|
|
|||||||||||
مصنف لکھتے ہیں : اگلی سطور میں ہم ایسے قرائن بیان کر یں گے جس سے یہ ظاہر ہو سکے کہ قرآن مجیدمیں جن متعدد مقامات پر لفظ ”عبادت“ آیا ہے اس سے مفسرین اور اہل علم نے دعاءکیوں مراد لی ہے ۔ قرآن مجید میں عبادت کالفظ دعاءکے معنی میں اس قدر کثرت سے استعمال ہوا ہے کہ بعض اہل علم نے قرآن مجید میں وار د ”عبادت“ کے سبھی الفاظ کو دعاءکے معنی میں لیا ہے ۔ سورت انعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ (1) اس آیت مبارکہ میں لفظ اَعبد کی وضاحت اگلے لفظ تدعون سے خود قرآن نے ہی کر دی ہے کہ یہاں عبادت سے دعاءمراد ہے۔ اس کے علاوہ جن آیات کا حوالہ مصنف نے دیا ہے جن میں عبادت کا لفظ دعاءپر واضح دلالت کر تا ہے وہ یہ ہیں : سورۃ نساء آیت نمبر 116،117، سورۃ صافات آیت 125 ، سورۃ عنکبوت آیت 46، سورۃ یونس آیت 66سورۃ مریم آیت 48،49، سورۃ حج آیت 73، سورۃ حج آیت 26، سورۃ غافر آیت 14 اور سورۃ طور آیت 68 آخر میں مصنف ابن تیمیہؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں : قرآن مجید میں جہاں کہیں مشرکین کی دعاءکی بابت تذکرہ ہو اہے تو ایسے تمام مقامات پر دعاءسے مراد دعائے عبادت ہے۔ ابن تیمیہ مزید فرماتے ہیں کہ مشرکین کی دعاءطلب یا دعاءمسئلہ میں بھی عبادت کا تصور جلی اور واضح ترین ہو تاہے جس کی وضاحت خود قرآن نے کردی ہے کہ: مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں ( مترجم) ابن تیمیہؒ کا اس آیت کو دلیل بنانے کا مقصد یہ ہے کہ مشرکین اپنے شریک ٹھہرائے ہوئے بتوں سے ہی دعاءکرتے تھے اور اس دعاءکی نوعیت دعاءمسئلہ والی ہو ا کرنی تھی جسے صوفیہ کا ایک گروہ غیر اللہ سے مانگنے کو جائز سمجھتا ہے اور اس کی دعوت دیتا ہے۔ (مزید تفصیل اگلی سطور میں آرہی ہے ۔مترجم ) اہل علم فرماتے ہیں قرآن مجید میں ایسے مقامات بہت زیادہ ہیں جہاں دعاءکی بجائے عبادت کا لفظ ذکر ہو اہے ۔ (جیساکہ ابن تیمیہؒ کے حوالے سے ایک دلیل ہم اوپر بیان کر کے آئے ہیں - مترجم ) اس بارے میں مصنف شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن کا ایک قول نقل کرتے ہیں اور ساتھ ہی مصنف لکھتے ہیں کہ کلام اللہ میں جہاں کہیں صریح لفظ کو چھوڑ کر دوسرا لفظ استعمال کیا جا تا ہے تو مومن کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اس میں ضرور گہرے معانی ہوں گے ۔ ایسا بھی ہو تا ہے کہ ان میں سے اکثر معانی کسی پر آشکار ہو جاتے ہیں لیکن مومن کا یہ عقیدہ ہوناچاہیے کہ کسی عالم پر جو اسرار کھلتے ہیں انہیں حتمی نہیں کہا جا سکتا البتہ وہ معانی اہمیت ضرور رکھتے ہیں ۔
شیخ عبداللطیف لکھتے ہیں : بندے کی ہر قسم کی عبادات کا مقصد و مطلوب کوئی نہ کوئی طلب یا خواہش ہوتی ہے۔ اس لئے قرآن مجید میں بے شمار مقامات پرعبادت کےلئے دعاء کالفظ استعمال ہو ا ہے ۔ اس کے بعد وہ نبی علیہ السلام کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ افضل الدعاء یوم عرفۃ ۔۔۔۔ حالانکہ امام ابن عیینہؒ فرماتے ہیں کہ یوم عرفہ ذکر کا وقت ہے (اور کوئی خاص دعاءاس وقت کےلئے منقول نہیں ) یعنی عبادت کا وقت ہے جسے دعاءسے تعبیر کیا گیا ہے ۔ شیخ حسین بن مہدی نعمی فرماتے ہیں ۔کیا تم کتاب اللہ میں مشرکین کی بابت غیر اللہ کے سجدے کرنے کی آیات زیادہ پاتے ہو یا غیر اللہ کو پکارنے کی آیات؟ آگے وہ خود ہی اس کاجواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سجدہ تو عبادت کی بہت ساری اقسام میں سے ایک قسم ہے لیکن دعاءمیں ہمہ قسم کی عبادات آجاتی ہیں ۔ اس لئے قرآن میں مشرکین کے لئے غیر اللہ سے دعاءکا لفظ بکثرت پایا جا تا ہے ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ میرے خیال میں ”عبادت“ کی بجائے لفظ ”دعاء“ کااستعمال اہل شرک کےلئے اس لئے بھی بکثرت کیا گیا ہے کہ مشرکین میں قدیم سے لے کر اب تک یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ غیر اللہ سے دعائیں بہت کثرت سے کر تے ہیں ۔ تم دیکھوگے کہ قبروں پر جانے والے نذر نیاز اور قربانی سے بھی زیادہ جو عمل کرتے ہیں وہ ان سے دعاءمانگناہے ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ عبادت کی ظاہر ی ہئیات جیسے غیراللہ کوسجدہ کرنا؛اس کا رد قرآن میں اتنا نہیں ہے جتنا پکارنے یا دعاء مانگنے کاردہے ؛اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل شرک کے ہاں غیراللہ سے دعاء مانگنا ہی بکثرت دیکھاگیاہے ۔ اس کے بعد مصنف قرآن مجید سے بہت ساری آیات دلیل کے طور پر لاتے ہیں جن میں مشرکین کو غیر اللہ کو پکارنے اور انہیں اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ ان آیات کو ہم طوالت کی وجہ سے یہاں نقل نہیں کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد مصنف نے دعاءکے دونوں پہلو یعنی ایک جو چیز مانگی گئی ہے وہ اور دوسرا عبادت کا واضح تر ہونا یا ظاہری طلبیہ الفاظ کے پس منظرمیں ہونا کا تذکرہ کیا ہے اور لکھتے ہیں کہ اگر دعاءکے الفاظ طلب پر مبنی ہو ں یا الفاظ دعاءعبادت کے ہوں تو اول الذکر میں عبادت کا معنی اور آخر الذکر میں طلب کا معنی حقیقی ہو گایا مجازی؛ اس بحث کو مصنف نے اس کے بعد چھیڑا ہے کہ ہر قسم کی دعاءمیں دو پہلو یعنی عبادت اور طلب لازمی ہوتے ہیں جیسا کہ اوپر مصنف نے دلائل سے ثابت کیا ہے ۔اس باب میں مصنف نے جو بحث چھیڑی ہے اس کا تعلق دونوں پہلوؤں کا ہونا یا نہ ہونا سے نہیں ہے بلکہ بحث اس پر ہے کہ اگر دعاءطلب کی گئی ہے تو اس میں عبادت کامعنی کب مجازسمجھا جائے گا اورکب حقیقی ۔ مختلف اقوال اور ان کی وضاحت کے بعد مصنف لکھتے ہیں کہ عربی زبان میں مشترک معانی پر مبنی الفاظ بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ دعاءبھی عربی زبان کے ایسے الفاظ میں سے ہے جس میں دونوں پہلو ایک ساتھ حقیقی معنی میں پائے جاتے ہیں ۔ اور لکھتے ہیں کہ یہی قول اہل علم کے نزدیک راجح ہے۔ اس پر مغز بحث کی تفصیل کےلئے مقالے کاعربی متن ملاحظہ فرمائیں ۔ دعاءکا کون سا پہلو افضل ہے یہ بات طے ہونے کے بعد کہ دعاءکے لفظ میں مشترک معانی پائے جاتے ہیں یعنی طلب بھی اور عبادت بھی ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ مومن کو صاحب بصیرت ہو نا چاہیے اور مومن میں ایسی لیاقت ہو نا چاہیے کہ وہ موقع محل کے لحاظ سے (بہترین کام) اور فاضل (بہتر کام )کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھ کر دعاءکرے۔ اس کے بعد مصنف لکھتے ہیں کہ ایسا ممکن ہے کہ ایک کام موقع محل کو نظر انداز کرتے ہوئے عام حالات میں افضل ہو مگر موقع محل کی وجہ سے فاضل یا مفضول (بہتر سے بھی کم )کام کرنا ہی اس موقع محل کے لحا ظ اس متعین شخص کے حق میں افضل ہو۔ شریعت میں اگر یہ لچک نہ ہوکہ موقع محل کے لحاظ سے ایک ہی کام کے مختلف درجات میں سے کسی کے حق میں کم درجے والا طریقہ ہی افضل ہو جائے.... تو شیطان کے لئے یہ گنجائش پید ا ہو جاتی ہے کہ وہ مومن کو ہمیشہ افضل کام کی ترغیب دیاکرتا کہ جو اس وقت کے لحاظ سے مفضول کام کرنا واجب یا ضروری تھا اور اس صورت میں اس شخص کے لحاظ سے افضل ہی تھا وہ اس سے رو گردانی کراد یتا اور مسلمانوں کے بیشمار مسائل صرف افضل کو پالینے کے غلط تفقہ کے نتیجے میں برباد ہوجایا کرتے ۔ مصنف نے یہاں بھی بہت دلچسپ طویل اور مدلل بحت کی ہے ۔ اس باب میں کہ دعائے طلب افضل ہے یا دعائے تعبد افضل ہے یا حالات کے لحاظ کبھی دعائے طلب افضل ہو گی اور کبھی دعائے تعبد ۔تینوں آراءکا مفصل ذکر کرنے کے بعد مصنف لکھتے ہیں کہ تیسری رائے ہی راجح ہے کہ موقع محل کے لحاظ سے کبھی اپنی حاجت مانگنا افضل ہو تا ہے اور کبھی حمد وثناءکر نا افضل ہو تا ہے جبکہ حمد و ثناءمیں بھی اصل غرض داعی کی کوئی طلب ہی ہوتی ہے مگر وہ اپنی طلب کو زبان پر موقع محل کے لحاظ سے نہیں لا تا ۔ اس تفصیل کے باوجود مصنف لکھتے ہیں کہ حالات معمول کے مطابق ہو ں تو دعاءتعبد افضل ہے ۔ اس میں بھی مصنف نے الفاظ جنس دعاءالثناءو العبادۃ استعمال کیے ہیں جو ہماری اوپر والی تعبیر سے زیادہ گہرے اور اصولی ہیں ۔ مصنف حفظہ اللہ نے افضل، فاضل اورمفضول کی بحث میں ائمہ کرام کے نفیس اقوال بکثرت ذکر کیے ہیں ان میں سے چند اہم کا تذکرہ نہایت برمحل ہو گا۔ ابن تیمیہ ؒفرماتے ہیں کہ مسجد حرام (خانہ کعبہ والی مسجد )میں مکہ کے باشندے بھی آتے ہیں اور مکہ سے باہر والے بھی ۔ فرماتے ہیں کہ جہاں تک مکہ مکرمہ کے باسیوں کا تعلق ہے تو وہ مسجد حرام میں داخل ہو نے کے بعدسب سے پہلے نماز دوگانہ (تحیۃ المسجد)پڑھیں گے یہی ان کے حق میں افضل ہے (بشرطیکہ فرض نماز با جماعت ادا نہ ہورہی ہو ) جبکہ مکہ کے باسیوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں کے حق میں یہ افضل ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف پہلے کریں ۔ اسی طرح ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ جہاد کی جنس مردوں میں حج سے افضل ہے جبکہ عورتوں کا جہاد ان کا حج کرنا ہے اور یہی ان کے حق میں افضل ہے۔ اسی طرح شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر کی اطاعت کرنابہ نسبت والدین کی اطاعت کے افضل ہے (اگرچہ قرآن مجید میں والدین کی اطاعت پر بہت ساری آیات ہیں مگر شادی شدہ عورت کے حق میں آیات کا اطلاق مقید ہے یعنی جب تک عورت کی اپنے والدین کے گھر سے رخصتی نہیں ہو جاتی - مترجم ) دعاءکے الفاظ انشائی ہو ں یا خبری؟ (الف) انشاءیا طلب پر مشتمل دعاء۔انشائیہ فقرے دوقسم کے ہوتے ہیں : (1) ایسے الفاظ کا انتخاب جن کے ذریعے کسی چیز کو حاصل کرنے کےلئے دعاءکی جائے جیسے ربنا فاغفر لنا ذنوبنا ۔ (2) ایسے الفاظ جن کے ذریعے کسی چیز کے عدم وقوع کےلئے دعاءکی جاتی ہے جیسے سورت ابنیاءمیں یہ الفاظ ہیں : رب لا تذرنی فرداً۔ جب زکریا نے اپنے رب سے یہ دعاءکی اے اللہ مجھکو دنیا میں بے اولاد نہ رہنے دینا۔ انشائیہ جملے اور خبر یہ جملے دراصل گرائمر کی اصطلاح ہے ۔ انشائیہ جملوں میں متکلم کسی قسم کی اطلاع یا خبر نہیں دے رہا ہو تا۔ انشائیہ فقرں سے متکلم یاتو حکم دے رہا ہو تاہے اگر وہ مخاطب سے بر تر ہو یا درخواست کر رہا ہو تا ہے جب وہ مخاطب سے کمترہو یااپنے جذبات کا اظہار کر تا ہے یا دعاءدے رہا ہوتا ہے یا پکار تا یا خواہشات کا اظہار کرتا ہے ۔نیز جملے میں جس چیز کا تذکرہ ہو تا ہے وہ متکلم کے کلام کے وقت تک وقوع پذیر نہیں ہوئی ہو تی ہے ۔جبکہ خبر یہ جملوں میں کوئی اطلاع یا خبر ہو تی ہے ۔ یہ خبر درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ (ب) خبر یہ جملے :دعاءکے یہ ایسے صیغے ہو تے ہیں یاجملے کی ترکیب اس طرح ہو تی ہے کہ گرائمر کے لحاظ سے اس میں طلب یا جملہ انشائیہ تو نہیں ہوتا لیکن ان جملوں سے متکلم کی غرض دراصل کچھ طلب کرنا ہی ہوتا ہے ۔ مثا ل کے طورپر مسلمان آپس میں ملتے ہوئے کہتے ہیں ’ السلام علیکم‘! گرائمر کے لحاظ سے یہ ترکیب جملہ خبریہ ہے لیکن اس ترکیب میں ہی اس قدر واضح دلالت ہے اس بات کی کہ یہ ترکیب انشائی یاطلبی ہے۔ یعنی آپس میں مسلمانوں کا اس طرح کا تبادلہ اللہ تعالی ٰ سے سلامتی طلب کرنے کے لیے ہو تا ہے۔ اس ترکیب کا متکلم کی غرض سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ خبر یہ ترکیب استعمال ہی مذکورہ بالا طلب کےلئے ہو تی ہے ۔ جہا ں تک اس بات کا تعلق ہے کہ خبر یہ جملے بطور دعاءکیوں مستعمل ہیں اوراسکی بجائے صریح طلبیہ یاانشائی ترکیب ہی ہمیشہ کیوں نہیں استعمال کی جاتی تواس کاجواب یہ ہے کہ دعاءکرنے والا جب اپنے آپ سے بہت زیادہ پر امید ہو جا تا ہے (اللہ تعالیٰ سے جب وہ خصوصی تعلق پیدا کرلیتا ہے ) تو اس وقت وہ ایسے الفاظ لا تا ہے کہ جو اس بات پر دلالت کر تے ہیں کہ اس کی طلب کا بار گاہ الہی میں پورا ہونا ایسا یقینی ہے جیسے وہ طلب (دعاء) پہلے ہی روبہ عمل (متحقق ) ہو چکی ہے۔ یادرہے کہ خبریہ جملے اطلاعی ہوتے ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں کہ خبریہ جملوں کے تین گروہ ہیں : (1) ایسے جملے جن میں دعاءکرنے والا صر ف اپنی حالت زار ہی اللہ کے سامنے پیش کر تاہے اور اسی پر اکتفاءکر تا ہے اور اپنی طلب (خواہش ) کو ظاہر نہیں کر تا ۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے نکل کر ایک اجنبی ملک میں اپنی حالت زار کوان جملوں میں پیش کیا :رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (قصص24) ”اے اللہ تو مجھ پر جو بھی بھلائی نازل فرمائے؛میں اس کا محتاج ہی ہوں “ ۔ بلا شبہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خا نوادے پر اللہ کے احسانات بے شمار رہے تھے لیکن جس بے سرو سامانی کی حالت میں وہ یہ الفاظ اپنے لب مبارک پر لارہے ہیں تو اس سے ان کی غرض اس حالت زار میں کسی مونس کی طلب ہے مگر وہ اللہ کے احسانا ت سے پہلے ہی اتنے زیربار ہیں کہ مزید احسانات کےلئے کچھ غیر صریح الفاظ ہی زبان مبارک پر لاتے ہیں ۔ (2) ایسے خبریہ جملے جن میں مدعو (اللہ رب العالمین ) کی حمد و ثناءکی جائے ۔ جیسے یوم عرفہ کے اذکار ہیں ۔ عربوں میں یہ دستور عام تھا کہ وہ جس کسی کی تعریف کرتے جبکہ تعریفی الفاظ اداکرنے والاسماجی لحاظ سے کم حیثیت کا حامل ہو تاتوایسی مدح کایہی معنی ہو تا تھا کہ ثناءخواں کو اپنے ممدوح سے کوئی انعام حاصل کرناہے ۔ (3) ایسے خبریہ جملے جن میں داعی اور مدعو دونوں کے مراتب بیان کئے جائیں ۔ داعی کےلئے بندگی کے مراتب اور مدعو کے لئے حمد وثناءکے مراتب۔ جیسے حضر ت ایوب علیہ السلام کی یہ دعا ءہے :لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔ اس کے بعد مصنف لکھتے ہیں کہ خبریہ اور انشائیہ جملے دونوں ہی اپنے موقع محل پر اگر برجستہ استعمال کئے جائیں تو اُتنا ہی ان میں قبولیت کا وصف زیادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ دونوں صیغوں کا برمحل استعمال ہمیں ابنیاءعلیہ السلام کی دعاؤں میں بہت عمدگی کے ساتھ ملتا ہے۔ ہر دعاءکرنے والے کے لئے یہ میدان کھلا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو موقع محل کے لحاظ سے کس طرح پہچان کر صحیح صیغے کے استعمال پرمحنت کر تا ہے اوراس میں کس قدرکام یاب ہوتاہے۔ اہل علم کی اس موضوع پر متعدد تالیفات ہیں ۔ ہماری قاری سے درخواست ہے کہ وہ دعاءکے صیغوں کے بر محل استعمال کےلئے ان تالیفات کی طرف رجوع کرے ۔ دعاءکرنے والے کی باطنی کیفیت جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا ہے کہ دعاءکی دوا قسام ہیں : دعائے عبادت (تعبد) اور دعائے طلب ۔ ان دو صفات کو سامنے رکھتے ہوئے داعی میں منطقی لحاظ سے چار کیفیا ت یا صفات میں ہو سکتی ہیں ۔ (الف) دعاءعبادت اور دعاءطلب دونوں سے متصف ہونا ۔ (ب) دعاءعبادت سے متصف ہونا ۔ (ج) دعاءطلب سے متصف ہو نا ۔ (د) نہ دعاءعبادت سے متصف ہونا اور نہ دعاءطلب سے ۔ (الف)دعاءعبادت اور دعاءطلب سے ایک ساتھ متصف ہو نا ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ داعی کی یہ صفت سب سے افضل ہے ۔ انبیاءکرام کی دعاؤں میں یہی دو صفات پائی جاتی ہیں ۔ اسی کی تعلیم آپ اپنے صحابہ کیاکو کرتے تھے۔ ابودؤد اور نسائی کی روایت ہے آپ نے حضرت معاذؓ سے اظہار محبت کرتے ہوئے تلقین کی کہ عزیز من اس بات کا خیال رکھو کہ تم ہر نماز کے آخر میں یہ دعاءضرور پڑھا کر و ۔ اللھم اعنی علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک ۔اس جامع دعاءمیں اللہ کی عبادت کی طلب بھی ہے اور اس عبادت کےلئے اللہ تعالی سے توفیق بھی مانگی جار ہی ہے ۔ اس کے بعد مصنف لکھتے ہیں کہ بد ترین صفت یہ ہے کہ د اعی کی دعاءنہ عبادت کے لئے ہو اور نہ استعانت کےلئے ہو ۔ اس گروہ میں بھی انسانوں کی دواصناف پائی جاتی ہیں : ایسے لوگ جن کاسب لینا دینا دنیاتک محدود ہو ۔ دوسری قسم ایسے بگڑے دین داروں کی ہے جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے دعائیں کر تے ہیں ۔ اہل دنیا تو سارا زور ہی اسباب کی تسخیر پر لگا دیتے ہیں اور گمراہ دین دار غیراللہ کو راضی کرنے میں اپنی توانا ئیاں صرف کر دیتے ہیں ۔ (ب ) دعاءعبادت بلا استعانت یا بلا دعاءطلب : اس صفت سے متصف ہونے والے گمراہ فرقوں میں ایک گروہ قدریہ کا کہلاتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو اسباب اور تقدیر کے فرق کو ملحوظ خاطر نہ رکھ سکا ۔ قدریہ کہتے ہیں کہ ہر شخص کےلئے وہ ہے جو کچھ اس کے مقد ر میں لکھ دیا گیا ہے اور دعاءکے الفاظ زبان پر لانا صرف عبادت کی غرض سے ہے۔ دعاءسے نہ بھلائی پہنچتی ہے اور نہ برائی مگر وہی جو پہلے ہی بندے کے مقد ر میں لکھی جا چکی ہے ۔دعاءکرنے سے مقصودصرف عبادت ہے کوئی تبدیلی دعاءسے حاصل نہیں ہوسکتی۔ (ج) دعاءطلب یا استعانت : لوگو ں کا یہ وہ طبقہ ہے جو صرف دنیاوی اغراض کےلئے دعاءکر تا ہے ۔ انہیں اس بات کا پورا ادراک ہے کہ دنیا میں سارے امور رب العالمین کے حکم سے انجام پاتے ہیں اوربندے کو اس بات کی شدید حاجت ہے کہ وہ اس ربوبیت کو پانے کے لئے ’رب‘سے مانگا کرے ۔مگر یہ لوگ رب کی ربو بیت سے صرف دنیاوی اغراض کے طالب ہوتے ہیں ۔ آخرت سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ۔ مصنف کہتے ہیں کہ ظاہر ہے عاقبت میں یہ لوگ خسارہ ہی اٹھا نے والے ہیں ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ مخلوقات میں سے بد ترین مخلوق ابلیس ہے ۔ ابلیس نے بھی رب العالمین سے ہی دعاءکی تھی اور اس کے باوجود کہ ابلیس بد ترین مخلوق ہے اللہ تعالی ٰنے اس کی دعائے طلب قبول فر مائی تھی ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ جیسے داعی کے اندرچار صفات ممکن ہیں ایسے ہی مدعو کےلئے بھی چار صفات تصور کی جاسکتی ہیں ۔ (الف ) غیر اللہ سے دعاءاور مدد مانگنا (ب) اللہ اور غیر اللہ دونوں سے دعائیں کرنا (ج) دعاءتو خالص اللہ سے مانگیں لیکن عبادت کسی اور کی کریں اور وہی ان کا مقصود اور مطلوب ہو ۔ (د) صرف اللہ ہی کی عبادت کرنے والے اور اسی سے استعانت طلب کرنے والے۔ یہ چوتھا گروہ تو اہل توحید کا ہے جس میں انبیاءاور صلحاءاور اسلاف ھذہ الامہ سب آجاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ سے دعاءمانگنے کی اہل توحید کے ہاں منطقی طورپر چار اغراض ہو سکتی ہیں۔ (1) خیر اور بھلائی پہلے سے ہی پہنچی ہوئی ہے مگر داعی اس لئے دعاءکرتاہو کہ یہ بھلائی اور خیر اس کے حق میں بر قر ار رہے ۔ (2) خیر اور بھلائی پہنچی نہیں ہے۔اس صورت میں داعی کسی خیر یابھلائی کو طلب کرنے کے لیے دعاءکرتاہے۔ (3) کسی شرمیں مبتلا ہو اور اسے دور کرنے کے لئے دعاءکر تا ہو۔ (4) کسی شر کا اندیشہ ہو اور اس سے پہلے دعاءکرے کہ یہ شر اسے نہ پہنچے ۔ اس کے بعد مصنف مختلف آیات سے مثالیں لاتے ہیں جن میں مذکورہ بالا چار قسم کی اغراض میں سے کسی غرض کےلئے دعائیں کی گئی ہیں ۔ دعاءکے آداب اس باب میں مصنف نے مختلف اماموں کے اقوال تفصیل سے ذکر کیے ہیں اور یہ وضاحت بھی کی ہے کہ دعاءکے بعض آداب کو کچھ مصنفین نے دعاءکی شروط میں شمارکیاہے جیسے داعی کا ایسے لباس سے پاک ہونا ہے جو حرام ذرائع سے حاصل ہو ا ہو۔ ہم اس فقہی اور علمی تقسیم کو یہاں طوالت سے بچنے کے لیے بیان نہیں کریں گے اورفاضل مصنف نے اہل علم کی آراءسے جوخلاصہ نکالاہے اسی پراکتفاءکریں گے ۔ بعض اہل علم نے اس شرط کا بیان کیا ہے کہ داعی میں اخلاص بھی پایا جاتا ہویعنی اللہ کی توحید بھی پائی جا تی ہو ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ قبولیت کے لیے صاحب توحیدہونے کی شرط لگانادرست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی ٰ مشرک کی دعاءبھی قبول کرلیتا ہے جیساکہ ابلیس کی دعاءکی قبولیت کے بارے میں گزشتہ سطورمیں مصنف نے بیان کیاہے۔ دعاءکے آداب مصنف نے درج ذیل بیان کئے ہیں : (1) عدم اعتداء:(دعاءکی بابت شریعت میں مذکوراحکامات سے تجاو ز نہ کرنا ) اعتداءکی کی تعریف کرنے کے بعد اس عنوان کے ذیل میں مصنف نے متعدد صورتیں بیان کی ہیں ۔ سورت اعراف میں اللہ تعالیٰ نے دعاءمیں اعتداءکرنے وا لوں کے بارے میں فرمایا ہے: ادْعُواْ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (55) اپنے مالک کو گڑگڑا کراور چپکے چپکے پکاروکیونکہ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کر تا (ترجمہ شاہ رفیع الدین) دعاءمیں اعتداءکی صورتیں یہ ہیں : (الف ) اللہ کے ساتھ شرک کرنا :اللہ کے ساتھ شرک کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ بلا واسطہ غیر اللہ سے دعائیں کرنا یا بالواسطہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا یہ دونوں صورتیں ہی شرک میں شمار ہوتی ہیں اور یہ دعاءمیں اعتدءکی سب سے بری صورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ (احقاف: 5) اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا جو للہ کو چھوڑ کر ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کے پکارنے پر جواب نہ دے اور وہ ان کا پکارنا سنتے تک نہیں (شاہ رفیع الدین ) (ب) دعاءمیں بدعت کا ارتکاب کرنا ۔ (ج) ایسی دعاءکرنا جس کا مانگنا ناجائز ہو ۔ اس کی بھی متعدد صورتیں مصنف نے بیان کی ہیں ۔ مثال کے طورپر ابنیاءجیسی فضلیت مانگنا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفلؓ نے اپنے فرزند کو اس طرح دعاءکرتے سنا کہ: ’اللّھُمّ اِنیِّ اَساَلُکَ القَصرَ الابیَضَ عَن یمَینِ الجنّۃ اذا دَخَلتُھا ‘خدایا مجھے جنت میں ایسا سفید محل نصیب فرمانا جوجنت میں داخل ہوتے وقت داہنی طرف پڑتا ہو! عبدا للہ بن مغفلؓ نے فرمایا بیٹے (یہ کیا بات ہوئی ) اللہ سے صرف جنت مانگو (اور اس کی ایسی تفصیلات میں مت پڑو) میں نے اللہ کے نبی کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں ایسے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعاءمیں اور طہارت میں حد اعتدال پر نہیں رہا کریں گے ۔ (د) اللہ تعالیٰ سے حرام کام پر استعانت طلب کرنا۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا : لا یزَال یُستَجابُ للعبد ما لم یَدعُ باِثمٍ اوَ قطیعۃ رَحمٍ بندے کی دعاءبرابر قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ کے ارتکاب کے لئے دعاءنہیں مانگ لیتا یا قطع رحم کی دعاءمانگے ۔ مصنف لکھتے ہیں کہ قطع رحم میں تمام مسلمانوں کے حقوق آجاتے ہیں ۔ کسی بھی مسلمان پر ظلم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے استعانت مانگنا قطع رحم میں آتا ہے۔ قطع رحم کااطلاق صرف قرابت داروں تک محدود نہیں ہے ۔ابن صلاح ؒ فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کےلئے بد خواہی کی دعاءجائز نہیں لیکن اگر کوئی ایسی مصلحت ہو جس میں مسلمانوں کا فائدہ ہو جیسے کسی ظالم حاکم کےلئے یہ دعاءکرنا کہ وہ جلد اس دنیا سے رخصت ہو جائے جائز ہو گا کیونکہ اس کے ظلم سے مسلمان تنگ آئے ہو تے ہیں ۔ اسی طرح نبی علیہ السلام نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو بددعا ئیں دے ۔ اسی طرح آپنے فرمایا:اپنی اولاد ، اپنے مال و زر کی تباہی کےلئے بد دعائیں نہ مانگوکہیں ایسا نہ ہوکہ وہ گھڑی قبولیت کی گھڑی ہو۔ (صحیح مسلم )اسی طرح یہ دعائیں مانگنا کہ مجھے جو بھی سزا دینا ہو اسی دنیا میں دے لینا ۔ ہمارے نبی کی یہ تعلیمات ہیں کہ دنیا میں بھی بھلائی مانگو اور آخرت میں بھی ۔ یہ دعاءعموما ً مسلمانوں کو ازبر ہے کہ: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةًِ ‘۔نبی علیہ السلام ایک شخص کی عیادت کےلئے تشریف لئے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مریض تو سوکھ کر کانٹا بن گیاہے۔ آپ نے پوچھا کہ تم کیا دعاءکیا کرتے تھے؟ مریض نے کہا میں نے اللہ سے دعاءکی تھی مجھے جو سز ا تونے دیناہواسی دنیا میں دے لینا (تاکہ میں آخر ت میں اس کی پکڑ سے بچ جاؤں) نبی علیہ السلام نے تعجب سے کہا سبحان اللہ ! بھلا دنیا میں کوئی اللہ کی سزا برداشت کر سکتا ہے ۔ بھلے مانس تم نے یہ دعاءکیوں نہ مانگی :’ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (صحیح مسلم)اسی طرح آپ نے موت کی دعاءمانگنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔(صحیح مسلم ) ( ھ) ایسی دعاءمانگنا جو اللہ کی حکمت کے خلاف ہو یا اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے خلاف ہو ۔ اس کی بھی متعدد صورتیں مصنف نے بیان کی ہیں ۔ جیسے ایسی چیز کےلئے دعاءکرنا جو ناممکن ہو۔ مثال کی طورپر ابلیس ، ابو جہل وغیرہ کے لئے دعاءکرنا کہ انہیں جنت مل جائے یا دنیا میں ہمیشگی کے لئے دعاءکرنا یاقیامت کے برپا نہ ہونے کی دعاءکرنا۔ وغیرہ (و) اللہ تعالیٰ کو بے ادبی سے پکارنا ۔ اس کی بھی متعدد صورتیں ہیں ۔ (1) چیخ چیخ کر دعائیں مانگنا۔ (2) آہ و زاری کے بغیر دعاءکرنا۔ (3) لایعنی باتیں کرنا۔ (4) پر تکلف جملے کہنا۔ (5) حرام کے لبا س سے نہ بچنا۔ (ح) دعاءکی قبولیت میں تاخیر ہو جائے تو مایو س ہو کر ترک کر دینا۔ دعاءبذات خود اعلیٰ ترین عبادت ہے ۔ دعاءکو لین دین کی طرح سمجھنا ایک بنیے کی سوچ ہو سکتی ہے کسی مومن کی نہیں ۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ عبدکوخدا سے مایوس کر کے یا تو سرے سے دعاءیعنی عبادت کی روح سے ہی بندے کو منصرف کر دے یا پھر اسے غیراللہ کے در پر ٹکریں مارنے کےلئے چھوڑدے ۔ (ط) دعاءمیں ان شاءاللہ یا ان شئت کہنا۔ ضروری ہے کہ دعاءپر عزم ہو کر مانگی جائے ۔ رعایا میں سے جب کوئی بادشاہ کے پاس انعام و اکرام کےلئے قصد کر تا ہے توا سے یقین ہو تا ہے کہ وہ کسی ایسی ویسی شخصیت کے پاس نہیں جا رہا ۔ اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔ اس کے در پر جانے والے قاصد کے دل میں ذرا برابر بھی یہ خیال نہ آئے کہ کیامعلوم وہ سنتا بھی ہے یا نہیں ! نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم سے کوئی اللہ سے دعاءمانگے تو پر عزم ہو کر مانگے اور یوں نہ کہے کہ ان شئت (اگر تو چاہے تومیری فریاد سن لے ) صحیح بخاری (ی) سستی کم ہمتی اور غفلت سے نہ بچنا۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا: اللہ سے اس کیفیت میں دعاءکیا کرو کہ تمہیں دعاءکی قبولیت کا یقین ہو۔ یاد رکھو غافل اور کاہل دل والے کی دعاءاللہ نہیں سنتا (ترمذی) مذکورہ بالا آداب وہ تھے جن سے اجتناب کر نا ہے ۔ اگلی سطور میں دعاءکے ان آداب کا تذکرہ ہو گا جن کا بندے میں ہو نا قبولیت دعاءکے لئے مطلوب ہے ۔ (الف) اخلاص یعنی توحید پر ہونا۔ (ب) توبہ۔ (ج) خشوع اور خضوع۔ (د) اللہ سے مانگتے ہی چلے جانا اور بار بار مانگنا۔ (ھ) خوش حالی میں دعائیں کرنا(اس سے پہلے کہ ناداری گھیرلے)۔ (و) دل میں یا دھیمی آواز میں دعاءکرنا۔ (ز) اسماءالحسنیٰ کے ذریعے دعائیں کرنا۔ (ح) جوامع الکلم اختیا ر کرنا۔ (ط) قبلہ رو ہونا۔ (ی) کامل طہارت کی حالت میں ہونا۔ (ک) دعاءکی ابتداءاللہ کی حمد و ثناءسے کرنا اور نبی علیہ السلام پر درود بھیجنا۔ (ل) دونوں ہاتھوں کا پھیلانا۔ (م) قبولیت کے اوقات کو ملحوظ خاطر رکھنا۔ (ن) مقدس مقامات پر دعائیں کرنا۔ (س) حضور قلب یا طبیعت کا دعاءپر آمادہ ہو نا یا ایسی ہی کوئی اور روحانی حالت۔ مقدس مقامات وہ ہیں جن کا ثبوت شریعت میں موجود ہے ۔ جیسے مسجد حرام ، مسجد نبوی ، مسجد اقصیٰ ، عرفہ کے دن عرفات کا میدان۔ جہاں تک دعاءمیں قبلہ رو ہونے کا تعلق ہے تو مصنف لکھتے ہیں کہ یہ واجب تو نہیں ہے لیکن نبی علیہ السلام سے قبلہ رو ہو کر بھی دعاءکرنا ثابت ہے۔ نماز استسقاءمیں آپ نمازیوں کی طرف گھوم جاتے تھے اور قبلہ آ پکی پشت پر ہوتا تھا ۔ البتہ مصنف کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ دعاءکا قبلہ آسمان ہے۔ان اہل علم کے نزدیک دعاءکے وقت آسمان کی طرف دیکھنا پسندیدہ ہے۔ مصنف فرماتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں ہے۔نبی علیہ السلام کو جب قریش سے بہت زیادہ اذیت اٹھانا پڑی تھی تو آپ نے قبلہ رو ہو کر چیدہ چیدہ لوگوں کے لئے بدد عا ءکی تھی (صحیح بخار ی) اسی طرح طہارت کا ہونا بھی واجب نہیں ہے۔آپ سے طہارت تک دعاءکو موخرءکرنا بھی ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ بلا طہارت بھی دعاءمانگا کر تے تھے۔ جہاں تک طہارت کے ساتھ دعاءکا تعلق ہے تو ابو موسیٰ اشعریؓ نے ابو عامر کی شہادت پر آپ سے ان کے حق میں استغفار کی درخواست کی تھی۔ آپ نے ان کی فرمائش سن کر پانی طلب کیا۔ اسکے بعد آپ نے وضو کیا اور پھر دعاءکی ۔(صحیح بخاری )
جاری ہے
(1)(اے نبی ) کہہ دو کہ مجھے (سختی سے)منع کیا گیا
ہے کہ میں ان (ہستیوں)سے دعاءکروں جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر کر پکارتے
ہو ۔
|
|||||||||||