|
|
|||||||||
خبر ہے کہ بھارت ہم جنسی کو جائز قرار دینے والادنیا کا 176واں ملک بن گیا ہے ۔بھارت میں اگرچہ ابھی بھی ہم جنسی کے خلاف قانون ہے لیکن کچھ دوسرے عوامل اور قانونی نکات کی بنا پر دہلی ہائی کورٹ نے دو ہم جنس بالغوں کے درمیان آپسی رضامندی سے جنسی تعلق کو قانونی قرار دیا ہے۔ بھارتی معاشرہ اگرچہ کافی روایت پرست واقع ہوا ہے اور عام بھارتی ہم جنسی جیسے فعل کو ذہنی طور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں لیکن بھارت کے بانیوں نے قومیت کی تشکیل کے وقت ایسا کوئی اصول وضع نہیں کیا جس سے مستقبل میں اس طرح کے قانون پر کوئی قد غن لگائی جاسکے۔یہ تو ہونا ہی تھا۔ اگر آج نہ ہوتا تو کل ہوجاتا۔ اس روایت پرست معاشرے کی روایت پرستی اب صرف ایک روایت ہی بن کر رہ جائے گی۔ دراصل بھارتی معاشرے میں شرم و حیا اور روایت پرستی کو رواج دینے میں بنیادی طور پر مسلمانوں کی ہزار سالہ حکمرانی نے اہم کردار اداکیا۔ جس چیز کو بھارت میں بھارتی روایت سمجھا جاتا ہے وہ دراصل مسلمانوں کے مذہبی اور معاشرتی روایت کی باقیات ہیں۔ تقسیم کے بعد بھارت میں مسلمانوں کی تمام باقیات کو حرف غلط کی طرح سے مٹانے کی کوشش کی گئی۔ تحریک آزادی کے وقت سے ہی ہندو لیڈروں نے بھارتی قومیت کی جڑیں دورِ اسلامی سے پہلے والے قدیم بھارت میں تلاش کرنے کی کوشش اور مسلمانوں کے دور کو دورِ غلامی سے تعبیر کیا۔اس کے کئی دور رس اثرات مرتب ہوئے جس میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرے کی قدریں دھیرے دھیرے بالی ووڈ، ملٹی نیشنلز اور میڈیا کی نذر ہوگئیں۔ جب اسلامی دور کو دورِ غلامی قرار دے دیا گیا تو پھر بھارت کے پاس اپنے معاشرے کی تعمیر کے لئے لے دے کہ مغربی تہذیب کے اصول اور قدیم بھارتی معاشرہ کی مثالیں رہ گئیں۔ مغربی تہذیب میں شرم و حیا کی کیا اہمیت ہے اس سے تو ہر کوئی واقف ہے ہی۔ قدیم بھارت کی معاشرتی قدروں سے اگر واقفیت حاصل کرنا ہو تو بھارت کے آثارِ قدیمہ اور کھنڈرات کا نظارہ کرنا انتہائی مفید ہوگا(نظارے سے پہلے کسی مفتی سے فتویٰ پوچھنا آپ کی اپنی ذمہ داری ہے)۔ بھارت میں فن سنگ تراشی کے شاہکار کثیر تعداد میں ایسے ہیں جس میں انتہائی حیاسوز مناظر دکھائے گئے ہیں۔جنسیت کی کوئی قسم چاہے فطری ہو ،یا غیرفطری سمجھی جاتی ہو، نہیں چھوڑا گیا۔ اور اس طرح کے اکثر شاہکار قدیم ہندو مندروں میں پائے جاتے ہیں۔ ان مناظر کو جدید بھارت میں بھی اگر فلموں میں دکھایا جائے تو سنسر کی قینچی سے ان مناظر کو کاٹ دیا جائے۔ اگر بھارت میں اب تک خاندانی نظام مضبوط چلا آرہا ہے اور اس طرح کی جنسی انارکی کو قبول عام حاصل نہیں ہوا تو اس کی وجہ اب بھی معاشرے میں تقسیم سے پہلے سے چلی آرہی فطری سوچ تھی۔ لیکن چونکہ اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے اس لئے یہ صرف وقت کی بات تھی۔ اگر آج بھارت میں یہ نہ ہوتا تو کچھ سالوں میں ضرور ہوجاتا۔ بھارت میں بھی جو لوگ ہم جنسی کو بھارتی اقدار کے منافی سمجھتے ہیں وہ بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسئلے کی اصل جڑ کہاں ہے۔دنیا میں جتنی بھی مشرک تہذیبیں گذری ہیں ان میں اپنے دورِ عروج میں جنسی انارکی اور غیر فطری جنسی عمل کو قبولیت کا درجہ حاصل رہا ہے۔ بلکہ جنسیت کو کسی درجے میں روحانی ومذہبی اہمیت بھی حاصل رہی ہے۔ ان معنوں میں قدیم یونانی، رومی اور ہندو تہذیب میں کافی یکسانیت ہے۔کام سوتر(kama sutra) کے نام سے بھارت کی قدیم کتاب جو کہ چوتھی صدی عیسوی میں پرانے مخطوطات سے جمع کر کے لکھی گئی ہے اس میں بھی ہم جنسی کا تفصیلی تذکرہ ملتا ہے۔اس سلسلے میں ہندو احیاءپرست تحریکی کافی کنفیوژڈ ہیں۔ اب تک کسی بھی بے حیائی کے مظاہر کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی گئی تو یہی ہندو احیاءپرست تنظیموں نے کی ہے۔ لیکن جب پڑھے لکھوں نے ان کی اپنی قدیم تہذیب سے اس کو کھول کر دکھا دی توان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس کی مخالفت کس بناءپر کی جائے۔ |
|||||||||