سرورقسابقہ شمارےمطبوعات ایقاظفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جولائی 2009

Download in PDF Format

  اخبار و آراء

عراق اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زیادتی کی تصاویر

جمع و ترتیب: ابو زید

   

 

امریکی عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ عراق اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تصاویر کو جاری کردیا جائے۔ لیکن اوبامہ نے اپنے خصوصی صدارتی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس حکم پر عمل روک دیاہے۔بقول امریکی انتظامیہ کے ان تصاویر کو ریلیز کرنے سے امریکی فوجیوں کی جان کو دنیا کے ہر علاقے میں خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔ اب قارئین خود اندازہ لگالیں کہ ان تصاویر کی کا جاری کرنے سے امریکی فوجیوں کی جان کیسے خطرے میں پڑ سکتی ہے؟ عدالت اور امریکی انتظامیہ نے کبھی نہیں کہا کہ یہ تصاویر جعلی ہیں۔ مسئلہ یہی ہے کہ یہ تصاویر سچ بول رہی ہیں اور یہ سچ امریکہ دنیا پر افشاں نہیں کرنا چاہتا۔ اب یہ اندازہ لگانا مشکل تو نہیں ہے کہ یہ تصاویر ایسا کیا سچ بول رہی ہیں کہ جس سے امریکی فوجی ،جو کہ دوسروں کی جان لینے کے معاملے میں کافی تربیت یافتہ ہیں ان کی ہی جا ن خطرے میں پڑ جائے۔ یہی ناں کہ یہ تصاویر امریکی فوجیوں کی اخلاقی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں؟ میڈیا کے کچھ ذرائع کے مطابق صدر اوباما کو بھی اولاً ان تصاویر کو جاری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن جیسے ہی انہوں نے ان تصاویر کو خود دیکھاانہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ ان تصاویر میں امریکی فوجیوں کو کم عمر لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ امریکہ، جو کہ دنیا میں آزادی اظہار کا علمبردار بنتا ہے اسے اب پتہ چلا کہ جب ان کے اپنے فوجیوں پر بات آگئی تو آزادی کی کیا قیمت ہے۔سچ یہ ہے کہ امریکی بلکہ ہر مغربی ملک کے لئے، ان کے اپنی اصول اور اقدار بھی جبھی قابل عمل ہیں جب تک اس سے انہیں فائدہ ہو اور جیسے ہی ان کو اس میں نقصان ہوتا نظر آئے سب اصول اور معیارات بے معنی ہوجاتے ہیں۔