|
|
|||||||||
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین و بعد: ہرمسلمان کو فی زمانہ جس چیزکا سب سے زیادہ سامناکرناپڑرہاہے وہ ہے’تلبیس حق‘۔ (یعنی حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرکے باطل کی راہ ہموارکرنا) دنیاکے بڑے بڑے کافر اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے منافقین تلبیس حق اورگمراہی کوپھیلانے میں سرگرم عمل ہیں ۔ابلاغ عامہ پرمسلسل اور متواتر اور دوسرے ذرائع سے بھی دنیاکے شاطردماغ مسلم اورغیرمسلم معاشروں میں اپنی خودساختہ اصطلاحات کورواج دینے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ بہت سی ایسی شخصیات بھی بین الاقوامی پروپیگنڈے کاشکارہوگئی ہیں جواپنے آپ کوعلم کے کسی مرتبے پرسمجھتی ہیں خواہ اس کی وجہ ان کاناقص علم ہویا وہ کسی پروپیگنڈے سے متاثرہوئے ہوں یاوہ جانتے بوجھتے اپنی قوموں سے غداری کرتے ہوئے دشمن کی من چاہی اصطلاحات سے مسلمانوں کودھوکہ دے رہے ہوں؛ معاملے کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔ تلبیس حق کاخطرہ اتناگہرااوردوررس ہے کہ اس کی زدمیں ہمارے دین کے بنیادی تصورات اورعقائدتک آ گئے ہیں ۔ان حالات میں اگرامت کے حقیقی اہل علم باطل کا ابطال نہیں کرتے اور’سبیل المجرمین‘کوواضح نہیں کرتے تودنیامیں ایک عظیم ترین فسادکے برپاہونے کوکوئی نہیں روک سکتا۔ سب سے زیادہ تلبیس کی اصطلاح ہے’بین الاقوامی قوانین‘کااحترام۔ ابلاغ عامہ میں اس اصطلاح کوبھرپورطریقے سے پھیلایاجارہاہے۔مغربی میڈیاکے سنگ سنگ ہمارااخلاق باختہ میڈیابھی اس ’فرض‘کونبھائے چلاجارہاہے۔اس اصطلاح کوایسے عام کیاجارہاہے جیسے یہ انسانی تاریخ کی کوئی ازلی حقیقت ہو۔اس شرکیہ اصطلاح کو انسانی اذہان میں ثبت کرنے کے لیے کبھی بین الاقوامی قوانین کے احترام کاپروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ کبھی کہا جاتاہے فلاں کام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔کبھی کہاجاتا ہے کہ فلاں ملک کوبین الاقوامی قوانین کے تحت فلاں فلاں اقدامات کرنے ہوں گے۔ ضروری ہے کہ مسلمان اس طاغوتی اصطلاح سے اچھی طرح واقف ہوں کیونکہ اس اصطلاح کی زد ہمارے عقائدپرپڑتی ہے۔ ’بین الاقوامی قوانین‘ دراصل ایسے قوانین کامجموعہ ہے جسے کافرملکوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے وضع کیاہے۔ظاہرہے کافرممالک کے اپنے اصول اخلاقیات ہیں ؛اپنے قوانین ہیں؛ اپنے معیارات اوررواج ہیں ۔ دوسری جنگ عظیم میں فاتحین کے مفادات کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے نام سے ان قوانین کی بین الاقوامی حیثیت تسلیم کروائی گئی تھی۔ابتداءمیں ان قوانین کی بنیاد تین ممالک:امریکہ؛برطانیہ اور روس نے رکھی تھی بعد میں فرانس اورچین بھی بنیادی ارکان میں شامل کرلیے گئے۔