|
|
||||||||||
شیخ ناصر العمر اپنے مضمون کا آغاز صومالیہ کے جغرافیائی اور سٹرٹیجکل اہمیت سے کرتے ہیں: صومالیہ اسلامی ملک ہے جہاں عربی زبان عام بولی جاتی ہے۔ موجودہ صومالیہ کا کل رقبہ 637.657 کلومیٹر مربع ہے جہاں تقریباً ایک کروڑ مسلم آبادی ہے جو تمام ہی سنی مسلمان ہیں۔ عوام الناس میں شافعی مذہب رائج ہے اور غیر مسلم آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ صومالیہ معدنی دولت سے مالا مال ہے۔ یہاں تابکاری عنصر یورینیم بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ لوہے کے ذخائر اب تک استعمال نہیں ہوئے ہیں جو بھاری مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نرم دھات ’ٹین‘ اور بھاری دھاتوں میں پیتل کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ معدنیات میں جپسم اور خوردنی نمک وافر پایا جاتا ہے۔ صومالیہ میں قدرتی گیس کے ذخائر اور معدنی تیل کی موجودگی کا بھی اچھا خاصا امکان ہے۔ صومالیہ کے پڑوسی ممالک جبوتی، ایتھوپیا اور کینیا ہیں۔ اس کے علاوہ صومالیہ قرن افریقی کی بہت اہم بندرگاہ ہے۔ (اہم سمندروں سے متصل ہونے کی وجہ سے پچھلے چند مہینوں میں صومالیہ کے بحری قزاقوں نے غیر ملکی خصوصاً امریکہ کے مال بردار بحری جہازوں کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ مترجم) صومالیہ میں اسلام: صومالیہ اسلام کے آغاز کے وقت حبشہ کہلاتا تھا۔ حبشہ اور جزیرہ عرب کے تجارتی روابط اسلام سے پہلے ہی بڑے مضبوط تھے۔ عرب تاجروں کے ذریعے صومالیہ ابتداءمیں ہی حلقہ بگوش اسلام ہو گیا تھا۔ حبشہ اسلام کے آغاز کے وقت ایک بہت بڑی قوت تھی۔ طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ہی ابرھہ نے معاذ اﷲ خانہ کعبہ کے انہدام کے لئے ایک بڑی سپاہ میسر کر لی تھی۔ جدید صومالیہ: تاریخ جدید میں صومالیہ پر برطانیہ اور اٹلی کا قبضہ رہا ہے۔ 1960ءمیں صومالیہ آزاد ہوا، اب تک صومالیہ پر بارہ صدر حکمرانی کر چکے ہیں۔ بائیس سال تک حکمرانی کرنے کا موقع اشتراکیت پسند صرف جنرل سہاد بری کو مل سکا ہے (1969ء، 1991ء) بیشتر حکمرانوں کو حکومت کرنے کا بہت کم موقع ملا ہے۔ جنرل بری کی حکومت کا تختہ فوج کے جنرل محمد فرح عدید نے الٹا تھا۔ فرح عدید کی کی سربراہی میں ہی امریکی فوجوں کے ساتھ رسوا کن سلوک ہوا تھا جس کے بعد امریکہ کو صومالیہ سے نکلنا پڑا تھا۔ صومالیہ سے مغرب کے مفادات: (اگرچہ امریکہ کی فوجوں کو صومالیہ سے نکلنا پڑا تھا مگر امریکہ اور اس کے حلیف ممالک صومالیہ میں بدامنی پھیلانے کی سازشوں میں مسلسل ملوث پائے گئے ہیں، مترجم) صومالیہ میں امریکہ اور مغربی ممالک کے مفادات کی وجوہات ہماری نظر میں درج ذیل ہو سکتی ہیں: 1) صومالیہ اسلامی ملک ہے (اور وہاں اسلام کے شدید جذبات پائے جاتے ہیں) مغربی ممالک کو خطرہ ہے کہ صومالیہ کسی بھی وقت ایک اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔ مغربی ممالک دنیا میں کسی جگہ بھی اسلامی ریاست کے وجود کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ 2) صومالیہ میں معدنی دولت خصوصاً قدرتی گیس اور خام لوہا اور سب سے اہم یورنیم کے وسیع ذخائر ہیں۔ 