|
|
||||||||||
انڈیا کے ہندو میڈیا کو وہاں کے ”اکثر “ مسلمانوں کے عقائد سے ہمدردی پیدا ہونے لگی ہی، جن پر کسی مسلمان ہی کا اُن سے مختلف ہونا اب اُس کو ایک آنکھ نہیں بھاتا!! یہ تاثرایک بارگی ذہن میں اُس وقت اُبھرا جب انڈیا کے این ڈی ٹی وی چینل کے ایک لائیو پروگرام میں ایک نیوز رپورٹر سے کچھ اِس قسم کا تبصرہ سُنا گیا: ”دُنیا کے مسلمان بہت بڑی تعداد میں درویشوں، فقیروں اور پیروں کے مزارو ں پہ جاتے ہیں۔ اپنی عقیدت پیش کرتے ہیں اور وہاں منتیں مانتے ہیں۔ (مگر) ذاکر نائیک کہتے ہیں کہ جو مر چکا، اُس سے کچھ نہیں مانگ سکتے۔ یہاں تک کہ محمد صاحب (ﷺ) سے بھی نہیں۔“ ”دنیا کے کثیر مسلمانوں“ کاعقیدہ خواہ کچھ بھی ہو، اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کا نقطۂ نظر ان کے مخالف ہو یا موافق، ہندوؤں یا دیگر غیر مسلموں کو بھلا اِس سے کیا دلچسپی ہونی چاہیی؟ ذاکر نائیک کے ”دُنیا کے بہت سے مسلمانوں“ کے ساتھ عقیدے کے مذکورہ اختلاف پر ہی ایک پروگرام نشر کردینا کیا اِس وجہ سے ہے کہ ہندوؤں کو ”جمہور مسلمانوں“ کے عقائد کا بڑا درد اُٹھنے لگا ہے اور وہ کسی بھی مسلمان کو اُن عقائد کے خلاف جاتا دیکھنا گوارا نہیں کر سکتی، خصوصاً پیغمبر اسلام (ﷺ)کے رُتبہ کو کم دیکھنا تو اُن کو برداشت ہی نہیں ہو سکتا!؟، یا یہ کہ اصل معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ ہندوستان بلکہ اپنی دانست میں ”دُنیا“ کے مسلمانوں کے مردوں سے اِستمداد کے ”متفقہ“عقیدے و طرزِ عمل کی ترجمانی اور ”تصویب“ پیش کرنے کے بعد اگر کسی مقبول اور سرگرم ترین ہندوستانی داعی اسلام کا نقطۂ نظر اس کے بر خلاف ثابت کر کے دکھا دیا جاتا تو یہی بات اُس کی تنقیص، اور اُس کی تمام مساعی کو خاک میں ملا دینے کو کافی ہوجاتی!! اِس طرح نہ صرف یہ کہ بہت سے مسلمانوں، اور اسلام سے قربت محسوس کرنے والے غیر مسلموں میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی شخصیت کو متنازعہ بنا نے کی کوشش کی جاتی، بلکہ اُن کے پروگراموں کے خلاف خود مسلمانوں کی طرف سے ایجی ٹیشنز کھڑی کرنے کی راہ ہموار کی جاتی، جس کا نتیجہ پھراُن کے پروگراموں پر پابندی و بندش کی صورت میں سامنے آتا۔۔۔۔، جیسا کہ مذکورہ ٹی وی پروگرام میں لکھنؤغیرہ ایسے مقامات کی بابت بیان بھی کیا گیا۔ ہندوؤں کے ملک میں ایک بھرپور اسلامی دعوت پھلتے پھولتے دیکھنا کس طرح گوارا کیا جا سکتا ہے؟؟ جو لوگ دلیل، مباحثے اور مذاکرے کے میدان میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ہاتھوں بار بار ہزیمتوں سے دوچار ہوتے رہے ہوں، اور پھر بھی ماننے پر تیار نہ ہوتے ہوں،وہ ٹیڑھی انگلیوں سے گھی نکالنے کے لیے کچھ نئے ہتھکنڈے استعمال نہ کریں تو کیا کریں!!؟ پروگرام میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ایک کلپ بھی دکھایا جاتا ہے جس میں وہ پیروں فقیروں بلکہ خود محمد ﷺ سے مانگنے سے منع کرتے ہوئے اور اسے حرام قرار دیتے ہوئے پائے جا رہے ہوتے ہیں۔ پھر پروگرام میں حسب ِ طریقۂ کار ”متعلقہ“ شعبہ کے ”ماہرین“ سے اُن کی آراءحاصل کی جاتی ہیں تاکہ اُن کی روشنی میں ناظرین کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں ( یا ان کو کسی ”نتیجہ“ پر پہنچایا جا سکے!) نیوز رپورٹس پر مبنی تجزیاتی پروگراموں میں تبصرہ کا طریقۂ کار عموماً یہ ہوتا ہے کہ جس موضوع پر بحث ہو رہی ہو اس سے متعلقہ تمام اہم متنوع مکاتب فکر کے ماہرین یا اسکالرز کی آراءحاصل کی جاتی ہیں تاکہ تبصرہ غیر جانبدارانہ رہے اور تجزیہ بے لاگ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ زیر گفتگو پروگرام میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مذکورہ بالا موقف کی بابت جن ”ماہرین“ کی آراءمانگی گئیں وہ یا تو مخالف نقطۂ نظر کے حامل تھی، یا پھر وہ تھے جو اس مسئلہ میں فروعی مسائل کی طرح لچک اور برداشت بلکہ ”اجتہادی اختلاف“ کے قائل ہیں۔ اوّل الذکر بریلی سے مذہبی نسبت رکھنے والے لوگ تھے تو ثانی الذکر ”مولانا وحید الدین خان“! حالآنکہ ہندوستان میں ایک بڑی تعداد ان مسلمانوں کی بھی بستی ہے جو معاملۂ زیر سوال میں ڈاکٹر ذاکر نائیک سے پوری طرح متفق ہیں اور اس کو فروعی مسائل کے خانے میں فٹ بھی نہیں کرتے۔ اس موقف پر پروگرام مذکورہ میں پہلی قسم کے ماہرین اور ”خواجہ کے دیوانوں“ نے جو رد عمل پیش کیا سو کیا، کہ ان کا تو نقطۂ نظر ہی بالکل الٹ ہی، اس مسئلہ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک سے اصولی اختلاف نہ رکھتے ہوئے بھی جس طرح خان صاحب نے اپنا موقف سامنے رکھا، وہ انہی کا خاصہ ہے اور اپنی سابقہ بیداد گریوں کی طرح وہ اس پر بھی ”داد“ کے مستحق ہیں۔ خان صاحب کا فرمانا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کوئی اسلامک اسکالر نہیں ہیں، اس لیے انہیں اسلامک ایشوز پر بولنا نہیں چاہیے!!! یہ اتفاق مبارک ہو مؤمنوں کے لیے کہ یک زباں ہیں فقیہان شہر مرے خلاف یعنی چاہے اسلام کے نام پر کچھ بھی ہوتا رہی، اسلام کی صورت کو بگاڑا جاتا رہی، اس کی ساخت کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا رہی، اس کی رُوح پر تازیانے برسائے جاتے رہیں، ہر مسلمان چاہے وہ تمام مسائل میں اہل ِ علم اور قابل ِ قدر ائمہ کا ہی پیروکار ہو، اس وقت تک اپنی زبان بند رکھے جب تک اسکالر کے درجے کو نہ پہنچ جائے۔ یا خان صاحب کی مانند ”بقلم خود“ منصب اجتہاد پر فائز نہ ہو جائے۔! رہی یہ بات کہ ذاکر نائیک کوئی اسلامک اسکالر نہیں ہیں تو انہوں نے اس کا دعویٰ ہی کب کیا ہی؟وہ تو ا پنے آپ کو ایک کل وقتی داعی باور کراتے ہیں۔ لیکن اگر تمام اسلامک ایشوز پر بات کرنا صرف اور صرف اسکالرز کا ہی وظیفہ قرار پائے تو پھر ”دعوت“ کا نوے فیصد سے زائد کام تو بالکل بند ہو کر رہ جائے۔ پھر۔۔۔۔”مردہ پرستی“ اور ”قبر پرستی“ کیا ایسے خفیہ مسائل ہیں جو آج ہی جا کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ،کہ جن پر ”بولنے“ کے لیے پہلے ان کی عالمانہ تحقیق و تنقیح ضروری ہو؟ یہ دونوں تو انبیاءعلیہم السلام کے دور سے ہی چلے آ رے ہیں، اور تقریباًتمام ہی انبیاءکو جن جن شرکیات کی سرکوبی و بیخ کنی کا فریضہ سر انجام دینا پڑا ان میں یہ ہمیشہ سر فہرست رہے۔ یہ مسئلہ توخالص عقیدے کا مسئلہ ہے جس پر خاموش رہنا ہی توحید کو پارہ پارہ کر دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ کجا یہ کہ داعیان اسلام کو ہی اس مسئلے سے صَرف نظر کرنے کا مشورہ دیا جائے اور اس کو دیگر اسلامک ایشوز کی طرح محض ایک ایشو کے طور پر لیا جائی، کہ جس میں ”اِس طرف“ یا ”اُس طرف“ ہونا ہر مسلمان کا پیدائشی حق مانا جاتا ہو!! اور اس پر کوئی فیصلہ کن یا حکمیہ بات کرنا (یعنی یہ کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا) صرف اسکالرز کا منصب جانا جائے!!؟؟ فقہی مسائل میں جب اہل علم کسی مسئلے کی تحقیق کرتے ہیں تو اس باب میں وارد شدہ تمام متنوع مگر مستند آراءکو جمع کرتے ہیں پھر ادلّۂ شرعی سے کام لیتے ہوئے اجتہاد کرتے ہیں، اور کسی ایک رائے کو ترجیح دے کر اختیار کر لیتے ہیں۔ البتہ باقی آراءکو با طل یا حرام بھی نہیں قرار دیتی، اور دیگر اہل علم کے لیے ان آراءکو اپنی اپنی ترجیح پر اختیار کر لینے کی گنجائش برقرار رکھتے ہیں۔ غرض جہاں معاملہ کسی فقہی مسئلے میں چلی آنے والی آراءکا ہوتا ہے وہاں کسی معرکۂ حق و باطل کا سوال نہیں اٹھتا، صرف راجح و مرجوح، یا زیادہ سے زیادہ صواب و خطا کا معاملہ زیر بحث رہتا ہی، باوجود اس کے کہ کسی ایک رائے کا نتیجہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی دوسری رائے کے حامل شخص کے نزدیک حرام یا باطل ہوسکتا ہے۔ اسی لیے فقہی اختلاف کے بیان میں بڑی وسعت اور گنجائش دیکھی جاتی ہے۔ یعنی یہ کہ کسی ایک مسئلے میں مختلف آراءسائل کے سامنے بیان کرکے اپنے مسلک کا ذکر کر دینا، دوسروں پر تنقید کیے بغیر، یا حتی کہ کبھی صرف مختلف آراءہی سائل کے سامنے رکھ کر ترجیح کا معاملہ اسی پر چھوڑدینا۔ یہ معاملہ البتہ ضرور ایسا ہے کہ کسی اسکالر سے ہی انجام پانا چاہیے۔ اور فقہی مسائل ہی وہ ”اسلامک ایشوز“ ہیں کہ جن پر کوئی ترجیحی یا فیصلہ کن بات کسی اسکالر ہی کی طرف سے سامنے آنی چاہیے نہ کہ ہر ایرے غیرے کی جانب سے۔ جبکہ عام لوگ کسی فقہی مسئلے میں اپنا مسلک واضح کرنے کے لیے دورِ حاضر کے کسی مشہور اور مقبول عام اسکالر (مانند شیخ البانی، ابن باز، ابن عثیمین، ابن جبرین وغیرہم) کی رائے پیش کر سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک یہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے بارہا دیکھے جا تے رہے ہیں۔ رہے وہ مسائل جو خالصتاً دین کی بنیاد یعنی عقیدۂ توحید سے متعلق ہیں تو اُن میں دوسروں کے لیے اسلام میں رہتے ہوئے کسی دوسری رائے پر ہونے کے استحقاق کا محض تصور رکھنا ہی اس عقیدے سے متناقض ہی، خواہ داخلی اعتبار سے آدمی کا عقیدۂ توحید کسی نقص سے پاک ہی ہو!
