|
|
|||||||||
موضوع پرانا ہوچکا ہے اور اس پر اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ مزید کچھ لکھنے کی گنجائش مشکل سے رہ گئی ہے۔ ہمیں بھی لکھی ہوئی باتیں دہرانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔صرف ایک بات غالباً کسی دانشور اور مبصر کے ذہن میں نہیں آئی۔ کلام پاک میں حضرت موسی ؑ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ جب موسیؑ نے فرعون کے سامنے حاضر ہوکر اپنا تعارف کرایا کہ میں رب العالمین کا پیغامبر ہوں تو فرعون نے رب العالمین کے وجود کو ماننے سے ہی انکار کردیا۔ بلکہ یو ں کہا "یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟" لیکن جب یہی فرعون سمندر میں غرق ہونے لگا اور اس کے سب سہارے چھوٹ گئے تب بے اختیار پکار اٹھا کہ میں اس رب پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ موجودہ دور میں وطنیت یا قومیت ہی کو گروہی وحدت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ایک شخص ہوگا ،تو اس کی قومی پہچان بین الاقوامی طور پر تسلیم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کوئی گروہی شناخت ناقابل تسلیم۔یہاں پر یہ واضح رہے کہ اوبامہ نے او ائی سی(OIC) یا عرب لیگ سے خطاب نہیں کیا ہے بلکہ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے۔ تو گویا امریکہ نے امت مسلمہ کے وجود کو ایک اکائی کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔یہ صورت حال بہرحال ان نام نہاد مسلمانوں کے لئے تازیانہ ہے جو اپنے آپ کو ابھی تک امت مسلمہ کا وجود ماننے پر آمادہ نہیں کر پائے۔اب تک مسلمانوں سے اگر کوئی مکالمہ ہوتا تھا تو وہ کسی ملک کے سربراہ یا پھر کسی نام نہاد آرگنائزیشن یا لیگ سے ہوتا تھالیکن اوبامہ نے امت مسلمہ سے خطاب کر کے صورت حال کو بالکل بدل دیا۔کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ڈوبتے ہوئے فرعون کی توبہ ہو؟ |
|||||||||