ان پانچ ممالک نے اپنے مفادات کے لیے بین الاقوامی اصطلاح کے نام سے قوانین کا مجموعہ مرتب کیاتاکہ مفتوحہ علاقوں کی بندربانٹ میں کوئی بڑی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک بھی اس بات کے پابند ٹھہرائے گئے کہ وہ اپنے تنازعات اسی فورم سے بین الاقوامی مجموعہ قوانین کی ہدایات کے مطابق حل کریں گے۔ ہمارادشمن اس اصطلاح کوموم کی طرح استعمال کرتاہے۔جب کبھی کسی ملک سے بڑے ممالک کاکوئی مفادوابستہ ہوخصوصاًجن ممالک کوعالم اسلام کہاجاتاہے وہاں اس اصطلاح کو اپنے حق میں یہ ممالک بڑی ہوشیاری سے استعمال کرتے ہیں ۔کسی بھی مسلم خطے یا مسلمانوں کے مفادات پرڈاکہ مارناہوتواسی اصطلاح سے کام لیاجاتاہے۔امت کے اصلاح کاراہل علم میں سے کسی کوگرفتارکرناہویا اسی ملک کی انتظامیہ سے اس گرفتارکراناہویااسلامی ملکوں پرمسلط جنگ کی مزاحمت کرنے والے مجاہدین پرشب خون مارناہوتواسی اصطلاح کوبروئے کارلایاجاتاہے۔ اس اصطلاح کی سب سے بڑی ظالمانہ مثال یہودیوں کوفلسطینیوں کی اراضی پریہودی وطن بنانے کا حق دیناہے۔دنیابھرکے یہودیوں کولاکرایسی سرزمین میں انہیں آزادوطن بنانے کاپروانہ دے دیاجاتاہے جس سرزمین پرنامعلوم تاریخ سے لے کرآج تک مقامی باشندے ہی اس کے اصل باسی رہے ہیں ۔مسلم عراق اسی اصطلاح کی بھینٹ چڑھاہے۔عراق جہاں اس منحوس اصطلاح کی وجہ سے اب تک کم و بیش دس لاکھ تو بچے ہی شہیدکردیے گئے ہیں بالغ عوام وخاص اس کے علاوہ ہیں ۔اسی اصطلاح کی رو سے سوڈان کے صدربین الاقوامی مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں ۔دوسری طرف غزہ اور عراق میں لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے امن وسلامتی اورجمہوریت کے چمپئن کہلائے جاتے ہیں ۔ اگلی سطورمیں ہم اس اصطلاح کے اسلامی عقیدہ کے ساتھ متصادم ہونے والے پہلوپربات کریں گے۔ بین الاقوامی قوانین کااسلامی عقیدے سے متصادم ہونا بین الاقوامی قوانین کاشرعی حکم تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اقوام متحدہ کی ساخت اوربنیاد جس میثاق پررکھی گئی ہے اس کاجائزہ لیاجائے۔ اقوام متحدہ کے میثاق کومحض طاغوت کہنااس کاشرعی حکم نہیں ہے یہ اس سے کہیں بڑھ کرکافرانہ دستاویز ہے۔دوطرفہ معاہدوں میں یا قانون کی زبان میں اہم ترین ”معاہدہ“ وہ کہلاتاہے جسے اصطلاح میں ”میثاق“کہاجاتاہے۔ میثاق اقوام متحدہ UN Charter کی شق103میں یہ وضاحت موجودہے کہ:’رکن ممالک میں سے کسی کے لیے یہ جائزنہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے کوئی ایسا معاہدہ کرے جومیثاق اقوام متحدہ سے متصادم ہو‘۔ اس وضاحت کا واضح طورپریہ معنیٰ ہے کہ اسلامی شریعت میں جن معاہدوں کوجائزقراردیاگیاہے وہ جب بھی میثاق اقوام متحدہ کے برخلاف ہوں گے تواسلامی شریعت کوترک کیاجائے گااور’میثاق‘ پرعمل درآمدہوگا۔یادرہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل نہیں کرسکتاجب تک وہ میثاق اقوام متحدہ کوتسلیم نہیں کرلیتا۔’میثاق‘کی خلاف ورزی پراس ملک کی رکنیت منسوخ ہوجائے گی۔ قارئین یہاں ہم آپ کوبتاتے چلیں کہ ابھی تک کسی ملک کواس بات پرتعجب نہیں ہواکہ ’میثاق‘کی خلاف ورزی پرہرملک کی رکنیت منسوخ ہوسکتی ہے سوائے اقوام متحدہ کی بنیادرکھنے والے پانچ ابتدائی ممالک کے جن میں سے کوئی اکیلاملک سارے رکن ممالک کی مشترکہ قراردادکو’ویٹو‘کرنے کاحق رکھتاہے۔جیساکہ ہم نے پہلے کہااس فورم کا اصل مقصدہی بڑے ممالک کے مفادات کی حفاظت کویقینی بناناہے۔ اقوام متحدہ کی ساخت؛میثاق؛تصرفات اوراس کے اہم عہدے داروں کی وفاداریں دیکھتے ہوئے کوئی بھی انصاف پسنداس بات سے انکارنہیں کرسکتاکہ اس فورم کا مقصدیہودی اورصلیبی مفادات کی حفاظت کرناہے۔ 1947ءمیں فلسطین کی اراضی پریہودیوں کاحق تسلیم کرکے اس ادارے نے اپنی جانب داری کاواضح ثبوت فراہم کردیاہے۔ اقوام متحدہ کا بنیادی حقوق کاچارٹراسلامی عقائدکے سراسرخلاف ہے۔بنیادی انسانی حقوق میں فردکے لیے لامحدودآزادی کاتصوردیاگیاہے تاکہ وہ دنیاکی لذتوں سے پوری آزادی سے متمتع ہوسکے۔اسی طرح آزادی اظہارکے حق کی رو سے کوئی بھی فردہر قسم کی تقریر و تحریرکاحق رکھتاہے اسی طرح دین اورمذہب میں آزادی کاحق ہرفردکومیثاق اقوام متحدہ کی طرف سے حاصل ہے۔اس کے علاوہ اس چارٹرکی رو سے تمام ادیان کے پیروکارملکی قوانین میں مساوی حقوق کے حامل ہوں گے۔ مذکورہ بالاتمام حقوق اسلامی عقائدکے صریح خلاف ہیں ۔ یعنی: حقوق انسانی کے چارٹرکی وجہ سے اسلامی شریعت میں موجودارتداد کی حدساقط ہوجاتی ہے جوہمارے دین میں اس لیے رکھی گئی ہے کہ کوئی بھی سرکشی پرآمادہ مسلمان دین اسلام کواپنی مرضی سے ترک کرکے ہمارے دین کے وقارکوداغ دارنہ کرسکے۔اسی طرح آزادی رائے کا، اس معنی میں جو مغرب میں رائج ہے اور جوکہ یو این چارٹر کا مقتضیٰ ہے اسلام میں کوئی تصورنہیں بلکہ اسلام میں ہرفرد اپنے ایک ایک لفظ کاذمہ دارہے جو وہ اپنے لبوں سے اداکرتاہے۔ اسلام میں کوئی شخص آزادنہیں ہے بلکہ سب اللہ کے ’عبد‘ہیں اس کی ہدایت پرچلنے کے پابندہیں ۔ اسلام میں کافراورمسلمان برابرنہیں ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:يَجْعَلَ اللّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً’ اللہ نے ہرگزایسی گنجائش نہیں رہنے دی ہے کہ کافرمومنین پر(غالب آنے کی) کوئی راہ پاسکیں‘۔ اقوام متحدہ کے میثاق کی رو سے ہرشخص اس بات کاپابندہے کہ وہ تمام تنازعات کے حل کے لیے اپنے ملک کی عدالت سے رجوع کرے گا۔ اس شق پرعمل کرنے سے لازم آتاہے کہ عدالت خواہ طاغوت کے بنائے قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہو رکن ممالک کے تمام شہری ملکی قوانین اورعدالت کے فیصلے کے پابندہوں گے۔