|
|
||||||||||||
شرک اکبر کا بیان پیچھے گزر گیا۔وہی اصل شرک ہے جو کہ آدمی کے دائرہ اسلام سے خارج ہو جانے کا موجب ہے اور جہنم میں خلود(ہمیشگی) کا باعث۔ البتہ کچھ گناہ ایسے ہیں جن کو شریعت کی بعض نصوص میں شرک کہا گیا مگر اس سے مراد وہ شرک نہیں جس سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے یا جہنم میں ہمیشگی کا عذاب سہے ۔ اس کیلئے شرک اصغر یا شرک خفی کا لفظ مستعمل ہے۔ جیسے مثلاًریا۔ شرک اصغر کا مرتکب مسلمان ہی شمار ہوتا ہے، گو وہ ایک بہت بڑے خطرے میں ہے کیونکہ وہ گناہ جو شرک اصغر ہیں وہ عام کبیرہ گناہوں کی نسبت شناعت اور قباحت میں کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سچا موحد شرک اصغر سے بہت ہی ڈر کر رہتا ہے اور اس سے جتنا دور ہو سکے دور رہتا ہے۔ کسی آدمی کو اللہ تعالیٰ نے شرک اکبر سے بچا رکھا ہے تو اس کو اب ساری توجہ اس بات پر دے دینا ہے کہ وہ شرک اصغر سے بھی اپنا آپ بچا کر دنیا سے جائے اور اپنی جان کے مالک کو ہر قسم کے شرک سے پاک اور صاف حالت میں ملے۔شرک اکبر کے ساتھ خدا سے ملنے کا تو تصور ہی کیا یہ تو صاف بربادی اور ہلاکت ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کی بدبختی۔ خوش بختی یہ ہے کہ رب العالمین کا سا منا ہو تو شرک اصغر سے بھی آدمی کا دامن پاک ہو! پس شرک اصغر سے بچنا ہی توحید کی اصل پختگی ہے اور اس کیلئے بے انتہا محنت اور حد درجہ عزیمت درکار ہے۔ شرک اکبر یا شرک اصغر سے اجتناب کیا ہے؟یہ کہ پہلے اگر کوئی شرک ہوا ہے تو اس سے آدمی تائب ہو۔خدا سے معافی کا خواستگار ہو۔ اس فعل سے بری و بیزار اور متنفر ہو۔ اور آئندہ کیلئے اس سے دور رہے۔ ذہن اور رویے کی یہ کیفیت ہی شرک سے اجتناب ہے اور اس کا موت تک برقرار رہنا لازم۔ ********** جہاں تک شرک اصغر کی تعریف کا تعلق ہے تو گو بعض اہل علم نے اس کی ایک متعین تعریف کرنے کا منہج بھی اپنایا ہے اور شرک اصغر کی تعریف یوںکی ہے کہ ”بعض قلبی کیفیات یا زبان کی عبارتیں اور محاورے یا عملی رویے جو شرک اکبر تک پہنچنے کا ذریعہ بنیںاور بالآخرآدمی کو شرک اکبر کی راہ پر ڈال دینے والے ہوں،مگر خود شرک اکبر کی حد کو نہ پہنچتے ہوں، شرک اصغر کہلاتے ہیں“(1) مگر بیشتر علماءنے شرک اصغر کو اس کی ایک متعین تعریف کئے بغیر بیان کرنے کاہی منہج اپنایا ہے ،جو کہ زیادہ صحیح ہے(2) اور ہم بھی یہاںاسی منہج کو ترجیح دیں گے۔ ************** شرک اصغر اور شرک خفی ۔۔۔ یہ دونوں لفظ احادیث میں استعمال ہوئے ہیں۔کیا یہ دو الگ الگ اشیاء ہیں یا ایک ہی حقیقت کیلئے دو الگ الگ تعبیریں ہیں؟ جہاں تک حدیث کا معاملہ ہے،تو اس میں یہ دونوں لفظ ایک ہی عمل یعنی ریاء کے ضمن میں بولے گئے ہیں مثلاً مندرجہ ذیل دو حدیثیں: عن محمود بن لبید اَن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ”ان اخوف ما اخاف علیکم الشرک الاصغر“ قالوا : وما الشرک الاصغر یا رسول اللہ؟ قال: ”الریاء“ یقول اللہ عزوجل لھم یوم القیامۃ اذا جزی الناس بأعمالھم: ”اذھبوا الی الذین کنتم تراﺅن فی الدنیا فانظروا ھل تجدون عندھم جزاءً (رواہ احمد) ”محمود بن لبید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے سب سے زیادہ ڈر تمہارے جس چیز (میں پڑ جانے) کا ہے وہ ہے شرک اصغر“ صحابہؓ نے عرض کی: شرک اصغر کیا ہے اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: ”ریا۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ جب لوگوں کو انکے اعمال کا بدلہ دے رہا ہو گا تو فرمائے گا: جاؤ ان لوگوں کے پاس جن کو تم (اپنا عمل) دکھایا کرتے تھے اوردیکھ لو ان کے ہاں تمہارے لئے کوئی بدلہ ہے یا نہیں۔“ عن ابی سعید قال: خرج علینارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و نحن نتذاکر المسیح الدجال۔ فقال: ”الا اخبرکم بما ھو اخوف علیکم عندی من المسیح الدجال ؟“ قال: قلنا : بلی۔ فقال:”الشرک الخفی:ان یقوم الرجل یصلی فیزین صلوتہ لما یری من نظر رجل“ (رواہ ابن ماجۃ) ابو سعید سے روایت ہے،کہا: رسول اللہ ﷺ برآمد ہوئے جبکہ ہمارے مابین مسیح دجال کا تذکرہ ہو رہا تھا۔آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس کا نہ بتاؤں جس میں تمہارا (پڑجانا) میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ ڈرنے کی بات ہے؟ ہم نے عرض کی :کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”شرک خفی،یعنی آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہے تو یہ دیکھ کر کہ کسی کی اس پر نظر ہے،اپنی نماز جاذب نظر بناتا ہے۔“ چنانچہ اس بنیاد پربعض اہل علم کی رائے ہے کہ شرک اکبر اور شرک اصغر اور شرک خفی کوئی تین الگ الگ اقسام نہیں بلکہ اصل میں شرک دو ہی طرح کا ہے ۔ایک، شرک اکبر جو کہ اصل شرک ہے اور دائرہ اسلام سے آدمی کے خارج ہو جانے کا موجب ہے اور دوسرا ،شرک اصغر جس سے کہ آدمی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔شرک خفی کو ئی الگ سے تیسری قسم نہیں۔(3) البتہ بعض اہل علم شرک خفی کو شرک اصغر کی ایک ذیلی قسم شمار کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ شرک اصغر کو تین ذیلی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں : 1۔اقوال اور عبارات میں شرک اصغر 2۔افعال اور رویوں میں شرک اصغر 3۔قلبی اعمال میں شرک اصغر،اس تیسری قسم کیلئے یہ علماءشرک خفی کی اصطلاح بھی بولتے ہیں۔اس لحاظ سے ریاءپر شرک اصغر اور شرک خفی کے الفاظ بیک وقت فٹ بیٹھتے ہیں۔ گو شرک اصغر کی غیر خفی صورتیں بھی ممکن ہیں۔ یہ محض الفاظ اور تقسیمات کا اختلاف ہے نہ کہ حقائق کا۔ بہرحال شرک اصغر کے بیان میں ہم بھی موخرالذکرطریق کار اختیار کریں گے۔یعنی شرک اصغر کی تین ذیلی انواع کا ایک ایک کرکے ذکر کرنا۔ شرک اصغر جہاں تک شرک کی دوسری قسم یعنی شرک اصغر کا تعلق ہے تو وہ ہے ریا کاری اور عبادت کا مخلوق کیلئے دکھلاوا۔ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَة رَبِّهِ أَحَدًا (الکہف 110) ”پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے“ ریا شرک اصغر کی کوئی واحد صورت نہیں۔ حدیث میں یہ بر سبیل مثال بیان ہوئی ہے۔ خدا ہمیں اس کی سب صورتوں سے محفوظ رکھے۔کچھ بڑے بڑے گناہ جن کیلئے نصوص شریعت میں ازراہ تشنیع و تقبیح شرک کا لفظ بولا گیا مگر یہ وہ شرک اکبر نہیں جس سے کہ آدمی ملت سے خارج ہو جاتا ہے ۔۔۔ تو ان گناہوں کو شرک اصغر شمار کیا گیا ہے۔ یہ گناہ اقوال کی صورت میں بھی پائے جا سکتے ہیں،افعال کی صورت میں بھی اور قلبی اعمال کی صورت میں بھی۔ آئندہ صفحات میں شرک اصغر کی ان تینوں صورتوں کو ایک ایک کرکے بیان کیا جائے گا۔ *************** واضح رہے کہ سلف کے ہا ں ’ندّ‘ اور ’انداد‘ وغیرہ ایسے الفاظ بسا اوقات شرک اصغر کے باب میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں اور وہ اس لئے کہ شرک اصغر اور شرک خفی کی سنگینی ذہنوں کے اندر واضح رہے اور تاکہ لوگ شرک اصغر کی حد پھلانگ کر شرک اکبر میں پیر رکھنے سے خبردار رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات شرک اصغر کیلئے مطلق شرک کا لفظ بولنا اور آدمی کو ایمان کی فکر لا حق کروا دینا اصلاح اور نصیحت اور تنبیہ کے باب میں بے حد مفید رہتا ہے اور احادیث میں سلف کے کلام کے اندر یہ اسلوب ہمیں باقاعدہ نظر آتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی آیت (”فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ “ ) پس تم جانتے بوجھتے ہوئے اللہ کے ہمسر نہ ٹھہراؤ“ کی تفسیر میں امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: (عن ابن عباس فی قول اللہ عزوجل:”فلا تجعلوا للہ انداداً وانتم تعلمون“ وقال: الانداد ھو الشرک اخفی من دبیب النمل علی صفۃ سوداءفی ظلمۃاللیل و ھو ان یقول: واللہ و حیاتک یا فلان و حیاتی۔ویقول: لو لا کلمۃ ھذا لاتانا اللصوص البارحۃ،ولو لا البط فی الدار لاتی اللصوص۔ وقول الرجل لصاحبہ: ما شاءاللہ و شئت۔وقول الرجل: لو لا اللہ و فلان۔ لا تجعل فیھا فلاناً۔ھذا کلہ بہ شرک“ وفی حدیث ان رجلا قال لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماشاءاللہ و شئت،قال: ”اجعلتنی للہ ندّاً “ عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے بہ ضمن آیت ”فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ“کہ عبداللہ بن عباسؓ نے کہا: انداد (ہم سر) ٹھہرانا وہ شرک (بھی)ہے جو کہ سیاہ چٹان پر رات کے اندھیرے میں چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے ۔ اور وہ یہ کہ جیسے تم کہو: خدا کی قسم اور اے فلان تمہاری زندگی(یا تمہارے سر ) کی قسم اور میری زندگی (یامیرے سر )کی قسم۔ یا مثلاً یہ کہو: اس شخص کی کتیا نہ ہوتی تو رات ہمارے گھر تو چور آہی گئے ہوتے۔ (یا یہ کہ) گھر میں بطخیں نہ ہوتیں تو چور ہمارے ہاں اپنا کام کر گئے ہوتے۔ یا آدمی کا اپنے کسی دوست کو کہنا: جو خدا چاہے اور جو تم چاہو۔یا آدمی کا یہ کہنا: اگر اللہ اور فلان نہ ہوتے (تو یہ اور وہ ہو جاتا) ایسے کسی فلان کو ہرگز بیچ میں نہ ڈالو ۔ یہ سب اس آدمی میں حق میںشرک ہو گا“ (اسی طرح) حدیث میں آتا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں تو آپ نے اس سے فرمایا: کیا تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا (ندّ) ہم سر بنادیا؟؟“ (ملاحظہ فرمائیے تفسیر ابن کثیر ۔ بابت سورۃ البقرۃ آیت22) چنانچہ اسی آیت فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ کے ضمن میں امام محمد بن عبدالوہابؒ (فیہ مسائل ) کے تحت لکھتے ہیں: (المسئلۃ) الثانیۃ: ان الصحابۃ رضی اللہ عنھم یفسرون الایۃالنازلۃفی الشرک الاکبر انھا تعم الاصغر۔ ”دوسرا مسئلہ یہ کہ : صحابہ کرامؓ شرک اکبر کے ضمن میں نازل ہونے والی آیت کی تفسیر اس طرح کر لیا کرتے تھے کہ شرک اصغر بھی اس میں شامل ہونے سے نہ رہ جائے۔‘ (دیکھیے کتاب التوحید باب ۰۴) شرک اصغر پہلی صورت:اقوال جو کہ شرک اصغر ہیں الفاظ یا تعبیرات کے اندر شرک اصغر کس طرح پایا جاتا ہے، یہاں اس کی کچھ مثالیں ذکر کی جائیں گی۔مگر اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث نقل کر دینا تقاضائے گفتگو نظر آتا ہے۔گو اس حدیث کا تعلق خاص شرک اصغر سے نہیں،شرک اکبر سے بھی ہو سکتا ہے اور عام گناہ کی باتوں سے بھی مگر اقوال اور روزمرہ عبارتوں کے اندر آجانے والے شرک اصغر سے بھی اس کو ایک خاص نسبت ہے: عن ابی ھریرۃ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :”ان الرجل لیتکلم بالکلمۃ ما یری ان تبلغ حیث بلغت یھوی بھا فی النار سبعین خریفاً“ (رواہ احمد) ”ابو ھریرۃ ؓ سے روایت ہے،کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی ایک لفظ بول دیتا ہے اور اس کو خیال تک نہیں ہوتا کہ وہ (لفظ یا عبارت ) اس نوبت کو جا پہنچے گی ،مگر وہ اس کے باعث جہنم کے اندر ستر سال (کی اترائی) میں جا گرتا ہے“ خدا ہم سب کو بچا کر رکھے۔
قول: ما شاءاللہ و شئت ”جو خدا چاہے اور جو تم چاہو“ عن قُتَیلہ امرۃ من جھینۃان یھودیاً اتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: انکم تنددون وانکم تشرکون، تقولون: ما شاءاللہ وشئت، و تقولون: والکعبۃ، فامرھم النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا ارادوا ان یحلفوا ان یقولوا: ورب الکعبۃ، ویقول احدھم: ما شاءاللہ ثم شئت۔ (رواہ احمد والنسائی والحاکم والبیہقی، و صححہ الالبانی) ”قبیلہ جہینہ کی ایک خاتون قُتیلہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نبیﷺ کے پاس آیااور کہنے لگا: تم لوگ (خدا کے ہم سر بناتے ہو اور شرک کا ارتکاب کرتے ہو۔تم کہتے ہو: جو خدا چاہے اور جو تم چاہو۔ اور کہتے ہو: کعبہ کی قسم۔ تب رسول اللہ ﷺ نے اصحاب کو حکم دیاکہ جب وہ قسم کھانا چاہیں تو یوں کہا کریں: ”رب کعبہ کی قسم“ اور کسی کو کہنا ہو تو یوں کہے: ”جو خدا چاہے اور پھر جو تم چاہو“ عن ابن عباسؓ، ان رجلا قال یا رسول اللہ ما شاءاللہ و شئت ۔ فقال جعلتنی للہ عدلا، بل ما شاءاللہ وحدہ (رواہ احمد) ابن عباسؓ سے روایت ہے،کہا : ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں ۔آپ نے فرمایا: ”تم نے مجھے خدا کا ہم پلہ بنا دیا!؟؟ بس جو اللہ وحدہ لا شریک چاہے“ علامہ سلیمان بن عبداللہ لکھتے ہیں : ”یہ نص ہے اس بات پر کہ یہ لفظ شرک میں آتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہودی کے اس چیز کو تندید اور شرک قرار دینے پر سکوت فرمایا اور اس سے نہی فرمائی اور اس کے بجائے ایسا لفظ استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی جو شرک سے بعید ہو اور وہ یہ کہ ”جو اللہ چاہے پھر جو تم چاہو“ اگرچہ بہتر یہ ہے کہ ”جو اللہ وحدہ لا شریک چاہے“ (دیکھیے تیسیرالعزیز ا لحمید ص 535) ظاہر ہے یہ شرک اصغر اسی وقت ہو گا جب آدمی کی مراد غیر ہستی کی خدا کے ساتھ، خشیت میں، کسی قسم کی شراکت نہ ہو۔بلکہ محض لفظ کی حد تک وہ ایسی عبارت بولے جس سے بظاہر اس بات کا تاثر ملتا ہو کیونکہ آدمی پر لازم ہے کہ اس کے الفاظ سے شرک کا تاثر بھی نہ ملے۔ یہ خدا کی عظمت کا حق ہے۔ ظاہری تاثر کے معاملے میں اس عدم احتیاط ااور خدا کے شایان عبارت استعمال کرنے کے معاملے میں تقصیر کے باعث اس کو شرک اصغر کہا گیا البتہ اگر اس کا مقصد کسی کو خشیت میں خدا کے ساتھ کم یا زیادہ یا کسی بھی طرح شریک کرنا ہو تو بلاشبہ وہ شرک اکبر ہو گا۔ گزشتہ حدیث کے ضمن میں شیخ سلیمان بن عبداللہ کہتے ہیں: ” اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہود بھی شرک اصغر سے واقف تھے۔ جبکہ آج حال یہ ہے کہ اسلام کا دعوی کرنے والے بہت سے لوگ (شرک اصغر تو کیا) شرک اکبر سے واقف نہیں“!!! اسی طرح کتاب التوحید میں امام محمد بن عبدالوہابؒ یہ احادیث ذکر کرکے (فیہ مسائل)کے تحت پہلا اور چوتھا مسئلہ ذکر کرتے ہوئے صراحت کرتے ہیں کہ یہ شرک اصغر ہے نہ کہ شرک اکبر۔ (دیکھیے کتاب التوحید باب 45) ************* غیراللہ کی قسم کھانا عن ابن عمر انہ سمع رجلا یقول: لا والکعبۃ،فقال ابن عمر: لا یحلف بغیر اللہ، فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”من حلف بغیر اللہ فقد کفر او اشرک“(رواہ الترمذی والحاکم والبیہقی، و صححہ الالبانی) ”عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کسی شخص کو کہتے ہوئے سنا: کعبہ کی قسم۔ تب عبداللہ ابن عمرؓ نے کہا: اللہ کے سوا کسی کی قسم اٹھانا درست نہیں۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے سوا کسی کی قسم اٹھائی اس نے کفر کا ارتکاب کیا یا شرک کا“ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں : ”مخلوقات میں سے کسی کی قسم اٹھانا جمہور کے نزدیک حرام ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب ہے۔امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے مذہب میں دو اقوال پائے جاتے ہیں، ان میں سے ایک قول یہی( امام ابو حنیفہؒ کے مذہب کی تائید)ہے۔ اس پر صحابہؓ کا اجماع بھی مذکور ہوا ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ مکروہ ہے اور اس کی کراہت تنزیہی ہے۔ مگر پہلی بات درست ہے۔ یہاں تک کہ عبداللہ بن مسعودؓ اور عبداللہ بن عباسؓ اور عبداللہ بن عمرؓ کہا کرتے تھے:” میں اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم اٹھاؤ ں یہ مجھے برداشت ہے بہ نسبت اس بات کے کہ غیراللہ کی قسم اٹھاؤں چاہے وہ سچی کیوں نہ ہو“ یہ اسی لئے کہ غیراللہ کے نام کی قسم اٹھانا شرک ہے اور شرک جھوٹ سے سنگین تر ہے۔“ (مجموع الفتاوی: ج 1 ص 204 ) علامہ سلیمان آل الشیخ کہتے ہیں: ”حدیث کے الفاظ ” فقد کفر او اشرک“ سے علماءکے ایک گروہ نے استدلال کیا ہے کہ غیراللہ کی قسم اٹھانے والاکفر کا مرتکب ہوتا ہے اور کفر بھی وہ جو شرک ہے۔ ان علماءکا کہنا ہے کہ : یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کو (جس سے یہ فعل سر زد ہوا) لاالہ الااللہ کہنے کا حکم دے کر دراصل تجدید اسلام کا حکم دیا۔ پس اگر یہ ملت سے خارج کردینے والا کفر نہ ہوتا تو آپ اس کو یہ حکم نہ دیتے۔“ ”مگر جمہور کا قول یہ ہے کہ: ایسا شخص ملت سے خارج ہو جانے والے کفر کا مرتکب نہیں ہوتا بلکہ یہ شرک اصغرہے۔جیسا عبداللہ ابن عباسؓ و دیگر اصحابؓ کی اس پر صراحت موجود ہے۔ رہا آپ کا اس شخص کو جس نے (غلطی سے) لات اور عزی کی قسم اٹھائی، لاالہ الااللہ پڑھنے کا حکم دینا تو وہ اس لئے کہ یہ اس کے حق میں کفارہ ہے اور استغفار بھی ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ”جو آدمی قسم کھاتے ہوئے کہہ بیٹھے : لات و عزی کی قسم۔ پس وہ کہے: لاالہ الااللہ (بخاری) او ر روایت میں ہے ”پس وہ استغفار کرے“ تو یہ دراصل اس کے حق میں کفارہ ہے کیونکہ قسم میں بت کا نام لے کر ظاہری صورت میں اس سے بت کی تعظیم سر زد ہو گئی ہے۔(سو یہ کفارہ یا استغفار کی ایک صورت ہے کہ وہ لاالہ الا اللہ پڑھے ) نہ کہ اسلام کی از سر نو تجدید۔اور اگر یہ درست بھی سمجھ لیا جائے تو اس کا اپنے مسلمان ہونے کی یہ تجدید کرنا مسلمانی میں نقص آجانے کے باعث ہو گا نہ کہ کافر ہو جانے کے باعث۔ ”ہاں البتہ یہ قبروں کے پجاری جو حرکت کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر آپ ان میں سے کسی کو اللہ کی قسم اٹھوائیں تو جتنی آپ چاہیں وہ اتنی قسمیں اٹھانے پر تیار ہو جائے چاہے سچا ہو یا جھوٹا۔ لیکن آپ اس کو پیر یا مرشد کی قسم اٹھوائیں یا مرشد کی تربت یا مرشد کے سر کی قسم اٹھوائیں تو جھوٹا ہونے کی صورت میں وہ ہرگز قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو۔یہ بلا شک و شبہ شرک اکبر ہے۔ کیونکہ خدا کے سوا ذات اس کی نگاہ میں خد ا سے زیادہ ڈرنے اور تعظیم کرنے کے لائق ہے۔ یہ وہ شرک ہے جس کو پہلے بتوں کے پجاری بھی نہ پہنچے تھے۔ کیونکہ بہت ہی سنجیدہ قَسم اٹھانی ہوتی تو اس کے لئے وہ بھی اللہ ہی کی قسم اٹھاتے تھے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے[وَأَقْسَمُواْ بِاللّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لاَ يَبْعَثُ اللّهُ مَن يَمُوتُ(النحل 38) ”یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ وہ اللہ کسی مرنے والے کو زندہ کرکے نہ اٹھائے گا “] چنانچہ جو شخص پوری سنجیدگی اور صراحت کے ساتھ اپنے مرشد کی یا اس کے سر کی یا اس کی تربت کی قسم کھاتا ہے تو وہ تو پہلے مشرکوں سے بھی بڑا مشرک ہے۔یہ ہے اس معاملہ کی اصل تفصیل“(دیکھیے تیسیر العزیز الحمیدص 529) ************** اشیاءکو اسباب پر منحصر ٹھہرانا نہ کہ مسبب الاسباب پر(استسقاءبالانواء)
ایسے الفاظ اور عبارتیں استعمال کرنا جن میں ’قدرتی اسباب‘ پر انحصار
اور مسبب الاسباب (رب العالمین) کو نظر انداز کر دیے جانے کا کچھ ایسا
تاثر واضح ہونا کہ اس سے مشرکوں اور مادہ پرستوں کے ساتھ ظاہری اشتراک
نظر آتا ہو ایسا انداز بیان یا انداز تحریر و تصنیف شرک اصغر میں آتا
