سے ”عقیدۂ اسلام“ کی چولیں ہی ہل کر کیوں نہ رہ جاتی ہوں؟؟؟!! کیا ایسے ’اسلام‘ سے ’دور‘ ہونے کے باعث ہم پر یہ وقت آیا یا اس پر ’پائے جانے‘ کے باعث؟؟؟!!

اور پھر ابھی یہ سوال ختم کب ہوا ہے؟ سوال تو دراصل اِس ’دشتِ تیہ‘ کو پار کرنے کا ہے۔ اسلام کی رسی تھام کر ہی اِس حالت سے جس میں ہم آج گرفتار ہیں رہائی پائی جاسکتی ہے۔ مگر کونسے اسلام کی؟کیا وہ ’اسلام‘ جس میں جو جو کچھ ڈال دیں وہ ڈلتا جائے ؟؟!!اور جس کی شرح و تفسیر کیلئے آج ہزاروں چینل کھلے ہیں اور جس پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو کثرت کے ساتھ دستیاب ہیں؟ !! کیا وہی ’اسلام‘ جس سے کسی باطل عقیدہ یا باطل فکر یا باطل تہذیب یا باطل نظام کو بے دخل ٹھہرانے سے پہلے آدمی کو خود اپنے ایمان اور اپنی عاقبت کی فکر کرا دی جاتی ہے؟؟؟!! کیا وہی ’اسلام‘ جو ’سب‘ کا ہے؛ جس پر باطل کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ”حق“ کا؟؟؟!! اور جس میں معاشرے کے اندر ہر کسی کا ’کوٹہ‘ مقرر ہے؟؟؟!!

یہ تو چوں چوں کا مربہ ہے، ”اسلام“ کب ہے؟؟؟!!

کیا یہ کوئی چھوٹا بحران ہے جہاں لفظِ ”اسلام“ ہی مبہم ہو کر رہ جائے؟؟؟ اور کیا یہ کوئی چھوٹا ابہام ہے؟؟؟ ہماری خاموشی نے یہ جو نقصان کیا ہے کیا یہ کوئی معمولی نقصان ہے؟؟؟ یہ اِسی ابہام ہی کے باعث تو ہے کہ جب ہم ”مداوا“ کی صدا بلند کریں تو سب ’روگ‘ بھی اس کے ساتھ ہی آپ سے آپ چلے آئیں!!! تب ہمارا نہ یہ کہنا کوئی مفید معنیٰ دے پائے کہ ”ہم پر یہ برے دن ”اسلام“ سے دور ہونے کے باعث آئے“ اور نہ ہمارا یہ کہنا کسی مرض کا علاج ہو کہ ”اِس مصیبتِ کبریٰ سے نکلنے کا واحد راستہ ”اسلام“ کا سہارا تھام لینا ہے“۔ آپ کی ہر دو بات سے کسی کو کیا اختلاف؟ ہر کوئی یہی بات تو کہتا ہے! یہاں مبہم صرف ایک ہی لفظ ہے اور وہ ”اسلام“ ہے!!!

اِس بحران سے باہر آنے کا راستہ ایک ہی تھا، جو ہماری توجہ نہ لے سکا؛ اور وہ یہ کہ لوگوں پر ”اسلام“ ہی سے اپنی مراد اور دراصل اللہ اور رسول کی مراد واضح کر دی جاتی اور جوکہ ”سلف کا اسلام“ ہے۔ یہ بھی آدھا کام ہوتا؛ لوگوں پر اُن چیزوں کا ”اسلام“ نہ ہونا بھی نہایت سپاٹ لہجے میں واضح کر دیا جاتا جنہیں غلطی سے ”اسلام“ سمجھ لیا گیا اور جس کے باعث ہمیں یہ دن دیکھنا پڑے۔ آمنے سامنے کے یہ دونوں صفحات ہی لوگوں کے سامنے رکھ دیے جاتے:

ایک ”اسلام“ وہ ہے جس سے ”دوری“ کے باعث مسلمانوں پر یہ زوال آیا، اور ایک ’اسلام‘ وہ جس پر ’پایا جانے‘ کے باعث اِن پر یہ زوال آیا!

اتنا بڑا فرق بھلا کیونکر نظر اَنداز کر دینے کا تھا؟؟؟!!

سارا فرق اِسی ایک نقطے میں تو روپوش تھا!!!!!

آپ اندازہ کر سکتے ہیں ان دونوں کے مابین کیسا مہیب فاصلہ ہے جس سے صرفِ نظر کر کے ہم اپنا تحریکی لائحۂ عمل مرتب کر لیتے رہے ہیں!