اس شق پرعمل کرنے سے شریعت کے احکام منسوخ ہو جاتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے میثاق کے مطابق عوام کی رائے ہی قانون سازی کاواحدمصدر ہے۔ یہ عبارت اسلامی عقیدے کے صریحاًخلاف ہے۔ اسلام میں یہ منصب صرف اہل حل و عقدکوحاصل ہے۔ میثاق اقوام متحدہ میں کہاگیاہے کہ اقوام متحدہ کے میثاق کی مخالفت کسی صورت میں نہیں کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹرعلیان اپنی کتاب’اھمیۃ الجہاد‘میں لکھتے ہیں : ہرمسلمان پرواجب ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے میثاق کی مخالفت کرتاہوکیونکہ اہل النار کے طریقے کی مخالفت کرناہی اکثراوقات صراط مستقیم ہواکرتاہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے قوانین اسلام کے فریضہ جہادسے صاف متصادم ہیں ۔اس کی تفصیل بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں : ا) اقوام متحدہ رکن ممالک کوپابندکرتی ہے کہ وہ تنازعات کی صورت میں بین الاقوامی قوانین کی طرف رجوع کریں گے۔ ڈاکٹرعلیان لکھتے ہیں کہ اہل اسلام پرواجب ہے کہ وہ صرف کتاب اللہ کی طرف رجوع کریں ۔ ب) اقوام متحدہ کے میثاق کے مطابق رکن ممالک تنازعات بین الاقوامی قوانین کوسامنے رکھ کرمذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی ریاست کے لیے جواحکام اتارے ہیں اس کے مطابق اسلامی ریاست کسی کافرملک سے معاملات کرتے ہوئے (عمومی طور پر) اسے تین میں سے ایک صورت اختیارکرنے کاکہے گی:وہ کفرچھوڑکراسلام میں داخل ہوجائیں اوراس طرح انہیں وہ تمام ریاستی حقوق حاصل ہوجائیں گے جو اسلامی ریاست کوحاصل ہیں ۔ یاپھروہ اسلامی ریاست کے دبدبے میں آکراس حالت میں جزیہ دیں گے کہ ان کے پاس کوئی قوت نہیں ہوگی۔یاپھروہ مسلمانوں سے جنگ کرنے پرآمادہ ہوجائیں ۔ ڈاکٹرعلیان لکھتے ہیں کہ اگرکسی وجہ سے مسلمانوں میں ضعف آجائے توایسی صورت میں وہ کافرملک کے ساتھ مقررہ مدت کے لیے صلح کر سکتے ہیں جیسے اللہ کے رسول نے مکہ کے کافروں کے ساتھ صلح حدیبیہ میں دس سال کے لیے صلح کامعاہدہ کیاتھا۔ ج) اقوام متحدہ کے میثاق کے مطابق کوئی ملک اپنے جغرافیے میں کسی ایسے خطے کوشامل کرکے اضافہ نہیں کرسکتاجواس نے بزورحاصل کیاہو۔ ڈاکٹرعلیان لکھتے ہیں کہ اسلام میں جہادکے ذریعے جن خطوں کواسلامی ریاست میں شامل کیاجاتاہے اسلامی شریعت میں اس پرمسلمانوں کا حق ملکیت ثابت ہوجاتاہے۔ د) اقوام متحدہ کے میثاق کے مطابق کوئی ملک کسی دوسرے ملک پرحملہ نہیں کرسکتا۔جنگ کی صرف ایک صورت اس میثاق میں تسلیم کی گئی ہے کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک پرحملہ کرے اورجس پرحملہ ہواہے وہ اپنے دفاع میں جنگ کرے تو صرف دفاعی جنگ کوقانونی جنگ سمجھاجائے گا۔ ڈاکٹرعلیان لکھتے ہیں کہ اس میثاق کو ماننے سے اسلام میں اقدامی جہادمنسوخ ہوجاتاہے۔
٭٭٭٭٭٭ |
|||||||||