سرورقسابقہ شمارےسمع و بصرمطبوعات ایقاظہم کونمددگار بنیںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2010

Download in PDF Format

   

قارئین کے مراسلے

حذیفہ عبد الرحمن

   

 

 

قارئین کے مراسلے ایقاظ میں من وعن شائع کر دیے جاتے ہیں۔ ادارہ ایقاظ کا یہاں شائع ہونے والے کسی مراسلہ سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

اسے کیا کہئے !!!

مسئلہ تکفیر کے حوالے سے ہمارے ہاں جو بے قاعدگی پائی جاتی ہے، وہ کسی پر مخفی نہیں۔ افراط کی راہ کے مسافر ین کی منزل اگر خوارج کے افکار ہیں تو تفریط کی شاہراہ ’ارجاء‘ کی گزرگاہوں سے جا ملتی ہے۔ غرض کہ مذکورہ بالا دونوں انتہائیں ایک مشترک انحراف کا نتیجہ ہیں یعنی ’اہلسنت کے مسلک اعتدال سے بُعد اختیار کرنا‘۔

علماءاہل سنت کسی شخص کی تکفیر کے لئے بعض کڑی شرائط عائد کرتے ہیں جنہیں ’موانع تکفیر ‘ کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر ایقاظ میں بھی گاہے بگاہے بحث ہوتی رہتی ہے ۔ مگر کیا کیا جائے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے چند ’مذہبی‘دانشوروں کی دور رس نگاہوں نے بعض ایسے ’گوہر نایاب ‘ تلاش کرنے شروع کر دیئے ہیں کہ جن سے تقریباً چودہ سو سال تک اسلامی ادب’ قطعاً‘ نا آشنا رہا ہے۔

جاوید احمد غامدی صاحب اپنی معروف کتاب ’برہان‘ میں اس مسئلہ کے ایک ’نئے ‘ پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے رقمطرازہیں:

”ساتویں حد یہ ہے کہ کسی فرد کی تکفیر کا حق بھی کسی داعی کو حاصل نہیں ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفروشرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتاتو اس کفر و شرک کی حقیقت تو بیشک اس پر واضح کی جائے گی،اسے قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ ثابت بھی کیا جائے گا، اہل حق اس کی شناعت سے اسے آگاہ بھی کریں گے اور اس کے دنیوی اور اخروی نتائج سے اسے خبردار بھی کیا جائے گا، لیکن اس کی تکفیر کے لئے چونکہ اتمام حجت ضروری ہے، اس وجہ سے رسول اﷲ ﷺ کے بعد یہ حق اب قیامت تک کسی فرد یا جماعت کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے“۔

(برہان۔ ص 319)

گویا جب تک کوئی شخص اپنے مشرک ہونے کا اعتراف جرم’ خود ‘ نہ کرلے اس وقت تک اسکی تکفیر نہیں کی جانی چاہئے۔ دوسر ا یہ کہ اتمام حجت کا منصب صرف رسول اﷲﷺ کے ساتھ خاص ہے لہٰذاا ب ’قیامت تک‘ کسی پرکفر و شرک کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔ سر دست ان دونوں نکات سے قطع نظر کرتے ہوئے مندرجہ ذیل عبارت پڑھئے ، آپ ششدر ہوئے بنا نہیں رہ پائیں گے۔

محولہ بالا عبارت سے بالکل ہی متصل فرماتے ہیں:

”مسلمانوں کا نظم اجتماعی بھی سورہ توبہ (9) کی آیت 5 اور 11 کے تحت زیادہ سے زیادہ کسی شخص یا گروہ کو” غیر مسلم“قرار دے سکتا ہے، اسے ”کافر“قرار دینے کا حق اسے بھی حاصل نہیں ہے“۔ (ص 319)

’گنجینہ معنی ‘ پر مبنی اس’ طلسم ہوشربا‘کلام کی رفعتوں تک ہم عقل نا رسا کے حاملین کے تفکر کی رسائی بھلا کہاں !!!۔ ’المورد ‘ او ر ’دانش سرا‘ کے ’ اصحاب دانش ‘ ہی اس گتھی کو سلجھانے کی استطاعت رکھتے ہوں تو یقینا یہ انہی کے شایان شان ہے۔

محترم ! جس چیز کو آپ ’غیر مسلم قرار دینا‘ کہہ رہے ہیں اسی کو تو علماءاسلام ’تکفیر ‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اگر ’غیر مسلم‘ قرار دینے پر کوئی اعتراض نہیں تو محض ’تکفیر ‘ کی اصطلاح کے انکار کا مقصد اپنی راہ ’الگ‘ کرنے کے سوا اور بھی کچھ ہے ؟؟؟!! تکفیر کرنے یا غیر مسلم قرار دینے کے الفاظ سے صرف نظر کر کے ان کے ’انجام‘ پر غور کیجئے گا تو نتیجہ میں بہر حال آپ کو کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔

پھر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ آپ کے اصول کی رو سے یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ کسی گروہ کو ’غیر مسلم ‘ قرار دینے کا حق’نظم اجتماعی‘ (حکومت اسلامیہ) کو کس نے عطا کیا؟؟ کیا اس کا یہ حق ’فرقان‘ (قرآن مجید) کی ’میزان‘ پر ثابت کیا جاسکتا ہے ؟ ؟؟ یا اسے محض ’نظریہ ضرورت‘ کے طور پر اپنالیا گیا ہے ، تاکہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی معیت میں صحابہ کرامؓ نے مانعین زکوٰة کے خلاف جوجہاد کیا تھا اس قبیل کے اعتراضات سے جان چھڑائی جا سکے !!! مزید یہ کہ وہ افراد یا گروہ ، جسے نظم اجتماعی نے ’غیر مسلم ‘ قرار دیا ہوگا ،آیا ان کے لئے ’کفر و شرک سمجھ کر خود اقرار کرنے ‘ کی شرط باقی رہے گی یا حیلہ بہانے سے وہ بھی ساقط کر دی جائے گی؟؟؟ آخر کس ’دلیل‘ کی بنا پر آپ ’تکفیر‘ کا کلیتاً انکار کرتے ہیں مگر ’غیر مسلم‘ قرار دینے پر بڑی آسانی سے رضامند ہو گئے ہیں؟ ؟پھر زیادہ غور طلب اور اہم ترین امر یہ ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کے بعد ’قانون اتمام حجت‘ میں ہونے والی یہ ’ترامیم‘ (نظم اجتماعی کو یہ حق تفویض کر دینا)کس ’وحی‘ کی روشنی میں کی جا رہی ہیں؟؟؟؟

 

ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین

یہ تو وہ سوالات تھے جو اس فلسفہ پر ’ نظری‘ اعتبار سے کئے جا سکتے ہیں۔ اب ذرا اس کے ’عملی‘ پہلو کا جائزہ لیں۔سورہ توبہ کی آیات بینات سے استدلال کرتے ہوئے اگر تارک الصّلوٰة کو ’غیر مسلم‘ قرار دیا جا سکتا ہے (غامدی صاحب کی تحریرات سے واضح ہے کہ وہ نماز کے تارکین کو اسلامی معاشرے میں ’مسلمان‘ کی حیثیت دینا گوارا نہیں کرتے، ان کی کتاب ’قانون عبادات‘ اور ماہنامہ اشراق ۔اپریل 2008۔ بعنوان ’قانون سیاست‘ میں بھی ان کا یہی موقف بیان کیا گیا ہے) تو ایسا شخص جوکہ وحدت الوجودکے مشرکانہ عقیدے کا قائل ہو، قبر پرستی وغیرہ ایسے شرک اکبر کی ڈنکے کی چوٹ پر دعوت دیتا ہو ، حدیث اور سنت کا علی الاطلاق انکار کرنا اس کا شغل شاغل ہویا مسلمات دین کی دھجیاں بکھیر دینے پر تلا ہوا ہو ، کیا ایسے افراد کو موانع تکفیر کی عدم موجودگی میں اگر ’غیر مسلم ‘ قراردے دیا جائے تو آپ اسے ’تفریق بین الملت‘ کا جرم تو نہیں سمجھ بیٹھیں گے؟؟!!

احادیث بھی اگر آپ کے نزدیک ’اخبار احاد‘ ہونے کی وجہ سے ’یقین‘ کے درجہ کو نہیں پہنچ پاتیں تو محض ’آپ کے ظن‘ کی بنا پر فقہ اسلامی کی مسلًمہ اصطلاح پر خط تنسیخ پھیر دینا دانشمندی کی علامت کیسے کہلائے گی۔

آپ حضرات کے ’ظن‘ کے یہی تو وہ ’ کرشمے‘ ہیں جو کبھی ہندو لڑکے سے مسلم لڑکی کی شادی ’جائز‘ قراردے دیتے ہیں اور کبھی ’نا جائز‘ !!!!۔

(جواز کا فتویٰ حافظ محمد ابراہیم کی طرف سے دیا گیا تھا(جس کا مکمل حوالہ ’ایقاظ‘ ماہ جنوری 2009کے شمارہ میں موجود ہے۔ قارئین کی سہولت کی خاطر یہاں دوبارہ دیا جا رہا ہے:

http://urdu.understanding-islam.org/related/text.aspx?type=question&qid=137&scatid=25

 

جبکہ ’ناجائز ‘ ہونے کا فتویٰ محمد رفیع مفتی صاحب کی طرف سے جاری ہوچکا ہے۔

( اشراق، مئی 2008، ص 69)

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ممکن ہے کہ غامدی صاحب کی تفسیر ’البیان‘ کی اشاعت کے بعد مفتی صاحب کو اپنی ’غلطی‘ کا احساس ہو گیا ہو اور انہوں نے اپنے فتوے سے ’رجوع‘ فرما لیا ہو!!۔ سلف کی متفق علیہ تعبیرات سے سبکدوشی اختیار کر لینا کس طرح انسان کی درماندگی کی تمہید بن جایا کرتا ہے۔

غامدی صاحب کے ناقدین میں سے ایک عالم دین نے بالکل درست ارشاد فرمایا تھا کہ ”یہ حضرات اپنے دعوے ہی کو دلیل سمجھ لیتے ہیں“۔

عزیزم! اسلام پر معتزلہ ،خوارج، مرجیہ ، جہمیہ اور خصوصاً روافض نے ویسے ہی بہت سے ’احسانات‘ فرمائے ہیں ، اب مزید یہ امت آپ کی ’کرم فرمائیوں ‘ کی چنداں محتاج نہیں۔

 

(مرسل: حذیفہ عبد الرحمن)

٭٭٭٭٭