ان دونوں کے نتائج میں کیسا بعد المشرقین ہے جس سے آنکھیں بند کر کے ہم ’پھر سے جادہ پیما‘ ہو جانے کے منصوبے باندھتے رہے ہیں اور اب بھی شاید ایسے ہی کچھ منصوبوں کو لے کر چلنے پر مصر ہیں، جبکہ اِن دونوں کے مابین واقعتا ایک بعد المشرقین حائل ہے۔۔۔۔:

”ایک“ کا لازمی نتیجہ مسلم معاشروں کی سربلندی و سرخروئی ہے، کہ اُس کے مراجع کتاب وسنت اور سلفِ امت ہیں اور باقی ہر کسی کو اِس کے اِن ابدی مراجع کے آگے آخری حد تک خاموش ہو جانا ہے۔۔ جبکہ ’دوسرے‘ کا طبعی نتیجہ مسلم معاشروں کا زوال، پسپائی اور زبوں حالی ہے، کہ اُس کے مآخذ خالص اسلام کے باقیات کے ساتھ ساتھ ’عجم کی بدعات‘ اورکچھ ’تاریخی‘ و ’سیاسی‘ و ’معاشرتی‘ عوامل ہیں جن سے وابستگی کے باعث ’اسلام‘ یہاں پائے جانے والے مختلف طبقوں اور فرقوں کے مابین ایک ’سماجی رواداری‘ a social compromise کا نام بن کر رہ گیا ہے جس کے اثبات کیلئے یا جس سے کسی باطل کو بے دخل کرنے کیلئے کتاب وسنت اور سلفِ امت کے مراجع قریب قریب غیر متعلقہ irrelevant ہو جاتے ہیں اور جس کے مآخذ (بدعاتِ عجم + تاریخی وسیاسی و معاشرتی عوامل) اپنے اوپر گزرنے والی مسلسل تبدیلیوں کے باعث اِس کی صورت اور ہیئت برابر تبدیل کر رہے ہیں، اور نہ جانے ابھی اِس کو اور کیا سے کیا بنادینے والے ہیں۔

وہ ’اسلام‘ جس سے ہمارے یہ مسلم معاشرے آج واقف ہیں، وہ ’اسلام‘ جو ہماری ’رائے عامہ‘ کے ہاں حوالہ ٹھہرتا ہے اور اُس کے سوا وہ بے چاری کسی اسلام کو پہچان کر دینے کی سکت ہی نہیں رکھتی، وہ ’اسلام‘ جو درحقیقت یہاں پائے جانے والے کچھ خود رو تصورات کا ایک مجموعہ ہے اور جس کو پہچاننے سے ہمارے اصیل اسلامی مصادر ہی شدید طور پر اِبا کرتے ہیں، اور جس کے اندر پائے جانے والے کچھ نہایت بڑے بڑے جھول اور نہایت بڑے بڑے نقب ہمارے دشمن کو ہمارے قلعے زیر کر لینے کیلئے ایک نہایت زبردست پوزیشن فراہم کرتے ہیں اور بڑی دیر سے اُس کو یہ پوزیشن فراہم کرتے آئے ہیں۔۔۔۔ حضرات! اُس ’اسلام‘ پر پائے جانے کے باعث ہی تو ہم ’ثریا سے زمیں پر‘ دے مارے گئے تھے! کیا یہ بات مضحکہ خیز نہ ہو گی کہ اُسی کا سہارا لے کر ہم پھر ’زمیں تا ثریا‘ جا پہنچنے کی تیاری کریں؟!!

جو چیز ہمارے لئے ”سزا“ کا باعث بنی تھی، اور جوکہ سمجھ داروں کیلئے نہایت کافی بات ہونی چاہیے تھی، مقامِ افسوس یہ کہ ہم اُسی میں اپنے لئے ’انعام‘ تلاش کرنے چل پڑے!!!

نصرت و سربلندی کا وعدہ اُس ”اسلام“ کے ساتھ ہے جس کو ہمارے اصیل اسلامی مصادر پہچان کر دیں، اور جوکہ آج اگر اِن معاشروں پر صاف صاف واضح کیا جانے لگے اور بلا کم و کاست ان کے آگے بیان ہو تو بے چارے یہ ’مسلم معاشرے‘ دم بخود رہ جائیں۔۔۔۔ بلکہ بعید نہیں اُس کو سن کر ہمارے کئی داعی حلقے ہی اپنی حیرت پر قابو نہ رکھ پائیں!!! نصرت و سربلندی کا وعدہ اُسی اسلام کے ساتھ ہے جو آسمان سے اترا ہے اور جوکہ ہمارے یہاں اب غریب الدیار ہو گیا ہے۔۔۔۔ ہمیں خیال ہو چلا تھا ہم اُس کے بغیر بھی سرخ رُو ہو سکتے ہیں!!!

