|
|
|||||||||
کون کون سی عبارتیں آدمی کے ’مرجئہ‘ ہونے پر دلالت کر سکتی ہیں: عقیدہ واسطیہ میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کے کلام در بابت ”مسائل ِ ایمان“ پر تعلیق لکھتے ہوئے شیخ علوی السقاف کہتے ہیں: جان لو، جو شخص ان عبارتوں میں سے کسی ایک کا قائل ہو، یا تو وہ ”ارجاء“ کا شکار ہے یا پھر اس کے ”ارجاء“ میں ملوث ہونے کا شبہ پایا جاتا ہے: 1) جو شخص یہ کہے کہ ایمان فقط دل کی تصدیق کا نام ہے (یہ ’جہمیہ‘ کا ارجاءہے) 2) جو کہے کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کر لینے کا نام ہے۔ (یہ فرقہ ’کَرامیہ‘ کا ارجاءہے) 3) جو کہے کہ ایمان دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار کر لینے کا نام ہے (یہ ’مرجئۃ الفقہاء‘ کا قول ہے) (گو یہ قول بسا اوقات ان فقہاءکے ہاں ایک خاص سیاق میں کہا گیا ہوتا ہے، جبکہ یہ ”اعمال“ کو ایمان کی تعریف سے خارج بھی نہیں کر رہے ہوتے، اِس لحاظ سے یہ کسی حد تک ایک لفظی اختلاف رہ جاتا ہے، تاہم مطلق طور پر ایمان کی یہ تعریف کرنا ’ارجاء‘ ہی شمار ہوگا۔ اِس کی تفصیل کسی اور وقت ذکر کی جائے گی۔ مترجم) 4) جو کہے کہ ایمان ہے: دل کا تصدیق کرنا، زبان کا اقرار کرنا، اور دل کا شریک عمل ہونا نہ کہ جوارح کا۔ 5) جو کہے کہ ایمان نہ بڑھتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے، اور یہ کہ سب لوگ ایمان کے معاملہ میں ایک برابرہیں۔ 6) جو شخص یہ کہے کہ ”کفر“ کی صرف اور صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ آدمی (نبی کے دین کو) بس ”جھٹلانے“ ہی لگے! (یہ جہمیہ کا ارجاءہے) 7) جو شخص یہ کہے کہ ’کفر‘ صرف اور صرف (کفریہ) اعتقاد رکھنے سے ہوتا ہے، یا جحود (دین کی بات کا انکار کردینے) سے، یا (اسلام کے حرام کردہ کو) حلال ٹھہرا لینے سے۔ اِس پر یہ لوگ امام طحاوی رحمہ اللہ کے (عقیدہ طحاویہ میں مذکور) اِس قول سے استشہاد پکڑتے ہیں کہ (ولا نکفر اَحداً من اَہل القبلۃ بذنب، ما لم یستحلہ یعنی ”ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر (ارتکابِ) گناہ کی بنا پر نہیں کرتے جب تک کہ وہ اس گناہ کا استحلال (یعنی اس کو جائز قرار دے لینا) نہیں کرتا۔ جبکہ صحیح فہم یہ ہے کہ: کفر، قول کی بنا پر بھی ہوتا ہے، فعل کی بنا پر بھی اور اعتقاد کی بنا پر بھی، ہاں البتہ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کو کسی ایسے گناہ کی بنا پر - جو شرک یا کفر تک نہ پہنچتا ہو - کافر نہیں کہتے جب تک کہ وہ اس کا استحلال (جائز کرلینا) نہ کرتا ہو۔ (یعنی ’گناہ‘ جس کی بنا پر آدمی کافر نہیں ہوجاتا وہ گناہ ہے جو شرک اور کفر کی قبیل میں نہ آتا ہو، رہ گیا وہ گناہ جو خود ہی کفر یا شرک کے زمرے میں آتا ہو، اس کا ارتکاب موجب ِ کفر ہی ہے اور ایسے فعل کی بابت محض یہ کہا جانا کہ اِس نے تو محض ’گناہ‘ کر لیا ہے جبکہ ’گناہ‘ کر لینے والے کو اہلسنت کے نزدیک دائرۂ اسلام سے خارج نہیں سمجھا جاتا، اہلسنت کے قول کی ایک غلط تطبیق ہوگی۔ کیونکہ اہلسنت یہ بات ایسے گناہوں کی بابت نہیں کہتے جو بذات خود کفر ہوں۔ پس جو بات اہلسنت ’عام گناہوں‘ کی بابت کہتے ہیں کہ ان سے آدمی کافر نہیں ہو جاتا، مرجئہ وہی بات ان گناہوں کی بابت بھی کہنے لگتے ہیں جو بذاتِ خود ’کفر‘ یا ’شرک‘ کے زمرے میں آنے والے ہوں، اور یہیں سے یہ لوگ ایک خلطِ مبحث پیدا کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ امام طحاوی کی مراد یہ نہیں ہوسکتی - مترجم) 8) جو یہ کہے کہ: جو شخص جوارح کے سب کے سب اعمال کا تارک ہو (ابن تیمیہ کے الفاظ میں: ”جنس ِ اعمال“ کا تارک) کفر کا مرتکب نہیں۔ یہ اس لئے ارجاءہے کہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ”اَعمالِ جوارح“ کو ”ایمان“ کے ارکان میں سے ایک رکن ہی نہ مانا جائے۔ بلکہ اس سے تو یہ بھی لازم آتا ہے کہ ”دل کے عمل“ کو بھی ”ارکانِ ایمان“ کا حصہ نہ مانا جائے، جوکہ غلط ہے کیونکہ ظاہر، باطن سے لازماً جڑا ہوتا ہے۔ پس ”جوارح کا عمل“ بھی اس تعریف میں نہیں آتا اور ”دل کا عمل“ بھی اس میں شامل نہیں۔ (”ایمان“ کی یہ تعریف ظاہر ہے اہلسنت کی تعریف نہیں)۔ 9) جو شخص یہ کہے کہ ”اَعمالِ جوارح“ شرط ہے ”کمالِ ایمان“ کی نہ کہ ”ایمان“ کا کوئی رکن اور نہ ایمان کے معتبر ہونے کیلئے ایک بنیادی شرط۔ ایسا شخص بھی ارجاءمیں واقع ہے۔ 10) جو شخص یہ نکتہ بیان کرے کہ ”کفریہ اقوال اور اعمال“ ”کفر“ نہیں بلکہ ”کفر پر دال“ ہیں۔ یہ بھی ارجاءمیں واقع ہے۔ 11) جو شخص یہ نکتہ بیان کرے کہ قولی و عملی مکفرات (کافر کر دینے والی اشیاء) جوکہ مُخرِج من الملۃ (ملت سے خارج کردینے والی) ہوں وہ ہیں جو ہر پہلو سے ”ایمان“ کے متضاد ہوں یا پھر یہ وہ چیزیں ہیں جو کفر پر دلیل ہوں گی (نہ کہ بذاتِ خود کفر)۔ چنانچہ ”تکفیر“ کی بنیاد وہ اس چیز کو بناتا ہے جو یا تو ہر ہر پہلو سے ایمان کے متضاد ہو یا پھر وہ چیز ’دال بر کفر‘ مانی جائے گی نہ کہ کفر۔ یہ شخص ارجاءمیں ہی واقع ہے۔ صحیح یہ ہے کہ قولی و عملی مکفرات (جوکہ مخرج من الملۃ ہیں) وہ ہیں جو کسی شرعی دلیل کی بنا پر مکفرات ثابت ہو جائیں۔ یہ اشیاء(خود بخود) ہر پہلو سے ایمان کے متضاد ہوں گی اور لازماً باطن میں کفر پر دال ہوں گی۔ پس یہ ہے فرق اہلسنت کے اعتقاد میں اور مرجئہ کے اعتقاد میں۔ 12) جو شخص ان دو باتوں کو بھی ”موانع ِ تکفیر“ میں گنے: ”خواہشِ نفس“ اور ”باقاعدہ قصد کے ساتھ ایک کام نہ کیا ہونا“، وہ بھی ارجاءمیں واقع ہے۔ (یعنی اہلسنت کے ہاں تو ”موانع ِ تکفیر“ یہ ہیں کہ آدمی ایک کفریہ کام کی بابت لا علم ہو، یا وہ کام غیر ارادی طور پر (بالخطا) اس سے سرزد ہوگیا ہو، یا وہ شخص اس فعل کے معاملہ میں کسی تاویل کا شکار ہو گیا ہو، یا اس سے وہ کام بالجبر کروا لیا گیا ہو۔ البتہ مرجئہ اس چیز کو بھی ”موانع تکفیر“ میں شمار کرتے ہیں کہ ایک کفریہ فعل پر آدمی ’خواہش ِ نفس‘ کے ہاتھوں مجبور ہو گیا ہو! یا یہ کہ اُس کا ’باقاعدہ قصد‘ نہیں تھا کہ وہ اللہ کے ساتھ کفر یا شرک ہی کر کے آئے، یہ کام تو اس نے ’بس یونہی‘ کر لیا تھا! یہ بھی مرجئہ کے ہاں ”موانع ِ تکفیر“ میں شمار ہوتا ہے- مترجم) یہ اس لئے کہ ان کی اس بات سے لازم یہی آتا ہے کہ ”کفر“ کو صرف اور صرف ’اعتقاد‘ کے اندر ہی محصور جانا جائے۔ ہاں اگر ’باقاعدہ قصد‘ سے ان کی مراد ایک فعل کا ’عمداً ارتکاب‘ کرنا ہو، یعنی ’خطا‘ کی ضد، تو اِس سے ہم بھی متفق ہیں۔ کیونکہ ’خطا‘ اہلسنت کے ہاں بھی ”موانع ِ تکفیر“ میں آتی ہے۔ لیکن اہلسنت کے ہاں ’عمداً‘ کی شرط سے مراد ہے کہ اس نے جانتے بوجھتے ہوئے (بقائمی ہوش و حواس) اور بالارادہ وہ کام کیا ہو۔ ہاں مرجئہ کے برعکس، اہلسنت کے ہاں تکفیر کیلئے البتہ یہ شرط نہیں کہ کفر کا ایک کام کرتے وقت آدمی نے باقاعدہ یہ قصد اور تہیہ کیا ہو کہ ہاں میں لازماً کفر میں ہی پڑوں گا! { وضاحت ازمترجم: مراد یہ کہ (1) جب وہ جانتا ہے کہ یہ کام کفر کا کام ہے یعنی جاہل بھی نہیں، (2) اپنے اس کفریہ فعل پر وہ کوئی شبہات تک پیش نہیں کرتا یعنی اس کے پاس تاویل بھی نہیں، (3) بھول چوک سے بھی نہیں کر رہا بلکہ بقائمی ہوش و حواس اور بالارادہ کر رہا ہے یعنی عمد کے ساتھ کر رہا ہے نہ کہ ’بغیر قصد‘، (4) اور کسی کے جبر کے تحت بھی نہیں بلکہ اپنی آزادانہ مرضی کے ساتھ کفر کا وہ کام کرتا ہے (یعنی چاروں موانع ِ تکفیر موجود نہیں)۔۔۔۔ تو اصول اہلسنت کی رو سے اب کوئی مانع باقی نہیں کہ مسلم اتھارٹی (مسلم اُمراءو علماء) اس پر کفر کی فردِ جرم عائد کر سکیں۔ البتہ مرجئہ کے نزدیک اس فردِ جرم کے عائد ہونے میں مزید جو موانع ہو سکتے ہیں ان میں یہ عجیب و غریب بات بھی آتی ہے کہ کفر کا وہ کام اُس شخص نے کسی خواہشِ نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کر لیا تھا مثلاً شہوتِ مال یا شہوتِ اقتدار کے زیر اثر اس نے کفر کے اُس فعل کا ارتکاب کر لیا تھا! یعنی آدمی سے کوئی کفریہ ’عمل‘ سرزد ہو ِگیا مانند غیر اللہ کو سجدہ، یا مصحف قرآنی کی اہانت، یا حکم بغیر ما انزل اللہ، یا نبی کے دشمنوں کو نبی کے ساتھیوں کے خلاف مدد و نصرت اور فتح دلانا وغیرہ وغیرہ، جوکہ محض ایک ’فعل‘ ہے نہ کہ ’اعتقاد‘ (کیونکہ مرجئہ کے نزدیک ’ایمان جاتا رہنے‘ ایسا واقعہ کسی انسان کے حق میں پیش آنا اسی صورت میں ممکن ہے جب ’اعتقاد‘ میں خلل واقع ہو نہ کہ ’عمل‘ میں کسی فساد کے آ جانے سے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا فساد کیوں نہ ہو!)۔۔۔۔ البتہ نبی کے دوستوں کے خلاف نبی کے دشمنوں کی نصرت واعانت کرنے، یا غیر اللہ کو سجدہ کر دینے یا مصحف قرآنی کی اہانت یا حکم بغیر ما انزل اللہ ایسے خالی ’فعل‘ کا ارتکاب کرتے وقت اس نے یہ تہیہ نہیں کیا ہوا تھا کہ اپنے اس ’فعل‘ سے وہ اللہ کے ساتھ کفر ہی کرے، بلکہ یہ ’فعل‘ اگر اس کا باقاعدہ مطلوب و مقصود اور اس کا باقاعدہ فکر و اعتقاد نہیں اور وہ مال یا اقتدار ایسی کسی خواہش نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ ’فعل‘ کر بیٹھا ہے تو یہ ’فعل‘ زیادہ سے زیادہ اس کے حق میں ایک ’گناہ‘ مانا جا سکتا ہے نہ کہ کفر اور دین اسلام سے خارج کر دینے والی کوئی چیز! مقصد یہ کہ وہ کفر کا جو بھی ’فعل‘ کرے، اور بے شک اس کے پاس کوئی عذر تک نہ ہو، پھر بھی ’کفر کا فعل‘ کرتے وقت ’کفر کی نیت‘ کرنا اگر اس سے چھوٹ گیا ہے تو وہ کفر کا مرتکب بہرحال نہیں ہوتا! موٹی بات یہی کہ ’کفر‘ کا ارتکاب ’اعتقاد‘ اور ’قصد‘ رکھنے سے ہوتا ہے نہ کہ مجرد ’فعل‘ کا ارتکاب کر لینے سے خواہ وہ کیسا ہی بدترین اور صریح کفریہ فعل کیوں نہ ہو! یہی ارجاءکا مذہب ہے - مترجم }
کون کونسی عبارتیں آدمی کے ’خوارج‘ کے مذہب پر ہونے پہ دلالت کرسکتی ہیں: شیخ سقاف، عقیدہ واسطیہ میں امام ابن تیمیہؒ کے کلام در بابت ”مسائل ِ کفر“ پر تعلیق لکھتے ہوئے کہتے ہیں: جان لو کہ کچھ صفات ہیں، جو شخص ان سے متصف ہو، یا ان میں سے بعض صفات سے متصف ہو، وہ خارجی ہے یا یہ کہ خوارج کے غلو میں کسی نہ کسی انداز سے گرفتار ہے: 1) یہ کہ آدمی کبیرہ گناہ کے مرتکب شخص کی تکفیر کرتا ہو۔ 2) ایسے شخص کی تکفیر کرتا ہو جو کسی گناہ میں پڑا ہوا ہو اور اسی پر مصر رہتا ہو۔ 3) یہ کہنا کہ ایمان ایک ہی چیز ہے جو گھٹنے کی نہیں، لہٰذا جب ایمان کا کچھ حصہ چلا گیا تو سارے کا سارا ہی چلا گیا۔ ایسا شخص مذہبِ خوارج میں واقع ہے۔ 4) جو شخص اس بات کو جائز جانتا ہو کہ ایک حاکم ِ مسلم کے خلاف محض اس کے ظلم و جور کی وجہ سے خروج کر لیا جائے، اگرچہ اس حاکم سے کفرِ بواح (کھلم کھلا کفر) نہ بھی ظاہر ہوا ہو، ایسا اعتقاد رکھنے والا خارجیت کا مرتکب ہے۔ اہلسنت کی رائے اسی بات پر قائم ہے اور اس سے خوارج کو ہی اختلاف ہے۔ لہٰذا یہ اختلاف رکھنے والے کو خارجیت پر باور کیا جائے گا۔ 5) جہالت (لا علمی) کو کسی کا عذر ماننے کو علی الاطلاق غلط جاننا، یعنی لاعلمی کو کسی بھی صورت میں آدمی کا عذر تسلیم نہ کرنا۔ (یہ بھی خوارج ہی کی ایک علامت ہے) 6) حکم بغیر ما انزل اللہ کی ہر ہر صورت کے مرتکب کو کافر قرار دینا ، بے شک معاملہ کسی خاص متعین قضیے کا ہو۔ (یعنی مسئلہ (خلاف ِ شریعت) تشریع ِ عام کا نہ ہو- مترجم) جبکہ صحیح یہ ہے کہ ان دو باتوں میں فرق کیا جائے: ایک ہے خلافِ شریعت بات کو ”تشریع ِ عام“ بنا دینا کہ جس کو باقاعدہ دستور کا درجہ حاصل ہو جاتا ہو اور وہ ایسے قانون کی حیثیت اختیار کر لیتا ہو جس کا ہر شخص پابند ٹھہر ادیا جائے (خلافِ شریعت بات کو قانون ٹھہرا دینے سے آدمی بہرحال ملت سے خارج ہو جاتا ہے)۔ دوسری چیز ہے کہ دستور و قانون کی حیثیت تو شریعت ِ اسلامی ہی کو حاصل رہے، البتہ ایک شخص کسی خاص قضیہ یا قضایا میں فیصلہ کرتے ہوئے اس حکمِ شریعت کی مخالفت کر بیٹھے (جس سے آدمی ملت سے خارج نہیں ہوتا)۔
7) تکفیر معین (کسی شخص کو متعین کرکے
کافر ٹھہرانے) میں جلد باز ثابت ہونا، بغیر اس کے کہ تکفیر کی شروط
پوری پائی گئی ہوں یا تکفیر کے موانع کا عدم وجود ثابت ہوتا ہو۔ (یہ
جلد بازی بھی خوارج کی ایک شناخت ہے)۔
|
|||||||||