ہے۔ البتہ یہ اشتراک اگر محض ظاہری نہ ہو بلکہ حقیقی ہو تو تب وہ شرک
اصغر نہیں بلکہ شرک اکبر ہو گا جو کہ ابدی جہنم کا موجب ہے۔ ” زید بن خالد جہنی سے روایت ہے، کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ ابھی رات بارش ہو کر ہٹی تھی ۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی جانب رخ فرمایا اور کہا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ “سب نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ” میرے بندوں میں سے کچھ کی صبح مؤمن ہو کر ہوئی اور کچھ کی کافر ہو کر۔جس نے تو یہ کہا کہ ہم پر خدا کے فضل اور رحمت سے میہنہ برسا وہ تو ہوا میرا مؤمن اور تاروں کا انکاری۔مگر جس نے کہا کہ یہ بارش ہم پر فلاں فلاں مطالع (کی حرکت) کے باعث ہوئی تووہ میرا انکاری ہوا اور تاروں کا مؤمن۔“ کتاب التوحید میں باب ماجاءفی الاستسقاءبالنجوم یعنی ”بارش کو مطالع سے منسوب کرنے کے مسائل کا باب “ کے اختتام پر (فیہ مسائل ) کے تحت امام محمد بن عبدالوہابؒ چوتھا مسئلہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: الرابعۃ: ان من الکفر ما لا یخرج من الملۃ چوتھا مسئلہ : ”یہ کہ کفر کی بعض انواع ملت سے خارج نہیں کرتیں“ جس سے مقصود یہ ہے کہ استسقاءبالانواءجس کو حدیث میں کفر کہا گیا ہے اور تاروں (مطالع ) پر ایمان قرار دیا گیا ہے بعض حالات میں آدمی کو ملت سے خارج نہیں کرتا ۔ بعض بعض صورتوں میں یہ شرک اصغر ہو گا۔ اس حدیث کی شرح میں اما م نووی ؒ علماءکے دو قول نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: ” پہلا قول یہ کہ : یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر ہے اور ایمان کے سرے سے چلا جانے اور آدمی کے ملت اسلام سے خارج ہو جانے کا موجب ہے۔ علماءکا یہ قول اس شخص کے بارے میں ہو گا جو تاروں(مطالع ) کے خود اپنے اندر فاعلیت اور اپنے آپ عمل کرنے اور بارش برسانے کی صلاحیت کا اعتقاد رکھے ، جیسا کہ بعض اہل جاہلیت اعتقاد رکھتے تھے ۔ جو شخص ایسااعتقاد رکھے اس کے کفر میں تو کوئی شک ہی نہیں اس بنیاد پر جو شخص یہ کہے کہ ہم پر بارش فلاں فلاں مطالع کے باعث ہوئی ہے جبکہ اس کا اعتقاد یہ ہو کہ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور اس کی رحمت کے باعث اور یہ کہ مطلع اس کا محض ظاہری وقت اور علامت ہے کیونکہ عام طور پر تجربہ میں ایسا ہی دیکھا گیا ہے گویا اس کا کہنا یہ ہے کہ بارش ان ان حالات کے بیچ ہوئی ہے تو ایسا آدمی کفر کا مرتکب نہیں ۔ البتہ اس کے مکروہ ہونے میں علماءکا اختلاف ہے ۔ اغلب یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے اور اس کی کراہت تنزیہی ہے ۔ اس پر گناہ نہیں ۔ کراہت کی وجہ یہ کہ ایسی عبارت سے پھر بھی ایمان اور کفر کے معاملہ میں شک سی پڑ جاتی ہے اور بولنے والے کی بابت بدظنی قائم ہو جانے کا امکان ہے ۔ اور کیونکہ یہ جاہلیت اور جاہلیت کی راہ پر چلنے والوں کے ہاں شعار کا درجہ رکھتا ہے۔ دوسرا قول حدیث کے معنی کی بابت یہ ہے کہ: اس سے مراد کفر نعمت (4)ہے ۔ کیونکہ اس میں بارش کو مطالع سے منسوب کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا۔ یہ اس شخص کے حق میں ہو گا جو مطالع کی اپنی فاعلیت پر اعتقاد نہ رکھتا ہو ۔ حدیث کے اس مفہوم کی تایید اسی باب کی ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ ہیں: ”اصبح من الناس شاکر و کافر“ یعنی ” کچھ لوگوں کی صبح شکر گذار ہو کر ہوئی اور کچھ کی نا شکرے ہو کر “ (دیکھیے شرح مسلم للنووی کتاب الایمان: بیان کفر من قال: مطرنا بالنوء) ********** شرک اصغر دوسری صورت: افعال اور رویے جو کہ شرک اصغر ہیں پیچھے شرک اصغر کی کچھ قولی صورتوں کا ذکر کیا گیا ۔ یہاں اب اس کی کچھ فعلی صورتوں کا بیان کیا جاتا ہے۔ ************* شگون لینا (التطیر) عن عبداللہ بن مسعودؓ ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” الطیرۃ شرک، وما منّا الا ولکن اللہ یذھب بالتوکل “(رواہ احمد و ابو داؤ والترمذی وابن ماجہ ، وذکرہ الالبانی فی السلسلۃ الصحیحۃ) ” عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” بد شگونی شرک ہے ۔ ہم میں کوئی ہی اس سے بچا ہو گا ۔ لیکن توکل کرنے سے اللہ تعالیٰ اسے دو ر کر دیتا ہے “ چنانچہ دل میں اندیشوں کا آ جانا اور بات ہے اور اس کا مداوا توکل میں اخلاص پیدا کرنا ہے ۔ اس حد تک یہ نقصان دہ نہیں بشرطیکہ آدمی اس کو وسوسہ کی طرح برا جانے اور دل سے نکال دینے کی کوشش کرے ۔مگر” بدشگونی “جس کو شرک اصغر کہا گیاوہ اس سے بڑھ کر ہے۔ اس بدشگونی کو امام ابن تیمیہؒ اس طرح بیان کرتے ہیں: ” بدشگونی (طیرۃ ) یہ ہے کہ خدا پر بھروسہ کرکے آدمی کوئی کام شروع کرے یا اس کا عزم کرے۔مگر کسی سے کوئی بری بات سنے مثلاً کوئی کہے: ”بیل منڈھے چڑھنے کی نہیں“ یا یہ کہ ”سرخروئی نہ ہو گی “ یا اسی طرح(کوئی کالی زبان بولے) تو یہ اس سے بدشگون لے بیٹھے اور اپنے ارادہ سے دستبردار ہو جائے۔ یہ ہے بدشگونی جو کہ حرام ہے “ (فتاوی ابن تیمیہؒ ج23 ص67) بد شگونی کو عربی میں طیرۃ اس وجہ سے کہا گیا کہ لوگ مختلف پرندوں کو دیکھ کر شگون لیتے تھے مثلاً سفر کے آغاز میں کوّے کو دیکھ کر بدشگونی کا شکار ہو جاتے تھے یا رات کو الّو دیکھنا نحوست سمجھتے تھے ۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ”طیرۃ “ کو شرک کہنے کے بعد اس کا کفارہ بتایا گیا ہے اور وہ یہ کہ آدمی کہے: اللہم لا خیرالا خیرک، ولا طیر الا طیرُکَ،ولا الہ غیرک۔ علامہ سلیمان بن عبداللہ لکھتے ہیں: ”عکرمہؒ نے کہا: ہم عبداللہ بن عباسؓ کے ہاں بیٹھے تھے۔ وہاں کوئی پرندہ شور ڈالتا گذرا۔ وہاں بیٹھوں میں سے ایک شخص بولا:”خیر ہو بھئی خیر ہو “ تب عبداللہ بن عباسؓ بولے : ”نہ خیر نہ شر“ مراد یہ کہ عبداللہ بن عباسؓ نے اسے فوراً ٹوکاتاکہ وہ یہ اعتقاد نہ رکھے کہ اس چیز کی خیر یا شر کے معاملے میں کوئی تاثیر ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح طاووسؒ (عبداللہ بن عباسؓ کے شاگرد ) کسی شخص کی معیت میں سفر پرنکلے ۔ دیکھا ایک کوا کائیں کائیں کرتا ہے ۔تب وہ آدمی جھٹ سے بولا:” خیر ہووے“ طاووس ؒ بولے :” کونسی خیر اس کے پاس پڑی ہے ؟ ! تم میرا ساتھ چھوڑ دو“ البتہ اس معاملہ میں ایک اشکال صحیح ابن حبان کی ایک مرفوع روایت عن انس کے باعث پایا جاتا ہے جس کے الفاظ ہیں :[لا طیرۃ ، والطیرۃ علی من تطیر ”بدشگونی منع ہے ۔ بدشگونی اس کے کرنے والے پرہی پڑے گی “]چنانچہ اس حدیث کے الفاظ سے بظاہر یہ ثابت ہوتا ہے کہ بد فالی اس کے کرنے والے پر شر لے آنے کا سبب بنتی ہے مگر اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ (ابن حبان کی حدیث سے ) مراد یہ ہو گی کہ جو آدمی بد فالی لے ، جو کہ شرعاًممنوع ہے ،اور کسی بات کے سننے یا دیکھنے کے باعث عزم عمل ترک کردے تو جس بات سے وہ ڈرتا ہے وہ اس کے ساتھ پھر ہو بھی جاتی ہے مگر یہ خدا کی جانب سے اس کیلئے اس (توہم پرستی)کی سزا ہوتی ہے ۔ البتہ جو شخص اللہ رب العالمین پر پورا بھروسہ کرے اپنے مالک پر اس کو پورا یقین ہو ۔دل خوف اور امید کی صورت میں ایک خدائے مالک الملک سے ہی وابستہ اور پیوستہ رہے اور خدا کے سوا ہر چیز سے بے نیاز ہو جائے اور جس بات اور طریقے کا وہ معمور ہے بس اس کو کر گزرے تو خدا کے فضل سے اس کو کسی بات کا نقصان نہیں ہوتا“ (تیسیر العزیز الحمید ص 375) خوش فالی اللہ کے رسول ﷺ کو پسند تھی : عن انس ،قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ”لا عدوی ولا طیرۃ و یعجبنی الفال“وقالوا : ما الفال؟ قال: ”الکلمۃ الطیبۃ“ (متفق علیہ) ” انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھوت چھات ہرگز نہیں۔ بدشگونی ہرگز نہیں ۔ البتہ خوش شگونی مجھ کو بھلی لگتی ہے “ صحابہ ؓنے دریافت کیا : کیسی خوش شگونی ؟ فرمایا: ”کوئی اچھی (حوصلہ افزا ) بات“ (طیرۃ) بدفالی یا بدشگونی کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے محدث عبدالرحمن مبارکپوری ؒ تحفۃ الاحوذی میں اور محدث شمس الدین عظیم آبادیؒ عون المعبود میں لکھتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کا فرمان الطیرۃ شرک ”بد شگونی لینا شرک ہے“ مراد یہ کہ ان لوگوں کا خیال تھا کہ (اس طرح کے واقعے ) جن سے یہ بدشگونی لیتے ہیں انکے لئے فائدہ یا نقصان کا سبب ہیں۔ چنانچہ اگر وہ اس کے بموجب عمل کریں تو گویا انہوں نے اس معاملہ میں شرک کیا ۔ اس کو شرک خفی کہا جاتا ہے ۔ بعض اہل علم نے یہ صراحت کی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز مستقل بالذات انداز میں نفع یا نقصان دے سکتی ہے تب تو وہ شرک یعنی شرک جلی کا ہی مرتکب ہے“ (دیکھیے تحفۃ الاحوذی شرح سنن الترمذی حدیث نمبر1539 اور عون المعبود شرح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 3411) یعنی شرک اصغر یہ اس وقت ہو گا جب آدمی اس کو براہ راست خدا کی جانب سے سمجھے کہ جو ہو گا اسی کی طرف سے ہو گا البتہ شگون کو محض اس کا ایک سبب سمجھے ۔ ہاں اگر وہ اس سبب کی ہی مستقل بالذات فاعلیت کا اعتقاد رکھے تب یہ شرک اکبر ہو گا۔ ************* دفع بلا کیلئے کڑا یا دھاگہ باندھنا عن عمران بن حصین ؓ : ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لای رجلاًفی یدہ حلقۃ من صفر ، فقال : ما ھذہ ؟ “ قال: من الواھنۃ۔ فقال: ”انزعھا ، فانھالا تزیدک الا وھنا، فانک لومت و ھی علیک ما افلحت ابداً“ (رواہ احمد) ”عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے بازو میں پیتل کا ایک کڑا تھا ۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے ؟ “ اس نے عرض کی :یہ ایک قسم کی بیماری سے ہے ۔ فرمایا: ”اس کو اتار دو ۔ یہ تجھ کو کچھ بڑھا کر دے گی تو تمہاری بیماری کو ہی بڑھائے گی ۔ تم اگر مر جاؤ اور یہ تمہارے( بازو) میں رہا تو تم ہرگز فلاح نہ پاؤ گے “ اس حدیث کے ضمن میں کتاب التوحید کے مولف محمد بن عبدالوہابؒ لکھتے ہیں: (المسئلۃ) الثانیۃ: ان الصحابی لو مات و ھی علیہ ما افلح ۔ فیہ شاھد لکلام الصحابۃان الشرک الاصغر اکبر الکبائر۔ ”دوسرا مسئلہ یہ کہ : وہ صحابی بھی اس حالت میں فوت ہو جاتا تو فلاح نہ پاتا۔ یہ ان شواہد میں سے ایک ہے کہ صحابہؓ کے ہاں شرک اصغر کو کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا سمجھا جاتا تھا۔“ (دیکھیے کتاب التوحید باب 6) کتاب التوحید میں امام محمد بن عبدالوہابؒ ایک اور روایت لے کر آتے ہیں : ولا بن ابی حاتم عن حذیفۃ : ”انہ رای رجلافی یدہ خیط من الحمی فقطہ و تلاقولہ: ”وما یؤمن اکثرھم باللہ الا و ھم مشرکون“ ”ابن ابی حاتم نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کی کہ : حذیفۃ ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے بازو میں بخار سے بچاؤ کا دھاگہ بندھا تھا۔ تب حضرت حذیفہ ؓ نے اس کو کاٹ دیا اور قرآن کی یہ آیت پڑھی : وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللّهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُونَ (یوسف ) حضرت حذیفہؓ کے اس واقعہ کے ضمن میں امام محمد بن عبدالوہابؒ لکھتے ہیں : ”نواں مسئلہ یہ کہ : حضرت حذیفۃؓ کا یہ آیت پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ ؓ کرام شرک اکبر سے متعلقہ آیات سے شرک اصغر پر بھی استدلال کر لیا کرتے تھے ، جس طرح کہ عبداللہ بن عباسؓ کا سورۃ البقرۃ کی آیت سے استدلال کرنا بھی مذکور ہے ۔“ ************ تمیمہ لٹکانا یا غیر شرعی دم کروانا عن زینب امرۃ عبداللہ بن مسعودؓ عن عبداللہ قال : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ” ان الرقی والتمائم والتولۃ شرک “ قالت: قلت: لم تقول ھذا واللہ لقد کانت عینی تقذف و کنت اختلف الی فلان الیھودی یرقینی فاذا رقانی سکنت فقال عبداللہ :انما ذاک عمل الشیطان کان ینخسھابیدہ فاذا رقاھا کف عنھا انما کان یکفیک ان تقولی کما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”اذھب الباس رب الناس اشف انت الشافی لا شفاءالا شفاؤک شفائً لا یغادر سقما“ (رواہ احمد و ابوداؤد) ”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ زینب عبداللہؓ سے روایت کرتی ہیں،کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جھاڑ پھونک کرنا ، تمیمے (دانے،منکے وغیرہ)لٹکانا اور محبت کے تعویذ کرنا شرک ہے “ زینب کہتی ہیں میں نے عبداللہ سے کہا : یہ آپ کیسے کہتے ہیں ؟ بخدا ایسا ہوا ہے کہ میری آنکھ بھڑکتی تھی اور میرا کبھی کبھار فلاں یہودی کے پاس آنا جانا ہوتا جو کہ مجھ کو دم کردیتا تھا ۔ جب وہ دم کرتا تو مجھ کوآرام آجاتا ۔ تب عبداللہ نے کہا : یہ دراصل شیطان کی حرکت تھی ۔ (شیطان تمہاری آنکھ میں اپنے ہاتھ سے چبھن کرتا تھا پھر جب وہ یہودی دم کرتا تو وہ اس حرکت سے رک جاتا۔ تمہارے لئے تو بس یہی کافی تھا کہ تم یہ الفاظ بولتیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ بولا کرتے تھے : [ ”اذھب الباس رب الناس اشف انت الشافی لا شفاءالا شفاؤک شفائً لا یغادر سقما “اے مخلوق کے پروردگار ! تکلیف دور فرما ۔ شفا یاب کرکہ شافی تو ہے۔ نہیں کوئی شفا مگر یہ کہ تو شفا بخشے ایسی شفا جو کوئی سقم نہ رہنے دے “] ************* دم اگر قرآنی آیات یا مسنون اذکار سے کیا گیا ہو تو وہ احادیث سے واضح طور پر ثابت ہے ۔ خود رسول اللہ ﷺ نے دم کیا اور اس کی اجازت دی۔اس میں کوئی توہم پرستی نہیں ۔شرک( اصغر ) صرف ایسے دم اور جھاڑ پھونک پر لاگو ہو گا جو کہ غیر شرعی ہو ۔ جیسا کہ اوپر عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ کے واقعے میں مذکور ہے ۔ اسی پر عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ شرک والی حدیث پڑھی۔ ************** تمیمہ عربی میں کسی دانے یا منکے نما چیز کو کہا جاتا ہے جو گلے میں لٹکایا جائے ۔ یہ کسی لکڑی سے بنا ہو یا ہڈی سے یاکسی اور مواد سے ۔ خود آدمی اپنے گلے میں لٹکائے یا بچے کے یا حتی کہ جانور کے ۔ منع ہے او ر شرک ہے (ملاحظہ ہو تیسیر العزیز الحمید ) یہ شرک اکبر بھی ہو سکتا ہے جب آدمی اس( تمیمہ )کی اپنی فاعلیت پر اعتقاد رکھے۔البتہ اگر وہ کرنے والی ذات صرف خدائے وحدہ لاشریک کو مانے اور یہ سمجھے کہ تمیمہ لٹکانے سے خدا اس سے کسی آفت کو دور کردے گا یا اس کی قسمت میں کوئی فائدہ کردے گا تو اس صورت میں اور صرف اسی صورت میں یہ شرک اصغر ہو گا ۔ (دیکھیے القول المفید علی کتاب التوحید از محمد بن عثیمین باب 7) واضح رہے کہ شرک اصغر بھی کوئی معمولی چیز نہیں ۔ یہ کبیرہ گناہوں سے بھی بڑا گناہ ہے اور خدا کو ناراض کردینے کا سبب۔ علاوہ ازیں اگر کوئی شرکیہ تعویذ لیتا ہے یعنی اس میں کوئی شرکیہ عبارات ہیں یا رمل اور جفر وغیرہ کے زائچے اور اعداد ہیں تو اس کے شرک اکبر ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں ۔ کسی عامل نجومی سے لئے گئے تعویذ میں عام طور پر ایسا ہی شرک (اکبر) ہوتا ہے۔ محدث شمس الحق عظیم آبادی عون المعبود میں لکھتے ہیں : ”(ان الرقی و التمائم و التولۃ) شرک ۔ یعنی ان میں سے ہر ایک( آدمی کو)شرک تک پہنچا دیتا ہے ۔ چاہے تو شرک جلی ہو اور چاہے شرک خفی“ (عون المعبود شرح سنن ابی داؤد ۔ حدیث نمبر 3385) ************** رہ گیا قرآنی تعویذ تو اس کو اوپر مذکور ”تمائم“ کی ذیل میں درج کرتے ہوئے شرک اصغر کہنا تو بہرحال صحیح نہیں ۔ رہا یہ کہ قرآنی تعویذ جائز ہیں یا ناجائز تو اس معاملے میں صحابہؓ کے دور سے لے کر اختلاف ہوتا آیا ہے ۔ جب ایسا ہے تو کسی ایک فریق کو دوسرے پر ، قرآنی تعویذات ، کے معاملے میں ملامت نہ کرنی چاہیے ۔ علامہ سلیمان بن عبداللہ لکھتے ہیں : ” جان لو کہ علماءصحابہؓ ، تابعینؒ وما بعد کے اہل علم نے ایسے تعاویذ کے جائز ہونے یا نہ ہونے کی بابت اختلاف کیا ہے جو قرآنی آیات اور اللہ تعالیٰ کے اسماءوصفات پر مشتمل ہوں ۔ ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ جائز ہے ۔یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کا قول ہے ۔ عائشہ ؓ سے جو روایت آتی ہے اس سے بھی یہ ظاہر ہے ۔ یہی قول ابو جعفر باقر کا اور ایک روایت میں امام احمد کا ہے ۔ ان لوگوں نے (مذکورہ بالا )حدیث کوشرکیہ تمائم پر محمول کیاہے ۔ رہے وہ تعویذ جس میں قرآن لکھا ہو یا اللہ کے اسماءوصفات ہوں تو (ان اہل علم کے نزدیک ) یہ ویسے ہی ہے جیسے قرآن یا اللہ کے اسماءو صفات کا دم کرنا۔ میں (سلیمان بن عبداللہ) کہتا ہوں: یہی امام ابن قیم ؒ کے اختیار کردہ موقف سے ظاہر ہے ۔ ” جبکہ صحابہؓ کی دوسری جماعت کا قول ہے کہ یہ ناجائز ہے ۔ یہ عبداللہ بن مسعودؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے ۔ حضرت حذیفہؓ ، عقبہ بن عامرؓ اور ابن عکیمؓ کاظاہر قول بھی یہی ہے ۔ تابعین کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے جن میں عبداللہ بن مسعودؓ کے اصحاب شامل ہیں “ (تیسیر العزیز الحمید ص731 ) ************** کاہن (نجومی ،سادھو وغیرہ )کے پاس جانا عن بعض ازواج النبی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:” من اتی عرافاً فسالہ عن شیءلم تقبل لہ صلۃ اربعین لیلۃ ( رواہ مسلم ) بعض ازواج مطہراتؓ (حفصہؓ) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص کسی عراف (ایک قسم کا کاہن ) کے پاس جاتا ہے اور اس سے کسی( گمشدہ ) چیز کا پوچھتا ہے چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی “ و عن ابی ھریرۃؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ” من اتی کاھناًفصدقہ بما یقول فقد کفر بما انزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم “ (رواہ احمد و ابو داؤد و الترمذی والنسائی وابن ماجۃ ) ”ابو ھریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص کاہن کے پاس جاتا ہے اور ا س کی بات کو سچ سمجھ لیتا ہے تو اس نے محمد ﷺ پر جو اترا اس کے ساتھ کفر کرلیا“ شیخ سلیمان بن عبداللہ لکھتے ہیں : ”جس حدیث میں چالیس روز نماز قبول نہ ہونے کی وعید ہے اس میں کاہن کی خبر کو سچ مان لینے کا ذکر نہیں ۔البتہ وہ احادیث جس میں ایسے شخص پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے تو وہ اس بات سے مقید ہیں کہ آدمی نے کاہن کی خبر کو سچ مان لیا ہو “ (تیسیر العزیز الحمید ص 358) چنانچہ اگر کوئی شخص کاہن یا نجومی کی خبر کو اس انداز سے سچ مانتا ہے کہ یہ غیب کا علم جان سکتا ہے اور جو یہ بتائے وہ ضرور سچ ہے تو وہ تو شرک اکبر ہے ۔ البتہ نجومی سے محض پوچھنا اور اس کی بتائی ہوئی بات سے دل میں کچھ بیٹھ جانا شرک اصغر ہو سکتا ہے بشرطیکہ آدمی اس پر یقین نہ کرے ۔ (دیکھیے تحفۃ الاحوذی بسلسلہ حدیث نمبر 125) یاد رہے کہ شرک اصغر سے اجتناب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کی نسبت کہیں بڑھ کر لازم ہے ۔ رہا یہ کہ کوئی شخص ایک کاہن یا نجومی کو جھوٹا ثابت کرنے اور اس کا پول کھولنے کیلئے اس سے کچھ پوچھے تو یہ اس حدیث میں مذکور ممانعت میں نہیں آتا بلکہ بعض حالات میں اس کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ (دیکھیے القول المفید علی کتاب التوحید مؤلفہ محمد بن عثیمین باب 25) ********* شرک اصغر تیسری صورت : قلبی اعمال جو شرک اصغر ہیں دل کے ارادوں میں اللہ وحدہ لا شریک کے ساتھ کسی اور کی شرکت ہو جانا اس بات سے خبردار رہنا توحید کا ایک بڑا موضوع ہے ۔ قلب سلیم وہ ہے جو شرک اکبر سے ہی نہیں شرک اصغر سے بھی پاک رہنے کیلئے کوشاں ہو۔ امام ابن القیمؒ کہتے ہیں: ”جہاں تک ارادوں اور نیتوں میں پائے جانے والے شرک کا تعلق ہے تو یہ ایک بحر نا پیدا کنار ہے ۔ کم ہی کوئی اس سے بچ پایا ہوگا ۔ پس جس شخص کا مقصود خدا کا چہرہ پانے اور اس کی قربت چاہنے کے سوا کچھ ہوا ، جس نے خدا کے سوا کسی سے بدلہ پانے کی طلب کی وہ نیت و ارادہ کے شرک میں واقع ہوا۔اخلاص یہ ہے کہ انسان اپنے اقوال ، اپنے افعال ، اپنے ارادے اور اپنی نیت کو اللہ کیلئے خالص کر لے ۔یہ ہے حنیفیت ۔ ملت ابراہیمؑ“ (الجواب الکافی : 159) یہاں بعض قلبی افعال ، جو کہ عموماً شرک اصغر کے ذیل میں ذکر کئے جاتے ہیں، کا کچھ بیان کیا جاتا ہے ۔ **************** ریا ریا، یعنی عبادت میں دکھلاوا ، اسکے شرک اصغر ہونے کی حدیث پیچھے گذر چکی۔ آدمی رب العالمین کی عبادت کرتا ہے تو رب العالمین سے ہی اس کا صلہ چاہتا ہے ۔ مومن کا صلہ کیا ہے؟ کہ مالک اس سے خوش ہو جائے اور اس کے نیاز بندگانہ کو ایک شرف قبولیت بخشے ۔ البتہ یہ کہ آدمی عبادت تو کرے خالق کی مگر صلہ مخلوق سے چاہے اور ستائش و مقبولیت کا لوگوں سے تقاضا کرے تو یہ شرک اصغر ہے ۔ ریا کے باعث یہی نہیں کہ عمل کی خدا کے ہاں مقبولیت متاثر ہوتی ہے بلکہ شرک اصغر خود گناہ عظیم ہے ۔ ریا کرتے ہوئے گویا آدمی ایک نیک عمل کے اندر ایک بد عمل کر رہا ہوتا ہے ۔ پس ایک عمل جو مخلوق کو متاثر کر رہا ہوتا ہے اور بسا اوقات مخلوق پر اس کی دھاک بیٹھی ہوتی ہے ، خد اکے ہاں بے قیمت ہو تاہے اور بسا اوقات تو آدمی کو خدا کی ناراضگی مول لے کر دیتا ہے ۔ عن ابی ھریرۃؓ ، قال : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : ”ان اول الناس یقضی یوم القیامۃ علیہ رجل استشہد فاتی بہ ، فعرفہ نعمہ ، فعرفھا ، قال: ”فما عملت فیھا ؟“ قال: قاتلت فیک حتی استشہدت ۔ قال: کذبت ۔ ولکنک قاتلت لان یقال جری، فقد قیل “ ثم امر بہ فسحب علی وجھہ حتی القی فی النار ۔ ورجل تعلم العلم و علمہ وقرا القرآن فاتی بہ ، فعرفہ نعمہ ، فعرفھا ، قال: فما عملت فیھا؟ “ قال: تعلمت العلم و علمتہ و قرات فیک القران ۔ قال:کذبت۔ ولکنک تعلم العلم لیقال عالم و قرات القرآن لیقال ھو قاری ۔ فقد قیل “ ثم امر بہ فسحب علی وجھہ حتی القی فی النار۔ و رجل وسع اللہ علیہ و اعطا ہ من اصناف المال کلہ فاتی بہ ، فعرفہ و نعمہ ، فعرفھا ، قال: ”فما عملت فیھا ؟ قال: ما ترکت من سبیل تحب ان ینفق فیھا الا انفقت فیھا لک ۔ قال: ”کذبت ۔ ولکنک فعلت لیقال ھو جواد، فقد قیل “ ثم امربہ فسحب علی وجھہ ثم القی فی النار ۔ (رواہ مسلم) ”ابو ھریرۃ ؓ سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ”قیامت کے روز جس شخص کے خلاف فیصلہ دیا جائے گا وہ شخص ہو گا جس نے( بظاہر ) شہادت پائی ۔ اسے لایا جائے گا ۔اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یادکروائے گا۔ وہ شخص اعتراف کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تم نے ان نعمتوں کا کیا حق ادا کیا ؟ وہ کہے گا : میں نے تیری خاطر قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہوا۔ خدا فرمائے گا : ”جھوٹ۔ تم تو لڑے اس لئے کہ کہا جائے بہادر ہے ۔ اور بہادر تم کو کہہ دیا گیا “ پھر حکم ہوگا اور وہ منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ (دوسر ا) شخص وہ ہوگا جس نے علم پڑھا اور پڑھایا اور قرآن کا قاری رہا ۔ اس کو لایا جائے گا ۔ خدا اس کو اپنی نعمتیں یاد کروائے گا ۔ وہ اعتراف کرے گا ۔ خدا پوچھے گا : ”تو پھر ان نعمتوں کا تم نے کیا کیا؟ “ وہ کہے گا : میں نے علم پڑھا ۔ لوگوں کو پڑھایا ۔ قرآن کا قاری رہا۔ تیری خاطر ۔ خد افرمائے گا : ”جھوٹ ۔ تم نے تو علم پڑھا تاکہ کہا جائے ’یہ عالم ہے ‘ اور قرآن پڑھا تاکہ کہا جائے’قاری ہے ‘ اور عالم او ر قاری تم کو کہہ دیا گیا “ پھر حکم دیا جائے گا ۔ وہ شخص منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ (تیسرا ) شخص ہو گا جس کو خدا نے بہت آسودہ کیا تھا اور طرح طرح کے مال و دولت سے نوازا تھا ۔ اسے لایا جائے گا ۔ خدا اس کو اپنی نعمتیں یاد کروائے گا ۔ وہ اعتراف کرے گا ۔ خدا اس سے پوچھے گا : ”ان نعمتوں کا تم نے کیا کیا ؟ “ وہ عرض کرے گا : میں نے کوئی ایسی مد نہیں چھوڑی جس میں تجھے خرچ کرنا پسند ہو ۔ میں نے ہر طرح سے تیری راہ میں مال خرچ کیا ۔ خدا فرمائے گا : جھوٹ۔ وہ تو تم نے اس لئے کیا کہ تمہیں سخی کہا جائے اور وہ تمہیں کہہ دیا گیا “ پھر حکم ہو گا ۔ اس کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا “ حسبنا اللہ و نعم الوکیل ۔ آدمی نیکی کرتا رہ جائے اور وہ گناہ لکھا جائے ۔ کرے نیکی اور خمیازہ جہنم۔ بھائیو! خدا کسی کو نیکی کی ہمت دے تو ساتھ اخلاص ضرور دے۔ ورنہ نیکی ہی سوہان روح بنے گی۔ ************** ریا کی ایک تو وہ صورت ہے جو نفاق اکبر ہوتی ہے ۔ یعنی آدمی خدا کی عبادت سرے سے نہ کررہا ہو بلکہ سیدھا سیدھا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہو۔دل میں ویسے ہی اللہ اور رسول اور آخرت پر ایمان نہ ہو۔ جیسا کہ منافقین کا حال تھا ۔ یہ تو ظاہر ہے شرک اصغر نہیں۔ البتہ ایک مسلمان جب ریا کرے تو وہ شرک اصغر کہلائے گا۔ ریا کے متعدد درجے ہیں۔ کچھ بہت مہلک ہیں اور کچھ نسبتاً کم ۔ خدا ہی ہم کو ہر انداز کی ریا سے محفوظ رکھے ۔ امام عبدالرحمن بن رجب حنبلی اپنی کتاب جامع العلوم والحکم میں اور امام احمد بن قدامہ مقدسی اپنی کتاب منہاج القاصدین میں ریا کے مراتب بیان کرتے ہیں ۔ یہاں ہم انہیں اپنی زبان میں بیان کریں گے : ریا کا بد ترین درجہ : یہ کہ عبادت سے آدمی کا مقصد سرے سے خدا کی خوشنودی او ر ثواب نہ ہو ۔ مثلاً آدمی محض لوگوں کے دکھانے کو نماز پڑھے ۔ یوں کہ لوگ نہ دیکھیں تو یہ سرے سے نماز ہی نہ پڑھے گا ۔ امام ابن رجب کہتے ہیں یہ قریب قریب منافقین ایسا معاملہ ہے اور ایسے ہی لوگوں پر اس آیت کا اطلاق ہوتا ہے فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ۔ ایسے شخص کا عمل یقینا برباد ہے اور وہ خدا کے غضب اور عقوبت کا مستحق ہے ۔ اس سے کم تر درجہ : یہ کہ آدمی عمل تو خدا کیلئے کرے مگر اس میں لوگوں کا دکھلاوا بھی شامل ہو۔ البتہ اس کی دو صورتیں ہیں : دکھلاوے کی نیت اگر اساس سے شامل ہو تو صحیح نصوص سے جو ثابت ہے وہ یہی کہ ایسا عمل بھی باطل ہے اور اکارت ۔ صحیح مسلم میں ابو ھریرۃ ؓ سے روایت ہے (حدیث قدسی): انا اغنی الشرکاءعن الشرک ۔ من عمل عملاً اشرک معی فیہ غیری ترکتہ و شرکہ۔ ”شرک کی نسبت میں شریکوں میں سب سے بے نیاز ہوں ۔کوئی شخص عمل کرے اور اس میں میرے ساتھ غیر کو شریک کردے تو میں اس کو بھی چھوڑ دیتا ہوں اور اس کے ( ڈالے ہوئے) اس سانجھ کو بھی “ اس سے کم درجہ : یہ کہ آدمی کا عمل خدا کیلئے ہو اور دکھلاوے کی نیت اساس سے شامل نہ ہو بلکہ عمل کے دوران کہیں نمودار ہو جائے ۔ اس کا محض آجانا نقصان دہ نہیں ۔ ایسی سوچ یا خیال کو آدمی جھٹک دے تو علمامیں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ ہرگز ضرر رساں نہیں ۔ ہاں اگر یہ کیفیت جاری رہے تو کیا آدمی کا عمل اکارت ہو جاتا ہے یا آدمی کو اپنی ابتدائی نیت کا ثواب ملتا ہے ؟ اس معاملہ میں علما ءسلف میں اختلاف ہوا ہے جسے کہ امام احمد ؒاورامام طبریؒ نے بیان کیا ہے ۔ ابن رجب کہتے ہیں درست یہ ہے کہ ایسے آدمی کا عمل باطل نہیں ہوتا اور اس کو اپنی پہلی نیت کی بنیاد پر ثواب ملتا ہے ۔ امام ابن قدامہ ؒ کہتے ہیں ایسے شخص کو اپنے نیک قصد کا ثواب ملے گااور باطل قصد کا گناہ ۔ مراد یہ کہ اس کا عمل سرے سے باطل نہیں ۔ رہا یہ کہ آدمی کی دکھلاوے کی ہرگز کوئی نیت اور خواہش نہ ہو مگر لوگوں میں اس عمل کی قدر ہو تو یہ حرج کی بات نہیں ۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تلک عاجل بشری المؤمن ”یہ مومن کیلئے پیشگی بشارت ہے“ *************** کچھ قلبی کیفیات ، جو کہ شرک اصغر ہیں ، اس سے پہلے ہم شرک اکبر کے بیان کے دوران بھی ذکر کر آئے ہیں ۔ یہاں چند جملوں میں ان کا اعادہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ دیگر امور کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ دنیا کا بندہ ہونا: روپے پیسے اور دولت کا پجاری ہوناشرک میں شمار کیا گیا ہے ۔ اسی لئے ایسے آدمی کو رسول اللہ ﷺ نے عبدالدرہم عبدالدینا ر اور عبدالقطیفہ کہا ہے ۔ یعنی روپے پیسے کا پجاری اور اعلی پوشاک کا بندگی گذار ۔ دنیا کی زینت و آسائش کیلئے آدمی کادل نکل نکل جاتا ہو اور اس کیلئے صبح شام حسرتیں پالتا ہو ۔ (يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ ) کسی کو دولت و آسائش میں کھیلتا دیکھے تو ٹھنڈی آہ بھرے ۔ دولت کو سلام کرے ۔دنیا کو اعلی سمجھے اور آخرت کو ادنی ۔ گو زبا ن سے ایسا نہ کہے مگر دل میں آدمی کے بس دنیا ہی بستی ہو ۔ یہ سب کچھ خداکی تعظیم کے منافی ہے ۔ اس سے ارادہ و قصد کے اندر خدا کی یکتائی متاثر ہوتی ہے ۔ یہ ایک حد سے گذر جائے تو شرک اکبر بھی ہے ، جیسا کہ پیچھے گذر چکا ۔ بصورت دیگر شرک اصغر ۔ دنیا کی طلب بری نہیں بشرطیکہ خداکی طلب کے تابع رہے ۔ ارب پتی ہونا حرج کی بات نہیں۔ صحابہؓ میں بڑے بڑے دولت مند ہوئے ۔ کاروبار میں صبح شام مصروف رہنا غلط نہیں ۔ آدمی دنیا کا مالک ہو ، کچھ حرج نہیں ۔ مگر دنیا آدمی کی مالک ہو اور آدمی دنیا کا اسیر ، اس کی مومن کو اجازت نہیں۔ دنیا ہاتھ میں رہے بے شک رہے البتہ دل میں بسے ، یہ بات رب العالمین کے مقام کے ساتھ متصادم ہے ۔ وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (الشعراء: 89۔87) ”خدایا ! اس روز مجھ کو رسوا نہ کیجیؤ جب مرے ہوئے زندہ کئے جائیں گے ۔ وہ روز کہ جب مال نہ اولاد کچھ کام نہ آئے گی ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو“ اطاعت میں شرک اصغر : غیراللہ کی اطاعت کرنااور اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنا اس طرح کہ آدمی اللہ کی شریعت کو ہی بدستور حق مانتا ہو اور غیراللہ کے قانون و شریعت کو باطل مانتا ہو ۔ مثلاً ایک شرعی عدالت کے قاضی کا کسی رشوت یا دنیوی مفاد کی خاطر شریعت کے حکم کے خلاف فیصلہ دے دینا۔ کسی نیک ہستی کی محبت میں غلو : کسی نبی یا ولی کو حد درجہ بڑھا چڑھا دینا اور اس کی شان میں ایسے الفاظ اور تعبیرات لے آنا جو خالق اور مخلوق کے معاملہ میں ذومعنی ہوں۔ یعنی مخلوق کیلئے ان الفاظ کے استعمال کی تاویل بھی ہوجاتی ہو مگر اس سے وہ معانی بھی صاف جھلکتے ہوں جو صرف خالق کے شایان شان ہوں ۔ اردو نعت میں یہ انداز عام ہے ۔ چنانچہ بہت سی نعتیں اور بزرگوں کی شان میں کہے گئے قصیدے اور بعض اوقات شاہوں اور دولتمندوں کی شان میں پڑھے گئے قصیدے ایسے ہوتے ہیں جو اگر شرک اکبر قرار دیے جانے سے بچ جائیں تو شرک اصغر تو ضرور ہی ہوتے ہیں ۔ بعض علماءنے عبدالرسول یا عبدالنبی یاعبدالجیلانی ایسے نام رکھنا بھی شرک اصغر شمار کیا ہے۔ کیونکہ عبد کامطلب عربی میں غلام بھی ہے اور اسی معنی میں یہ قرآن مجید میں ذکر بھی ہوا ہے (وَأَنكِحُوا الْأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۔النور32 ) مگر اس کا مطلب بندہ یا بندگی کرنے والا بھی ہے اور عبداللہ ، عبدالرحمن کی طرز پر یہ ایک طرح سے خدا کی مضاہۃ بھی ہے ۔ لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے ۔ غلام کا لفظ گو عبد جتنا شدید نہیں مگر پھر بھی غلام نبی یا غلام حسین ایسے نام رکھنے سے اجتناب کرنا چا ہیے ۔ ’عشق ‘کا مرض اور شرک : حدیث میں اگر ایک شخص کو عبدا لدرہم اور عبدالدینار کہہ کر اس کی مذمت کی گئی ہے تو یہ معاملہ دراصل درہم و دینار کے ساتھ خاص نہیں ۔ کوئی شخص عین یہی حیثیت عورت کو دے دے ، جیساکہ ’عشق ‘ کا دم بھرنے والے لوگ کرتے ہیں ، تو یہی حکم اس کا ہوگا ۔ بلکہ بسا اوقات اس سے بھی بڑا ۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ اسی عبدالدرہم اور عبدالدینار والی حدیث کااطلاق ’عاشقوں‘ پر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”عبادت کی بنیاد محبت ہے ۔ محبت گو ایک وسیع جنس ہے اور اس کے نیچے بہت سی انواع درج ہوتی ہیں ، البتہ وہ سب محبوبات و مرغوبات جو آدمی سے غیراللہ کی تعظیم کروا دیں شریعت کا اس پر لفظ تعبد کا اطلاق کرنا ثابت ہے “ (قاعدۃ فی المحبۃ مولفہ امام ابن تیمیہ ص75) مزید لکھتے ہیں : ” انسان کا کسی مخلوق کی محبت میں بے حال ہو کر خدا کے ماسوا کسی ہستی کیلئے ہو جانا یوں کہ اس کا مِل جانا اس کیلئے سب کچھ ہو اور وہ نہ ملے تو ایک حالت زار ہو (جتنی یہ کیفیت ہو گی ) اسی کیفیت کے بقدر اس میں (اس چیز کا) تعبُّد پایا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے ہاں عشق کے باقاعدہ مراتب پائے جاتے ہیں(یہاں امام صاحب ’عشق‘ کے وہ مراتب بیان کرتے ہیں ) چنانچہ حسین صورتوں کے عشق میں گرفتار عاشق (ایک مرحلے میں جاکر ) اپنے معشوق کا عبد ہوتا ہے۔ “ (قاعدۃ فی المحبۃ ص 75) اس کے بعد یوسف علیہ السلام کے قصے کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں: کہ قرآن کی رو سے یوسفؑ کی عفت کا راز یہ تھا إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ (یوسف: 24)یعنی ”وہ ہمارے ان بندوں میں سے تھا جو(ہماری محبت اور تعظیم اور عبادت کیلئے )خالص کرلئے گئے “ جبکہ دوسروں کے بارے میں فرمایا: إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ (النحل :100) ”شیطان کااختیار تو انہی پر چلتا ہے جو خود اس کے دوست بنتے ہیں “ چنانچہ دراصل یہ اس شخص کی بدقسمتی ہے جس کو خد ا کی محبت اور تعظیم کیلئے خالص نہ کیا گیا (اس کے کسی ٹیڑھ پن کے باعث) اور شیطان کی رفاقت کیلئے چھوڑ دیا گیا۔شیطان تو وہ ہے جس نے خم ٹھونک کر قسم کھائی تھیلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (ص : 83۔82) ”میں ان سب کے سب کو غی (گمراہی ) میں پہنچا کر رہوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جو (تیری محبت اور تعظیم اور عبادت کیلئے ) خاص کرلئے گئے ۔“ جبکہ غی یہی ہے کہ آدمی خواہشات اور شہوات کی امامت میں زندگی گذارے ۔ اب جن بدقسمتوں کو شیطان کا رفیق اور ہمدم بننے کیلئے چھوڑ دیا گیا یہ وہی تو پسند کریں گے جو شیطان کو پسند ہے ۔ (قاعدۃ فی المحبۃ ص 79تا 76) آگے چل کر امام صاحب صراحت کرتے ہیں کہ: ’عشق ‘ کی ان منزلوں کو سر کرتے جانا کسی مرحلہ میں شرک اصغر ہوتا ہے تو کسی مرحلہ میں شرک اکبر (ص 80) امام ابن القیمؒ لکھتے ہیں : ”حسین عورتوں کی محبت میں بے حال ہو نا درحقیقت انسان کی درماندگی کا سبب ہے ۔ انسان اس کے سبب خیر سے بالکل ہی تہی دامن رہتا ہے ۔ ایسے انسان کی اصل درماندگی یہ ہے کہ یہ اس ذات سے ناواقف رہتا ہے جس کی محبت کے بغیر نہ وہ دنیا میں کہیں کا اور نہ آخرت میں ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ جو شخص اس ذات کبریائی کی محبت اور چاہت سے ناآشنا رہنے کا فیصلہ کرتا ہے اور جہانوں کے رب سے ملنے کا شوق دل میں نہیں بساتاالہ العالمین کی جانب سے اس کو سزا یہ ملتی ہے کہ اس کو پھر وہ اوروں کی محبت میں گرفتار کروادے ۔ دنیا میں وہ اس کو یوں سزا دیتا رہے (کہ وہ کسی فانی مورت کی محبت میں انگاروں پر لوٹتا رہے ) برزخ میں اور سزا دے اور پھر آخرت میں اور بھی سزا۔“ (الجواب الکافی لمن سال عن الدواءالشافی ص 216) جدید مغربی ادب میں پچھلی چند صدیوں کے اندر ’محبت ‘ اور ’رومانس ‘ کا ایک خاص تصور پروان چڑھا یا گیا اور وہ اس لئے کہ اب پرانے بت بڑی حد تک متروک ہو گئے تھے ۔ یہاں تک کہ یونان کی پرانی خرافات Greek mythology کے گڑے مردے تک اکھا ڑے گئے اور یونان کے کچھ مردہ خداؤں تک میں روح ڈالنے کی کوشش کی گئی ۔ عید محبت ( valentine ) کی یادگار اسی یونانی بت Cupid کی مورت نشر کی جاتی ہے ۔ چنانچہ محبت کی ’تألیہ ‘ یعنی محبت کو خدا کا روپ دینا طرح طرح سے جدید مغربی ادب میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ حتی کہ آرٹ پورے کا پورا محبت کی زبان قرار دیا گیا ۔ کبھی’مجرد ‘انداز میں اور کبھی ’مجسم ‘ انداز میں انسانی شعور کو ’محبت‘ کے آگے سجدہ کروایا گیا۔ یہاں تک کہ ’محبت‘ ایک باقاعدہ مذہب اور بذات خود ایک ’دین ‘ کی حیثیت اختیار کر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ شرک(اکبر) کی یہ ایک واضح ترین صورت ہے ۔ ادھر ہمارے مشرق کے اکثر شاعر اور ادیب جن کو یہاں ’دانش ‘ اور ’آگہی‘ کی رمز جانا گیا ادب کے عالمی رحجانات میں دراصل لکیر کے فقیر ہی رہے ۔ یہ بدترین انداز کے مقلد تھے ۔ بلکہ ان میں سے بہت سوں کے بارے میں تو اگر یہ کہا جائے کہ ان کا ادب یورپی ادب کے ٹکڑوں پر پلاتو ہرگز بے جانہ ہوگا۔ چنانچہ وہی یورپی ’فلسفئہ محبت‘ جو کہ واضح ترین الحاد ااور شرک تھا ان ظالموں نے ویسے کا ویسا اپنے یہاں لاکر ڈھیر کردیا ۔ فحش ادب کے علمبردار شیاطین کے خاص آلہ کار تھے ۔ روسیاہی کو ان کی زبان اور ان کے قلم قوم کے ذہن و شعور میں گہرا اتارنے اور معاشرے کی پہچان بنانے کی کوشش کرتے رہے اور اس کو روشن خیالی اور جدید رحجانات کا نام دیتے رہے۔ چنانچہ یہ ’محبت‘ اور رومانس کی تألیہ کا مذہب اس دور میں بہت عام ہوا ہے اور ہمارے معاشرے بھی اس سے پاک نہیں رہ سکے۔ محبت کو ’امر‘ کہنا اس مذہب کا ایک طبعی تقاضا تھاکیونکہ جس چیز کو آپ خدائی کے منصب پر بٹھاتے ہیں اسکے لئے موت اور فنا اور زوال ایسے الفاظ آپ کو تکلیف دینے لگتے ہیں۔ بلاشبہ ہمارے یہاں بھی قدیم سے یہ مذہب پایا گیا ہے لیکن اس دور میں اس کی نشوونما کا منبع وہ ذہن رہا ہے جو پرانے خداؤں کو ترک کردینے کے بعد اب نئے خداؤں کا متلاشی تھا یا کم از کم ان خداؤں کا جن پر ’مذہبی طبقہ ‘ کا اجارہ نہیں ۔ یوں لوگ’ عبادت ‘کی فطری ضرورت بھی پوری کریں گے اور ’مذہبی رسوم ‘سے بھی بے نیاز رہیں گے ۔ حلال و حرام بھی اس مذہب کے اپنے ہوں گے ! (جو کہ یہاں کے ناولوں ، افسانوں اور شعری مجموعوں میں عام دیکھا جاسکتا ہے ) چنانچہ جدید ادب جس ’محبت‘ کا سبق دیتا ہے اس میں دین ، مذہب ، رسم، رواج ، سماج ، اقدار سب سے بغاوت ہے ۔ رسم رواج ہمارا درد سر نہیں ۔ البتہ یہ لوگ کمال شیطنت سے کام لیتے ہوئے ’دین ‘ اور ’رسم ‘ کو ایک خانے میں رکھتے ہیں اور اپنی شیطانی انداز کی ادبی فصاحت میں ان سب کو ایک ہی تدبیر سے ملیامیٹ کرتے ہیں ۔ حتی کہ وہ سماجی اقدار جو ایک مسلم معاشرے کو اسلام نے دے رکھی ہیں ، حتی کہ جو اقدار غیر مسلم معاشروں کو انبیاءکی شریعتوں کے باقیات کے باعث ملی ہوئی ہیں ’سماج ‘ کے پردے میں ان کے خلاف اعلان جنگ کرنا خالصتاً ابلیسی عمل ہے ۔ چنانچہ وہ ’محبت‘ اور ’رومانس ‘ اور ’پریم‘جو آج کے شعری اور نثری ادب میں عموماً پیش کیا گیا ہے وہ تو بلاشبہ شرک اکبر کا ایک بدترین نمونہ ہو سکتا ہے ۔ البتہ عوام الناس میں یہ شرک مختلف درجوں میں پایا جاسکتا ہے۔ کسی کے حق میں ہو سکتا ہے یہ شرک اکبر ہو ۔ کسی کے حق میں شرک اصغر اور کسی کے حق میں محض گناہ ۔ حقیقت اپنے آپ کو چھپا کر نہیں رکھ سکتی ۔ یورپ کے رومانوی(Romantic) ادب میں لڑکے یا لڑکی کا ایک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہنے کیلئے ایک لفظ بہت عام ہوا ہے : He worshipped her !! دیکھتے ہی دیکھتے عربی ادب میں بھی اس کا بے تحاشا استعمال ہونے لگا ۔ چنانچہ ناولوں میں عام لکھتے ہیں : عبدتھا ۔صارت معبودتی۔ یہاں کے ’تخلیقی ادب‘ لکھنے والوں کا بھی اس تقلید کے بغیر کیسے گذارا ہوتا چنانچہ اردو ادب میں بھی یہ انداز عام ہوا ۔ لڑکے کی زبان سے عام کہلوایا جاتا ہے کہ : میں نے اس کو بہت پوجا !! اب کیا باقی ہے ؟؟؟ اس ادب میں رب العالمین کا کیا مقام ہے ؟ اس بات کا تعین کیا کوئی مشکل ہے ؟؟؟ خوف میں شرک اصغر : یہ غیراللہ کے خوف کی وہ صورت ہے جس میں انسان لوگوں کے خوف سے خدا کی طرف سے عائد کسی فرض کو چھوڑ بیٹھے ۔ (فتح المجید ص 344) یعنی آدمی حق بات کہتے ہوئے کسی سے ڈرے کہ وہ اس امر میں جس میں خدا نے بظاہر اس کو طاقت دے رکھی ہے اس کا کوئی نقصان نہ کردے ۔ اور یوں کسی مخلوق کی مادی طاقت کے خوف سے اپنا کوئی شرعی فرض ترک کردے۔ توکل میں شرک اصغر : مافوق الفطرت اسباب کے معاملے میں کسی مخلوق پر سہارا کرنا تو شرک اکبر ہے۔ البتہ اسباب ظاہر کے معاملہ میں کسی مخلوق پر سہارا کرنا شرک اصغر ۔ (فتح المجید ص 353) اسباب ظاہرہ جن کو خدا نے کچھ خاص نتائج کے حصول کا عمومی ذریعہ بنایا ہے ، دراصل انسان کے خد ائے رب العالمین پر مطلق یقین کا امتحان بھی ہیں ۔ ان اسباب پر سہار ا ایک تو اس انداز کا ہے جو مادیت پرست تہذیبوں کے اندر پایا جاتا ہے ۔ اس کا شرک اصغرہونا ہم پیچھے’ربوبیت کے باب میں شرک اکبر‘ کے مبحث میں واضح کر آئے ہیں ۔ ان اسباب کو مستقل بالذات انداز میں مؤثر ماننا بلاشبہ شرک اکبر ہے ۔ البتہ ان ظاہری اسباب کو مستقل بالذات مؤثر تو نہ ماننا اور ان پر رب العالمین کی قوت اور قدرت کو تسلیم کرناآدمی کو شرک اکبر سے تو نکال لاتا ہے مگر ان پر سہارا اور بھروسہ کرنا پھر بھی جائز نہیں ۔ یہ جب خدا کی طرف سے ہیں تو مومن کا سہارا پھر خدا پر ہے جو کہ اسباب کا خالق ہے ،نہ کہ اسباب پر جو کہ اسکی عاجز مخلوق ہیں ۔ اس معاملہ میں یقین کا ضعف جو آدمی کو اسباب سے وابستہ کرتا ہے اور مسبب الاسباب سے غافل کرنے لگتا ہے ، ایک درجہ کو پہنچ کر شرک اصغر بنتا ہے اور اگر رب العالمین سے یکسر غافل کردے تو ایک مقام پر شرک اکبر بھی ۔ اسباب ظاہرہ کی چند مثالیں : ڈاکٹر ، دوائی ، علاج ، ملازمت ، کھیت ، کاروبار، روپیہ ، روزی کے عوامل ، طبعی قوانین وغیرہ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بعض داعی اور تبلیغ کار احباب جس شرک کا بکثرت رد کرتے ہیں، اور جو کہ بلاشبہ مستحسن ہے ، وہ عموماًشرک اصغر ہے یا پھر شرک خفی ۔ شرک اصغر یا شرک خفی کابیان آدمی کو شرک اکبر اور شرک جلی کے بیان سے غافل کردینے والا بہر حال نہیں ہونا چاہیے ۔ دعا اور نذرونیاز اور اطاعت اور عقیدت کا شرک اس سے بڑا ہے اور کہیں زیادہ مہلک ۔ اس سے بچنے کی دہائی دینا کہیں ضروری ہے۔ ************** خوف ، امید اور توکل کے باب میں ہر قسم کے شرک اور ضُعفِ اعتقاد سے بچنا اور بچنے کی کوشش کرنا ایمان کا ایک اعلی درجہ ہے اور خاص درجہ کی عزیمت چاہتا ہے ۔ یہ بس خدا سے ہی مانگنے کی چیز ہے ۔ عن ابی سعید الخدری مرفوعاً: ان من ضعف الیقین : ان تُرضی الناس بسخط اللہ ، وان تحمدھم علی رزق اللہ ، وان تذمھم علی مالم یؤتک اللہ ۔ ان رزق اللہ لا یجرہ حرص حریص ، ولا یردہ کراھیۃ کارہ (کتاب التوحید باب 31 ، وقد رواہ ابو نعیم والبیہقی، وقد ذکر فیہ ضعف ، قال فی فتح المجید : معنی الحدیث صحیح) ”ابو سعید خدری ؓ سے مرفوعاً روایت ہے : ”یہ بات ضُعفِ یقین میں آتی ہے کہ تم خد اکو ناراض کرکے لوگوں کی رضا چاہو ، اور یہ کہ رزق خدا سے پاؤ تو ا س پر تعریف انسانوں کی کرو ، اور یہ کہ خدانے ہی تم کو جو چیز نہیں دی اس پر تم لوگوں کو مذموم ٹھہراؤ۔ خد اکارزق نہ کسی حریص کے حرص لئے آتا ہے اور نہ کسی بدخواہ کے بدخواہی کئے رکتا ہے “ اللہم انا نسئلک لذۃ الایمان ****************
شرک خفی شرک کی تیسری قسم شرک خفی ہے یعنی’ پوشیدہ اور غیر محسوس شرک‘اس کی دلیل رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث ہے ۔ الشرک فی ھذھ الامۃ اخفی من دبیب النملۃ السوداءعلی صفۃ سوداءفی ظلمۃ اللیل۔ [روی موقوفاً علی ابن عباس فی تفسیر ابن ابی حاتم کما ذکرہ ابن کثیر(57/1) بسند حسن انظر النھج السدید ح (462)] ”اس امت میں شرک اس سے بھی کہیں پوشیدہ تر اور غیر محسوس ہو گا جتنا کہ سیاہ چیونٹی کا کسی سیاہ پتھر پر رات کی تاریکی میں چلنا“ اس کا کفارہ حدیث نبوی میں مذکور ہے کہ آدمی یہ کہے اللہم انی اعوذبک ان اشرک بک شیئاوانا اعلم واستغفرک من الذنب الذی لااعلم جزءمن حدیث طویل اخرجہ احمد(76/1) و صححہ الالبانی فی صحیح الجامع(3625)] ” اے اللہ تیری پناہ کہ میں تیرے ساتھ جانتے ہوئے کچھ شرک کروں اور اس گناہ سے میں تیری جناب سے معافی کاخواستگار ہوں جسکا مجھے علم نہ ہو پایا“ شرک خفی آیا شرک اصغر کا ہی ایک وصف ہے یا یہ شرک کی الگ سے ایک قسم ، اس پر ہم پیچھے کچھ بات کر آئے ہیں ۔ مؤلف (محمد بن عبدالوہاب ؒ) نے بہرحال اس کو شرک کی تیسری قسم کے طور پر ہی بیان کیا ہے ۔ پیچھے ہم ابو سعید خدریؓ کی رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت ذکر کر آئے ہیں : ”الشرک الخفی: ان یقوم الرجل یصلی فیزین صلاتہ لما یری من نظر رجل“(ابن ماجۃ) ”شرک خفی یعنی آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہے تو یہ دیکھ کر کہ کسی کی اس پر نظر ہے ، اپنی نماز کو خوشنما بناتا ہے “ عبداللہ بن عباسؓ شرک خفی کے بیان میں کہتے ہیں کہ یہ مثلاًآدمی کا یہ کہنا ہے کہ گھر میں کتا نہ ہوتا تو رات چور پڑ گئے ہوتے ۔ یا یہ کہ فلاں شخص نہ ہوتا تو ویسا اور ویسا نقصان ہو جاتا ۔ (تفسیر ابن کثیر بابت سورۃ البقرۃ آیت ۲۲) چنانچہ غیر محسوس انداز میں زبان کی تعبیرات یا دل کی کیفیات یا عمل کے رویوں میں کسی ایسی چیز کا آجانا جو خدا کی شان وحدانیت کے منافی ہو ، شرک خفی بنتا ہے ۔ اس کو پوشیدہ اس لئے کہا گیا کہ اس کا پتہ چلنا مشکل ہوتا ہے ۔ اس کو شرک خفی کا نام دینے کا یہ اثر ہے کہ مومن اپنے قلبی احساسات ، زبان سے ادا ہونے والے کلمات اور اپنے کردار کی حرکات و سکنات میں توحید کا تحفظ کرے اور شرک کے پاس پھٹکنے تک سے ڈرے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں اس کو بے حد نازک تشبیہہ دی گئی ۔ ایک چیونٹی ۔ پھر اس کی آہٹ ۔ وہ بھی سیاہ چٹان پر اور وہ بھی سیاہ اندھیری رات میں ۔ خدا ہی بچائے تو بچائے۔ ************** ابن قدامہ المقدسیؒ ریا کے خفی پہلوؤں کا ایک بہت ہی مفید بیان کرتے ہیں ۔ یہاں ہم اس کے کچھ پہلوؤں کا اپنے انداز سے اختصار کریں گے : 1۔ آدمی روز ہی تہجد ادا کرتا ہے ۔لیکن کوئی مہمان وغیرہ گھر ٹھہرا ہے تو اس کو اچھا تاثر دینے کیلئے معمول کی بہ نسبت عبادت میں زیادہ تندہی آجاتی ہے ۔ یہ ریا کا خفی حملہ ہے ۔ 2۔ اس سے کم یہ کہ آدمی لوگوں پر اپنی نیکی یا عبادت کو ظاہر بھی نہ کرنا چاہتا ہو مگر لوگوں پر ظاہر ہو جائے تو آدمی ازحد خوش ہو اور یہ بھی خواہش ہو کہ اس کے ظاہر کئے بغیر یہ لوگوں پر ظاہر ہو جائے ۔ اور یہ تو اس سے کہیں برا ہے کہ آدمی اس انداز کا تکلف کرے کہ وہ اپنی نیکی ہرگز ظاہر نہیں ہونے دیتا مگر اس کا یہ تکلف ہی اصل میں ریا ہو ۔ چنانچہ ریا سے بچنے کی ریا،مجرد ریاسے بدتر ہے ۔ 3۔ اپنی نیکی یا عبادت یا دینداری کا، خالق کی بجائے مخلوق سے صلہ چاہنا مختلف انداز رکھتا ہے ۔ آدمی نیک ہے یا دینداری میں کوئی خاص مقام رکھتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس چیز کے باعث لوگ اس کا احترام کریں۔ سلام میں دوسرے پہل کریں کیونکہ یہ دین میں کوئی مقام رکھتا ہے ۔ عقیدت مند ا س کو چیز دیں تو سستی کرکے دیں ۔ توقع کرے کہ سودا لیتے ہوئے کوئی عقیدت مند ہی اس کی جگہ اد ائیگی کردے تو بہتر ہے ! ایسا آدمی عموماً اپنی دینداری کا مول لگواتا ہے ۔ ابن قدامہ کی بیان کردہ یہ بات داعیوں اور دینی قائدوں کی خاص توجہ کی مستحق ہے۔ ’دینداری‘ کا سہار لے کر تعلقات کا ایک جال پھیلا لیا جاتا ہے ۔ ہسپتالوں سے لے کر دفتروں تک ’تعلقات ‘ کام دیتے ہیں ۔ اپنی ’دینداری ‘کاصلہ مخلوق سے طلب کرنے کے ہزاروں انداز ہیں اور ہزا روں مواقع۔ اخلاص یہ ہے کہ آدمی اپنی نیکی یا عبادت یا علم یا دینداری کا صلہ بس ایک خدا سے چاہے اور مخلوق کی جانب سے کلیتاً بے نیاز ہو جائے ۔ یہاں تک کہ لوگوں کا اس کی نیکی پر مطلع ہونا اور نہ ہونا اسکے لئے برابر ہو جائے ۔ 4۔ بدن کو ریا کا ذریعہ بنانا : جسم کو لاغر ظاہر کرناتاکہ محسوس ہو کہ عبادت میں بے حد مگن ہے اور روزوں کا بکثرت معمول ہے ۔ قصداً بال پراگندہ رکھنا تاکہ ظاہر ہو کہ دین کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے اور دین کے کام میں مستغرق ہے ، بال سنوارنے کی اپنے پاس فرصت ہی کہاں ! بعض لوگ پیشانی پر سجدے کے نشا ن کو خاص طور سے ظاہر کرتے ہیں تاکہ عبادت گذاری کا اعتراف ہو۔ 