نہ جانے کیوں ہمیں غلط فہمی ہو گئی تھی کہ خالص اسلام کو گوشۂ غربت میں چھوڑ کر بھی اپنی غربت کے دن ختم کرلینے کا کوئی کامیاب نسخہ ہمیں ہاتھ لگ سکتا ہے!

٭٭٭٭٭

ہمارے اِن معاشروں کا خالص اسلام پر لے آیا جانا بے شک ابھی دور کی بات نظر آتی ہے، تاہم اِس عمل کا پہلا زینہ یہی ہے کہ یہاں ایک با عزیمت جمعیت پائی جائے جو ایک پر تاثیر انداز میں خالص اسلام کو اِن معاشروں کے سامنے رکھ ضرور دے۔ یقینا یہ اپنی سرشت میں ایک ایسی چیز ہے جس کو ایک شدید مزاحمت کا سامنا کرنا ہی ہوگا اور در اصل یہ مزاحمت ہی اس کے اندر ایک زور اور ایک روح ڈال دینے کا اصل راز ہوتا ہے اور اسی سے وہ ہلچل بھی پیدا ہو جاتی ہے جو ایک معاشرتی تبدیلی کیلئے حجرِ اساس کا کام دے، تاہم بے شمار عوامل اِس وقت ایسے پائے جانے لگے ہیں (جن کا ذکر کسی اور وقت کیا جا سکتا ہے) جو اِس جمعیت کے کام کو ایک ناقابل اندازہ حد تک مختصر مدت میں اور ناقابل یقین کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔

پس ”اسلام کو اِن معاشروں کی قیادت دلوا دینا“ بے شک ابھی کچھ وقت لے، مگر ”اسلام کی بابت اِن معاشروں کا حوالہ درست کر دینا“، یعنی اِس بات کو ممکن بنانا کہ معاشروں کو اسلامی راہنمائی دینے کیلئے میدان میں اترنے والی قوتیں جب لفظِ ”اسلام“ بولیں تو سننے والے ”اسلام“ سے وہی مراد لیں جوکہ در اَصل ”اسلام“ سے مراد ہے نہ کہ وہ خود رو اَشیاءجو ’اسلام‘ کے نام پر ہر طرف پائی جانے لگی ہیں اور یہاں کی ’شارع عام‘ اُنہیں ہی ’اسلام‘ کے نام پر جانتی ہے۔۔ ”اسلام“ کی بابت اِن معاشروں کا یہ ”حوالہ درست کرا دیا جانا“ فی الفور ضروری ہے۔ اور کچھ نہیں ہوتا کم از کم یہ ’کومیو نی کیشن‘ درست ہو جانا بے حد ضروری ہے؛ ”اسلام“ کا لفظ بولیں تو اِس سے مراد ”اسلام“ ہی ہو، اور وہ سب باطل فرقے، سب باطل افکار، سب باطل نظام، سب باطل اعمال اور سب باطل رواج و رجحانات اس سے خود بخود بے دخل سمجھے جائیں جنہیں فی الوقت یہاں کی ’رائے عامہ‘ کی نظر میں ’اسلام‘ کی سند حاصل ہے (اور یہی ’رائے عامہ‘ اصل دلدل ہے)۔ کم از کم اصلاح کیلئے میدان میں اترنے والی اسلامی قوتوں کے منہ سے بولے جانے والے لفظِ ”اسلام“ سے معاشرے کے ہر فرد کو یہی مراد ملے اور ہر خاص و عام پر آخری حد تک واضح ہو کہ ہم مسلم داعیوں کی لفظِ ”اسلام“ سے مراد یہی ہے، چاہے اُس خاص و عام کو ہماری یہ مراد کتنی ہی بری یا کتنی ہی اچھی لگے۔

”اسلام“ کا یہ حوالہ معاشرے میں درست ہو جائے تو سمجھئے ہم نے درست سمت میں پہلا قدم یقینا اٹھا لیا ہے۔ البتہ یہ ایک اتنا بڑا قدم ہو گا، خصوصا اندریں حالات کہ جہاں بہت سے عظیم الشان عوامل اس کو کامیابی دلوانے کیلئے عرصے سے بے چین ہیں، اور ایک ایسی بنیادی پیش رفت ہو گی کہ ہمارے عمل کا دھارا نہایت زوردار انداز میں بس یہیں سے تشکیل پا جائے گا اور تب _ ان شاءاللہ _ہماری پیش قدمی کیلئے زمین آگے بڑھ کر ہمیں راستہ دے گی۔۔۔۔ وما ذٰلک علی اللہ بعزیز

