|
|
|||||||||
فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے بیان دیا ہے کہ حجاب غلامی اور زورو زبردستی کی علامت ہے اور اس طرح کی علامات کو فرانسیسی معاشرے میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ فرانس میں پہلے ہی سے سکولوں میں ہیڈ سکارف پر پابندی ہے اور اب حجاب پر بالکلیہ پابندی کے بارے میں قانون بنانے پر غوروخوض ہورہا ہے۔ صدر سرکوزی جب فرانس کے صدر منتخب ہوئے تو خیر سے دو بار طلاق شدہ تھے اور اُس وقت ایک تیسری خاتون جو ایک اطالوی ماڈل ہیں کے ساتھ سنجیدگی سے وقت گزاری کر رہے تھے۔نہ انہیں انتخاب لڑتے وقت شادی کا خیال آیا نہ فرانسیسی عوام کو اس میں کوئی عیب۔جس ماڈل کو انہوں گرل فرینڈ بنایا ہواتھا اس کی ایک تقریباً برہنہ تصویرنیویارک کی ایک نمائش میں اپریل 2008 میں نیلام میں 91 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی۔ وہ تو بین الاقوامی پروٹوکول کا مسئلہ ہو گیا جس کی وجہ سے سرکوزی کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس حیاباختہ عورت سے شادی کرنی پڑی۔ صدر صاحب کو جب سعودی عرب کے دورے میں جانا تھا تو گرل فرینڈ کے سلسلے میں پروٹوکول کا مسئلہ پیدا ہوگیا اور سعوردی حکومت کو باقاعدہ درخواست کرنی پڑی کہ صدر صاحب اپنی گرل فرینڈ کو گھر چھوڑ آئیں۔ بین الاقوامی میڈیامیں بھی یہ بحث چل نکلی کہ سربراہ حکومت کی اگر کوئی رکھیل ہو تو اس کے لئے کوئی سرکاری پروٹوکول ہونا چاہیے یا نہیں ۔اس کے بعد انہیں مجبوراًتیسری شادی رچانی پڑی۔مقصد بتانے کا صرف یہ ہے کہ پردے کے بارے میں رائے دینے والوں کے اپنے معاشرتی معیارات یہ ہیں۔
قطع نظر اس سے کہ چہرے کے پردے کی اسلام
میں کیا نوعیت ہے، فرانس بلکہ مغرب مجموعی طور پر آزادیِ اظہار کا
علمبردار ہے۔ ان کے اپنے تہذیبی اقدار میں نظریہ آزادی بہت ہی بنیادی
اہمیت کا حامل ہے۔یہی وہ نظریہ آزادی ہے جس کی بنیاد پر ان کے ہاں ہر
مذہب اور اس کے شعائر کا مذاق اڑانا اور ان کی توہین کرنا قابل قبول
ہے۔ اور اسی نظریہ آزادی کی بنیاد پر بے حیائی اور فحش حرکتیں کرنے پر
بھی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ اسی نظریہ آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب تک
مسلمان خواتین اسکارف یا برقعہ پہنتی آرہی تھیں۔ لیکن اب پتہ چلا کہ
آزادی کی بنیاد پر بے حیائی تو جائز ہے لیکن حیا کے کسی مظہر کو غلامی
کی علامت قرار دے کر پاپندی لگائی جاسکتی ہے۔ یہاں پر سرکوزی نے یہ
نہیں کہا کہ زبردستی کے برقعے پر پابندی ہوگی، بلکہ برقعے پر بالکلیہ
پابندی ہوگی۔ بہ الفاظ دیگرمسلمان عورتوں کو آزاد کرنے کے لئے زبردستی
برقعہ اتار دیا جائے۔ یہ بات جتنی بھی عجیب ہو بہرحال فرانس میں آزادی
کی یہی تشریح ہے۔اس سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ فرانس بے حیائی
کی آزادی تو دے سکتا ہے لیکن شرم و حیا کی آزادی نہیں دے سکتا۔ اسی چیز
کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بے حیائی فرانس کی ایک
بنیادی قدر ہے جسے وہ آزادی کے نام پر
قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اس سلسلے میں یہ وضاحت ذہن میں رہے کہ
فرانس اور دوسرے ممالک میں سرعام برہنہ گھومنے کی اِجازت نہیں ہے لیکن
اس قانون کی بنیاد شرم و حیا نہیں بلکہ اس کو عام طور پر offending
سمجھا جاتا ہے، یعنی اس سے عوام کو ذہنی تکلیف پہنچتی ہے اس لئے اس پر
پابندی ہے۔ اس کا حل انہوں نے nude beaches کے دریعے نکالا ہے۔ |
|||||||||