3) صومالیہ کی سرحدیں بہت اہم بحری راستوں سے ملی ہوئی ہیں۔ صومالیہ میں کوئی بھی مضبوط حکومت بحری راستوں پر اپنا تسلط جما کر تجارتی اور عسکری نوعیت کی بحری نقل و حرکت پر اثرات ڈال سکتی ہے۔ 4) جغرافیائی لحاظ سے صومالیہ غیر مسلم آبادی والے ملکوں سے جڑا ہے۔ ان غیر مسلم آبادی والے ملکوں کی مدد سے صومالیہ کے خلاف سازشیں کرنا امریکہ اور مغربی ممالک کیلئے آسان ہے۔ اہل اسلام کی ذمہ داریاں: صومالیہ اپنی جغرافیائی اور سمندری حیثیت کے لحاظ سے پورے افریقہ کے لیے اسلامی دعوت اور اصلاح کا مرکز بن سکتا ہے۔ اسی طرح صومالیہ میں موجود معدنی دولت ملک کی خوشحال کے علاوہ اسلامی دعوت کیلئے بھی بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ صومالیہ میں مضبوط اسلامی حکومت کے ذریعے سے پورے افریقہ پر اسلامی مفادات کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ علاوہ اس کے سب سے اہم وہ فرض ہے جو ازروئے اسلام ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے دینی بھائیوں کی حسب استطاعت مدد کرے۔ صومالیہ کی موجودہ صورتحال: صومالیہ میں تحریک اسلامی کے وجود پا جانے کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ صومالیہ پر کسی صورت میں غیر اسلامی نظام نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ نے پورا زور لگا لیا۔ شیخ شریف کی حکومت کو برطرف کرنے کیلئے ایتھوپیا سے حملہ کرایا گیا، اس سب کوشش کے باوجود صومالیہ میں بیرونی طاقتیں اپنے مفادات حاصل کرنےمیں ناکام رہی ہیں۔ اسی طرح اتحاد افریقہ نے بھی زور لگا لیا ہے۔ سب کے ہاتھ صرف ناکامی آئی ہے۔ شیخ شریف کے مختصر دور حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اسلام کا نفاذ ہی صومالیہ میں امن اور ترقی کی ضمانت ہے۔ مغربی ممالک عسکری ناکامی کے بعد اب ایسے طریقے اختیار کر رہے ہیں جس کے ذریعے وہ اسلامی تحریکی عمل میں مختلف سرگرم عمل تنظیموں کے درمیان پھوٹ ڈلوا کر انہیں آپس میں ہی برسرپیکار کرانا چاہتے ہیں۔ دشمن کی چالیں: تین سال قبل جب صومالیہ پر اسلامک کورٹس کی حکمرانی تسلیم کر لی گئی تھی تو اس کے بعد دشمن کے پاس سوائے اس کے اور کوئی چارہ کار نہیں رہ گیاتھا کہ کہ وہ اپنی حلیف ممالک سے صومالیہ پر حملہ کرائے اور دباؤ ڈالے۔ ایتھوپیا نے صومالیہ پر حملہ کردیا اور امریکی منصوبے کو وہاں نافذ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ دشمن ممالک جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ صومالیہ پر اپنی پالیسی ٹھونسنے کیلئے اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں کہ اسلامی تحریکوں کے خلاف اندرون ملک (اور بیرون ملک) نفرت پھیلا دی جائے اور قائدین میں پھوٹ ڈلوا کر انہیں آپس میں ہی لڑا دیا جائے۔ شیخ شریف کے ساتھ مذاکرات کا ماحول یہ تھا کہ صومالیہ میں ایتھوپیا کی فوجیں داخل ہو چکی تھیں۔ شیخ شریف ملک سے باہر جانے پر مجبور ہوئے۔ اس شدید دباؤ میں شیخ شریف سے مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں اسلامک کورٹس کے ایک بڑے دھڑے نے شیخ شریف سے علیحدگی کرلی۔ ابتداءمیں اسلامک کورٹس کے علیحدہ ہونے والے مضبوط دھڑے کا اختلاف محدود تھا مثلاً یہ کہ مذاکرات سنجیدہ ماحول میں نہیں ہوئے ہیں اوراز روئے معاہدہ الگ ہونے والی تنظیموں کو ایتھوپیا کے صومالیہ سے نکل جانے پر بھی یقین نہیں تھا اور دوسرا وہ سمجھتے تھے کہ ’اسلامک کورٹس‘ کو وہ اہمیت نہیں دی گئی ہے جس کا وہ حق رکھتی تھیں (کیونکہ مذاکرات میں وار لارڈز کو باوقار طریقے سے شریک کیا گیاتھا مترجم) شیخ شریف کے انتخاب کے بعد اختلافات کی نوعیت مزید گھمبیر ہوگئی۔ شیخ شریف کے دھڑے کو اسلامک کورٹس جبوتی کہا گیا۔ جبوتی کورٹس اس قدر مضبوط نہیں ہے کہ وہ ٹوٹ جانے والے دھڑے کے بعدتنہا پورے صومالیہ پر حکمرانی کر سکے۔ اس کمزوری کو دور کرنے کیلئے جبوتی کورٹس اور وار لارڈز کے عسکری ونگ کو اکٹھا کیا گیا۔ ظاہر ہے صومالیہ کی جہادی تحریکیں یہ کس طرح گوارا کر سکتی تھیں کہ جن کے خلاف وہ اب تک برسرپیکار رہے ’اسلامک کورٹس‘ کا قائد دشمن کے عسکری ونگ سے اپنی قوت بڑھائے چنانچہ اس منصوبے کے بعد ’اسلامک کورٹس‘ کے اختلافات شدید تر ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ’ انتقال پزیر‘ حکومت کے پاس قوت بہت معمولی نوعیت کی تھی(جبوتی کورٹس جس کے قائد شیخ شریف ہیں کے ’انتقال پزیر‘حکومت کے ساتھ اتحادسے مغربی ممالک کی سرپرستی میں قائم’انتقال پزیر‘حکومت مضبوط ہوئی ہے مترجم)۔ اتنی معمولی حیثیت کے حامل دھڑے کے ساتھ جبوتی ونگ سے اتفاق کرنا خود انہیں تو فائدہ نہ دے پایا البتہ اسلامک کورٹس کے اختلافات اتنے شدید ہو گئے کہ آپس میں جنگ کی فضاءقائم ہو گئی۔ قبل ازیں جبوتی ونگ کی قیادت ایک ایسی شخصیت کے ہاتھ میں رہی ہے (یعنی شیخ شریف)جس پرمتحدہ اسلامک کورٹس کاپہلےاتفاق رہا تھا۔(فاضل مصنف فرماتے ہیں)ہم اب بھی ان کی بابت (مرادہیں شیخ شریف)حسن ظن رکھتے ہیں۔ آپس میں جنگ کے امکان کے باوجود جبوتی ونگ اب تک جنگ ٹالنے میں کامیاب جا رہا ہے۔(اس مضمون کی تحریرکے وقت تک مترجم) جہاں تک شیخ شریف کے اس دوسری مرتبہ بیرون ملک صدر بننے کے انتخاب کا تعلق ہے تو جس پارلیمنٹ نے انہیں صدرات کا عہدہ سنبھالنے کے لئے منتخب کیا ہے (یعنی ’انتقال پزیر‘ حکومت) وہ صومالیہ کی نہ نمائندہ پارلیمنٹ ہے اورنہ وہ اہل حل والعقدمیں ہی شمار ہوتے ہیں،اس لئے ایسے انتخاب کو نہ عوامی انتخاب کہا جا سکتا ہے اور نہ اسلامی شوریٰ کا انتخاب۔ علاوہ اس کے اس انتخاب سے مغربی مفادات کو بھی ضرور فائدہ پہنچا ہے۔ صومالیہ میں سرگرم عمل سیاسی اور عسکری دھڑے: ’اسلامک کورٹس‘ میں پارلیمنٹ کے صدر چننے کے بعد متعدد دھڑے ہوئے ہیں۔ حزب اسلامی کا دھڑا: اسلامک کورٹس کا یہ دھڑا صومالیہ کے شہراسمراکی مناسبت سے اسلامک کورٹس اسمرا کہلاتا ہے۔ اس کی قیادت ڈاکٹر عمر ایمان ابوبکر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ابوبکر بلندپایا علمی شخصیت اور قابل احترام نوجوان قائد ہیں۔ اسمراونگ کے عسکری فرنٹ تین ہیں۔ راس کامبونی، اسلامک فرنٹ اور معسکر فاروق (عانولی)۔ڈاکٹر ابوبکر کے علاوہ دوسری اہم شخصیات حسن طاہر اویس اور حسن مہدی کی ہے۔ یہ دونوں حضرات اس ونگ کے قائد بھی رہ چکے ہیں۔ جہاں تک راس کامبونی فرنٹ کا تعلق ہے تو یہ اسلامک کورٹس اسمرا میں شامل ہونے کے باوجود اپنی الگ شناخت بھی رکھتا ہے۔ اس عسکری ونگ کی قیادت شیخ حسن ترکی کرتے ہیں جنہیں بزرگ مجاہدقائد بھی کہا جاتا ہے۔ شیخ حسن ترکی عمر رسیدہ اور تجربہ کار قائدین میں شمار ہوتے ہیں اسی لیے انہیں بزرگ مجاہد قائد کہاجاتاہے۔اس کے ساتھ وہ حزب اسلامی کے نائب امیر بھی ہیں۔ راس کامبونی کی عسکری قیادت نامور جہادی لیڈر محمد محمود علی کرتے ہیں۔ اسلامک فرنٹ دراصل ’اعتصام بالکتاب والسنہ‘ کا عسکری ونگ ہے۔ حزب اسلامی سے اتحاد سے پہلے اسلامک فرنٹ کی قیادت شیخ عبداللہ عمر کرتے تھے۔ معسکر فاروق (عانولی) نسبتاً چھوٹا جہادی گروہ ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اس فرنٹ کے بارے میں مجھے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ حزب اسلامی اپنے اتحادی دھڑوں کے ساتھ وسطی صومالیہ میں سرگرم عمل ہے۔ دارالحکومت کا بھی ایک اہم حصہ ان کے زیرکنٹرول ہے اور جنوب صومالیہ کے آخر تک کا علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ حزب اسلامی کو اعتدال پسند سلفی یا اہلسنت والجماعت بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں نوجوانوں کے فرنٹ کو ”شباب المجاہدین“ کہا جاتا ہے۔ تنظیم شباب المجاہدین پہلے اسلامک کورٹس میں شامل تھی۔ صومالیہ کو ایتھوپیا سے آزاد کرنے کیلئے یہ تنظیم متحدہ کورٹس سے الگ ہوئی ہے۔ اس کے بعد اسلامک فرنٹ نے بھی اسلامک کورٹس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ نئے اتحاد کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اسلامک کورٹس نے وطن پرست تنظیموں سے مذاکرات کرکے حکومت تشکیل دینے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ وطن پرست تنظیموں اور انتقال پزیر پارلیمنٹ میں لادین عناصر بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس تنظیم شباب المجاہدین اور اسلامک فرنٹ نے سب سے پہلے انہیں وجوہات کی بناء پر اسلامک کورٹس سے شروع میں ہی علیحدگی کر لی تھی۔ تنظیم شباب المجاہدین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں شرعی حدود بھی نافذ کردیتے ہیں اور بلند قبروں اور مزاروں کو بھی منہدم کردیتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگار اس تنظیم کو القاعدہ کا ونگ قرار دیتے ہیں۔ دوسرے تجزیہ نگار یہ کہتے ہیں کہ یہ تنظیم القاعدہ کا مستقل حصہ تو نہیں ہے البتہ اس تنظیم کی بعض اہم شخصیات کا القاعدہ سے تعلق رہا ہے۔اس تنظیم میں البتہ شدت پسندی دیکھی جاتی ہے اور ان کے بعض تصرفات پر القاعدہ کے منہاج کی نمایاں چھاپ صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ تنظیم شباب المجاہدین صومالیہ کی وسیع اراضی پر کنٹرول رکھتی ہے۔ اٹھارہ صوبوں میں سے سات صوبے اس تنظیم کے پاس ہیں۔ دارالحکومت مقدیشو کے ایک طرف سے لے کر کینیا کی سرحد تک کا علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ اس تنظیم کی عسکری تربیت بہت اعلیٰ ہے اور دشمن کے اغوا اور ٹارگٹ کو بم سے اڑاے کی صلاحیت میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ تنظیم کی اہم شخصیات ہیں: امیر تنظیم ابوزبیر مختار عبدالرحمن۔ کہا جاتا ہے کہ ابو زبیر ان کا اصلی نام نہیں ہے بلکہ ابوزبیرسابق متحدہ ’اسلام کورٹس‘ کے سیکرٹری احمد عبدی جدونی ہی ہیں جنہوں نے شباب المجاہدین میں اپنانام ابوزبیرمتعارف کرایاہے۔ ایک اوراہم قائد ابومنصور مختار روبیو کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ تنظیم کی علمی سرپرستی ابویوسف صالح نبہانی کرتے ہیں۔ اسلامک کورٹس جبوتی ونگ: اس تنظیم کی قیادت شیخ شریف کرتے ہیں جو پہلے متحدہ اسلامک کورٹس کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ ’اسلامک کورٹس‘ میں ٹوٹ پھوٹ کے بعد جبوتی ونگ کے اتحادیوں میں وطن پرست تنظیموں کے علاوہ انتقال پزیر پارلیمنٹ کے ممبران بھی شامل ہیں۔ ٹوٹنے کے بعد اس تنظیم کا اثر ونفوذبہت کم رہ گیا ہے۔ وار لارڈز اور جرائم پیشہ تنظیمیں: ایسی تنظیمیں صومالیہ میں اب قوت نہیں رکھتی ہیں اگر ان کی کوئی اہمیت اب باقی ہے تو وہ یہی کے مغربی ممالک کی ان تنظیموں میں دلچسپی ہے اور وہ کھینچ کر انہیں اسلامی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات میں شامل کرتے ہیں۔ تنظیموں کا ایک دوسرے کے بارے میں موقف: تمام اسلامی تنظیمیں نظریاتی طور پر متفق الخیال ہیں۔ اتفاق اور اتحاد کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے ہیں لیکن تنظیم شباب المجاہدین کا شیخ شریف کے ساتھ (انتقال پزیر پارلیمنٹ سے منتخب ہونے کے بعد) شدید اختلاف ہے۔ حزب اسلامی بھی جبوتی ونگ کے خلاف موقف رکھتی ہے لیکن ان کے لہجے میں وہ شدت نہیں ہے جو شباب المجاہدین کے لہجے میں محسوس ہوتی ہے۔ دونوں تنظیموں (شباب المجاہدین اور حزب اسلامی) نے موجودہ مخلوط حکومت اور بیرونی فوجوں کے ملک سے نکل جانے تک جنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ حزب اسلامی کے سبھی گروہ جبوتی ونگ کے بارے میں ایک جیسی رائے نہیں رکھتے، بعض گروہ ایسے ہی ہیں جو جبوتی ونگ کے شدید مخالف بھی ہیں۔ میرا اپنا خیال ہے کہ شباب المجاہدین اور حزب اسلامی کے شدید تر لہجہ رکھنے والے شیخ شریف کی شخصیت کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے البتہ جس حکومت کا وہ حصہ ہیں وہ اُسے توڑنا چاہتے ہیں سوائے تنظیم شباب المجاہدین کی چند سرکردہ شخصیات کے جو خود شیخ شریف کے بھی شدید مخالف ہیں۔ جہاں تک حزب اسلامی اور شباب المجاہدین کا تعلق ہے تو وہ بظاہر بہت خوشگوار لگتا ہے۔ فریقین میں اتحاد پر بھی مذاکرات سننے میں آئے ہیں۔ ہم بھی اس اتحاد کے متمنی ہیں لیکن صومالیہ کے حالات اور دونوں تنظیموں کی ترجیحات کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایسا اتحاد ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ ہاں مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مجھے امید ہے کہ وہ مل کر ہی متحدہ کوشش کرتے رہیں گے اور یہی ہماری خواہش بھی ہے۔ صومالیہ کے مستقبل پر ایک نظر: صومالیہ میں جاری اسلامی عمل میں ہمیں بہت کم شدت پسندی نظر آتی ہے۔ عمومی طور پر سب ہی جماعتیں اہل علم کی قیادت میں ہیں اور منہج اعتدال پر گامزن ہیں، سوائے اکا دکا واقعات کے۔ یہ امیدکی جاسکتی ہے کہ اسلامی جماعتیں کسی وقت صومالیہ کی کل اراضی پر حاکم دیکھی جائیں۔ شیخ شریف کا ماضی شاندار اسلامی عمل پر شاہد ہے اور ان کے اخلاص اور حسن نیت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ حسن طاہر اویس بھی نظریاتی طور پر بزور قوت ؛انقلاب کے قائل نہیں ہیں بلکہ حسن تدبر سے ہی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ شیخ حسن طاہر اویس کو زیرزمین کام کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے ورنہ وہ خود اس طریقہ کار کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ شیخ حسن ترکی بھی نہایت قابل صد احترام شخصیت ہیں خواہ ان کو قائد بنانے میں امریکہ اور دوسرے ممالک کی دلچسپی ہی کیوں نہ رہی ہو۔ ڈاکٹر عمر اور نائب امیر حزب اسلامی بھی قابل احترام مخلص شخصیات ہیں۔ شباب المجاہدین کی قیادت میں جس شخصیت کو احمد عبدی جدونی سمجھا جا رہا ہے نہایت قابل احترام شخصیت رہے ہیں۔ بعض اسلامی شخصیات کو سامنے لانے میں امریکہ اور دوسرے ممالک کا ہاتھ رہا ہے لیکن ایسی شخصیات شرعی علم سے چمٹ کررہنے والی شخصیات ہیں اور خیر ہی ان سب پر غالب نظر آتی ہے۔ اسلامی شریعت کو نافذ کرنا، ملک سے غیر ملکی افواج کو باہر نکالنا اور امن کیلئے متحرک رہناان سب کامشن ہے۔ صومالیہ میں جاری اسلامی عمل کو مؤثر بنانے والے درج ذیل امور ہو سکتے ہیں۔ 1) اخلاص نیت اور صرف اللہ کی رضاءکیلئے عمل کرنا۔ 2) شرعی علم سے بہرہ مند ہونا، علاقے کی سیاست اور بین الاقوامی صورتحال پر گہری نظر ہونا۔ 3) دانائی حکمت اور زیرک پن۔ 4) باہمت ہونا اور مشکلات اور مصائب میں ثابت قدم رہتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کرنا۔ 5) انصاف اور راستی کی بات کرنا۔ 6) رہنما کا تمام برسرعمل تنظیموں میں ہردلعزیز ہونا۔ 7) ذاتی میلانات یا مفادات کی وجہ سے کسی خاص تنظیم کی طرف قائد کا جھکاؤ نہ ہو۔ قائد کو اس طرح ہونا چاہئے کہ وہ اصلاح کیلئے کوشش کرتا ہوں کسی قاضی یا جج کی طرح احکامات مسلط کرنے والانہ ہو۔ صومالیہ کی اصلاح احوال کیلئے تجاویز: 1) اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے صومالی قائدین کو دشمن کی چالوں سے باخبر رکھنے کا بھرپور اہتمام کریں اور صومالیہ میں جو بھی لائحہ عمل وہاں کے قائدین اختیار کریں، اس کے فوائد اور نقصانات پر صومالیہ سے باہر بیٹھے اہل علم انہیں آگاہ کریں۔ بسا اوقات غیر جانبداری سے مرتب کی گئی حکمت عملی زیادہ کارگر ہوتی ہے بہ نسبت ان شخصیات کے جنہیں مخصوص حالات میں فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ صومالیہ کے سبھی قائدین اسلامی عمل میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت سے آگاہ ہیں۔ ہمارا یہ قرض بنتا ہے کہ ہم ان نقصانات کو سامنے لائیں جو اس اتحاد کے جلد وجود میں نہ آنے کی صورت میں ہو سکتے ہیں۔ 2) متنازع اسلامی تنظیموں میں مذاکرات کے عمل کو موقوف نہ ہونے دینا۔ ان مذاکرات کا عنوان یہ ہونا چاہئے اور اپنے صومالی بھائیوں کو یقین دلانا چاہئے کہ باہمی مذاکرات سے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی تنظیم لازماً اپنے موقف سے دست بردار ہو جائے بلکہ ان مذاکرات کا مقصد اسلامی دعوت کے عمل کو مستحکم کرنا ہو اور جہاں تک ممکن ہو تنظیموں میں اتحاد پیدا کیا جائے۔ اس بات کو مذاکرات کے شرکاءپر واضح کیا جائے کہ بسا اوقات حالات کے لحاظ سے کسی واجب کو ترک کردینا کسی اور شرعی مصلحت کی خاطر ضروری ہو جاتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کسی اور مصلحت کی خاطر کسی واجب سے صرف نظر کرنا بہتر ہوتا ہے۔ دانا وہی ہے جو شریعت کے مصالح کو سامنے رکھ کر کسی واجب کو ترک کردینے یا اُس سے صرف نظر کر لینے کاتفقہ رکھتاہو۔ 3) غیر ملکی فوجوں کی موجودگی اور آزادی کے لیے مسلسل جہاد کرنے کی وجہ سے وہاں کے مسلمان مصائب میں مبتلا ہیں۔ صومالیہ کے مسلمانوں کیلئے ہرقسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ 4) اصلاح کے عمل سے مایوس ہو کر نہ بیٹھا جائے۔ عین ممکن ہے کہ کسی گروہ نے بعض مخصوص حالات میں اگر کسی تجویز کی مخالفت کی ہو تو بعد میں حالات کے سازگار ہونے پر یا کسی اور وجہ سے اس پر اُس تجویز کی افادیت واضح ہو جائے اور وہ دوسرے شرکاءسے اتفاق کرنے کا فیصلہ کرلے۔ 5) صومالیہ کی تمام اسلامی تنظیموں میں اتحاد اور وحدت کیلئے دُعا کرتے رہنا۔ طریق کار: صومالیہ کی اہم شخصیات سے انفرادی ملاقاتیں کرنا ۔ مختلف سیمینار اور اجتماعات میں بھی ملاقاتیں کرنا اورسرکردہ شخصیات میں ملاقاتیں کرانا۔ صومالیہ کے عوام سے رابطہ رکھنا۔ انہیں دشمن کی چالوں سے باخبر رکھنا، مخلص قائدین پر اعتماد کو مستحکم کرنا، میڈیا، انٹرنیٹ، ملاقاتیں اور پمفلٹ اور تحقیقی مقالوں سے صومالیہ کے عوام کی شعوری سطح کو بلند کرنا۔ امدادی کاموں کا آغاز کرنا اور اس دوران میں اتحاد اور وحدت کی اہمیت کو بیان کرنا۔ غیر جانبداری اختیار کرنا: آخر میں میری چند تجاویز ہیں جنہیں میں صومالیہ کے قائدین کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔
موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے
متنازع اسلامی تنظیموں کا اتحاد ممکن نظر نہیں آتا۔ اس صورتحال میں
ایسی صورت نکالنا چاہئے جس سے کسی فریق کو بھی اپنے منہج اور موقف سے
دستبردار نہ ہونا پڑے۔
دوسرا طریقہ کنفیڈریشن بنانے کا ہے۔ اس
نظام میں تمام صوبے آزاد اور خود مختار ہوتے ہیں لیکن ان کے درمیان
معاہدے ہوتے ہیں جس کی پابندی ہر فریق کرنے کا عہد کرتا ہے۔ اس کی واضح
مثال خلیج کی ریاستیں ہیں جوامارات کی صورت میں موجود ہے۔ اس میں بھی
دستور مرتب کیا جاتا ہے جس پر سب اتفاق کرتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭ |
||||||||||