ایک نئی قسم کی ’رائے عامہ‘ کو وجود میں لانے کی اِس کے سوا کوئی صورت نہیں۔

ہرگز ضروری نہیں کہ ’رائے عامہ‘ کی پوری زمین ہی آپ کو حاصل ہو جائے۔ جاہلیت جب تک یہاں حکمران ہے اِس کی توقع رکھنا ویسے ہی عبث ہے۔ یہاں آپ کو ’رائے عامہ‘ کی اِس سرزمین کے کچھ صالح زرخیز خطے بھی دستیاب ہو نے لگیں جو جاہلیت کے ساتھ آپ کی اِس جنگ میں آپ کو ایک مؤثر اور اسٹرٹیجک پوزیشن دلوا سکیں تو حق اور باطل کی ایک حقیقی کشمکش کو کھڑا کر دینے کیلئے بلکہ اسے سر بام پہنچانے کیلئے یہ بھی بہت کافی ہے۔ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّهِ(9) کا اطلاق محض میدانِ قتال ہی میں نہیں ہوتا، ایک نظریاتی جنگ (جس کو ہم اپنی اصطلاح میں ”عقیدہ کی جنگ“ کہتے ہیں) پر بھی عین یہی بات صادق آتی ہے۔

٭٭٭٭٭

چند وضاحتیں:

- یقینا یہاں ایک ایسا گوشہ نشین طبقہ پایا جاتا ہے جو اپنے معاشرے میں پائے جانے والے کثیر گمراہ فرقوں اور منحرف طبقوں سے برأت کر کے رکھتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات اِن کی برأت و بیزاری یہاں کے اُن اہلسنت طبقوں، جماعتوں اور تحریکوں تک پہنچ جاتی ہے جن کو اللہ تعالی نے شرک سے بہرحال محفوظ رکھا ہے البتہ ان (اہلسنت طبقوں، جماعتوں اور تحریکوں) میں کچھ سنگین غلطیاں ہوسکتی ہیں (جن میں سے کچھ کی نشاندہی ہمارے اِس مضمون میں بھی ہوئی ہے)۔بلکہ بسا اوقات اِن کی برأت اور مخاصمت وقت کے گمراہ فرقوں اور منحرف طبقوں اور الحادی رجحانات سے بھی بڑھ کر وقت کے اِن اہلسنت طبقوں، جماعتوں اور تحریکوں سے ہی ہو جاتی ہے۔

ہمارے خیال میں یہ طبقہ اُس بنیادی اسلامی عمل کیلئے، جس کا ہمارے اِس مضمون میں بیان ہوا، بڑی حد تک غیر متعلقہ ہے۔ ایک تو اِس کی گوشہ نشینی، پسماندگی اور سادہ لوحی کے باعث کہ یہ معاشرے پر اثر انداز ہونے کا اسلوب نہیں جانتا اور معاشرتی رویوں کی تشکیل پر بھی ہرگز کوئی قدرت نہیں رکھتا (اِس سلسلہ میں ہماری کتاب ”مسلم ہستی کا احیاء“ کی فصل ”سماجی جہتیں۔۔ ”سلفیت“ ہر پہلو سے قدیم ہونا نہیں!“ ایک نظر دیکھ لی جانا مفید ہو سکتا ہے)۔ اور دوسرا، وقت کے اہلسنت طبقوں کے ساتھ اِس کا ایک شدت آمیز رویہ اختیار کر لینے کے باعث۔ جبکہ ہم تو ’مسلم رائے عامہ ‘ سے برأت و بیزاری کو درست نہیں سمجھتے جو کہ بہت بڑی حد تک آج جاہلیت کے چنگل میں گرفتار ہے، کجا یہ کہ ہم وقت کے اِن سنی طبقوں، جماعتوں اور تحریکوں ہی سے بری و بیزار ہونے لگیں جن میں بہرحال بہت بڑی خیر ہے اور ایک بہت بڑی خیر اِن میں ابھی مزید پیدا کی جا سکتی ہے بشرطیکہ اسلوب ’اقامتِ حجت‘ کا نہ ہو بلکہ اسلوب یہ ہو کہ ”ہر حال میں ہم اِن سے ہیں اور یہ ہم سے“۔

- اِس مضمون میں متعدد مقامات پر ”بعض انحرافات اور ضلالتوں کو اسلام سے بے دخل ٹھہرانے“ کی بات کی گئی ہے۔ واضح رہے، اِس سے مراد ضروری نہیں کہ ایسے سب انحرافات کے حامل افراد کو ’دین سے خارج‘ سمجھا جائے۔

