|
|
|||||||||
میرے اندر علم کی فضیلت کا احساس اس وجہ سے اور بڑھ گیاکہ کچھ لوگ عبادت میں لگ کر علم سے محروم رہے اور مطلوب کی حقیقت تک رسائی حاصل نہ کر سکے ۔ چنانچہ کسی قدیم صوفی کا قول مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے کہا اے ابوالولید : کاش تم ابوالولید ہوتے ۔ یعنی وہ اس کو ابوالولید کی کنیت سے اس لئے نہیں پکارنا چاہتے تھے کہ وہ لاولد تھا ۔ اگر وہ صوفی علم میں گھستے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت صہیب رومیؓ کی کنیت ابوالصہباء رکھی تھی ۔ اور ایک بچے کو ابو عمیر کی کنیت سے پکار کر فرمایا تھا : یا ابا عمیر ! ما فعل النغیر؟
اسی طرح ایک زاہد نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک دن کہا گیا کہ ”دودھ پی لو
“ میں نے کہا یہ مجھ کو نقصان پہونچاوے گا ۔ پھر کچھ مدت کے بعد کھڑے
ہو کر میں نے عرض کیا کہ ”اے اللہ ! میں نے پلک جھپکنے کے بقدر بھی شرک
نہیں کیا “ تو ایک غیبی آواز نے پکار کر کہا کہ ”کیا دودھ والے دن بھی
شرک نہیں ہوا؟ “ مازالت اَکلۃ خیبر تعاودنی حتی الٰان قطعت ابھری ”خیبر میں کھائے ہوئے زہریلے لقمے کی تکلیف بار بار لوٹتی رہی حتیٰ کہ اب اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے ۔“ اور فرمایا: ما نفعنی مال کمال ابی بکر ”مجھ کو ابوبکر ؓ کے مال جتنا نفع کسی کے مال سے نہیں پہونچا۔“ اور بعض جاہل زاہد توکل کا مطلب سا رے اسباب سے منقطع ہو جانے کو خیال کرتے ہیں حالانکہ یہ جہالت ہے ۔ کیونکہ حضور ﷺ نے غار میں پناہ لی ، طبیب سے علاج کروایا، ذرہ پہنی ، خندق کھدوائی اور مطعم بن عدی جو کافر تھے ، انکی پناہ میں داخل ہوئے ۔ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے فرمایا تھا : لاَن تدع ورثتک اَغنیاء خیر مناَن تدعھم عالۃً یتکفّفون الناس ”اپنے ورثاءکو مالدار چھوڑ کر جاو ¿، یہ بہتر ہے اس سے کہ انہیں محتاج چھوڑو او ر وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ “ لہذا مسبب کو بھول کر اسباب پر اکتفاءکرنا غلط ہے ۔ لیکن اسباب کواس طرح برتنا کہ دل مسبب سے متعلق رہے یہ مشروع ہے ۔ اور (غلط تصوف کی )یہ ساری تاریکیاں علم کا چراغ ہی ختم کر سکتا ہے ۔ یقینا وہ شخص بھٹک گیا جو جہالت کی تاریکی میں چلا یا خواہش نفس کی گلی میں داخل ہو گیا۔ (ماخوذ از صیدالخاطر لابن جوزیؒ)
٭٭٭٭٭
|
|||||||||