آپ توحید کے اندر خود تو صحیح عقیدے پر ہوں لیکن اس میں کسی مخالف رائے
کا بھی ”احترام“ کرتے ہوں، اور مخالف کو اس کی شرکیہ رائے کی گنجائش
دیتے ہوں یا دینے کے قائل ہوں اور اس کو اس کے لیے ہلاکت و بربادی کا
سامان نہ سمجھتے ہوں، تو یہی بات آپ کے اپنے عقیدے کی خرابی کے لیے بہت
کافی ہے۔ ”یہ جو بات ہے پیغمبر سے مانگنے والی، تو اس معاملے میں علماءکے دو طبقے ہیں۔ ایک دیو بندی علماءکہلاتے ہیں، دوسرے بریلوی علماءکہلاتے ہیں۔ تو بریلوی علماءیہ مانتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) سے ہم مانگ سکتے ہیں۔ لیکن جو دیوبندی علماءہیں وہ اس کو جائز نہیں سمجھتے۔ تو دو الگ الگ رائیں ہیں مقبول علماءکے درمیان۔“ (ملاحظہ فرمائیے وحید الدین خان کا مذکورہ ویڈیو کلپ) یعنی جس کا دل کرے وہ توحید کے مطابق مسلک اختیار کری، اور جس کا جی چاہی، توحید کے مخالف۔! دین میں دونوں ہی کی ”گنجائش“ ہے!! وجۂ جواز اب یہ ہے کہ دوسری رائے کی پشت پر بھی ”علماء“ پائے جاتے ہیں! واضح رہے کہ زیر گفتگو معاملہ جس میں مبنی بر شرک عقائد رکھنے والے کسی گروہ کو اسلام ہی کے ایک مسلک کے طور پر باور کرانے کی کوشش کی گئی ہی، یہ اُس معاملے سے قطعاً مختلف ہے جس میں کسی ”کلمہ گو مشرک“ کو جہالت یا کسی اور بڑے مانع کی وجہ سے کافر کہنے میں احتیاط اور توقف سے کام لیا جا رہا ہوتا ہے۔ کسی کو احتیاطاً کافر نہ کہنے میں اور کسی کے شرکیہ مذہب کو مسلمانوں میں کا ہی ایک مذہب قرار دینے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ آخر الذکر وہی طرزِ عمل ہے جو صریح طور پر امام محمد بن عبدالوہاب کے بیان کردہ نواقضِ اسلام میں سے تیسرے ناقض کے تحت آتا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ مبنی بر شرک اور توحید مخالف نظریات کے حامل ”علماء“ کا وجود مسلمانوں میں کب جا کے پیدا ہونا شروع ہوا ہے، کیاکسی بھی خلاف اسلام اور مناقض توحید نظریے یا عقیدے کو دین و شرع میں سند جواز حاصل کرلینے کے لیے اب محض اِتنا ہی کرنا پڑے گا کہ اس کے ساتھ کچھ علماء، کچھ لوگ، یا کچھ طبقات وابستہ ہوں؟؟ اور جہاں یہ ”شرط“ پوری ہوتی نظر آتی ہو، وہاں ان نظریات کے خلاف بولنے ہی پر پابندی لگادی جائی؟!! پھر جن جن معاملات میں خود خان صاحب دیگر علماءکی متفقہ آراءکو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اور امّت کے سوادِ اعظم کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں، وہ سب معاملات کیا عقیدۂ توحید سے بھی بڑے ہیں؟؟ ”دین کی سیاسی تعبیر“، ”اسلام کا تصورِ اقتدار“، ”غلبۂ دین و شوکت ِ اسلام“ اور ”قتال فی سبیل اللہ“ وغیرہ ایسے موضوعات پر خان صاحب جو مواقف رکھتے ہیں، کیا ان کے متضاد مواقف کی حامل علماءاور مسلمانوں کی ایک بڑی بھاری تعداد خان صا حب سے بہت پہلے سے امّت میں چلی نہیں آتی رہی ہی؟؟ پھر ان علماءکی آراءبتلاتے ہوئے خان صاحب کیا اسی وسعت اور کشادگی کا مظاہرہ کرتے ہیں؟؟؟اور دوسروں کے لیے کسی بھی رائے کو اختیار کرلینے کی گنجائش پیش کرتے ہیں؟؟ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مقبولیت، ان کے کام اور ان کے مشن سے جتنی تکلیف ہندوؤں اور غیر مسلموں کو ہو رہی ہی، قریب قریب اتنی ہی تکلیف عالم ِ اسلام کے جسد میں ناسور کی مانند پائے جانے والے روافض، ملاحدہ، ماڈرنسٹوں اور موجودہ دور کے باطنیوں کو پہنچ رہی ہے۔ غیر مسلموں کی پریشانی یہ ہے کہ دلیل اور منطق کے میدان میں ان کے پاس ڈاکٹر ذاکر نائیک کے کام کا کوئی جواب اور کوئی توڑ موجود نہیں ہے۔ اس قوت سے نہایت مؤثر انداز میں کام لیتے ہوئے ڈاکٹر موصوف دین کے مقدمات اس طرح سامنے رکھتے ہیں کہ عقل کے تمام ابہامات و اشکالات دور ہو جاتے ہیں، اور مخالف کے پاس انکار کرنے کے لیے سوائے بغض، عناد، ہٹ دھرمی اور استکبار کے کچھ باقی نہیں رہتا۔ لطف کی بات یہ کہ اسلام کے بہت سے مقدمات ڈاکٹر ذاکر نائیک غیر مسلموں کے اپنے مستند مصادر و مراجع سے بطور استشہاد ثابت کرکے دکھاتے ہیں، جن پر وہ اگر پھر بھی قائل ہونے پر تیار نہ ہوتے ہوں تو سوائے پیچ و تاب کھا کے رہ جانے کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔! وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ پھر اہم بات یہ کہ یہ سب کرتے ہوئے ڈاکٹر ممدوح دین اسلام کے بنیادی مصادر و مراجع اور معتبر ائمۂ کرام و علمائے عظام کی تعبیرات و تشریحات سے ایک انچ نہیں ہٹتے۔ ساتھ ہی ساتھ دورِ جدید کے تقاضوں اور عصری رویوں کو اس قدر حسن و خوبی سے نبھاتے ہوئے چلتے ہیں کہ دیکھنے والا اس سے یہی پیغام پاتا ہے کہ ہر نئے دور کے لیے اسلام کی مانند حسین وجامع اور کامل و شامل فلسفۂ زندگی کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اور یہی بات ماڈرنسٹوں کی پریشانی کا باعث ہے۔ آخر ”نئے دور“ اور ”جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق“ اسلام کی تشریح و ترجمانی کا ٹھیکہ تو انہی نے لے رکھا تھا! اب یہ اچانک کون صاحب اٹھ کھڑے ہوئی؟؟ جنہوں نے ”پرانے اصولوں“ کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا اور ہوا کے نئے رُخ کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ بلکہ دونوں میں ایک تعلق قائم کرکے دکھادیا۔! ڈاکٹر ذاکر نائیک خود کو ایک کُل وقتی داعی باور کراتے ہیں۔ اسکالر ہونے کا انہوں نے کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا کہ کسی کو اس کی تردید کی زحمت کرنی پڑے۔! نہ ہی کبھی اسکالرز کا کام انہوں نے اپنے ذمّے لیا۔ البتہ ان کے مشن میں جو اَب ایک تحریک کی صورت اختیار کرچکا ہی، انہیں عالم ِ اسلام کے کئی ایک ممتاز اسکالرز کی خدمات اور تعاون ضرور حاصل ہے۔ جس کا مشاہدہ اُن کے مقبول ِ عام دعوتی ٹی وی چینل Peace TV پر کیا جا سکتا ہے۔ ذاکر نائیک اسکالر نہیں، نہ سہی، اور یہ بات ان کے لیے ہرگز کوئی وجۂ تنقیص بھی نہیں۔ خان صاحب خود اپنی تعریف کی رُو سے البتہ ضرور مذہبی اسکالر ہیں، کیونکہ اُن کا اصل کام ہی اسلامک ایشوز پر بولنا، اُن پر مسلمانوں سے اختلاف کرنا اور اپنی منفرد بلکہ ”متفرد“ آراءپیش کرنا ہے۔ تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ ”اسکالر“ ہونے کے ناتے وہ موتی ٰ سے استمداد کے اس ”اسلامک ایشو“ پر بات کرتے ہوئے اپنی رائے بھی سامنے رکھ دیتے۔ ان کے عقیدتمندوں کو اپنا قبلہ متعین کرنے میں آسانی ہوجاتی! لیکن وہ ایسا کیوں کرتے، جبکہ اُن کی رائے (مسئلۂ زیرِ بحث میں) جوہری طور پر ذاکر نائیک سے مختلف نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو اس طرح تو گویا ایک انداز سے ذاکر نائیک کی تائید ہوجاتی اور یوں خود اُن کی طرف سے ذاکر نائیک کے مشن کو تقویت پہنچ جاتی، جس کے بھلا وہ کیوں کر متحمل ہو سکتے تھے؟؟!! البتہ ذاکر نائیک کو پرے رکھتے ہوئے اگر وہ اسی موضوع پر اظہارِ خیال کرنے پر آئیں تو ضرور ہی سیل ِ معانی بہا کر دکھا دیں۔!! جب کسی ”دعوت“ کا منبع ”ذات“ ہو تو وہ اسی طرح دوسری دعوتوں اور فورموں سے الجھتی اور اُن کے راستے قطع کرتی نظر آتی ہے۔ پھر دوسروں کے ہاں پائے جانے والے تنکے بھی شہتیر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ کسی حق بات کی تائید سے کسی بھی وقت لوگوں کو محض یہ بات روک دیتی ہے کہ کہیں اِس سے ”دوسروں“ کی تائید نہ ہو جائی، اور اس سے کہیں ان کے مشن کو ہی کوئی فائدہ نہ پہنچ جائے۔ اِس سے بڑھ کر بد نصیبی اور کتمانِ حق کسی داعی کے لیے اور کیا ہوگا۔!؟ بیباکی اور جرأت ِ اظہار انہی کو نصیب ہوا کرتی ہی، حق گوئی جن کا آئین اور راست بازی جن کا شعار ہو۔ ہر ایک مُدّعی کے واسطے دار و رَسن کہاں؟
٭٭٭٭٭ |
||||||||||