علمائے سلف نے باوجود اِس کے کہ خوارج، روافض، قدریہ و معتزلہ وغیرہ ایسے منحرف طائفوں کے ساتھ ایک شدید ترین نظریاتی جنگ کھڑی کر رکھی تھی۔۔ علمائے سلف کی ایک کثیر تعداد نے ان لوگوں کو ’دین سے خارج‘ کبھی نہیں کہا (سوائے ان میں سے کسی ایسے شخص کے جو اپنے کفر اور ضلالت میں ڈھٹائی کی ایک خاص حد کو پہنچ گیا ہو، تب ضرور علمائے سلف و ائمۂ سنت نے ایسے کسی خاص شخص کو متعین کرکے ”دین اسلام سے خارج“ بھی قرار دیا)۔ البتہ ان فرقوں کے باطل عقائد و نظریات کو ”دین سے خارج“ ضرور کہا اور اگر وہ عقائد اور نظریات کفر بنتے تھے تو انہیں ”کفر“ کہنے سے بھی دریغ نہ کیا۔

ہماری مراد بھی اِن مقامات پر یہی ہوتی ہے کہ اِن گمراہیوں کو دین اسلام کے کچھ ’معتبر مکتبہ ہائے فکر‘ نہ مانا جائے بلکہ اِن طبقوں کا ذکر ’گمراہیوں‘ اور ’دین سے منحرف طبقوں‘ کے طور پر ہی کیا جائے (اِس قدر صراحت اور جرأت یہاں بہرحال درکار ہو گی)۔ اسلامی معاشرے کے اندر اہلِ انحراف اور اہلِ زیغ و ضلال طبقوں سے جس طرح برأت اور بیزاری کر کے رکھی جاتی ہے ویسی برأت اور بیزاری وقت کے اِن گمراہ طبقوں اور شرکیہ و الحادی رجحانات کے حامل حلقوں سے البتہ ضرور کر کے رکھی جائے۔ اِن کے ساتھ ایک کھلی کھلی نظریاتی جنگ اور ایک عقائدی مڈھ بھیڑ encounterبھی واجب ہو گی۔ اِن کے ’راہنماؤں‘ کو ’امت کے بڑوں‘ کے طور پر پیش کرنا تو البتہ ایک ناقابل اندازہ جرم ہو گا۔

- یہ مضمون یہاں ایک حقیقی بنیادی اسلامی عمل کو کھڑا کرنے سے بحث کرتا ہے۔ البتہ یہاں چلنے والے وہ پروگرام یا وہ جماعتیں جو دین کے کچھ جزوی مسائل یا کچھ وقتی وہنگامی نوعیت کے فرائض انجام دینے کیلئے عمل میں لائی گئی ہیں، انکا معاملہ الگ ہے۔ یقینا اسلام کے کچھ جزئیات پر کام کرنا غلط نہیں (اِسکی کچھ تفصیل کیلئے دیکھئے ہمارے گزشتہ شمارہ میں دیے گئے مضمون ”توحیدِ عبادت بطور اساسِ دعوت ۔۔۔۔“ کا اختتامی حصہ) ایسی جماعتوں پر ظاہر ہے ہمارے اِس مضمون کی کئی ایک باتوں کا اطلاق نہیں ہو گا۔

مثال کے طور پر ایک جماعت جو اسلام کے کسی خطے پر قابض دشمن کے ساتھ باہر کسی محاذ پر نبرد آزما ہے (یعنی قتالِ دفع)، اس کیلئے ہرگز ضروری نہیں کہ یہاں _ اندرونی سطح پر_ معاشرے کے گمراہ طبقوں اور منحرف قوتوں کے خلاف ایک ’زور دار محاذ‘ تشکیل دینے میں بھی وہی مصروف ہو اور یہاں کی ’رائے عامہ‘ کے ساتھ ٹکر بھی وہی لے کر دکھائے۔ باطل کے خلاف امت کو صف آرا کرنا۔۔ اِس فرض سے عہد برآ ہونے کا تقاضا یہاں کے اُن طبقوں سے ہو گا جو معاشرے کیلئے اسلام کا ایک جامع پروگرام رکھیں۔ کسی بیرونی محاذ پر پورا اترنا، اور وہ بھی کسی ہنگامی کیفیت میں، البتہ ایک خاص صورت حال ہے اور اس کے اپنے کچھ تقاضے ہو سکتے ہیں۔ مقامی سطح پر بہت سے مصالح بھی معطل نہیں ٹھہرائے جاسکتے۔ ’ضرورات‘ کے اِس باب میں فقہی بنیادوں پر بہت کچھ کہا جانے کی بہر حال گنجائش ہے۔

