سرورقسابقہ شمارےسمع و بصرمطبوعات ایقاظہم کونمددگار بنیںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2010

Download in PDF Format

   

”اسلاموفوبیا“؛کیا ہوا کا رُخ بدل رہا ہے؟

جمع و ترتیب: مریم عزیز

   

 

یہودیوں کا میڈیا میں غلبہ ہونے کے باوجود اور خصوصا مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا، یعنی ”اسلاموفوبیا“، پھیلانے کے باوجود حالات کا رخ بدل رہا ہے۔اسلاموفوبیا دراصل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خوف اور تعصب پھیلانے کا نام ہے اوراسلام کے خلاف اسرائیل کاموثر ہتھیار رہا ہے۔ مگر جرمنی کی University of Bielefeldکے تحت یورپ کے ممالک میں کرائے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق حالات کچھ بدلتے نظر آرہے ہیں۔ مغرب میں سنجیدہ قسم کے لوگ یہودیوں کے نہ ختم ہونے والے مظالم کے اثرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور محسوس کررہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔یورپی عوام یہ کہتے پائے گئے کہ یہودی اپنی نسل کے علاوہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔یہ رائے بھی پروان چڑھتی نظر آئی کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں اور یہ رائے بھی کہ یہودی ہولوکاسٹ کے نام کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔مسلمانوں کے بارے میں ڈر ان لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جن کو مسلمانوں سے میل جول کے مواقع کم ملے ہیں۔اور جن ممالک میں زیادہ تعداد میں مسلمان آباد ہیں وہاں کے لوگوں مےں اسلاموفوبیا کم پایا جاتا ہے کیونکہ ان کو پروپیگنڈے سے دور رہتے ہوئے مسلمانوں سے مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے جو کہ جلد ہی گھل مل جانے کے عادی ہیں۔ جبکہ یہودیوں میں خود کو’ عوام ‘سے ممتاز سمجھ کر ’الگ تھلگ‘ رہنے کا رواج ہے!ایک تہائی عوام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ لوگ یہودیوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں!!