سرورقسابقہ شمارےمطبوعات ایقاظفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جولائی 2009

Download in PDF Format

  اخبار و آراء

جرمنی میں عورتوں کا پیشہ

جمع و ترتیب: ابو زید

   

عورت چونکہ صنف نازک ہے اور بعض دفعہ اس نزاکت کی وجہ سے اس کو ظلم بھی سہنا پڑتا ہے، اس لئے مغرب نے اپنی دانست اس کا ایک بہترین حل نکالا۔وہ یہ کہ عورت کو سماجی بندھنوں سے آزاد کرکے معاشی طور پر خود کفیل کردیا جائے! اب ظاہر بات ہے کہ خود کفیل بننے کے لئے عورت کو خود گھرسے نکلنا تھا ، کام تلاش کرنا تھا اور اپنی تنخواہ خود خرچ کرنا تھی۔ لیکن، ایک چیز جو اتنی واضح اور مشاہدے میں آنے والی تھی اس کو مغرب نے نظر انداز کردیا۔ وہ ہے عورت اور مرد کی جسمانی اور نفسیاتی ساخت میں فرق اور اس فرق کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی رویہ۔

مغربی معاشرہ چونکہ خیر سے ترقی یافتہ بھی ہے اس لئے وہاں پر ایک وظیفہ بھی پایا جاتا ہے جسے بے روزگاری وظیفہ کہتے ہیں۔یعنی اگر کوئی شخص، مرد ہو یا عورت بے روزگار ہے توروز مرہ کی ضروریات کے لئے حکومت کی طرف سے وظیفہ مقرر ہوتا ہے تاکہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ شخص کسی قسم کا جرم کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔ ظاہر بات ہے کہ اگر بے روزگاری کی وجہ سے لوگ جرائم پر مجبور ہوجائیں گے تو ان جرائم کے انسداد کے لئے حکومت کو اس وظیفے سے زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔ بہرحال ہر شہری اس وظیفے کا تب تک حقدار ہوتا ہے جب تک اس کو روزگار مل نہیں جاتا۔ اگر کوئی شخص نوکری ملنے کے باوجود وہ نوکری نہیں کرتا تو پھر اس کو اس وظیفے کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے۔

اب نوکری کے مفہوم کو متعین کرنے میں جرمنی کی پارلیمنٹ کو تھوڑی سی کنفیوژن ہوگئی ہے۔ان بے چاروں کی سمجھ نہیں آیا کہ عورتوں کے لئے عام نوکری اور طوائف کا پیشہ کرنے میں کس بنیاد پر فرق کیا جائے۔ نتیجتاً طوائف کے پیشے کو بھی عام نوکری قرار دیا گیا۔ دلچسپ خبر یہ ہے کہ جرمنی میں ایک پچیس سالہ کمپیوٹر پروفیشنل خاتون جس کی نوکری چھوٹ گئی تھی اس کوایک خط ملاکہ آپ کی بے روزگاری کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔ نوکری آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ مزید پتہ کرنے پر پتہ چلاکہ خاتون کو نوکری نہیں بلکہ پیشہ کرنا ہے اور وہ بھی جرمنی کے ایک جدید قسم کے کوٹھے میں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ نہ کرنے کی صورت میں خاتون کو بے روزگاری وظیفے سے محروم ہونا پڑے گا۔ یعنی جدید قسم کی تعلیم یافتہ خاتون کے لئے جرمنی کا قانون یہ کہہ رہا ہے کہ یا تو آپ طوائف بن جائیں ، بھیک مانگیں یاپھر اپنی ضروریات کے لئے کوئی جرم کا راستہ اختیار کرلیں۔ وحی کے نور سے بے بہرہ مغرب انسانیت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے نکلا ہے۔ مسلمانو! کیا خیال ہے یہ اندھیریاں اور اس پر مزید اندھیریاں کہ ہاتھ تک سجھائی نہ دے، اللہ کے نور سے روگردانی کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہوسکتا ہے؟ عورتوں کو آزاد کرنے نکلا یہ مغرب آج عورتوں کو اسی آزادی کے نام طوائف بنا نے پر تلا ہوا ہے بلکہ بہت سوں کو غیر محسوس انداز میں بنا بھی چکا ہے۔اگر مغربی نظریات کے علمبردار دانشور اور این جی اوز اس بارے میں بھی اپنی رائے دیتے تو مناسب تھا۔