تاہم یہ جماعتیں یا یہ پروگرام جن کو اِس معاملہ میں اِس وجہ سے کوئی چھوٹ مل سکتی ہے کہ یہ کچھ اہم جزئیات کی انجام دہی میں مصروف ہیں، اگر اپنے آپ کو دین کے ایک جامع اور بنیادی پروگرام ہی کی حیثیت میں پیش کرنے لگیں تو تب ضرور یہ ایک ناقابل قبول بات ہو گی۔
 

(1) ایک توحید فہم شخص کیلئے طواغیت کی ’قرآن خوانی‘ یوں تو ہمیشہ ہی باعثِ تعجب و موجبِ اذیت رہتی ہے: ایک حاکم بغیر ما انزل اللہ کی رسمِ تاج پوشی (تقریب حلف برداری) کے موقعہ پر قریب قریب ہمیشہ ہی إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا  (النساء: 58)کی تلاوت ہوتی ہے! تاہم اسکی محض ایک مثال کے طور پر ’پاک ٹی وی‘ پر دیکھاگیا ایک منظر جوکہ چشمِ عبرت سے دیکھنے والوں کی یادداشت پر ثبت سا ہو کر رہ گیا تھا: نوے کی دہائی میں پی پی پی کی شریک چیئر پرسن جب یہاں کے ایوانِ اقتدار میں اپنا ایک خاص کفریہ ایجنڈا لے کر وارد ہوئی تو مسلم ممالک کی ’خواتین کھیلوں‘ کی داغ بیل ڈالی، جس میں ’جمہوری اسلامی ایران‘ کا بھی ایک خصوصی کردار بتایا گیا۔ کھیلوں کی افتتاحی تقریب ٹی وی سکرینوں پر مردوں کیلئے بھی براہِ راست ٹیلی کاسٹ کی جا رہی تھی اور خاصی دنیا عالمِ اسلام کی جوان بہو بیٹیوں کا یہ ’ڈس پلے‘ پوری دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔ کئی ایک مسلم ملکوں کی بیٹیاں خصوصاً وسط ایشیائی و شمال افریقی ممالک کی ٹیمیں نیکروں اور بے آستین بنیانوں میں کھڑی تھیں، گو دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی ’مرد ناظرین‘ کے سامنے کسی شریعت کی پابند ہو کر نہیں کھڑی تھیں! جوان صحت مند نسوانہ باز ؤں، سینوں اور رانوں کی اِس بے حیا نمائش میں کہ جہاں ’کیمرہ‘ ملک وار قطاروں میں کھڑی کھلاڑیوں پر بار بار گھوم رہا تھا اور درمیان میں صرف ’عالمِ اسلام کی خاتون وزیرِ اعظم‘ کی فاتحانہ مسکراہٹ پر مرکوز ہونے کیلئے کچھ وقفہ کرتا تھا.... ’کارروائی کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے‘ کر دیا گیا!!! یہ ایک خاتون قاریہ تھی جو عبد الباسط کی طرز میں قرآن پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ جس قدر ’تلاوتِ کلامِ پاک‘ کا اعلان اِس ’نمائشِ نسواں‘ کے موقعہ پر باعثِ تعجب تھا، اتنا ہی تجسس قرآن کی کچھ سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو اِس بابت ہونے لگا کہ اِس ’منفرد موقعہ‘ پر کونسی آیات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ خاتون نے صرف ایک ہی آیت اور اسکے انگریزی ترجمہ پر اکتفا کیا اور اس سے اپنے کسی جاہلانہ مفہوم کی جانب ایک معنی خیز اشارہ کے طور پر اسی ایک آیت کو خوش الحانی سے تین بار دہرایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ  (المائدۃ: 105) ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کی فکر کرو۔ تم اگر راہِ راست پر ہو تو جو شخص گمراہ رہے تو اِس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ اللہ ہی کے پاس تم سب کو لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتلائے گا کہ تم کیا کیا کچھ کرتے رہے تھے“
آیت کا انتخاب فری میسن کے کسی مقامی ’عالم‘ نے کر کے دیا تھا؟ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے!
(2) اِس کی وجہ خدا نخواستہ یہ نہیں کہ یہاں کا کوئی بھی دینی طبقہ ’آئین کی بے حرمتی‘ کو ’شریعت کی بے حرمتی‘ سے زیادہ سنگین جانتا ہے یا دل سے ایسا اعتقاد رکھتا ہے۔ کسی دینی طبقہ کی بابت ظاہر ہے ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ ایک بات ’شارعِ عام‘ کو ’سمجھ‘ آتی ہے اور دوسری بات ’سمجھ‘ نہیں آتی! ایک بات ماحول میں ’چلتی‘ ہے اور دوسری بات نہیں ’چلتی‘! ایک بات کیلئے لوگ ’بآسانی‘ موبلائز ہو جاتے ہیں بلکہ خود ہی سڑکوں پر نکلے ہوتے ہیں؛ اب وہاں پر اسلامی قوتوں کا کوئی ’کردار‘ نہ ہونااور سب کچھ غیر اسلامی قوتوں کیلئے چھوڑ دینا ایک ’بے جا نقصان‘ ہے۔ جبکہ دوسری بات پر ’رائے عامہ‘ ٹس سے مس ہوکر نہیں دیتی لہٰذا وہاں پر آپ خود ہی بتائیے آخر کیا کیا جا سکتا ہے!
پس یہی ہو سکتا ہے کہ جو نقطہ ’رائے عامہ‘ کی عدالت میں وزن پا سکتا ہو اُسی کے ’اسلامی پہلو‘ بھی اجاگر کر دیے جایا کریں اور اسی کے ’اسلامی دلائل‘ اور ’اسلامی بنیادیں‘ بھی آشکارا کی جاتی رہیں۔ یوں اسلامی طبقوں کا ایک کردار بھی کسی نہ کسی طرح نکل آتا ہے اور ’اسلامی ایجنڈا‘ بھی بالکلیہ منظر سے غائب نہیں ٹھہرتا! ’بے موقعہ و مناسبت‘ کچھ بھی نہیں ہو سکتا، ہر چیز ہی ’اپنے وقت‘ پر ’خود بخود‘ آتی جائے گی!
