|
|
|||||||||
الجزیرہ ٹی وی کے ایک ویڈیو ریکارڈ نگ کے مطابق امریکی فوج افغانوں کی جان و مال پر حملے کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان پر حملے میں بھی مصروف ہے۔ ایک ویڈیو میں صاف طور پر دکھا یا گیا ہے کہ لیفٹنٹ کرنل گیری ہنسلے جو کہ امریکی فوجوں میں پادریوں کے چیف ہیں،کو صاف کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ جس طرح بحیثیت فوجی ہم انسانوں کو شکار کرتے ہیں اس طرح عیسی ؑ کے پیروکار ہونے کے ناطے ہمیں بھی ان کو عیسیؑ کے لئے شکار کرنا ہے۔اس پادری نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ ان کو آسمانی بادشاہت میں لانے کے لئے انکا تعاقب کرو۔اس کے ساتھ ہی پشتو اور داری زبان میں چھپی بائبل کا کاپیاں بھی فوجیوں کے پاس پائی گئی ہیں۔مغربی تاریخ سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ وہ عیسائیت کو بطور افیون استعمال کرتی آرہی ہے۔ ایک طرف ان کے اپنے لیے عیسائیت کا کوئی قانون اور اصول کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ ان کے لئے جو کچھ بھی ہے و ہ قومیت اور سیکولرزم ۔ عیسائی مذہب کو وہ اپنی محکوم اقوام پر اسلئے استعمال کرتے ہیں کہ اس سے ان اقوام کی قوت مدافعت کمزور پڑجائے۔اب ظاہر بات ہے کہ قوت مدافعت کو کمزور کرنے کے لئے اگر کوئی چیز بروئے کار لائی جارہی ہے تو وہ افیون ہی کہلائے گی۔ کارل مارکس نے جو بات کہی تھی وہ کم از کم عیسائیت کے بارے میں اتنی غلط بھی نہیں تھی۔
اس سلسلے میں تعجب کی بات مغربی میڈیا
اور اس کا ذہنی غلام مشرقی میڈیا کی خاموشی ہے۔ اندازہ لگایئے، ایک
قوم، جس کے افراد مغرب کے فریب سے ناواقف، ان پر ہوائی حملے کر کرکے ان
کوضروریات زندگی سے محروم کردیا جاتا ہے، جینے کے لئے اشیائے خوردنی کا
محتاج کردیا جاتا ہے، طبی سہولیات سے محروم کردیا جاتا ہے اور پھر یہ
گورے فوجی ایک ہاتھ میں پشتو بائبل اور دوسرے ہاتھ میں کھانا اور
دوائیاں لے کر ان کے پاس "آسمانی بادشاہت"کی خوشخبری سنانے آجاتے ہیں،
ان کے لئے اپنا ایمان بچانا کتنا مشکل ہے۔سیکولرزم اور آزادی کے
دعویدار یہ میڈیااور این جی اوز کو اس میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف
ورزی نظر نہیں آتی۔اور اس سے بھی افسوس کی بات یہ ہے کہ مغرب کے سامنے
مسلمانوں کا مقدمہ رکھنے والے کوئی حکمران ، کوئی ڈپلومیٹ نہیں ہیں۔ |
|||||||||