5۔ لباس میں ریا: آدمی کا لباس وغیرہ کے معاملہ میں کوئی ایسا خاص حلیہ اپنانا اور اس مقصد سے اپنانا کہ پتہ چلے ’اللہ لوک‘ ہے ۔ درویش ہے۔ دنیا سے بے نیاز ہے جبکہ دراصل وہ دنیا کو ہی متاثر کر رہا ہو ۔ صحابہؓ اور سلف لباس وغیرہ کے معاملہ میں کوئی خاص حلیہ کبھی نہیں بنا رکھتے تھے ۔ متوسط انداز میں پہننا اور حرام سے بچنا ، مگر لوگوں سے الگ تھلگ نظر نہ آنا ، سلف کا یہی طریقہ تھا۔ 6۔ طرز کلام میں ریا : ایسا طرز تخاطب اختیار کرنا کہ آدمی کا بہت ہی نیک ہونا ظاہر ہو ۔ یا پھر بہت ہی عالمانہ گفتگو کرنا اور بھاری بھر کم الفاظ اور اصطلاحات بولنا اس مقصد سے کہ اپنی علمیت کی لوگوں پر دھاک بٹھادے اور لوگ جانیں کہ اس نے علم کے حصول اور سلف کے احوال سے واقفیت پر کس قدر عرق ریزی کی ہے ۔ لوگو ں میں بیٹھے ہوئے بکثرت لب ہلانا تاکہ معلوم ہو حضرت بکثرت ذکر کرتے ہیں ۔ منکرات وغیرہ کے معاملہ میں غیظ و غضب ظاہر کرتے ہوئے آپے سے باہر ہو کر دکھانا ، اس غرض سے کہ لوگ اس شخص کی دینی حمیت کے معترف ہوں۔ 7۔ چال ڈھال میں ریا: چلنے میں یا نشست و برخاست کے اندر تکلفاً شدید عاجزی اور انکساری ظاہر کرنا۔ 8۔ سماجی انداز کی ریا: بڑے بڑے اہل علم اور اہل فضل سے تعلقات رکھنا اور پھر ان تعلقات سے لوگوں کو متاثر کرنا۔ کسی بڑی شخصیت کو گھر میں دعوت دینا تاکہ کہا جائے اس کے گھر تو فلاں فلاں اصحاب ہو کر جاتے ہیں لہذا یہ خود بھی دینداری میں یا صاحب فضل ہونے میں کچھ کم نہیں ۔ اسی طرح آدمی کا کثرت شیوخ ظاہر کرنا ، اس غرض سے کہ لوگ محسوس کریں کہ اس آدمی نے طلب علم یا طلب حدیث یا جستجوئے حق میں کس قدر محنت کررکھی ہے ۔ 9۔ریا کے پیچھے تین جذبے کار فرما ہوتے ہیں ۔ ان سے ہر وقت خبردار رہنا چا ہیے : دنیا سے ستائش اور پزیرائی پانا لوگوں کی مذمت اور ملامت سے فرار پانا لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس کی لالچ کرنا ابن قدامہ ؒ کہتے ہیں ریا کے شجر کی یہ تین جڑیں ہیں ۔ آدمی ان کے کاٹنے پر محنت کرلے تو ریا سے بچنا اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور آدمی کا مقصود تب صرف خدا کی ذات ہوتی ہے ۔ عن کعب بن مالک قال: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : ”من طلب العلم لیجاری بہ العلماء، او لیماری بہ السفھاء، او یصرف بہ وجوہ الناس الیہ ، ادخلہ اللہ النار“(رواہ الترمذی و نحوہ ابن ماجۃ عن ابن عمر ) ” کعب بن ماصلی اللہ علیہ وسلملکؓ سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو شخص اس لئے علم حاصل کرتا ہے کہ وہ علماءکا ہم سر ہو جائے ، یا بے عقلوں کے ساتھ بحثیں کرے ، یا لوگوں کی توجہ( یا عقیدت ) اپنی طرف مبذول کروالے ، اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں ڈالے گا “ 10۔ کسی نیکی یا عبادت کے کام کو اس لئے ترک کردینا کہ ’کہیں لوگ نہ کہیں یہ ریا کررہا ہے ‘، یہ بھی ریا ہے ۔ آدمی کا مقصد خدا کیلئے نیکی کرنا ہے تو اس کو چاہیے کہ کر گذرے ۔ ریا سے بچنے کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی دروازے بند کرکے ہی کوئی نیکی کرے تو کرے ۔ تکلف ہر حال میں مذموم ہے ۔ غلو اللہ کو شدید ناپسند ہے ۔ نیکی کیلئے قرآن مجید نے سراً و علانیۃکی ترغیب دی ہے ۔ مقصود خدا کی ذات ہے تو نیکی سراً بھی ہو سکتی ہے اور علانیہ بھی۔ نیکی کے جو کام چھپائے جاسکیں وہ ضرور چھپائے جائیں اور یہ خدا کو بہت پسند ہے ۔ مگر ریا سے بچنے کا یہ فلسفہ کہ آدمی لوگوں کے خوف سے ارادۂعمل ہی ترک کردے ، سراسرباطل ہے ۔ یہ دراصل ریا سے نکل کر ریا میں جانا ہے ۔ بچنا عمل کی ریا سے ہے نہ کہ خود عمل سے ۔ یہ آدمی پر شیطان کا ایک انداز سے داؤ ہے ۔ ابن قدامہؒ ، ابراہیم نخعی ؒ کا ایک قول نقل کرتے ہیں کہ : ”شیطان اگر دوران نماز تمہیں آکر کہے ’یہ تم ریاکاری کر رہے ہو‘ تو اپنی نماز کو اوربھی لمبا کرلو۔“ رہے اس طرح کے واقعات کہ مثلاًابراہیم نخعی ؒ نے دوران تلاوت ایک شخص کو آتے دیکھا تو مصحف لپیٹ کر رکھ دیا اور کہا یہ آدمی سمجھے گا میں ہر وقت قرآن ہی پڑھتا ہوں تو ابن قدامہؒ کہتے ہیں سلف ایسا تب کرتے تھے جب ان کو اپنے پر خود پسندی کا اندیشہ ہونے لگتا نہ یہ کہ کوئی دوسرا ان پر ریا کی شک کرے گا۔
وہ امور جو ریا میں نہیں آتے 1۔ إِن تُبْدُواْ الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا(البقرۃ: 271) ”اگر تم اپنے صدقات علانیہ دو ، تو یہ بھی اچھا ہے “ بعض امور میں نیکی کا ماحول بنانا اور نیکی کا حصول آسان کرنا متقاضی ہوتا ہے کہ عملی ترغیب کا طریق کار اختیار کیا جائے ۔ صدقات میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی صورت میں شریعت اس کی ہدایت کرتی ہے (آدمی کیلئے ضروری ہے کہ اس بڑھ چڑھ کر نیکی کرنے میں خدا کو راضی کرنے کی الگ سے نیت کرلے اور دوسرے جو ہو سکتا ہے اس کو دیکھ کر اس کی تقلید کریں ، ان کے ثواب میں شریک ہونے کا قصد کرے)۔ کسی وقت ایک آدمی کا تحیہ المسجد ادا کرنا بیسیوں کے تحیہ المسجد ادا کرنے کا سبب بن جاتا ہے بلکہ مسلسل عملی ترغیب و تعلیم سے تحیہ المسجد کو سب اہل محلہ کا معمول بنا دیتا ہے ۔ جہاد میں آگے بڑھ کر دلیری دکھانا پوری کی پوری فوج کے حوصلے بلند کر دیتا ہے اور خدا کی مدد اتر آتی ہے۔ چنانچہ اگر آدمی لوگوں کی مدح و ستائش سے بے نیاز ہے اور لوگوں کو متاثر کرنے کے جذبہ سے خدا نے اس کو بچا رکھا ہے جبکہ نیکی ظاہر کرنے میں دین کا کوئی فائدہ ہے تو اس کا ظاہر کرنا برا نہیں بلکہ بعض حالات میں مطلوب بھی ہوگا ۔ تکلف ہر صورت میں مذموم ہے ۔ صحابہؓ کا اپنے شاگردوں یا اپنے بچوں کے سامنے اپنی بعض نیکیوں کا بے تکلفانہ ذکر دینا اسی باب میں آتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ لوگ نیکی میں ان کی اقتدا کریں اور ہمتوں کو مہمیز ملے۔ تابعین اور مابعد کے ادوار میں بھی مربی اور معلم یہ انداز رکھتے تھے ۔ ایک دوسرے کے سامنے رو بھی پڑتے تھے۔ ابن قدامہؒ بطور مثال ابوبکر بن عیاشؒ کا واقعہ ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو (وصیت کے انداز میں ) تنبیہہ کی : خبردار جو اس کمرے میں تم نے کبھی خدا کی معصیت کی ۔ یہ وہ کمرہ ہے جس میں نے بارہ ہزار مرتبہ قرآن ختم کیا ہے ۔ غرض تربیت اور تعلیم اور نصیحت میں اس طرح کا اندا ز غلط نہیں ۔ اور دلوں کے بھید تو خدا جان لیتا ہے ۔ 2۔ آدمی اکیلا عبادت کرنے کا جو معمول بناتا ہے عبادت گذاروں کے سا تھ مل کر اگر وہ زیادہ نشاط پاتا ہے ، تو یہ ریا نہیں ۔ گھر میں رات کا قیام کرے تو کوئی ایک گھڑی کے بعد آدمی تکان محسوس کرتا ہے ۔ کچھ لوگ مل کر کبھی رات کا قیام کریں تو نسبتاً زیادہ طویل قیام کر لیتے ہیں اور زیادہ قرآن پڑھ لیتے ہیں ۔ ابن قدامہ ؒ کہتے ہیں اس کو ریا شمار کرنا درست نہیں ۔ اکیلے آدمی پر بسا اوقات غفلت طاری رہتی ہے ۔ دوسرے مومن کو دیکھ کر آدمی نشاط پکڑتا ہے اور اس میں ایک اسوہ محسوس کرتا ہے ۔ گھر میں بستر کا آرام اور بیوی کی صحبت آدمی کے عبادت میں اجتہاد کرنے کے اندر مانع ہو سکتی ہے ۔ روزہ کے معاملہ میں گھر کے انواع و اقسام کے کھانے آدمی پر غالب آئے رہتے ہیں۔ البتہ دوسری جگہ پر اور معمول کے مشاغل سے دور اور نیک لوگوں کی صحبت میں آدمی پر نیکی کی کوئی اور کیفیت طاری ہو جائے تو یہ ہرگز برا نہیں اور ریا میں تو یہ ہرگز نہیں آتا ۔ البتہ نیت میں اخلاص پیدا کرنا وہاں پر بھی لازم ہے ۔ (ملاحظہ فرمائیے مختصر منہاج القاصدین لابن قدامہ ا لمقدسیؒ ص 187 تا 177) *****************
خدا کا فضل ہے کہ ہمیں شرک خفی کا کفارہ بتا دیا گیا ۔ انسان بہرحال
کمزور ہے ۔ آدمی اپنی حالت کو جہاں تک ہو سکے ٹٹولتا اور درست کرتا رہے
اور ساتھ ساتھ خدا سے مدد لیتا اور استغفار کرتا رہے ۔ ”اللہم انا نعوذبک ان نشرک بک شیئاً نعلمہ ، و نستغفرک لما لا نعلمہ“ یہ دعا خود بھی اخلاص اور عاجزی کا مرقع ہے اور توحید کا ایک اعلی نمونہ ۔ آدمی خود تو اس سے بچنے کی کوشش کرے ہی ، البتہ اپنی قوت او رہمت پر بھی ہرگز سہارا نہ کرے بلکہ اپنے آپ کو بار بار خدا کی پناہ میں دے ۔ اپنی قوت اور ذہانت اور صلاحیت کی بابت ہر قسم کے زعم سے دستبردار ہو جانا عاجزی سے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دینا اور محض اسی کی پناہ چاہنا اصلِ ایمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”لاحول ولا قوۃ الا باللہ “ کو جنت کا ایک خزانہ کہا گیا ہے (5) کیونکہ یہ الفاظ کہتے ہوئے آدمی اپنی قوت کے دعوی سے دستبردار ہو جاتا ہے ۔ سب مخلوق کو عاجز اور لاچار جانتا ہے اور صرف رب العالمین کے قوت و اختیار کا اقرار کرتا ہے ۔ پس توکل کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔ توکل کیا ہے ؟ یہ کہ کوشش کی حد تک آدمی اپنا پورا زور صَرف کردے مگر سہارا آدمی کو صرف خدا کی پناہ میں نظر آئے ۔ اس توکل کے ساتھ پھر کثرت استغفار ہو (علیہ توکلت و الیہ انیب) تو خدا کے فضل سے کام ہو جاتا ہے ۔ یہی اس کا کفارہ ہے! اللہم انا نعوذبک ان نشرک بک شیئاً نعلمہ ، و نستغفرک لما لا نعلمہ و حسبنا اللہ و نعم الوکیل ***************** (1) دیکھیے کتاب: القول السدیدفی مقاصد التوحید مولفہ علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی ص 15
(2) بطور
مثال دیکھیے مدارج السالکین مولفہ امام ابن القیمؒ ج 1 ص 344 |