مختصر یہ کہ ’اسلام‘ کے تقاضے اپنی جگہ مگر یہاں ہمارا کردار جو چیز متعین کرے گی وہ ’حالات‘ ہیں جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں! یہاں ہمارا کردار جو چیز متعین کرے گی وہ یہ کہ معاشرے کی سرزمین میں ’خیالات و افکار‘ کی آندھیاں کس رخ پہ چلتی ہیں اور ’رجحانات‘ کے جھکڑ اِس معاشرے کو اور اِس کے ساتھ خود ہمیں بھی کس طرف کو اڑا لے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ انہی ہواؤں کے دوش پہ اڑتے اڑتے کسی دن ہمیں اپنی منزل پہ پہنچنا ہے!
(3) اس کے کچھ شواہد پیچھے گزر چکے، مثال کے طور پر: ’شارعِ عام‘ کے فہمِ اسلام کی رُو سے: روافض کو اسلام کے مکاتب فکر میں کا باقاعدہ ایک مکتبہ فکر ماننا نہ کہ ایک صریح باطل فرقہ اور اسلام سے صاف صاف ایک انحراف۔ قبر پرستوں کو اسلامی حوالے سے باقاعدہ ایک مکتبہ فکر ماننا نہ کہ ان کے مذہب کو صاف صاف شرک ماننا۔ غیر اللہ کی شریعت اور قانون چلانے والوں کو ’اسلام‘ پر جاننا۔ ’تہذیب‘ میں الحادی رجحانات کی ایک نہایت منظم دعوت لے کر چلنے والوں کو ’شاملِ اسلام‘ جاننا وغیرہ وغیرہ۔
(4) مثال کے طور پر ’شارع عام‘ کا: رافضیت کے رد کو غلط اور باطل جاننا۔ قبور و اولیاءکی عبادت کے خلاف شدید ترین محاذ اٹھانے کو نادرست جاننا۔ شرک اور عبادتِ طاغوت کے خلاف اعلانِ عداوت کو ایک مذموم قسم کا فعل سمجھنا، جبکہ یہ توحید کا ایک نہایت بنیادی مبحث ہے۔ غیر اللہ کا قانون چلانے والوں اور ملحدانہ تہذیب کی ترویج کرنے والوں پر شرک اور کفر کی فردِ جرم عائد کر دینے پر حیرت اور تعجب سے دیکھنا اور اسکو ’انتہا پسندی‘ قرار دینا، جبکہ کسی کو ’انتہا پسند‘ کہنا اس کو ’گردن زدنی‘ کہہ دینے کا ہی وقت کا ایک رائج اسلوب ہے۔
(5) (البقرۃ: 61) ”ایسی چیزیں جو زمین میں اُگا کرتی ہیں ساگ (ہوا) ککڑی (ہوئی) گیہوں (ہوا) مسور (ہوئی) پیاز (ہوئی).... ترجمہ: اشرف علی تھانوی
(6) یہاں کئی ایک دینی حلقے اور جماعتیں عرصہ سے ”فائدۂ عام“ کیلئے جو دروسِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہاں کے اوسط طبقوں کو ترجمہ و تفسیر قرآن سے منسلک رکھنے میں کامیاب ہیں، وہ یقینا اور بے حد قابل ستائش ہیں۔ البتہ ہم سمجھتے ہیں مسئلہ کو اِس سے بھی زیادہ سادہ کر دینے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کی ضرورت اِس سے کہیں بنیادی ہے۔ حتیٰ کہ لوگوں کو ’ترجمہ و تفسیر‘ کے کورس بھی اگر کروائے جائیں جوکہ کمال کا ایک کام ہے تو اِس سے پہلے لوگوں کو عقیدہ و ایمان کی اساسیات بہرحال ازبر کرائی جائیں اور (خاص علمی حلقوں اور مدرسوں کو چھوڑ کر) عام حلقہ ہائے قرآن کو تو عقیدہ و ایمان کی اِن سادہ اساسیات ہی کی تبلیغ اور ترسیخ کے فورم بنا کر رکھا جائے۔ ”قرآن سے پہلے ایمان“ سیکھنے اور سکھانے کا منہج، جوکہ صحابہ کے ہاں باقاعدہ ایک منہج ہے، بحال کروانا اور اس کو یہاں ایک جان دار تحریکی عمل کی بنیاد بنا دیا جانا ہر دور کی طرح آج بھی ضروری ہے۔
اِس سلسلہ میں ایک چھوٹا سا واقعہ ذکر کر دینا شاید خالی از فائدہ نہ ہو جو کہ مجھ سے ایک کم سن طالبہ نے بیان کیا: یہ طالبہ محمد بن عبد الوہاب اور سید قطب کے فکری اثاثہ جات کے ساتھ خاص شغف رکھتی تھی۔ کسی ملاقات میں گپ شپ کے دوران اس نے قرآنی دروس کی ایک معلمہ کو بار بار اِس امر پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے پایا کہ ’ہمارے پاکستانی معاشرے کا تو یہ حال ہے کہ لوگوں کو قرآن کا سادہ ترجمہ تک نہیں آتا‘۔ ہماری اِس طالبہ کو یہ شکوہ ’ضرورت‘ سے کچھ زیادہ بڑا نظر آیا، تو اِس نے قرآنی دروس کی اُس معلمہ کے سامنے اپنا شکوہ یہ کہتے ہوئے رکھا کہ: ”قرآن کا سادہ ترجمہ آنا تو بہت بڑی بات ہے، گوکہ یہ بہت اچھی چیز ہے، بلکہ یہ تو کمال ہی کی بات ہو گی کہ لوگوں کو قرآن کا ترجمہ آنے لگے، مگر یہاں ’پاکستان‘ میں تو یہ حال ہے کہ لوگوں کو شروطِ لا الہ الا اللہ معلوم نہیں۔ لوگ نواقضِ اسلام تک سے واقف نہیں “.... ہمارے تعجب کیلئے، قرآن کی اُس معلمہ کیلئے بھی یہ بات نہ صرف نئی اور اَن سنی تھی بلکہ عجیب تھی، اور خود اُس کو ہماری اِس کم سن طالبہ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت پڑی کہ یہ ”شروطِ لا الہ الا اللہ“ اور ”نواقضِ اسلام“ کیا ہوتے ہیں!!!

