|
|
|||||||||
شیخ جبرین.... فی ذمۃ اللہ جولائی2009ء کوعالم اسلام کے ممتاز عالم دین شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن جبرین طویل علالت کے بعد وفات پاگئے۔ شیخ مملکت سعودی عرب کے چندجیدعلماء میںشمارہوتے تھے۔ مرحوم سعودی عرب کے ’دارالافتاء‘کے رکن بھی رہے ہیں۔ شیخ عبداللہ جبرین کی نمازجنازہ میں مملکت کی سرکاری اورغیرسرکاری اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تعزیت کے اس موقع پر ڈاکٹرابراہیم بن صالح خضیری نے کہاکہ امت ایک بہت بڑے عالم سے آج مرحوم ہو گئی ہے۔ ایک ایسا ممتاز عالم دین جو بیک وقت محدث؛فقیہ اورجیدناریخ دان تھ۔ ڈاکٹرابراہیم نے مزیدکہاکہ شیخ کازیادہ وقت مسجدمیں گزرتاتھ۔ میں اس بات کاگواہ ہوں اس لیے کہ بچپن میں میرااورشیخ کا ایک ہی محلہ تھ۔ وہ بہت بڑے داعی وقت تھے۔ دعوت کے میدان میں انہیں کبھی تھکتے ہوئے نہیں دیکھاگی۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکافریضہ انجام دیتے تھے۔ اس کے علاوہ مرحوم حددرجے سخی تھے۔ ڈاکٹرابراہیم نے مزیدکہا کہ مرحوم ایسی اعلیٰ صفات سے اس لیے مرقع تھے کہ ان کی تعلیم وتربیت شیخ محمدابراہیم کے زیرسایہ ہوئی تھی۔ عالم اسلام کی ایک اورممتازشخصیت صالح بن عبدالعزیزفرماتے ہیں:مرحوم اسلام کی روح سے حددرجے واقف تھے۔ آپ شیخ کے فتاویٰ میں نبی آخرالزمان کے اس ارشادکی واضح جھلک دیکھیں گے کہ’اسلام آسانی والادین ہے‘۔ شیخ کادل عام مسلمان کے لیے اتناوسیع تھاکہ جب بھی کسی طالب علم کوکہیں سے کوئی تزکیہ(Referance Letter )نہ ملتاتو وہ شیخ سے مل کربہ آسانی حاصل کرلیتاتھ۔ شیخ اس مسئلے میں اسلام کے اس اصول پرعمل پیراتھے کہ’اصل قاعدہ یہ ہے کہ ہرمسلمان بری الذمہ ہے جب تک اس میں وہ کوتاہی کامرتکب ہوکراپنے آپ کوقصوروار ثابت نہیں کردیتا‘۔ شیخ صالح نے مزیدکہاکہ مرحوم ایسے غریب پرورتھے کہ اکثررات کے اندھیرے میں اپنی پرانی سی کارمیں بیٹھ کرغریب راہ گیروں میں کھانا تقسیم کرآتے۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ ہردیکھنے والے کومرحوم کے چہرے پرایک چیزنمایاں نظرآتی تھی اوروہ نمایاترین چیزتھی شیخ کا ہنستا مسکراتاچہرہ۔ شیخ کے چہرے پرکبھی خفگی نہیں دیکھی گئی۔ پچھلے دنوں بروزمنگل22رجب 1430ھ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مملکت کے چندبڑے ہسپتالوں میں سے ایک’ملک فیصل‘ہسپتال میں شیخ پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلاہوکروفات پاگئے۔ اس موقع پرشیخ کے برادرحقیقی نے کہاکہ مرحوم کی پوری زندگی سادگی کانمونہ تھی۔ ساری عمرپڑھنے پڑھانے میں گزاردی۔ ہسپتال میں داخل ہونے سے پہلے تک کی ساری زندگی مرحوم نے مسجد’الرجحی‘میں درس و تدریس میں گزاری تھی۔ وفات کے وقت شیخ کی عمرسو سال سے اوپرتھی۔ اس آخری طویل علالت کے علاوہ شیخ کبھی لمبے عرصے کے لیے صاحب فراش نہیں ہوئے تھے۔ نبی علیہ السلام کا فرمان ہے:خیرالناس من طال عمرہ و حسن عملہ (الترمذی، صححہ الالبانی)’بہترین انسان وہ ہے جسے طویل عمر ملی تھی اور وہ اس عمر میں نیک عمل کرتارہا تھ۔ و نحسبہ علی ذلک’اللہ سے دعا ہے کہ مرحوم پرنبی علیہ السلام کا یہ قول صادق آئے آمین
سابق امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمدکاسانحئہ ارتحال جانشین سید مودودیؒ میاں طفیل محمد اللہ رب العزت کی بارگاہ روانہ ہو چکے ہیں ۔ ادارہ ایقاظ ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے رب رحیم سے دعاگو ہے اور تحریک اسلامی کے غم میں برابر کاشریک ہے ۔ (اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ) |
|||||||||