|
|
||||||||||||
یکم جولائی2009ء مشرقی جرمنی کے شہرڈریژڈن (Dresden) میں بھری پڑی عدالت کے احاطے میں مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کی موجودگی میں جرمنی کے ایک شہری نے جس کانام الیکس ڈبلیوAlex Wبتایاجاتاہے نے مصر کی باپردہ تیس سالہ’مروہ الشربینی‘کو کسی دھاری دارآلے سے شہید کردیا۔خبیث النفس الیکس نے یکے بعددیگرے کل اٹھارہ وار کیے۔حملے کے دوران میں الشربینی کے خاوند’علوی علی عکاظ‘نے انہیں بچانے کی کوشش کی؛ کہاجاتاہے کہ پولیس نے اس موقع پرحملہ آور پرفائرکردیاجوحملہ آورکی بجائے علی عکاز کولگ گیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے اورتادم تحریرجرمنی کے ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ الشربینی فارمیسی میں آنرکرنے کے بعدمزیدتعلیم کے لیے اپنے خاونداورتین سالہ بیٹے مصطفیٰ کے ساتھ سن 2005ء سے جرمنی میںرہائش پزیر تھیں۔الشربینی کومصرکے شہراسکندریہ میں سپردخاک کردیاگیا۔ شہیدہ کے بھائی طارق نے اس موقع پربتایا کہ الشربینی شہادت کے وقت تین ماہ کی حاملہ تھیں۔ مصرکے ساتھ ساتھ دنیا بھرکے مسلمانوں نے انہیں’شہیدۃ الحجاب‘کا لقب دیا ہے۔یعنی تاریخ انسانی میں وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں حجاب پہننے کی وجہ سے شہادت کا اعلیٰ مقام حاصل ہواہے۔ ڈریژڈن کے پارک میں وہ اپنے بیٹے اورخاوندکے ساتھ اسلام کے خوب صورت ترین شعار’حجاب‘کے ساتھ سلائیڈنگ کے قریب مصطفیٰ کواوپرچھڑانے کے لیے ایک بدوضع شخص سے کہتی ہیں کہ بچے کواوپرجانے کے لیے راستہ چھوڑیں۔ یہ بدقماش؛ اسلام کے خلاف بغض رکھنے والادرندہ صفت الیکس تھا۔ راستہ چھوڑنے کی بجائے وہ بکنے لگااورکہا’تم اسلامسٹIslamist؛ دہشت گرداوربدچلن A Slutہو! علوی کی فیمیلی نے ڈریژڈن کی عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے ہتک عزت کو بنیاد بنا کر الیکس کو 780 ’یورو‘ کاجرمانہ لگایا۔ یکم جولائی کوالیکس اپنے دفاع میں کچھ کہنے کے لیے عدالت حاضر ہوا تھا جہاں اس نے اپنے اندرونی بغض کوظاہرکرکے پوری دنیاپرثابت کردیا کہ اسلام کے شعار’حجاب‘کامذاق اڑانے والے کس انتہادرجے کے سفاک ہوسکتے ہیں۔ مغربی میڈیا سفاکی کے اس مظاہرے کی شدت کوکم کرنے کے لیے دوچیزوں کونمایاں کررہا ہے۔ایک یہ کہ قاتل گو کہ جومنی کی شہریت رکھتا ہے لیکن ہے وہ روسی نژاد۔ اوردوسرایہ ایک شخص کا تصرف ہے جوکسی معاشرتی عمومی رویے کوظاہرنہیں کرتا۔ مغربی میڈیا واقعتاً بہت شاطر ہے۔’شیخ الازہر‘نے بھی اسکندریہ میں شہیدۃ الحجاب کی تعزیت کے موقع پر یہی زبان استعمال کی تھی کہ مجھے یقین ہے کہ اس انفرادی واقعے سے مصر اورجرمنی کے درمیان جاری مذکرات کے عمل میں تعطل نہیں آئے گا۔ شیخ ازہر سے کوئی پوچھے دوسری جنگ عظیم کے وقت جرمن کسی مذہبی جنون میں مبتلا نہیں تھے۔ خواندگی کی شرح بھی سوفیصد تھی۔ سائنس کی گل فشانیاں بھی جاری وساری تھیں۔ پھرآخرایک تعلیم یافتہ’مہذب‘قوم کوخون خواری پراکسانے والاجذبہ کیا تھا ؟! روسی نژاد کہلانا شایدگھٹیا نسب نامہ ہو؛’سامی النسل‘ہونااور’آریا‘کہلانا تو خاموشی کی بات نہیں !ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب ’آریا‘نے اپنے اعلیٰ نسب ہونے کو منوانے کے لیے یورپی اقوام کوگاجرمولی کی طرح کاٹ کررکھ دیاتھا۔ شیخ صاحب بھول گئے ہوں تو کوئی بعید نہیں ہم نہیں بھولے کہ دوسری جنگ عظیم روس نے نہیں جرمنی نے برپا کی تھی۔اوروجہ بھی مذہب نہیں’آریاالنسل‘ہونے کاتعصب تھا۔ میڈیامیں الیکس کے روسی نژاد ہونے کابہت چرچا کیاجارہاہے تاکہ جرمنی کی’نئی ساکھ‘ کو بچایا جاسکے۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ یورپ کواپنی غیرمتعصبانہ ساکھ اتنی ہی عزیزہے توپھروہ کسی روسی یاہندی وغیرہ کو شہریت دیتے ہی کیوں ہیں! شہریت کے لالچ سے ترقی یافتہ ممالک ایک طرف اپنی ڈیموگرافی کومتوازن رکھنے کی بھونڈی کوشش کرتے ہیں تودوسری طرف ایک ضمیر فروش (جواپنے آبائی وطن کی وفاداری سے چندٹکوں کے عوض دست بردارہوجاتاہے) سے اپنے وطن کی خدمت لیتے رہتے ہیں۔ مغربی ممالک کواپنی ساکھ بہرحال اتنی عزیز نہیں کہ آئی بیگار کوٹھکراکرکفران نعمت کریں۔ شہریت دینے کے بعدکسی کواس کے ترک شدہ وطن سے بوقت ضرورت منسوب کیاجاسکتاہے تو پھر شہریت کیوں دی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ جرمنی یا کوئی دوسرا یورپی ملک اب بھی نسل پرست ہیں۔ اس وقت جبکہ اوطان کاطاغوت خوداس بت کے گھڑنے والوں کے ہاتھوں ریزہ ریزہ ہورہا ہے ترقی یافتہ ملکوں کوکوئی نہ کوئی بت چاہیے جسے یہ چپکے چپکے پوج سکیں۔ وہ بت ہے ’نسل پرستی‘۔ قاتل کے ساتھ جب اس کاروسی نژادہوناجڑکررہ گیا ہے تو یہ عمل خودنسل پرست پر دلالت کرتا ہے کہ مثلاً قاتل کوئی خاندانی’اینگلوسیکسن‘ نہیں تھا بلکہ اپنے وطن کوچھوڑنے والا ’ضمیرفروش روسی‘۔ خاندانی جرمنی اس طرح سے تھوڑی ایک نووارد خاتون طالب علم کوقتل کردیا کرتے ہیں۔جرمن جب ایساکرتے ہیں تودنیا ایک عظیم ترین جنگ کاشکارہوجاتی ہے! تاریخ کے وقائع اورمسلمات شایدہم جلدبھلادینے کے عادی ہیں۔ اسرائیل کاوجودتوآج کی حقیقت ہے۔ صیہونیوں سے بڑھ کربھی کوئی نسل پرست ہوا ہے؟ اورکیاایک نسل پرست قوم کے لیے ترقی یافتہ اسرائیل کوعالم اسلام کے قلب میں گاڑنے کافریضہ یہی اقوام ادانہیں کررہی ہیں جوکہتی ہیں کہ مذہب؛ رنگ اورنسل کی برتری منوانے پرکوئی جنگ نہیں ہوناچاہیے۔ فرانس اورجرمنی میں نائین الیون کے بعدجوقانون سازی ہوئی ہے ان میں ایسے الفاظ کاچناؤ کیا گیا ہے کہ اس کی زد میں مسلم خواتین کا ہیڈسکارف توآتا ہے لیکن عیسائی مذہب کی پابند عورتیں جس طرح اپنا سر ڈھانپتی ہیں وہ قانون کے ’الفاظ‘کی زد میں نہیں آتا۔ لفظوں کے ہیرپھیر سے عالم اسلام نے کئی باردھوکہ کھایا ہے! یہ توایک خبرتھی جوگوری تلبیس کی دبیزدیواریں پھلانگ کرمیڈیا میں حرکت لانے کاباعث بن گئی البتہ جرمنی میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے یہ نئی بات نہیں۔ پارکوں پرایسا ہونا معمول کی بات ہے۔جرمنی اس سے پہلے یہودیوں کا ’ہولوکاسٹ‘ کرکے تہذیب کے دائرے سے نہیں گراتواب مسلمانوں کے ہولوکاسٹ سے اس کا کیا بگڑے گا۔ یہودیوں کی دہائی تو سنی بھی جاتی تھی؛ مسئلہ تو مسلم عورت کی ناموس کاہے جسے کبھی کبھی یاد آجاتاہے کہ وہ کوئی ’روم‘(مغرب)کی بستی تھی جہاں کسی بوڑھی مسلمان عورت کی کسی گورے نے انسلٹ کردی تھی۔تب اس عورت نے صرف اتناکہاتھاوا معتصماہ ! اس وقت تومیڈیا نہ اتنا تیزتھا اورنہ اتناگونگا !
٭٭٭٭٭٭ |
||||||||||||