(7) (آل عمران: 179) ”اللہ کبھی اہل ایمان کو چھوڑنے والا نہیں اُس حالت پر جس پر تم اب ہو، جب تک کہ وہ خبیث کو طیب سے الگ تھلگ نہیں کر دیتا“

(8)  اِس سلسلہ میں تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو ہماری ترجمہ کردہ کتاب ”دعوت کا منہج کیا ہو؟“ مؤلفہ محمد قطب۔ فصل: ”بنیادی جمعیت
اور یہ تو محتاجِ بیان نہیں کہ اِس ”بنیادی جمعیت“ کی تیاری نہ صرف اُن خاص خطوط پر ہو جو بعد ازاں ”دعوتِ عام“ کی صورت میں معاشرے کے اندر توحید کا ایک آتش فشاں کھڑا کر دے اور باطل سے قوم کو برگشتہ کر دینے والا ایک طوفان برپا کرے، بلکہ ضروری یہ ہے کہ وہ ’صریح دعوت‘ جو بعد ازاں ’عوام الناس‘ کو دی جانا ہے، اُسی دعوت کی کچھ نہایت مرکّز concentrated خوراکیں پہلے اِسی ”بنیادی“ جمعیت کے حلق میں انڈیلی جائیں۔
(9) (البقرۃ: 249) ”کتنی ہی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آ جاتی رہی ہیں“