|
|
|||||||||
جی ہاں! کسی بنیاد پرست کی طرف سے نہیں بلکہ CIAکی ایک تحقیق کے مطابق بیس سال کے بعد مملکت اسرائیل کے وجود کا امکان کافی تاریک ہے۔CIAکی تحقیق کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اس علاقے کی تاریخ کو واپسی کا سفر طے کرنا ناگزیر ہے یہاں تک کہ وہ 1948 کی حالت کو لوٹ جائے۔ اگرچہ امریکی صدر اوبامہ مسئلہ فلسطین کے دو قومی حل کے بارے میں کافی پرجوش ہیں اور کئی بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر وہ یہ بات دہرا چکے ہیں، لیکن اس رپورٹ کے مطابق دوقومی حل اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف اسرائیل بھی ضدی بچے کی طرح سے جس طرح کے اقدامات کر رہا ہے اس کو دو قومی حل کے مذاق سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے فلسطینی بھائی انتہائی سخت جان واقع ہوئے ہیں۔ ان کو ختم بھی نہیں کیا جاسکتا۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بد ترین ناکہ بندی کے باجود بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اب ظاہر بات ہے کہ دو قومی حل قابل عمل نہیں ہے ، تو پھر آ جا کہ یک قومی حل رہ جاتا ہے جو کہ مملکت اسرائیل کے لئے موت کا پیغام ہے۔ جب ایک ملک ہوگا، اور مغربی معیار کے مطابق سب کو ووٹ کا یکساں حق ہوگا اور وسائل تمام باشندوں پر مساوی تقسیم کیے جائینگے تو پھر عیاش فطرت، مغربی ذہن کے تربیت یافتہ لذت پرست اسرائیلی کب تک اور کیوں یہاں رہیں گے؟ اور ان کو کیا پڑی کہ اپنی عیاشیوں کو نظر انداز کر کے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اور انہیں پالنے کی تکلیف گوارا کریں؟ اس تحقیق کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی اکثریت کو فلسطین لوٹنا ہوگا اور نتیجتاً سب کے سب اسرائیلی اپنے اصلی وطن جہاں سے وہ فلسطین کو آباد کرنے کے لئے یہاں آئے تھے واپس چلے جائینگے۔ ایک بین الاقوامی قانون دان فرینکن لیمب کے مطابق امریکہ میں پانچ لاکھ اسرائیلی مقیم ہیں جن میں سب کے سب امریکی پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں اور جن کے پاس امریکی پاسپورٹ نہیں ہے انہوں نے اس کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں۔اس کا مطلب تو یہی ہے کہ اسرائیلی خود اسرائیل کے دوام کے بارے میں مطمئن نہیں ہیں۔ انہی قانون دان کے مطابق اسرائیل نے جس طرح کا رویہ فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھا ہے، امریکی ضمیر اس کو بہت عرصے تک برداشت نہیں کر سکتا۔
اب امریکی ضمیر واقع میں اتنا زندہ ہے
یا نہیں یہ تو ہم کو پتہ نہیں ہے، لیکن ہم مسلمانوں کو بھی یہ سوچنا ہے
کہ کیا اس ساٹھ سالہ بے جاظلم اور اس قدر زیادتی کے باوجود ہم ان کو
صحیح سلامت واپسی کی اجازت دینگے؟ مذکورہ رپورٹ کے مطابق امریکی ضمیر
کو جاگنے کے لئے بیس سال اور لگیں گے۔کیا خیال ہے؟ کیا امّت مسلمہ اتنی
مہلت دینے کے لئے تیار ہے؟ معافی تو بہت ہی پسندیدہ چیز ہے لیکن بعض
اوقات ایک فریق کے لئے معافی دوسرے فریق پر ظلم کے ہم معنی ہوجاتی ہے۔ |
|||||||||